Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 26
Del-I Ask Episode 26
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
مہرالہ ساکت رہ گئی۔ اس کے الفاظ اس کے دل میں تیر کی طرح لگے۔
ظہران کبھی اسے ٹوٹ کر چاہتا تھا، اور آج وہی اس پر ظلم کر رہا تھا۔ شاید وہ بدلا نہیں تھا—بس اس کا دوسرا رُخ سامنے آیا تھا۔
“وہ کبھی… کسی کو مار نہیں سکتے۔” اس نے کمزور آواز میں کہا۔
ظہران کی انگلی اس کے گال پر پھسلتی ہوئی بولی،
“تم بہت سادہ ہو، مہرالہ۔ کیا تمہیں یہ بھی یقین تھا کہ میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا؟”
اس کے الفاظ چھری بن کر اس کے دل میں اتر گئے۔
ظہران نے سرد لہجے میں کہا،
“سچ جاننا چاہتی تھی نا؟ تمہارا باپ اس بچے کو نہیں چاہتا تھا۔ اس دن جھگڑا ہوا… اور اس نے زَریہان کو مار دیا۔ پھر لاش سمندر میں پھینک دی۔”
وہ بولتا گیا،
“وہ میری واحد بہن تھی۔ اگر وہ اغوا نہ ہوتی تو یہ دن نہ دیکھتی۔ کیا تم جانتی ہو سمندر میں پندرہ دن پڑی لاش کیسی ہوتی ہے؟”
مہرالہ نے خود کو اس کے ہاتھ سے چھڑایا۔
“اگر یقینی ثبوت نہیں تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میرے والد قاتل ہیں؟”
ظہران کی آنکھوں میں غصہ بھڑک اٹھا۔
“اگر مجھے یقین نہ ہوتا تو میں اسے زندہ نہ چھوڑتا۔ میں نے خفیہ تفتیش کروائی۔ تب جا کر مجھے تمہارے باپ کے اصل چہرے کا پتا چلا۔”
وہ تلخی سے بولا،
“کیا تم جانتی ہو پچھلے دس سال میں اس نے کتنی کم عمر لڑکیوں کو اسقاطِ حمل پر مجبور کیا؟ کچھ پاگل ہو گئیں، کچھ نے خودکشی کر لی۔”
مہرالہ کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔