📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-i Ask Episode 20

اپنی بیماری کو چھپا کر مہرالہ دراصل خود سے ایک جوا کھیل رہی تھی۔
اگر ظہران اب بھی اس سے محبت کرتا تھا، تو وہ اپنی موت کو ہی اس کے خلاف بدلہ بنا دے گی۔ وہ چاہتی تھی کہ مرنے کے بعد بھی اس کے دل میں ایسا احساسِ جرم چھوڑ جائے جو اسے عمر بھر چین نہ لینے دے۔
اور اگر ظہران اب اس سے محبت نہیں کرتا تھا، تو پھر اسے اپنی بیماری بتانا بالکل بے معنی تھا۔ اس سے وہ صرف خود کو ذلیل کرتی—اور توران کے لیے ہنسنے کا ایک اور موقع بن جاتا۔
یہ سب سوچ کر مہرالہ باتھ روم سے نکلی اور نیچے آ گئی۔ میڈم برجِس نے دسترخوان پر اس کی پسند کے کئی کھانے سجا رکھے تھے۔
مہرالہ نے انہیں ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ میڈم برجِس نے اپنی ایپرن پر ہاتھ صاف کیے اور مہرالہ کے لیے سوپ نکالتے ہوئے بولیں،
“یہ فروٹ سوپ ہے جو مسٹر ممدانی نے خاص آپ کے لیے بنوانے کو کہا تھا۔ میں نے کہا تھا نا، وہ اب بھی آپ کی فکر کرتے ہیں۔”
کھانے قدرے بھاری اور مرچ مصالحے والے تھے—وہ ذائقہ جو مہرالہ کو کبھی پسند نہیں تھا۔ اس کی پسند ہمیشہ ظہران کے بالکل الٹ رہی تھی، جو پھیکا کھانا پسند کرتا تھا۔
پہلے دونوں کے لیے الگ الگ کھانے بنتے تھے، مگر اب بیماری کے باعث مہرالہ کے لیے تیکھا کھانا ممکن نہ رہا تھا۔
“مسز ممدانی، آپ کھا کیوں نہیں رہیں؟ کیا میرے ہاتھ کا ذائقہ پہلے جیسا نہیں رہا؟ جب مسٹر ممدانی گھر پر ہوتے ہیں تو وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ کھانے میں تھوڑا مصالحہ زیادہ رکھا کروں۔”
مہرالہ نے حیرت سے انہیں دیکھا—وہ جانتی تھی کہ ظہران مرچ برداشت ہی نہیں کر سکتا تھا۔
میڈم برجِس نے فوراً وضاحت کی،
“اسی لیے تو کہتی ہوں وہ اب بھی آپ کی پرواہ کرتے ہیں۔ آپ کی پسند کا کھانا، چاہے آپ یہاں نہ بھی ہوں، وہی بنوانا کہتے ہیں۔ پہلے آپ زبردستی انہیں مرچ والا کھانا کھلاتی تھیں، اور اب وہ خود کھا لیتے ہیں۔
شروع میں تو ان کا حال برا ہو جاتا تھا—بار بار پانی پیتے تھے۔ مگر اب عادت سی ہو گئی ہے۔”
کتنی ستم ظریفی تھی!
جس مرچ کو برداشت کرنا وہ سیکھ گیا تھا، وہی چیز اب مہرالہ کو بیماری کے باعث چھوڑنی پڑ رہی تھی۔ شاید اسی لیے وہ دونوں کبھی ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے تھے۔
مہرالہ نے موضوع بدل دیا اور میڈم برجِس سے ضد کر کے فون مانگ لیا۔ شکر تھا کہ اسے ریدان سُہرابدی کا نمبر یاد تھا۔ اس نے فوراً نمبر ملایا۔
اس کی آواز سنتے ہی مہرالہ کے دل کو سکون ملا۔ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو وہ خود کو کبھی معاف نہ کر پاتی۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد ریدان نے احتیاط سے پکارا،
“مہرالہ؟”
حادثہ اچانک ہوا تھا، اور وہ سب کچھ سمجھ چکا تھا۔
“میں ہوں۔ ریدان… مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہیں اس سب میں گھسیٹا۔”
اس کی تھکی ہوئی آواز میں ہلکی سی خوشی جھلکنے لگی،
“کیا تم نے سٹی ہال میں مجھ سے سخت لہجے میں اس لیے بات کی تھی کہ مجھے نقصان نہ پہنچے؟”
مہرالہ لمحہ بھر کو خاموش رہی، پھر بولی،
“میرا فون ضبط کر لیا گیا تھا، اس لیے کال نہیں کر سکی۔ تم ٹھیک تو ہو؟”
“فکر نہ کرو۔ ایئر بیگ کی وجہ سے بچ گیا۔ کیا وہ تمہیں قید کر کے رکھے ہوئے ہے؟ کیا میں پولیس رپورٹ کر دوں؟”
“ہم قانونی طور پر شادی شدہ ہیں۔ وہ مجھے یرغمال بنائے تو بھی رپورٹ نہیں ہو سکتی۔ ریدان، میں تمہاری شکر گزار ہوں، مگر اب تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
آج کا حادثہ محض ایک وارننگ تھی۔ تم نے جو کیا وہ صرف انسانیت کے تحت تھا، مگر میں کسی کی قربانی کے قابل نہیں۔ تم محفوظ ہو—یہ جان کر مجھے سکون ہے۔ خدا حافظ۔”
وہ فوراً فون بند کر گئی۔
دوسری طرف ریدان ہلکی سی بے وقوفانہ مسکراہٹ کے ساتھ فون دیکھتا رہ گیا۔
اب وہ جان چکا تھا کہ اس کی سختی محبت نہیں، بلکہ حفاظت تھی۔
فون واپس کرتے ہی مہرالہ اوپر اپنے کمرے میں آ گئی اور لیٹ گئی۔ نیند آتے ہی دروازہ بند ہونے کی آواز نے اسے جگا دیا۔
شراب کی تیز بو نے اس کا معدہ مروڑ دیا۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتی، ظہران نے اپنی کوٹ فرش پر پھینک دی۔ بستر پر وزن پڑا، اور اس کی لڑکھڑاتی آواز سنائی دی،
“ڈارلنگ… میں آ گیا ہوں…”