Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 114 A Dangerous Closeness
Del-I Ask Episode 114 A Dangerous Closeness
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
مہرالہ نے مرد کا چہرہ دیکھے بغیر ہی پہچان لیا تھا کہ وہ کون ہے۔
ظہران نے ایسا سوٹ پہنا ہوا تھا جو اس کے مضبوط جسمانی خدوخال کو نمایاں کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک خطرناک سی چمک تھی۔
صرف اس کے تیز جبڑے کی لکیر ہی اسے پہچاننے کے لیے کافی تھی۔
اس کی دیودار جیسی خوشبو مہرالہ کے حواس میں گھل گئی، جس سے گاڑی کی پچھلی نشست میں ایک عجیب سی قربت پیدا ہو گئی۔
اپنے بڑے منصوبوں کی خاطر اس نے خود کو اسے دھکیلنے سے روکے رکھا۔
خاموشی کو اس نے خود توڑا۔
“کہاں تھے؟”
اب وہ اس سے اُبر چکی تھی، اس کی زندگی میں اس کی کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی تھی۔
نہ وہ اس کے سوشل میڈیا اپڈیٹس دیکھتی تھی،
نہ بار بار اس کے اکاؤنٹس چیک کرتی،
اور نہ ہی اس کی پروفائل تصویر کھولتی تھی۔
اگر ظہران نے خود اسے ایئرپورٹ سے لینے کو نہ کہا ہوتا تو اسے یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ وہ ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔
“کام،”
اس نے مختصر سا جواب دیا۔
وہ لیان کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا، مگر اسے لگا کہ اس لمحے وہ فضا خراب ہو جائے گی۔
مہرالہ اس کی گود میں بیٹھی تھی۔
اس کا جسم اس کی رانوں کو گرم کر رہا تھا۔
بند جگہ اور یہ قربت…
یہ منظر کسی کو بھی بہکا سکتا تھا۔
اس کے دل میں آگے بڑھنے کی خواہش جاگ اٹھی۔
اس کی انگلی مہرالہ کی گردن سے اوپر کی طرف پھسلی،
اس کی جلد میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی،
اور آخرکار اس کی بھنوؤں پر آ کر رک گئی۔
وہ غور سے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا، اس کی آواز نرم ہو گئی۔
“اب ٹھیک ہے؟”
کھڑکی سے آتی روشنی میں
اسے اس کی بھنو کے اوپر ایک ہلکا سا نشان نظر آیا۔
قریب سے دیکھے بغیر وہ بمشکل دکھائی دیتا تھا۔
اس کی کھردری انگلی نے آہستگی سے اس زخم کو چھوا۔
“اس دن جو تم نے کیا، اس کے لیے شکریہ،”
اس کی سانس اس کی پیشانی کو چھوتی ہوئی گزری۔
مہرالہ نے سمجھا کہ شاید کنان کو بچانے کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ غیرمعمولی نرمی برت رہا ہے۔
اچانک اس کے دل میں ایک خوفناک تجسس جاگا—
وہ یہ جاننا چاہتی تھی کہ جس دن وہ کنان کو مارے گی،
اس دن ظہران کا ردِعمل کیا ہوگا۔
یقیناً وہ اس دن اتنا نرم نہیں ہوگا۔
وہ اس لمحے کا انتظار کرنے لگی۔
وہ چاہتی تھی کہ وہ بھی وہی درد محسوس کرے
جو اس نے اپنوں کو کھو کر سہا تھا۔
مہرالہ نے بےحسی سے جواب دیا،
“کوئی بات نہیں۔ میں بھی کبھی ماں رہی ہوں۔”
یہ سن کر ظہران کے بازو اس کی کمر کے گرد سخت ہو گئے۔
مہرالہ نے بات آگے بڑھائی،
“لیان کے بارے میں کوئی خبر؟”
اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
اس نے ساری بات بغیر کچھ چھپائے بتا دی۔
“میں نے اس پر انعام رکھ دیا ہے۔ جلد اسے ڈھونڈ لیں گے۔”
اس نے اسے محض ایک بہانہ سمجھا،
کیونکہ وہ پہلے ہی یہی توقع کر رہی تھی۔
اس کے دل میں خیال آیا:
“یہ تو چاہتا ہے کہ بابا مر جائیں،
پھر لیان کو ڈھونڈنے کی اتنی کوشش کیوں کرے گا؟
اس نے اس وقت وعدہ صرف اس لیے کیا تھا
تاکہ میں اس کے راستے میں نہ آؤں۔
کتنے بڑے اداکار ہو تم، ظہران۔”
اس کی نظروں میں طنز جھلکنے لگا۔
ادھر ظہران نے اس کی خاموشی کو مایوسی سمجھا،
اس لیے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا،
“میں اسے ڈھونڈ لوں گا۔”
“ٹھیک ہے،”
اس نے بات بدل دی۔
وہ اس موضوع پر مزید بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“کنان کی سالگرہ دو دن بعد ہے،
کیا میں آ سکتی ہوں؟”
اس کے بچے کا انتقال کنان کی سالگرہ کے دن ہی ہوا تھا۔
ظہران جانتا تھا کہ یہ دن اس کے لیے ہمیشہ تکلیف دہ رہے گا۔
“تم…”
اس نے سر اٹھایا۔
سڑک کی روشنی اس کی سیاہ آنکھوں میں جھلک رہی تھی۔
اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔
“ایک سال ہو گیا ہے،
مجھے لگتا ہے اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔”