📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-i Ask Episode 01

جس دن مہرالہ مہرباش کو اسٹمک کینسر کی تشخیص ہوئی، اسی دن اُس کا شوہر ظہران ممدانی اپنی پہلی محبت کے بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔
ہسپتال کی راہداری میں ریدان سُہرابدی ہاتھ میں بایوپسی رپورٹ تھامے سنجیدہ لہجے میں بولا،
“مہرالہ، رپورٹس آ گئی ہیں۔ اگر سرجری کامیاب ہو جائے تو اسٹیج 3A میلگننٹ ٹیومر میں پانچ سالہ سروائیول ریٹ صرف پندرہ سے تیس فیصد ہوتا ہے۔”
مہرالہ نے اپنے نازک ہاتھوں سے بیگ کی پٹی مضبوطی سے پکڑ لی۔ اُس کا چھوٹا سا چہرہ زرد اور گمبھیر تھا۔
“ریدان، اگر میں سرجری نہ کرواؤں تو میرے پاس جینے کے لیے کتنا وقت رہ جاتا ہے؟”
“چھ ماہ سے ایک سال۔ یہ ہر مریض میں مختلف ہوتا ہے۔ آپ کے کیس میں بہتر یہ ہے کہ سرجری سے پہلے کیموتھراپی کے دو سائیکلز کیے جائیں، تاکہ ٹیومر کے پھیلنے یا میٹاسٹیسس کا خطرہ کم ہو جائے۔”
مہرالہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے بمشکل کہا، “شکریہ۔”
ریدان نے فوراً کہا، “شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں ابھی آپ کے ہسپتال ایڈمیشن کا انتظام کر دیتا ہوں۔”
“نہیں… مجھے ٹریٹمنٹ نہیں کروانا۔ میں یہ سب برداشت نہیں کر پاؤں گی،” مہرالہ نے دھیمی آواز میں کہا۔
ریدان کچھ اور کہنا چاہتا تھا مگر مہرالہ نے سر جھکا کر اُسے روک دیا۔
“ریدان، براہِ کرم یہ بات راز میں رکھیے۔ میں نہیں چاہتی کہ میرے گھر والے پریشان ہوں۔”
مہرباش خاندان پہلے ہی مالی طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا۔ مہرالہ اپنے والد کائف مہرباش کے میڈیکل اخراجات پورے کرنے کے لیے حد سے زیادہ محنت کر رہی تھی۔ اگر گھر والوں کو اُس کی بیماری کا علم ہو جاتا تو حالات مزید خراب ہو جاتے۔
ریدان نے بےبسی سے سانس لی۔
“فکر نہ کریں، میں خاموش رہوں گا۔ میں نے سنا ہے آپ شادی شدہ ہیں، آپ کے شوہر—”
“ریدان، براہِ مہربانی میرے ابو کا خیال رکھیے۔ مجھے اب جانا ہوگا۔”
یہ کہتے ہی مہرالہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔ ریدان نے خاموشی سے اُس کی پشت کو دیکھا اور سر ہلا دیا۔
کہا جاتا تھا کہ اُس نے یونیورسٹی چھوڑ کر شادی کر لی تھی۔ میڈیکل کالج کی ذہین ترین طالبہ اب زندگی کے اندھیروں میں کھو چکی تھی۔
اپنے والد کے ٹریٹمنٹ کے دو برسوں میں وہی ہر ذمہ داری نبھاتی رہی۔ یہاں تک کہ جب وہ خود بیماری کے باعث گر پڑی اور راہگیروں نے اُسے ہسپتال پہنچایا، تب بھی اُس کا شوہر کبھی وہاں نہیں آیا۔
یادوں میں جھانکنے پر واضح تھا کہ شادی کے پہلے سال ظہران نے اُس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تھا،
مگر جب اُس کی پہلی محبت توران کاسی حاملہ حالت میں واپس لوٹی، تو سب کچھ بدل گیا۔
ایک بار ایسا ہوا کہ مہرالہ، جو خود بھی پریگننٹ تھی، پانی میں توران کاسی کے ساتھ گر گئی۔ جدوجہد کے دوران اُس نے دیکھا کہ ظہران پوری طاقت کے ساتھ صرف توران کی طرف تیر رہا تھا۔
اس حادثے کے باعث دونوں کی پری ٹرم لیبر ہو گئی۔
مہرالہ کو بہت دیر بعد بچایا گیا اور ٹریٹمنٹ کا گولڈن ونڈو ضائع ہو چکا تھا۔ ہسپتال پہنچتے پہنچتے اُس کا بچہ رحمِ مادر میں ہی دم توڑ چکا تھا۔
بچے کی موت کے سات دن بعد ظہران نے طلاق مانگی، مگر اُس نے انکار کر دیا۔
اب جب بیماری کا سچ سامنے آ چکا تھا تو وہ مزید انکار نہیں کر سکی۔
لرزتے ہاتھوں سے اُس نے اُس کا نمبر ملایا۔ تیسری رنگ پر کال اٹھا لی گئی۔
اُس کی آواز سرد تھی،
“میں تم سے نہیں ملوں گا، سوائے طلاق کے لیے۔”
مہرالہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، مگر اُس نے بیماری کا ذکر لبوں تک آنے نہ دیا۔
اسی لمحے پس منظر میں توران کاسی کی آواز سنائی دی،
“ظہران، بچوں کے پیڈیاٹرک چیک اَپ کا وقت ہو گیا ہے۔”
برسوں سے روکے ہوئے آنسو ایک دم بہہ نکلے۔
اُس کا بچہ جا چکا تھا، اُس کا گھر برباد ہو چکا تھا، اور وہ کسی اور کے ساتھ فیملی بنا چکا تھا۔
اب سب کچھ ختم ہونا چاہیے تھا۔
وہ پہلے کی طرح منت سماجت پر نہیں اتری۔ کمزور آواز میں بولی،
“ظہران، آؤ طلاق لے لیتے ہیں۔”
فون پر چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی، پھر اُس کی سرد ہنسی سنائی دی۔
“مہرالہ، اب کون سا نیا کھیل کھیل رہی ہو؟”
مہرالہ نے آنکھیں بند کیں۔
“میں گھر پر تمہارا انتظار کروں گی۔”
فون بند کرنے میں اُس کی ساری طاقت لگ گئی۔ وہ دیوار کے ساتھ پھسل کر زمین پر بیٹھ گئی۔ راہداری میں آتی بارش نے اُسے بھگو دیا۔ وہ فون مضبوطی سے تھامے آستین دانتوں میں دبا کر بےآواز روتی رہی۔
فون بند ہونے کے بعد ظہران دیر تک خالی نظروں سے اسکرین دیکھتا رہا۔
ایک سال تک طلاق سے انکار کرنے والی آج اچانک کیوں مان گئی تھی؟ اُس کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔
تیز بارش کو تکتے ہوئے وہ وارڈ سے باہر نکل آیا۔
“ظہران، کہاں جا رہے ہو؟” توران کاسی بچوں کو گود میں لیے اُس کے پیچھے آئی، مگر اُسے تیزی سے دور جاتے دیکھ کر اُس کے چہرے کی نرمی فوراً سیاہی میں بدل گئی۔
مہرالہ… وہ ابھی تک باز نہیں آئی تھی۔
──────── اگلی قسط ────────
• مہرالہ سے اصل سچ کیوں چھپایا گیا؟
• ظہران اُس لمحے کہاں تھا جب اُسے ہونا چاہیے تھا؟