Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 110 When Kindness Turns Into Rage
Del-I Ask Episode 110 When Kindness Turns Into Rage
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
ایورلی کے نزدیک، مہرالہ ایک روشن دل انسان تھی۔
اچھی پرورش میں پلی بڑھی، درست اقدار پر یقین رکھنے والی، اور اصولوں کے ساتھ جینے والی۔
وہ کبھی گھٹیا ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتی تھی۔
اگرچہ وہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، مگر عام لوگوں کو حقیر نہیں سمجھتی تھی۔
ایسی بااعتماد اور باوقار عورت کی طرف ظہران کا مائل ہونا بالکل فطری بات تھی۔
خود ایک عورت ہونے کے ناتے، ایورلی کو بھی مہرالہ پسند تھی۔
اکثر اوقات، وہ مہرالہ کے کردار سے اپنا موازنہ کر کے خود سے شرمندہ ہو جاتی تھی۔
لیکن اس وقت اس کے سامنے کھڑی عورت، مہرالہ جیسی بالکل نہیں لگ رہی تھی۔
اب وہ ایک ٹوٹی ہوئی گڑیا کی مانند تھی۔
اس کی خوبصورت آنکھیں جذبات سے خالی تھیں، اور یہی بات ایورلی کے وجود میں سرد لہر دوڑا رہی تھی۔
ایورلی نے گھبرا کر کہا،
“مہرالہ، تم یہ کیا باتیں کر رہی ہو؟”
مہرالہ پاگلوں کی طرح ہنستی اور روتی رہی۔
تصویروں نے اس کی سوچ مکمل طور پر بدل دی تھی۔
اب وہ سمجھ چکی تھی کہ اس کی نرمی ہی لوگوں کو اس پر ظلم کرنے کا موقع دیتی رہی۔
وہ روتے ہوئے بولی،
“وہ لیان کو ڈھونڈنے میں میری مدد نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسے بس مجھے ذلیل کرنے کا بہانہ چاہیے تھا۔
اور میں… میں بیوقوفوں کی طرح اب بھی ابو کے ہوش میں آنے کی امید لگائے بیٹھی ہوں۔”
“مہرالہ…” ایورلی نے اسے پکارا۔
مہرالہ بے قابو ہو گئی،
“میں اس کے لیے ایک کتے سے زیادہ نہیں ہوں!
جب اس کا دل چاہتا ہے، وہ مجھے دو چار کھلونے دے دیتا ہے، اور مجھے شکر گزار ہونا پڑتا ہے۔
مجھے ہر وقت اس کے اردگرد پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے، ڈر کے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے۔
میرے خیال میں وہ مجھے ایک مسخرہ سمجھتا ہے۔
میں اندر سے ٹوٹ رہی ہوں، لیکن مجھے اسے خوش رکھنا پڑتا ہے۔
اور وہ؟
وہ میرے زخموں پر نمک چھڑکنے کا حق سمجھتا ہے!”
“مہرالہ، خود کو سنبھالو…” ایورلی نے نرمی سے کہا۔
مہرالہ تڑخ کر بولی،
“خود کو سنبھالوں؟ ایو، میں خود کو کیسے سنبھالوں؟
میری ساری بربادی کی وجہ وہی ہیں۔
کیوں مرنے والی میں ہوں، وہ کیوں نہیں؟”
ایورلی کے جسم میں سردی دوڑ گئی۔
“مہرالہ، کوئی احمقانہ خیال مت لانا۔
ہاں، توران ایک گھٹیا عورت ہے، لیکن اس کا بچہ بے گناہ ہے۔
کنان کو نقصان پہنچانے کا سوچنا بھی مت۔”
مہرالہ کی ماں اس کے بچپن میں ہی گزر گئی تھی۔
اس کے لیے کائف ہی واحد سہارا تھا۔
خاندان اس کی زندگی میں سب سے اہم تھا۔
جب وہ حاملہ ہوئی، تو اس کا بچہ ہی اس کی پوری دنیا بن گیا۔
وہ سمجھتی رہی کہ ابو اور اس کے بچے کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ محض ایک حادثہ تھا۔
اسی لیے اس نے ظہران کو کبھی قصوروار نہیں ٹھہرایا۔
لیکن اب سب کچھ بدل چکا تھا۔
یہ حادثہ نہیں تھا۔
یہ قتل کی کوشش تھی۔
جس نے اس کے پیارے خاندان کو نقصان پہنچایا تھا، وہ اسے آسانی سے معاف نہیں کر سکتی تھی۔
ایورلی پوری کوشش کر رہی تھی کہ کوئی سانحہ نہ ہو۔
وہ صبر سے اسے سمجھاتی رہی۔
آخرکار مہرالہ ہلکی سی مسکرائی۔
“ایو، تم کیا سوچ رہی ہو؟
میں کسی بچے کو کیوں نقصان پہنچاؤں گی؟”
ایورلی نے سکھ کا سانس لیا۔
“شکر ہے…”
مہرالہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
آج دھوپ نکلی ہوئی تھی۔
درختوں کی شاخوں پر جمی برف پگھل کر چھت پر ٹپک رہی تھی۔
پانی کے قطرے جمع ہو کر ایک تالاب سا بنا رہے تھے —
بالکل ویسے ہی جیسے اس کے دل میں نفرت آہستہ آہستہ جمع ہو رہی تھی۔
وہ بڑبڑائی،
“میں سوچتی ہوں…
جب میرا بچہ چلا گیا، کیا ظہران کو ذرا سا بھی دکھ ہوا تھا؟
اس نے تو میرے بچے کو دیکھا تک نہیں۔
اگر اس وقت مرنے والا بچہ کنان ہوتا…
تو کیا ظہران کو دکھ ہوتا؟
صرف تھوڑا سا ہی سہی؟”
یہ سن کر ایورلی کی ریڑھ کی ہڈی میں سردی اتر گئی۔
اس نے گھبرا کر مہرالہ کے ہاتھ تھام لیے،
“مہرالہ، خدا کے لیے ایسے مت سوچو۔
میں نے بدلے اور دوبارہ جنم کی بات کر کے غلطی کی۔
وہ سب صرف کہانیاں ہیں، حقیقت نہیں۔
ظہران کمینہ ہے، اور توران بھی ظالم ہے!
لیکن کنان بے گناہ ہے۔
تم خود بھی ایک ماں رہی ہو…”