📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 21

بہت عرصے بعد اس نے اسے “ڈارلنگ” کہہ کر پکارا تھا۔ وہ ایک لفظ مہرالہ کے لیے چونکا دینے والا تھا، اور وہ بے حس سی حالت میں وہیں لیٹی رہ گئی۔
اسے اندازہ نہیں تھا کہ ظہران نے کتنا پی رکھا تھا کہ اس حال تک پہنچ گیا۔ اس کا رویہ ایسا تھا جیسے ان کے درمیان کبھی کوئی جھگڑا ہوا ہی نہ ہو۔ اس نے مہرالہ کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔ اس مانوس لمس اور گرم آغوش میں قید ہو کر مہرالہ چند لمحوں کے لیے خود پر قابو نہ رکھ سکی۔

عقل کو تھامے رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے اسے خود سے دور کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر ظہران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے لبوں تک لے گیا۔ اس کے گرم لب نرمی سے اس کے ہاتھ کی پشت کو چھوتے رہے اور وہ مدھم آواز میں بولا،
“تم کہاں چلی گئی تھیں؟ میں نے تمہیں بہت ڈھونڈا۔”

مہرالہ کے آنسو ضبط میں نہ آ سکے۔ یوں لگتا تھا جیسے اس ایک سال کے سارے آنسو اسی لمحے بہا دینے ہوں۔ آنسو روکتے ہوئے اس نے پوچھا،
“کیا تم ہی نے مجھے خود سے دور نہیں کیا تھا؟”

“بکواس،”
ظہران نے اسے اور مضبوطی سے تھام لیا اور نشے میں اس کے کان کے پیچھے بوسہ دیتے ہوئے بولا،
“میری زندگی میں سب سے زیادہ محبت میں تم سے کرتا ہوں۔ میں تمہیں خود سے دور کیسے کر سکتا ہوں؟”

اس نے اسے خود سے پرے دھکیلا۔
“ظہران، ذرا دیکھو میں کون ہوں۔”

کمرے کی لائٹس بند تھیں اور پردے گرے ہوئے تھے۔ صحن سے آنے والی مدھم روشنی میں ظہران نے اس کی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھے۔
“کیا تم تھک گئی ہو؟ کیا میں نے تمہیں جگا دیا؟”
وہ جھکا اور نرمی سے اس کے آنسو چومتے ہوئے بولا،
“مت روؤ مہرالہ… جو بھی تمہارے قریب آنے کی جرات کرے گا، میں اسے مار ڈالوں گا۔”

اس کی بچگانہ دھمکی نے مہرالہ کو اور زیادہ رُلا دیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس نے کتنا پی رکھا ہے۔ اگر وہ ذرا بھی ہوش میں ہوتا تو نہ اسے یوں تھامتا، نہ یوں بات کرتا۔

مہرالہ نے سر اس کے سینے میں چھپا لیا۔ کانپتی آواز میں اس نے پوچھا،
“ظہران… اگر میں مر جاؤں تو تم کیا کرو گے؟”

“یہ کیا باتیں کر رہی ہو؟”

“ہر کوئی مرتا ہے۔ اس دنیا میں آنے والا ہر انسان بوڑھا ہوتا ہے، بیمار پڑتا ہے، اور آخرکار مر جاتا ہے۔ کوئی اس انجام سے نہیں بچ سکتا۔”

“تو پھر میں بھی تمہارے ساتھ مر جاؤں گا۔ ہم دونوں ایک ساتھ ہمیشہ کی نیند سوئیں گے، ایک ہی جگہ دفن ہوں گے۔”

مہرالہ بے بسی سے مسکرائی اور اس کی قمیض کو مضبوطی سے تھام لیا۔
“بکواس… میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ میرے مرنے کے بعد تم آتش بازی کرو گے اور کسی اور سے شادی کر لو گے۔”

یہ سن کر ظہران ناخوش ہوا۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی قمیض کے اندر، اپنے ننگے سینے پر رکھ دیا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
“سن رہی ہو؟ یہ تمہارے لیے دھڑک رہا ہے۔ اگر تم مر گئیں، تو میرا دل بھی مر جائے گا۔”

آنکھوں میں آنسو لیے مہرالہ نے سر ہلایا۔
“میں سن رہی ہوں۔”

اس کا ہاتھ اس کی کمر تک آیا تو مہرالہ چونک گئی۔ اگلے ہی لمحے ظہران کا جسم اس پر جھک آیا۔ نشے میں ڈوبا ہوا ایک اور بوسہ اس کے لبوں پر اترا، اور اس کی معمول کی سرد مہری کہیں کھو گئی۔

“مہرالہ… آؤ، ایک بچہ کرتے ہیں۔”

بچہ…
یہ لفظ سنتے ہی مہرالہ کے آنسو تھمنے کے بجائے اور بہنے لگے۔

اس کے کانپتے وجود کو محسوس کر کے ظہران گھبرا گیا۔ وہ اس کے آنسو پونچھنے لگا۔
“مت روؤ… میں نہیں چاہتا کہ تم روؤ۔ میں بس چاہتا ہوں کہ تم ٹھیک رہو۔ پلیز، مت روؤ…”

وہ اسے مضبوطی سے سینے سے لگائے بار بار دلاسہ دیتا رہا۔

مہرالہ نے اس کے کپڑے کو تھام لیا، سر اس کے سینے پر رکھ دیا، اس کی قمیض آنسوؤں سے بھیگ گئی۔
مدھم آواز میں وہ بس اس کا نام دہراتی رہی،
“ظہران… ظہران…”