📱 Download the mobile app free
Home > Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 > Del-i Ask Episode 109 The Truth That Shattered Her

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-i Ask Episode 109 The Truth That Shattered Her

مہرالہ مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی۔

وہ جانتی تھی کہ ظہران کوئی نیک انسان نہیں تھا، مگر اس حد تک کی بےرحمی کی اس نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔
آج اسے احساس ہوا کہ وہ اسے حقیقت میں جانتی ہی نہیں تھی۔

“ایو، تم جانتی ہو؟” مہرالہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا،
“کار حادثے والے دن میں گھر پر کھانا بنا رہی تھی… کیونکہ وہ ظہران کی سالگرہ تھی۔”

ایورلی نے فوراً ٹشو نکال کر اسے دیے، مگر مہرالہ کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
چند ہی لمحوں میں ٹشو بھیگ چکے تھے۔

مہرالہ بولتی رہی،
“ظہران کبھی اپنی سالگرہ نہیں مناتا تھا، کیونکہ اس کی اور اس کی بہن کی تاریخِ پیدائش ایک ہی تھی۔
سالگرہ کے دن وہ ہمیشہ اُداس رہتا تھا۔

میں نے بہت سوچ بچار کی کہ اسے خوش کیسے کیا جائے۔
مجھے یاد ہے میں نے گھر سجانے میں بہت وقت لگایا تھا۔

لیکن اس کے گھر آنے سے پہلے ہی مجھے خبر ملی کہ ابو ایک کار حادثے کے بعد نازک حالت میں ہیں۔”

اس نے سانس سنبھالنے کے لیے ہاتھ سینے پر رکھا۔
“ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے سوچا کہ اپنی موت کے ذریعے سب تلخیاں ختم کر دوں۔

لیکن اب مجھے افسوس ہوتا ہے…
کیوں مرنے والی میں ہوں اور وہ نہیں؟
مجھے ہی کینسر کیوں ہے؟
اللہ اتنا ناانصاف کیوں ہے؟”

ایورلی نے نرمی سے کہا،
“خود کو سنبھالو، مہرالہ۔
وہ حادثے کی جگہ پر موجود تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہی اصل سازش کرنے والا تھا۔
تمہیں یہ تصویریں کس نے دیں؟
کیا پتہ یہ سب کوئی فریب ہو؟”

مہرالہ نے تلخی سے جواب دیا،
“میں نے ایک پرائیویٹ جاسوس رکھا تھا جو اس حادثے کی تحقیق کر رہا تھا۔
اس کا مجھ سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں، وہ مجھے کیوں پھنسانے لگا؟

اُس دن زَریہان کی سالگرہ تھی۔
وہ چاہتا تھا کہ وہ دن میرے والد کی برسی بن جائے۔

مجھے یقین ہے کہ اسے اندازہ نہیں تھا کہ ابو بچ جائیں گے۔
اسی لیے اس کا منصوبہ مؤخر ہو گیا۔”

مہرالہ کے لبوں پر کڑوی مسکراہٹ آ گئی۔
“میں ظہران کی شکر گزار تھی کہ اس نے ہمارے خاندان کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا۔

لیکن اب سوچتی ہوں تو شاید وہ مجھے ہی مروا دینا چاہتا تھا۔

اور میرا بچہ…
شاید اس نے جان بوجھ کر مجھے نہیں بچایا۔
ابو زندہ بچ گئے، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ میں اور میرا بچہ زَریہان کی موت کی قیمت ادا کریں!”

ایورلی نے اسے مضبوطی سے گلے لگا لیا۔
“مہرالہ، یہ سب صرف خیالات ہو سکتے ہیں۔
تم مجھے ڈرا رہی ہو۔

ظہران تم سے محبت کرتا تھا۔
وہ کبھی تمہیں نقصان نہیں پہنچاتا، چاہے کچھ بھی ہو۔”

لیکن مہرالہ خود کو کھوتی جا رہی تھی۔

اب ظہران اسے ایک اجنبی لگنے لگا تھا۔
“ایو، تم ٹھیک کہتی تھیں۔

کیا میں اس کی مقروض تھی؟
صرف اس لیے کہ میں نے اس کی بہن کے مرنے پر اس پر ترس کھایا، مجھے یہ سب بھگتنا پڑا؟

میں سب سے زیادہ بدقسمت ہوں۔
میں نے اپنا باپ کھویا، اپنا بچہ کھویا، اور سر چھپانے کی جگہ بھی۔

میں توران کی ہر حرکت سہتی رہی۔
اس نے مجھ پر انڈے انڈیلے، مجھے اس کے سامنے گھٹنوں پر جھکنے پر مجبور کیا۔

آخر میں یہ سب کیوں کرتی رہی؟

کیا ظہران یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ سب اس کے قدموں کے نیچے ہیں، وہ خدا بن سکتا ہے؟
اب دیکھتے ہیں وہ میری زندگی پر کتنا قابو رکھ سکتا ہے!”

مہرالہ کے بگڑے ہوئے تاثرات نے ایورلی کو ڈرا دیا۔
“مہرالہ، خود کو سنبھالو، تم مجھے خوفزدہ کر رہی ہو—”

“ایو، میں بدلہ لوں گی۔
میں توران اور ظہران سے ایک ایک چیز واپس لوں گی جس کی وہ مجھ پر مقروض ہیں۔
میں انہیں قیمت چکانے پر مجبور کر دوں گی!

میرے بےچارے بچے…
تم ضرور جنت سے مجھے دیکھ رہے ہو گے۔
اسی لیے تم نے مجھے سچ دکھایا، ہے نا؟”

مہرالہ بےجان گڑیا کی طرح باتھ روم کی طرف چل پڑی، زیرِلب بولتے ہوئے،
“جب میں ہمارا بدلہ لے لوں گی… تو تمہارے پاس آ جاؤں گی۔
میرا انتظار کرنا۔
میں بہت جلد آؤں گی…”