Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-i Ask Episode 52 Shattered Dreams
Del-i Ask Episode 52 Shattered Dreams
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
اس وقت مہرالہ مہرباش حاملہ تھی اور اس کی ازدواجی زندگی تیزی سے بکھر رہی تھی۔ وہ ان سب باتوں کو نظر انداز کرتی چلی گئی تھی۔
اس نے یہی سمجھا کہ ظہران ممدانی نے اسے گریجویشن کے ثبوت کے بارے میں نہیں بتایا ہوگا۔ اس کے نزدیک شاید یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔
اس نے کیلون کی طرف مسکرا کر دیکھا۔
“ہاں، مجھے مل گیا تھا۔”
کیلون نے حیرانی سے پوچھا،
“پچھلے دو سالوں میں ہم نے تمہاری کوئی خبر نہیں سنی۔ کیا تم کہیں اور مزید تعلیم حاصل کر رہی تھیں؟ اور میں نے تمہارے خاندان کی صورتحال کے بارے میں بھی سنا ہے۔”
پھر اس نے خلوص سے کہا،
“دیکھو، ہم کالج کے پرانے ساتھی ہیں۔ اگر تمہیں کبھی کسی مدد کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک کسی بھی وقت مجھ سے رابطہ کرنا۔ اوکلینڈ ہاسپٹل میں تمہیں شامل کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔”
ان سب کی نظروں میں مہرالہ آج بھی وہی سب سے روشن ستارہ تھی۔
اسے پچھلے چند برسوں کی اپنی اذیت ناک اور بے حاصل زندگی یاد آ گئی، اور پہلی بار وہ واقعی اپنی غلطی کی گہرائی کو سمجھ پائی۔
“مجھے افسوس ہے،” اس نے آہستہ سے کہا،
“میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مجھے آج یہاں نہیں آنا چاہیے تھا، میں…”
کالیسٹا نے فاتحانہ انداز میں کہا،
“میں نے سنا ہے تم شادی شدہ ہو؟ کہیں تم گھریلو خاتون تو نہیں بن گئیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر تم اس ایونٹ میں بالکل بے محل ہو۔ کہیں تم وی آئی پیز کے سامنے اپنی بے عزتی نہ کرا بیٹھو۔”
کیلون نے ناگواری سے کالیسٹا کو دیکھا۔
ڈیوس خاندان، ایٹکنز خاندان پر انحصار کرتا تھا، اسی لیے کالیسٹا کو اپنی زبان قابو میں رکھنی پڑی۔
اس کے برعکس کیلون کا رویہ ہمیشہ مہذب رہا۔
“کوئی بات نہیں،” اس نے نرمی سے کہا،
“ویسے بھی کافی عرصے بعد سب ملے ہیں۔ چونکہ ہم ایک ہی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، ممکن ہے مستقبل میں ساتھ کام بھی کریں۔ میں نے اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ کچھ میڈیکل ایکسپرٹس کو بھی مدعو کیا ہے۔ مہرالہ، ایسا مت سمجھو کہ تم یہاں غیر متعلق ہو۔”
اس نے مزید کہا،
“اسے بس اپنے سوشل سرکل کو بڑھانے کا موقع سمجھو۔”
کیلون کی اس کوشش کے بعد مہرالہ کے لیے وہاں سے اٹھ جانا ممکن نہ رہا۔
باقی کلاس فیلوز بھی اس کے ساتھ خوش دلی سے بات چیت کر رہے تھے۔
اپنے ساتھیوں میں اسے کالج کے وہ دن نظر آئے جب سب پورے اعتماد کے ساتھ علمی مباحثوں میں حصہ لیتے تھے۔
اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور دل میں ایک مایوسی سی ابھری کہ وہ کتنی بے رنگ ہو چکی تھی۔
اس کی شادی نے اسے سوائے تکلیف کے کچھ نہ دیا تھا۔
اردگرد کی باتوں سے اسے معلوم ہوا کہ اسپتال کے بانی بھی اس تقریب میں شریک ہوں گے۔
“میں نے سنا ہے کہ اوکلینڈ ہاسپٹل کے پروجیکٹ کے لیے ممدانی گروپ نے اس لیے بولی لگائی کیونکہ اس کے صدر اپنی منگیتر کو خوش کرنا چاہتے تھے۔”
“مسٹر ممدانی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بے رحم ہیں۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آتا کہ وہ اتنے رومانوی بھی ہو سکتے ہیں! انہوں نے تو اسپتال کا ایک پورا وِنگ اپنی منگیتر کے نام پر رکھ دیا ہے!”
یہ سن کر مہرالہ ہل کر رہ گئی، مگر پھر بھی ایک ہلکی سی امید کے ساتھ پوچھ بیٹھی،
“مسٹر ممدانی؟ کون سے والے؟”
“اوہ مہرالہ، تم اتنی لاعلم کیسے ہو سکتی ہو؟”
“ایلڈن وائن میں اربوں کی سرمایہ کاری کرنے کی حیثیت رکھنے والے واحد مسٹر ممدانی، ظہران ممدانی ہی تو ہیں!”
کسی نے محسوس نہیں کیا کہ مہرالہ کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا۔
اس نے اپنی قمیض کا کنارا مضبوطی سے پکڑ لیا۔
وہ کبھی یہ خواب دیکھتی تھی کہ ایک عظیم اسپتال بنائے گی، جہاں زیادہ سے زیادہ مریضوں کو فائدہ ہو۔
ظہران نے اس کا خواب اس کی غیر موجودگی میں حقیقت بنا دیا تھا…
مگر ایک بات اس کے دل میں خنجر کی طرح چبھ گئی تھی—
اس اسپتال کے ایک وِنگ کا نام توران کاسی کے نام پر رکھا گیا تھا۔
کتنی ستم ظریفی تھی یہ!
وہ گھبرا کر کھڑی ہوئی اور بے دھیانی میں میز پوش کھینچ لیا۔
سرخ شراب کا ڈیکینٹر الٹ گیا اور اس کے کپڑوں پر پھیل گیا، مگر اسے اس کی کوئی پروا نہ تھی۔
“کیلون، مجھے جانا ہوگا۔ کچھ ضروری کام آ پڑا ہے۔”
کیلون فوراً نیپکن سے اس کے کپڑوں پر لگے داغ صاف کرنے لگا۔
اسی لمحے دروازہ زور سے کھلا۔
ظہران ممدانی اور توران کاسی اندر داخل ہوئے۔