Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 80 The Man Behind the Switch
Del-I Ask Episode 80 The Man Behind the Switch
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
اگلے دو دنوں تک مہرالہ کو ظہران ممدانی کا کہیں کوئی نام و نشان نظر نہ آیا، مگر اس دوران ایورلی ہلٹن اس کی تیمارداری کرتی رہی اور ساتھ ساتھ ظہران کو کوستی بھی رہی۔
“تمہیں نہیں لگتا وہ بیوقوف کسی کے قابو میں آ گیا ہے؟ آخر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ پہلے طلاق چاہیے، پھر یہ برداشت نہیں کہ تم کسی اور کو ڈیٹ کرو، اور اب یہ کہنا کہ تم بیماری کا ڈراما کر رہی ہو! میرا خیال ہے تمہیں کوئی مقدس پانی منگوا کر اس پر چھڑکنا چاہیے تاکہ اس کے اندر گھسی ہوئی بلا بھاگ جائے،” ایورلی غصے سے بڑبڑائی۔
مہرالہ نے سکون سے کہا،
“وہ کسی کے قبضے میں نہیں… وہ بس پاگل ہے۔”
دو دن آرام کے بعد، معدے کی تکلیف کے سوا وہ خود کو تقریباً ٹھیک محسوس کرنے لگی۔ اس کی بات سننے کے بعد کَیلون نے ایک اور چیک اَپ کی تجویز دی، مگر مہرالہ نے شائستگی سے انکار کر دیا۔ اس نے بس اتنا کہا کہ وہ کسی اور ہسپتال میں پہلے ہی چیک اَپ کروا چکی ہے اور علاج جاری ہے۔
کَیلون نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ اس نے دو دن تحقیق میں لگائے اور پھر جواب دینے خود آ گیا۔
“ارے، ایورلی! تم بھی یہاں ہو؟”
کَیلون سفید کوٹ کے نیچے سفید قمیص، سیاہ ٹائی اور سیاہ پتلون میں ملبوس تھا۔ وہ خاصا دراز قد اور خوش شکل لگ رہا تھا۔
ایورلی نے ظہران کو کوسنا چھوڑا، سیٹی بجائی اور بھنویں اچکاتے ہوئے بولی،
“واہ بھئی! وردی میں تو لوگ ہسپتال کے ڈائریکٹر لگتے ہیں، مگر تم تو کسی کو پھانسنے نکلے ہوئے لگ رہے ہو۔”
کَیلون نے شائستگی سے ہنستے ہوئے اپنے سینے پر لگے بیج کی طرف اشارہ کیا۔
“میرے حُسن پر شک کر لو، مگر میری پروفیشنل قابلیت پر نہیں۔”
ایورلی نے اسے مزید چھیڑا، مگر کَیلون کے چہرے پر مسکراہٹ برقرار رہی۔
“مہرالہ، اگر ایک اور چیک اَپ میں بھی کوئی مسئلہ نہ نکلا تو تمہیں ڈسچارج کر دیا جائے گا۔”
“ایورلی، تم یہیں انتظار کرو، میں ابھی آتی ہوں،” مہرالہ نے کہا۔
ایورلی نے منہ میں ایک چیری ڈالتے ہوئے پوچھا،
“کیا میں ساتھ چلوں؟”
مہرالہ نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا۔
“نہیں، بس روٹین چیک اَپ ہے۔”
یہ کہہ کر وہ کَیلون کے ساتھ چیک اَپ روم کی طرف چل دی۔
پچھلا ڈاکٹر جا چکا تھا، کمرے میں صرف کَیلون اور مہرالہ موجود تھے۔
“بیٹھ جاؤ،” کَیلون نے بازو پھیلا کر کہا۔
مہرالہ نے بیٹھتے ہی بےچینی سے کہا،
“لگتا ہے تمہیں کچھ پتا چل گیا ہے۔”
کَیلون نے اثبات میں سر ہلایا، اور اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
“تم ٹھیک کہہ رہی تھیں۔ واقعی کسی نے رپورٹس میں ردّ و بدل کیا تھا۔”
“کس نے؟”
کَیلون نے سنجیدگی سے بتایا،
“اس دن جن ڈاکٹروں کو میرے بھائی نے تمہارا چیک اَپ کرنے کے لیے کہا تھا، وہ سب ماہر تھے۔ مگر ڈاکٹر تھرمن جو سی ٹی اسکین کے ذمہ دار تھے، اچانک اسہال میں مبتلا ہو گئے۔ وہ تمہارا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے یہ کام مائیک کروسبی نامی اسسٹنٹ انٹرن کے حوالے کر دیا۔
“جب مائیک تیاری مکمل کر کے رپورٹس اینالیسس ڈیپارٹمنٹ بھیجنے ہی والا تھا، تو ایک نرس نے اسے کمرے سے باہر بلا لیا۔ اسی وقفے میں کسی نے اندر آ کر تمہاری سی ٹی اسکین رپورٹس بدل دیں۔ ڈاکٹر تھرمن کی منظور شدہ رپورٹس واقعی نارمل تھیں، مگر وہ تمہاری نہیں تھیں۔”
کَیلون نے مہرالہ کو نیم گرم پانی کا گلاس دیا اور بات جاری رکھی،
“یہ کام کرنے والا شخص بہت ماہر تھا—ٹیکنالوجی میں بھی۔ اس نے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا۔ ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں لوگ کم ہوتے ہیں، اس لیے اسے اندر گھسنے کا موقع آسانی سے مل گیا۔ خوش قسمتی سے صفائی کرنے والی خاتون نے سب کچھ دیکھ لیا اور مجھے بتا دیا۔”
مہرالہ نے ایک گھونٹ لیا، گلاس نیچے رکھا اور پوچھا،
“وہ مرد تھا یا عورت؟”
“صفائی کرنے والی کے مطابق وہ ہسپتال کی وردی میں تھا—ایک مرد۔ کافی لمبا، مضبوط جسامت کا۔ اس نے بڑے سائز کے سن گلاسز پہن رکھے تھے، اس لیے چہرہ صاف نظر نہیں آیا۔”
“کوئی اور خاص بات؟”
کَیلون نے سر ہلایا۔
“ہاں۔ اس کے دائیں کان پر ایک تل تھا۔ شاید گھبراہٹ میں تھا، کیونکہ جاتے ہوئے گیلی فرش پر پھسلتے پھسلتے بچا—فرش ابھی ابھی پوچا گیا تھا۔ اسی لمحے خاتون نے اس کی آستین کے نیچے عقاب کا ٹیٹو دیکھا۔
“اس وقت اس نے زیادہ دھیان نہیں دیا، مگر بعد میں سمجھ آیا کہ کچھ غلط تھا۔ ہم عام طور پر بازوؤں پر ٹیٹو والے لوگوں کو ہسپتال میں ملازمت نہیں دیتے۔”
مہرالہ نے پانی کے گلاس کو گھورتے ہوئے آہ بھری۔
“صرف ایک ٹیٹو کی بنیاد پر ہم اسے ڈھونڈ نہیں سکتے۔”
“فکر نہ کرو، مہرالہ،” کَیلون نے یقین دلایا۔
“میں نے بلیک آؤٹ فوٹیج ایک پروفیشنل ہیکر کو بھیج دی ہے۔ اصل ویڈیو جلد بحال ہو جائے گی۔ جیسے ہی کچھ سامنے آیا، میں فوراً تمہیں اطلاع دوں گا۔”