Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 del-I Ask Episode 107 A Mother Without a Heart
del-I Ask Episode 107 A Mother Without a Heart
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
توران کافی دیر تک انتظار کرتی رہی، مگر کنان کی طرف سے کوئی ردِعمل نہ آیا۔ غصّے میں آ کر اس نے اپنی ساری جھنجھلاہٹ کنان پر نکال دی۔
“بدتمیز بچے! میں نے تمہیں جنا، پالا، بڑا کیا! اور تم مجھے ماں تک نہیں کہتے؟
اُس عورت کو ماں کہہ کر تمہیں اتنی خوشی ہوتی ہے، ہے نا؟
میں نے کس احمق کو جنم دیا! چہرے کے سوا تمہارے اندر کچھ بھی کام کا نہیں!”
یہ کہتے ہوئے اس نے کنان کو پلٹا اور مارنے لگی۔ کنان رونے لگا، اُسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اُس نے آخر کیا غلط کیا ہے۔
اسی لمحے نینی تیزی سے وہاں پہنچی، تو توران رک گئی۔
اس نے کنان کو نینی کی طرف اچھالتے ہوئے دھمکی دی،
“تم بہت زبان دراز بنتی جا رہی ہو۔ خبردار، اگر تم نے کسی کو اس بارے میں بتایا تو کل ہی اس گھر سے نکل جانا ہوگا!”
کنان ظہران کا حیاتیاتی بیٹا نہیں تھا، مگر حیرت انگیز طور پر وہ اُس سے بے حد مشابہت رکھتا تھا۔
اصل میں، ایک بچے کو کھونے کے گِلٹ میں ظہران نے کنان کو باپ جیسا پیار دیا تھا۔
اسی لیے توران کو کنان کی ضرورت تھی، تاکہ وہ خود کو مستقبل کی مسز ممدانی ثابت کر سکے۔
وہ اس معاملے پر ظہران کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔
توران وہاں سے چلی گئی۔
کنان کے سوجے ہوئے جسم کو دیکھ کر نینی کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ ایک سال سے اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی، اور دل ہی دل میں اس سے بہت مانوس ہو چکی تھی۔
وہ سوچنے لگی،
“ایک ماں ہو کر کوئی اپنے بچے کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
یہ عورت مہرالہ جیسی ماں کبھی نہیں بن سکتی۔”
نینی نے ایک لمحے کو سوچا کہ سب کچھ ظہران کو بتا دے، مگر پھر یہ سوچ کر رک گئی کہ شاید یہ ماں کی ڈانٹ ہی سمجھی جائے۔
توران نے کنان کو واقعی شدید نقصان نہیں پہنچایا تھا۔
اگر ظہران کو معلوم ہو جاتا، تو یہ نینی کی بےوفائی سمجھی جاتی، اور توران کے مزاج کو دیکھتے ہوئے وہ کبھی اسے دوبارہ کنان کے قریب نہ آنے دیتی۔
نینی نے دل کی ساری تکلیف دبائی اور خاموشی سے کنان کو دلاسا دیتی رہی۔
سمندر کے کنارے، سی کرسٹ پورٹ پر، بلال کولیگٹن کوو کے سرویلنس فوٹیج چیک کر رہا تھا۔
گھر میں چند خفیہ کیمرے نصب تھے۔
جب ظہران نے اسکرین پر دیکھا کہ توران نے مہرالہ پر انڈے انڈیلے، تو اس کی مٹھی خودبخود بھنچ گئی۔
مگر جب مہرالہ نے پلٹ کر مزاحمت کی، تو اس کی بھنوؤں کے بیچ کی شکن کچھ کم ہوئی۔
لیکن یہ تو صرف آغاز تھا۔
کنان سیڑھیوں سے گرا، رو رہا تھا—
اور اُس عورت نے سب سے پہلے اُسے سنبھالنے کے بجائے مہرالہ کا چہرہ برباد کرنے کی کوشش کی۔
اگر مہرالہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر کنان کو نہ بچاتی، تو وہ سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہو سکتا تھا۔
بلال حیرت سے بولا،
“اگر کوئی یہ منظر دیکھ لے تو وہ مہرالہ کو ہی کنان کی ماں سمجھے گا۔
جبکہ توران نے اپنے بیٹے کی پروا تک نہیں کی۔ سر، کیا آپ واقعی ایسی عورت سے شادی کریں گے؟”
بیڈ رومز میں کیمرے نہیں تھے،
مگر باقی فوٹیج سے صاف ظاہر تھا کہ توران کنان کے ساتھ نہ تو شفقت سے پیش آتی تھی، نہ ہی ماں جیسا رویہ رکھتی تھی۔
آج کے واقعے نے ظہران کے دل میں اس کے خودغرض مزاج پر آخری مہر ثبت کر دی تھی۔
وہ کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور آہستہ بولا،
“میں اُس کا مقروض ہوں… میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔”
بلال کو ماضی کا علم نہیں تھا، اس لیے وہ حیران تھا۔
ظہران نے حکم دیا،
“مہرباش مینر مہرالہ کے نام منتقل کر دو۔ کاغذی کارروائی تم دیکھ لو۔”
“جی سر۔”
ظہران نے آنکھیں بند کر لیں۔
اس کے ذہن میں بار بار وہ مناظر چلنے لگے—
مہرالہ کا انڈوں سے لتھڑا وجود،
اور کنان کو سینے سے لگا کر سیڑھیوں سے لڑھک جانا۔
بلال نے یاد دلایا،
“سر، مہرالہ جاتے ہوئے تقریباً بےہوش ہو گئی تھی۔ آپ کہتے ہیں وہ بیمار ہے… میرا خیال ہے واقعی اُس کی حالت ٹھیک نہیں۔”
یہ بات ظہران کے دل کو چیر گئی۔
اس نے آنکھیں کھول کر سرد لہجے میں کہا،
“کاسی خاندان کو اطلاع دے دو— منگنی کی تقریب مؤخر کر دی گئی ہے۔”