Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 155 Found at Last
Del-I Ask Episode 155 Found at Last
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
اب مہرالہ مہرباش کو آخرکار سمجھ آ گیا کہ ظہران ممدانی اتنے یقین سے کیسے جانتا تھا کہ وہ اسے ڈھونڈ لے گا۔
کنان ممدانی بول تو نہیں سکتا تھا، مگر وہ نادان بھی نہیں تھا۔ وہ پورا ایک ہفتہ اس جزیرے پر رہ چکا تھا، اس لیے وہ اس جگہ کو پہچانتا تھا۔
اسی لیے ظہران کو ہر جزیرہ چھاننے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
اسے بس وہی جزیرہ تلاش کرنا تھا جہاں کنان کا ردِعمل سب سے زیادہ ہوتا۔
بالکل جیسے اس وقت۔
ہیلی کاپٹر سے اترنے سے پہلے ہی کنان خوشی سے ہاتھ پاؤں ہلانے لگا تھا۔
وہ جو بھی لفظ جانتا تھا، سب ایک ساتھ بڑبڑانے لگا۔
“ماما… ماما… جیری… کِٹی…”
ایک بازو میں کنان کو اٹھائے، ظہران کے لبوں پر سرد سی مسکراہٹ آ گئی۔
“لگتا ہے، یہی جگہ ہے۔”
تمام لوگ فوراً الرٹ ہو گئے۔
دوسری طرف پہلے بھی اسلحہ استعمال کیا جا چکا تھا، اس لیے کوئی بھی لاپرواہی نہیں برتی جا سکتی تھی۔
سہیل نعمانی کے چہرے سے بھی وہ ہلکی سی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی جو عام طور پر اس کے چہرے پر رہتی تھی۔
اس نے کمیونیکیٹر میں کچھ کہا، اور اگلے ہی لمحے سمندر کی سطح پر جنگی کشتیاں نمودار ہو گئیں، جو جزیرے کو گھیرنے لگیں۔
اوپر پہاڑی مقامات پر اسنائپرز تعینات کر دیے گئے۔
ہیلی کاپٹروں سے اسپیشل فورسز کے اہلکار رسیوں کے ذریعے جنگل میں اترنے لگے۔
سب نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں۔
مہرالہ کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ صرف اسے ڈھونڈنے کے لیے اتنے لوگ جمع کر لیے گئے ہیں۔
وہ جانتی تھی کہ ممدانی خاندان کی حیثیت عام نہیں، مگر یہ سب دیکھ کر بھی وہ دنگ رہ گئی۔
کاروباری سلطنت کی چوٹی پر کھڑا یہ شخص، فوجیں بھی باآسانی بلا سکتا تھا۔
وقت گزرتا گیا، اور مزید جہاز، ہیلی کاپٹر اور اسپیشل فورسز ساحل پر پہنچتی گئیں۔
اب اسے ڈھونڈ لیا جانا صرف وقت کی بات تھی۔
کنان اتنا خوش تھا کہ ظہران کی بانہوں سے نکلنے کی ضد کرنے لگا۔
علاقہ محفوظ ہونے کی تصدیق کے بعد، ظہران نے اسے زمین پر اتار دیا۔
“شاباش، بیٹا۔ چلو، اپنی ماما کو ڈھونڈتے ہیں۔”
ظہران کی آنکھوں میں پُراعتماد چمک تھی۔
اس کے ذہن میں ایک ہی خیال تھا:
“اب بچ کر دکھاؤ، مہرالہ۔”
کنان بالکل کسی فوجی کتے کی طرح برتاؤ کر رہا تھا۔
آخر وہ اس جزیرے سے بخوبی واقف تھا۔
سہیل نعمانی مسلسل آواز دیتا رہا،
“آہستہ، ماسٹر کنان! سنبھل کر! گر جاؤ گے!”
کنان اپنے ننھے ننھے قدموں سے دوڑتا رہا۔
کبھی ٹھوکر کھا کر گرتا، مگر فوراً اٹھ کر پھر دوڑنے لگتا۔
جیسے ہی اس کی نظر بلی پر پڑی، وہ فوراً اس کی طرف لپکا۔
“کِٹی… کِٹی…”
ظہران نے نگاہ سے اشارہ کیا۔
بلی کے پیچھے پیچھے جاتے ہوئے، بلال انعام ایک گھر کے قریب پہنچا، جہاں مارتھا زمین پر بکھرا سامان سمیٹ رہی تھی۔
بلال نے مہرالہ کی تصویر نکالی اور نہایت شائستگی سے پوچھا،
“بی بی، کیا آپ نے اس عورت کو پہلے کبھی دیکھا ہے؟”
مارتھا نے سر ہلایا اور مقامی لہجے میں کچھ کہا، جو بلال کی سمجھ میں نہیں آیا۔
اسی لمحے، کنان دوڑتا ہوا دروازے تک آیا۔
“نانی…”
مارتھا کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ایک لمبا قدآور آدمی اس کے قریب آ کھڑا ہوا۔
اس کے چہرے پر سردی اور رعب صاف جھلک رہا تھا۔
ظہران نے دھیمی مگر سخت آواز میں کہا،
“بی بی، میرا آپ کو ناراض کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں صرف اپنی بیوی کے لیے آیا ہوں۔
مجھے امید ہے آپ تعاون کریں گی، ورنہ…”
ایک لمحے کو رُک کر اس نے مزید کہا،
“میں یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ پھر میں کون سا غیر مناسب رویہ اختیار کر بیٹھوں۔”
اس کے وجود سے اٹھنے والا دباؤ مارتھا کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑا گیا۔
اس کے باوجود، وہ ہاتھ ہلا ہلا کر یہی سمجھاتی رہی کہ اس نے اس عورت کو کبھی نہیں دیکھا۔
ظہران بےوقوف نہیں تھا۔
وہ کسی کی اداکاری فوراً پہچان لیتا تھا۔
کنان جزیرے سے غیر معمولی طور پر مانوس تھا۔
وہ آس پاس کے گھروں کی طرف دیکھے بغیر، سیدھا اسی جگہ آ گیا تھا۔
یہی وہ جگہ ہو سکتی تھی جہاں مہرالہ ٹھہری ہوئی تھی۔
کنان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مارتھا اسے کیوں نظرانداز کر رہی ہے، حالانکہ وہ پہلے اس کے ساتھ کتنی اچھی تھی۔
ظہران نے نرمی سے کنان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“کنان، ماما کہاں ہے؟”
کنان نے ادھر اُدھر دیکھنا چھوڑ دیا۔
اس نے سمت بدلی اور اس کمرے کی طرف چل پڑا جہاں وہ اور مہرالہ پہلے رہا کرتے تھے۔
مارتھا نے اسے روکنے کی کوشش کی، مگر سہیل نعمانی کا بلند قامت وجود اس کے سامنے حائل ہو گیا۔
“معذرت، بی بی۔”