📱 Download the mobile app free
Home > Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 > Del-I Ask Episode 92 The Auction Tug-of-War

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 92 The Auction Tug-of-War

ایورلی اپنی نشست پر بیٹھی تو ہال کی بتیاں مدھم ہو گئیں۔ توران کاسی نے دھیمی مگر دھمکی آمیز آواز میں کہا، “حد میں رہو، ایورلی۔”
ایورلی فوراً پلٹ کر بولی، “حد میں؟ میں نے تو ابھی تمہیں گھر توڑنے والی ثابت بھی نہیں کیا۔”

مدھم روشنی میں بھی ایورلی دیکھ سکتی تھی کہ توران کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر ایورلی کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
“مجھے بہت مزہ آتا ہے یہ دیکھ کر کہ تم مجھے برداشت نہیں کرتیں مگر کچھ کر بھی نہیں سکتیں۔ توران، میرے پاس تمہاری ہر حرکت کے ثبوت موجود ہیں۔ اگر تم نے دوبارہ مجھے یا مہرالہ کو چھیڑا، تو میں سب کچھ دنیا کے سامنے رکھ دوں گی۔ اگر میری بات مانو تو یہیں رک جاؤ۔ خود کو بہت اونچا مت سمجھو، تم بس ایک چالاک لومڑی ہو۔”

توران نے اسے گھورتے ہوئے دانت بھینچے مگر خاموش رہی۔

ادھر مہرالہ کو خود بھی توقع نہیں تھی کہ اس کی اتنی جلدی ظہران ممدانی سے دوبارہ مڈبھیڑ ہو جائے گی۔ دونوں نے ایک دوسرے سے بات تک نہ کی۔ کوئی دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ وہ اجنبی ہیں۔ نیلامی میں لگنے والی بھاری بولیوں پر بھی دونوں کا کوئی ردِعمل نہیں تھا۔

جیسے ہی نیلامی اختتام کے قریب پہنچی، شان کراسبی خود اسٹیج پر آ گیا۔
“اگلا آئٹم ایک قدیم باغیچہ نما رہائش ہے، جس کی تاریخ سو برس پر محیط ہے۔”

اسکرین پر ایک کلاسیکی باغیچے والی رہائش دکھائی گئی۔ یہ مہرالہ کے آباؤ اجداد کی بنائی ہوئی رہائش تھی، جسے بعد میں جدید انداز میں مرمت کیا گیا تھا مگر اس کی تاریخی حیثیت برقرار رکھی گئی تھی۔ شہر کے سب سے اہم علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی قدر بہت زیادہ تھی، چاہے ذاتی رہائش کے لیے ہو یا کاروباری مقصد کے لیے۔

تصاویر میں مہرالہ نے وہی مانوس صحن دیکھا، جہاں درخت پر پھول کھلنے والے تھے۔ اسے یاد آیا کہ کائف مہرباش نے اسی درخت کے نیچے اپنی بہترین شراب دفن کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس دن نکالے گا جب اس کی بیٹی ماں بنے گی۔ مگر وہ دن آنے سے پہلے ہی وقت تھم گیا تھا۔

شان نے اعلان کیا، “بولی ایک ارب ڈالر سے شروع ہوگی۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات اپنی بولی لگا سکتے ہیں۔ ایسی جگہ دوبارہ ملنا مشکل ہے۔”

مہرالہ اور ظہران دونوں نے ایک ساتھ اپنی پیڈل اٹھا دی۔
“دو ارب ڈالر،” دونوں کی آواز ایک ساتھ گونجی۔

مہرالہ نے ظہران کو دیکھا، سمجھ نہ پائی کہ وہ اس سے مقابلہ کیوں کر رہا ہے۔ یہ جگہ اس کے لیے زندگی بھر کی یاد تھی، مگر اس کے لیے اس کی کیا اہمیت تھی؟

اسی لمحے ظہران کے فون پر پیغام آیا۔ توران کاسی نے لکھا تھا:
“ظہران، مجھے مہرباش رہائش گاہ چاہیے۔”

مہرالہ نے اس جائیداد کے لیے پانچ ارب ڈالر بچا کر رکھے تھے۔ ماہرین کے مطابق اس کی اصل قیمت اڑھائی سے تین ارب ڈالر کے درمیان تھی۔
“دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر،” مہرالہ نے عزم کے ساتھ اگلی بولی لگائی۔

اس کے بعد صرف ظہران ہی مقابلے میں رہ گیا۔
“تین ارب ڈالر۔”

یہ قیمت بڑھا کر وہ مہرالہ کو واضح پیغام دے رہا تھا کہ وہ یہ جائیداد لینا چاہتا ہے اور اسے رک جانا چاہیے۔ وہ اس کی حد جانتا تھا۔ آدھی رقم عطیہ کرنے کے بعد اس کے پاس کل پانچ ارب ہی بچے تھے۔ جو رقم عام لوگوں کے لیے ناقابلِ تصور تھی، وہ ممدانی خاندان کے لیے کچھ بھی نہیں تھی۔

مہرالہ نے پیڈل مضبوطی سے تھامی اور دانت بھینچ کر کہا،
“تین اعشاریہ پانچ ارب ڈالر۔”

یہ اس کا جواب تھا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گی۔ یہ رہائش اس کے لیے بے حد اہم تھی۔

مگر ظہران نے ایک بار پھر پیڈل اٹھا لی۔
“چار ارب ڈالر۔”

چند لمحے پہلے تک توران سے الجھنے والی ایورلی کا موڈ یکدم اتر گیا۔ وہ جانتی تھی کہ ظہران یہ سب جان بوجھ کر کر رہا ہے۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ مہرباش رہائش گاہ مہرالہ کے لیے کتنی اہم ہے۔

توران نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “تمہارا کیا خیال ہے، اگر قیمت پانچ ارب تک پہنچ گئی تو مہرالہ کیا کرے گی؟”

اب ایورلی کو سب کچھ صاف سمجھ آ گیا۔
“یہ رہائش تم چاہتی ہو، ظہران نہیں۔”

توران نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“ظہران ہمیشہ مجھے وہی دیتا ہے جو میں چاہتی ہوں۔”