📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 93 The Final Bid

ایورلی نے جھنجھلاہٹ میں دانت پیستے ہوئے آہستہ آواز میں کہا،
“تم نے اس کا شوہر چھین لیا، کیا یہ کافی نہیں کہ اب تم ظہران ممدانی کی ہونے والی بیوی ہو؟”

توران کاسی نے حقارت سے ہنستے ہوئے جواب دیا،
“میں نے اس کا شوہر چھینا؟ اگر وہ درمیان میں نہ آتی تو ظہران اور میں کب کے شادی شدہ ہوتے۔ اصل میں تو مہرالہ نے میرا آدمی چھینا تھا۔”

ایورلی نے طنزیہ انداز میں تالیاں بجائیں،
“مس کاسی، اتنی ڈھٹائی کے ساتھ تو تم گنیز بک میں نیا ریکارڈ بنا سکتی ہو۔ صدیوں تک کوئی تمہیں پیچھے نہیں چھوڑ سکے گا۔ میں خود کو بہت بدتمیز سمجھتی تھی، مگر تم نے تو معیار ہی بہت اوپر کر دیا۔”

توران نے بازو باندھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا،
“ایورلی، اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو مجھ سے ذرا ادب سے بات کرتی۔”

“اوہو، کسی کو غصہ آ رہا ہے!” ایورلی نے جان بوجھ کر اسے مزید چڑھایا۔

“میں غصے میں نہیں ہوں،” توران نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔

ادھر مہرالہ کے اندر آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے بولی پانچ ارب ڈالر تک پہنچا دی تھی۔ ظہران اس کی حد جانتا تھا، وہ صرف دس ملین بڑھا کر بھی مہرباش رہائش گاہ جیت سکتا تھا۔

جب ظہران نے اپنی پیڈل نہ اٹھائی تو شان کراسبی نے آواز لگائی،
“کیا کوئی اور بولی بڑھانا چاہتا ہے؟
پانچ ارب ڈالر… پہلی بار!”

اسی لمحے ظہران کا فون وائبریٹ ہوا۔

“پانچ ارب ڈالر… دوسری بار!”

ایورلی بھی تناؤ میں تھی۔ اب یہ نیلامی صرف جائیداد کی نہیں رہی تھی، بلکہ مہرالہ اور توران کے درمیان ظہران کی توجہ کی جنگ بن چکی تھی۔

ظہران کا فون دوبارہ وائبریٹ ہوا۔

“پانچ ارب—”

شان ہتھوڑا گرانے ہی والا تھا کہ ظہران نے اچانک کہا،
“پانچ اعشاریہ صفر ایک ارب ڈالر۔”

مہرالہ کا جسم لرز گیا۔ وہ جان گئی تھی… وہ ہار چکی ہے۔ مکمل شکست۔

توران نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“میں نے کہا تھا نا، ظہران مجھے وہی دیتا ہے جو میں چاہتی ہوں۔”

ایورلی نے غصے سے ظہران کی طرف دیکھا، جیسے نگاہوں سے ہی اس کا سر چھید دے گی۔
مہرالہ نے ہونٹ دانتوں میں دبا لیے، اسٹیج پر توران کو جاتے دیکھتی رہی جو ظہران کا شکریہ ادا کرنے جا رہی تھی کہ اس نے اسے مہرباش رہائش گاہ دلوائی۔

گرم ہال میں بھی اسے سردی محسوس ہونے لگی۔ ایک لمحے کو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اس نے بازو پکڑ کر خود کو سنبھالا۔

ایورلی جانتی تھی کہ مہرالہ یہ بولی جیتنے والی تھی، مگر ظہران نے سب کچھ بگاڑ دیا۔

“چلو،” مہرالہ نے آہستہ سے کہا اور کھڑی ہو گئی۔

ایورلی نے فوراً اسے سہارا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ مہرالہ کے پاس وقت کم ہے، اور وہ چاہتی تھی کہ اس کی دوست کی کوئی خواہش ادھوری نہ رہے۔
مگر مہرباش رہائش گاہ کے معاملے میں وہ بے بس تھی۔

“مہر…” ایورلی کا دل بھر آیا۔

مایوسی کے باوجود مہرالہ نے مسکراہٹ اوڑھ لی،
“میں ٹھیک ہوں۔ شاید یہ جگہ میرے مقدر میں ہی نہیں تھی۔”

توران اس کی نئی محبت تھی، اور وہ خود محض اس کے لیے ایک کھیل۔ یہ سمجھنے کے لیے کسی ذہانت کی ضرورت نہیں تھی کہ ظہران کس کا انتخاب کرے گا۔

اور جب وہ پہلے ہی اسے اذیت دینے کا فیصلہ کر چکا تھا، تو یہ سب ہونا حیران کن بھی نہیں تھا۔

ایورلی نے مہرالہ کی آنکھوں میں چھپا دکھ دیکھا، مگر اسے تسلی دینے کے لیے الفاظ نہ ملے۔ وہ بس اسے باہر لے جاتے ہوئے بولی،
“چلو چلتے ہیں۔”

واپسی کے سفر میں مہرالہ خاموش رہی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی، گال ہاتھ پر ٹکائے۔

کچھ دیر بعد اس نے آہستہ کہا،
“ایو، ساحلی سڑک کے ساتھ ساتھ گاڑی چلاتے ہیں۔”

“ٹھیک ہے۔”