📱 Download the mobile app free
Home > Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 > Del-I Ask Episode 83 Pride, Humiliation, and a Price to Pay

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 83 Pride, Humiliation, and a Price to Pay

چند دن پہلے جب اس نے اس پر دلیہ کا برتن پھینکا تھا، ظہران ممدانی کے ذہن میں مہرالہ مہرباش کی وہی تصویر ابھی تک تازہ تھی۔ وہ غصے سے بھری، بے قابو اور بالکل ایک جھنجھلائی ہوئی بلی کی طرح لگ رہی تھی۔

لیکن اب…
وہ بالکل اس کے برعکس تھی۔

سر جھکائے، نظریں چرا کر کھڑی تھی اور بےچینی سے ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر وزن بدل رہی تھی۔

مہرالہ نے اس کی نگاہوں کے نیچے محسوس ہونے والی گھبراہٹ اور اجنبیت پر قابو پانے کی کوشش کی اور دھیمی آواز میں بولی،
“میں آپ سے ایک مدد مانگنے آئی ہوں۔”

وہ ہنس دیا۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا، اس نے سگریٹ کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکالی۔ مہرالہ جانتی تھی، وہ اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔
“اب کیا چاہیے؟” اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔

ذرا فاصلے پر جیسن ییٹس، ایک امیر نوجوان، کھڑا تھا۔ وہ ظہران کے رویے میں معمولی سا فرق بھی بھانپ گیا تھا۔

وہ آگے بڑھا اور بولا،
“اس دنیا میں کون ہے جو مسٹر ممدانی سے مدد نہیں مانگنا چاہے گا؟ لڑکی، مدد مانگنے کا یہ کوئی طریقہ ہے؟ جلدی کرو اور مسٹر ممدانی کی سگریٹ جلاؤ۔”

جیسن نے مہرالہ کو ظہران کے قریب کھڑا کر دیا۔ ظہران نشست پر نیم دراز تھا، بالکل لاپرواہ انداز میں۔

پچھلے دو برسوں کی تلخ نوک جھونک کے علاوہ، پہلے وہ نسبتاً شائستہ اور خود پر قابو رکھنے والا تھا۔ اس نے کبھی اس کے سامنے سگریٹ نہیں پی تھی۔

مگر آج اس کی قمیص کا کالر کھلا ہوا تھا، اوپر کے دو بٹن کھلے تھے۔ مدھم روشنی میں اس کے نمایاں خدوخال اور بھی سخت اور رعب دار لگ رہے تھے۔

لائٹر ڈھونڈتے ہوئے مہرالہ کی نظر اس کی گہری آنکھوں سے ٹکرائی، جیسے وہ اسے پرکھ رہا ہو۔
اسے اب اس کی رائے کی پرواہ نہیں تھی۔

وہ ایک گھٹنا صوفے پر رکھ کر جھکی اور سگریٹ جلانے کے لیے آگے بڑھی۔
ان کے درمیان برابری کہاں تھی؟
اسے عاجز ہونا ہی پڑا۔

لائٹر کی لو اس کے چہرے پر تھرتھراتی روشنی ڈال رہی تھی۔ اس نے نظریں جھکائیں تو اس کے لبوں کے کنارے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

“مجھے یاد ہے، تم نے کہا تھا کہ تم ساتویں منزل سے کود جانا پسند کرو گی مگر میرے پاس مدد مانگنے نہیں آؤ گی،” اس نے کہا۔

یہ جملہ اس کے منہ پر زوردار تھپڑ کی طرح لگا۔

اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کے والد کائف مہرباش ایسی حالت میں آ جائیں گے کہ اسے ظہران سے مدد مانگنی پڑے۔
لیکن اب وہ یہ نہیں سوچنا چاہتی تھی کہ وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے۔

وہ اور جھک گئی اور نہایت دبی آواز میں بولی،
“آپ بڑے دل والے انسان ہیں، مسٹر ممدانی۔ اتنی معمولی بات پر ناراض نہیں ہوں گے۔”

جیسن کے دماغ میں فوراً پہیے گھومنے لگے۔

ظہران نے کبھی کسی عورت کو اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا، مگر یہ عورت ایک واضح استثنا لگ رہی تھی۔ سادہ لباس کے باوجود، اس کا چہرہ واقعی اس کے معیار کا تھا۔

جلدی سے جیسن نے مہرالہ کے سامنے تین گلاس وہسکی کے بھر دیے اور میز پر انگلیاں بجائیں۔
“یہ طریقہ ہے یہاں کام نکلوانے کا۔”

مہرالہ کی بھنویں سکڑ گئیں۔
آدھا گلاس ہی اسے بے ہوش کرنے کے لیے کافی تھا… اور وہ تین پینے کو کہہ رہا تھا۔

اس نے ظہران کی طرف دیکھا۔
وہ ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے، بےنیازی سے بولا،
“اس بار کیا بہانہ لاؤ گی؟ طبیعت خراب ہے؟ یا جان لیوا بیماری کا؟”

اس کے ہونٹوں پر طنز صاف جھلک رہا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ مہرالہ کی شراب برداشت نہیں، مگر اسے اسے تکلیف میں دیکھنے میں مزہ آتا تھا۔

شاید یہ اس کا انتقام تھا۔

مہرالہ کے دل میں درد اٹھا جب اسے وہ وقت یاد آیا جب وہ اسے شراب کو ہاتھ لگانے سے بھی روکتا تھا۔

مگر اب سب کچھ بدل چکا تھا۔

ظہران وہاں بیٹھا تھا، ٹھوڑی ذرا اونچی کیے، رعب اور وقار کا پیکر۔
وہ ہمیشہ سے اس کے سامنے کمزور اور بےبس رہی تھی۔

اب اس نے سب سوچ لیا تھا۔
اس کے ذہن میں صرف ایک مقصد تھا —
اپنے باپ کو بچانا۔

اس کی عزت، اس کی زندگی…
سب کچھ اس کے سامنے بے معنی تھا۔

اس نے ایک گلاس اٹھایا اور ایک ہی گھونٹ میں خالی کر دیا۔

وہسکی کی کوالٹی اسے معلوم نہ تھی، بس اتنا جانتی تھی کہ
اس کا حلق جل اٹھا۔

درد۔
صرف حلق ہی نہیں، اس کا معدہ بھی جلنے لگا۔

موٹے کپڑوں میں پسینہ بھر آیا، جسم تپنے لگا۔

پیٹ میں جیسے بھنور سا اٹھ رہا تھا۔

اس نے ایک ہاتھ پیٹ پر رکھا…
اور دوسرے ہاتھ سے دوسرا گلاس اٹھانے لگی۔