Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 111 The Line She Refused to Cross
Del-I Ask Episode 111 The Line She Refused to Cross
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
ایورلی کی بات سن کر مہرالہ بے چین ہو گئی۔
اس کی آنکھوں میں ایک خطرناک سی چمک ابھری اور وہ بلند آواز میں بولی،
“کنان بے گناہ ہے، مگر میرا مرا ہوا بچہ بھی تو بے گناہ تھا! مرنا تو اسے چاہیے تھا!”
اس نے سینے پر ہاتھ رکھا، جیسے درد ناقابلِ برداشت ہو گیا ہو۔
“اگر وہ پیدا ہی نہ ہوتا تو میرا بچہ نہ مرتا۔”
ایورلی گھبرا گئی۔
“پاگل لڑکی! تم ایسے انتہائی خیالات کیوں سوچ رہی ہو؟ مہرالہ، میری بات سنو۔ میں حقیقت پسند ہوں، مگر قسمت پر یقین رکھتی ہوں۔
جو کچھ ہو رہا ہے، وہ لکھا جا چکا ہے۔ تمہارا بچہ باقی لوگوں سے پہلے فرشتہ بن گیا۔
آسمان کی طرف دیکھو، شاید وہ تمہیں دیکھ رہا ہو۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اچھی زندگی جیو، نہ کہ ایسے کام کرو جن پر بعد میں پچھتاؤ۔
تم نے جو دکھ جھیلے ہیں، کیا تم واقعی چاہو گی کہ کوئی اور بھی وہی دکھ سہے؟”
مہرالہ نے ٹھنڈی نظروں سے ایورلی کو دیکھا۔
“کیا تم جانتی ہو کہ پچھلے ایک سال میں مجھ پر کیا گزری ہے؟
میرا خاندان کیوں برباد ہوا؟ توران خوشی سے اپنے خاندان کے ساتھ جی رہی ہے، اور ظہران جو چاہے کر سکتا ہے۔
میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ انہیں دس گنا زیادہ تکلیف کا مزہ چکھاؤں۔”
“مہرالہ…” ایورلی نے فکرمندی سے کہا۔
مہرالہ اچانک مسکرا دی۔
“ایسا مت دیکھو۔ جب تک ابو کو ہوش نہیں آ جاتا، میں کچھ نہیں کروں گی۔”
ایورلی نے نرمی سے کہا،
“میں جانتی ہوں کہ میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، کیونکہ میں نے وہ سب نہیں سہا جو تم نے سہا ہے۔
میں بس یہی چاہتی ہوں کہ تم صحت مند رہو اور خود پر قابو رکھو۔”
“فکر مت کرو،” مہرالہ نے آہستہ سے کہا،
“میں اس وقت بالکل پُرسکون ہوں۔”
ایورلی پریشان ہو گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مہرالہ کے دل میں کیا چل رہا ہے، مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔
جب وہ جانے لگی تو اس نے مہرالہ کو ایک لوری گنگناتے سنا۔
جب مہرالہ حاملہ تھی تو اس نے بے شمار کھلونے خریدے تھے اور لوریاں ڈاؤن لوڈ کر کے رکھ لی تھیں۔
اس وقت ایورلی نے مذاق میں کہا تھا،
“بچہ ابھی آیا بھی نہیں اور تم نے اتنی لوریاں سیکھ لی ہیں، کہیں خود ہی نہ سو جاؤ۔”
مہرالہ نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا،
“بچے کے آنے کے بعد سیکھنے کا وقت نہیں ملے گا۔ یہ میری پہلی بار ہے ماں بننے کی، مجھے تیار رہنا چاہیے۔
وہ سب محسوس کرتا ہے۔ جب میں لوری گنگناتی ہوں تو بہت پرسکون ہو جاتا ہے، لات بھی نہیں مارتا۔
مجھے لگتا ہے وہ ایک پیارا سا بیٹا ہوگا جو اپنی ماں کا خیال رکھے گا۔”
ایورلی ہنس دی تھی۔
“تم خوبصورت ہو، بس وہ تم پر یا اپنے باپ پر گیا ہو، میں تو پہلے ہی اسے دیکھنے کی منتظر ہوں۔”
وہ دن کبھی نہیں آیا۔
مہرالہ کو معلوم نہیں تھا کہ ظہران، جو کئی دنوں سے اس کے سامنے نہیں آیا تھا، اس وقت دنیا کے دوسرے کونے میں تھا۔
اور وہ اپنی جان کے خطرے میں تھا۔
نقاب پوش ظہران پل سے کود گیا۔ اوپر سے گولیوں کی بارش ہونے لگی۔
پانی کی سطح پر سرخ رنگ پھیل گیا۔
“وہ زیادہ دور نہیں جا سکے گا! اس کے پیچھے جاؤ!” کسی نے چیخ کر کہا۔
ظہران دریا سے نکل آیا، دائیں بازو کے زخم کو تھامے ہوئے، اور کنارے کی طرف بڑھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈبہ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔
اس نے سکون کا سانس لیا اور بڑبڑایا،
“جہانگیر، کیا تم مجھے دیکھ رہے ہو؟ دیکھو… میں نے وہ واپس لے لیا۔”