📱 Download the mobile app free
Home > Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 > Del-I Ask Episode 158 A Promise Made Under Threat

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 158 A Promise Made Under Threat

اس کے ہاتھ کی پشت سے اٹھنے والی جھلسا دینے والی حدت آہستہ آہستہ اس کے پورے وجود میں پھیلتی محسوس ہو رہی تھی۔ مہرالہ خوف سے لرز گئی۔

“ظہران، جزیرے کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے میرا بہت خیال رکھا، اور کنان کو ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچایا۔ کنان کو یہاں بہت اچھا لگتا ہے۔ اغوا ایک غلط فہمی تھی۔ میں سب کچھ سمجھا سکتی ہوں…”

اس نے اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے، وہ پوری سنجیدگی سے منت کرنے لگی۔
“میں تمہارے ساتھ واپس چلی جاؤں گی، بس ان لوگوں کو چھوڑ دو، ٹھیک ہے؟”

انگلیوں کے درمیان سلگتی ہوئی سگریٹ تھامے، ظہران نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
سرد لہجے میں بولا،
“مہر، تم مجھے ہمیشہ غصہ کیوں دلاتی ہو؟ اگر شروع سے اتنی فرمانبردار ہوتیں تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔”

مہرالہ نے اپنے دل کا بوجھ دباتے ہوئے سر اٹھایا۔ اس کا چہرہ زرد تھا، آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے، مگر اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
“ٹھیک ہے۔ میں دوبارہ کبھی نہیں بھاگوں گی۔ کبھی بھی نہیں۔”

“یہ وعدہ ہے؟”
ظہران نے سوال کیا۔
“اور اگر تم پھر بھاگ گئیں تو؟”

مہرالہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ آنکھوں میں ٹھہرے آنسو اس کے دل میں چبھ گئے۔

سگریٹ اب بھی اس کی انگلیوں کے درمیان تھی۔ اس نے مہرالہ کی ٹھوڑی تھامی۔ سگریٹ کا دہکتا سرا اس کی جلد سے محض چند انگلیوں کے فاصلے پر تھا۔
وہ اس کی حدت صاف محسوس کر سکتی تھی۔ ذرا سی حرکت بھی اسے جلا سکتی تھی۔

وہ بےبس کھڑی رہی، اور ظہران اس کے کان کے قریب جھک کر بولا،
“مہر، اگر تم نے دوبارہ بھاگنے کی کوشش کی تو میں اس پورے جزیرے کو نقشے سے مٹا دوں گا۔ یہ میری آخری بات ہے۔”

مہرالہ نے ذلت کے احساس سے آنکھیں بند کر لیں۔ آنسو اس کے رخساروں پر بہنے لگے۔
“جی… میں سمجھ گئی۔”

اس کے الفاظ ختم ہوتے ہی اس کی سانسیں ایک لمحے کو چھن گئیں۔ ظہران نے کسی روک ٹوک کے بغیر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
وہ بالکل بھی یہ سب نہیں چاہتی تھی۔ اردگرد کم از کم سو لوگ موجود تھے۔

سمندری ہوا کا جھونکا آیا۔ ایک جھٹکے سے اس نے مہرالہ کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔
ظہران کے ہاتھ سے سگریٹ گر گئی۔

مہرالہ شرمندگی اور تذلیل کے احساس سے بھر گئی۔ ظہران یہ سب جانتا تھا، مگر اس کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ سہام کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ مہرالہ کس کی ہے۔

کبھی کبھی مرد جیتنے کی ضد میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ بات مضحکہ خیز حد تک پہنچ جاتی ہے۔

جب مہرالہ کی سانسیں تقریباً ٹوٹنے لگیں تو بالآخر ظہران نے اسے چھوڑ دیا۔
پھر اس نے سرد نظروں سے سہام کو دیکھا، اور ایک فاتح کی طرح مہرالہ کو ساتھ لے گیا۔

مہرالہ اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ سب ابھی شروعات ہے۔ ظہران اسے اتنی آسانی سے نہیں چھوڑنے والا۔

“ماما!”
کنان دور سے دوڑتا ہوا اس کی طرف آیا۔

جیسے ہی کنان اس کے قریب پہنچا، ظہران نے اسے اٹھا لیا۔
“جا کر ادھر کھیل۔”

کنان نے ناراضی سے منہ پھلا لیا، مگر باپ کے حکم کے آگے وہ کچھ نہ کر سکا۔ وہ بس مہرالہ کو ترس بھری نظروں سے دیکھتا رہا۔
اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ مہرالہ خود بھی اپنی حفاظت کے قابل نہیں رہی تھی۔

ظہران نے بچے کو سہیل نعمانی کے حوالے کیا، پھر مہرالہ کو اس کے کمرے میں لے گیا۔

دروازہ بند ہوتے ہی، اس نے مہرالہ کو دیوار سے لگا دیا۔

مہرالہ نے لاشعوری طور پر مزاحمت کی کوشش کی، مگر ظہران نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر سر کے اوپر کر دیے۔ اس کی ٹانگ اس کے قدموں کے درمیان آ گئی، اور وہ پوری طرح قید ہو گئی۔

ظہران نے اس کی ٹھوڑی تھامی اور اس کے کان میں سرگوشی کی،
“کیا تم اس اغواکار پر دل ہار بیٹھیں؟”

ان تمسخر بھرے الفاظ نے مہرالہ کو اندر تک ہلا دیا۔ اس نے غصے سے اسے گھورا۔
“مجھے اس سے محبت نہیں ہے۔ مجھے تم سے نفرت ہے۔”

یہ الفاظ ظہران کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔ اس کی نیم بند آنکھوں میں سرد مہری بھر گئی۔
“تم نے کیا کہا؟”