📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 06

سرد ہوا اس کے چہرے پر چاقو کی طرح لگ رہی تھی۔ مہرالہ مہرباش اندر تک جم چکی تھی، مگر پھر بھی خود کو سنبھال کر اٹھی اور گاڑی کے پیچھے دوڑنے لگی۔
اس نے اپنے جسم کی موجودہ حالت کا غلط اندازہ لگا لیا تھا۔ چند قدم ہی دوڑی تھی کہ پھر سے زمین پر جا گری۔

اچانک گاڑی کا دروازہ کھلا۔ اس نے چمکتے ہوئے سلے سلائے لیدر شوز کو اپنے سامنے رکتے دیکھا۔ آہستہ آہستہ اس کی نظر جوتوں سے پتلون کی طرف اور پھر اوپر اٹھی، یہاں تک کہ وہ ظہران ممدانی کی سرد اور خوفناک آنکھوں سے جا ملی۔

“ظہران…”
مہرالہ نے کمزور سی آواز میں کہا۔

ایک جوڑا لمبے، باریک ہاتھ اس کی طرف بڑھے۔ نیم بے ہوشی میں مہرالہ کو یوں لگا جیسے اسے وہی نوجوان نظر آ رہا ہو جس سے وہ برسوں پہلے دیوانہ وار محبت کر بیٹھی تھی۔ بے اختیار اس نے بھی اپنے ہاتھ آگے بڑھا دیے۔
مگر جیسے ہی دونوں کے ہاتھ چھوئے، ظہران نے فوراً ہاتھ کھینچ لیا۔ اس جھوٹی امید کے بعد، جو اس نے لمحہ بھر کو دی تھی، مہرالہ پھر زمین پر گر پڑی۔

پہلے وہ زخمی نہیں ہوئی تھی، مگر اس بار پھسلتے ہوئے اس کے ہاتھ زمین پر بکھرے شیشے کے ٹکڑوں سے کٹ گئے۔ خون اس کی ہتھیلیوں سے بہتا ہوا بازؤں تک پہنچنے لگا۔

ظہران کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے کوئی سایہ سا لہرا گیا، مگر وہ اپنی جگہ سے ہلا نہیں۔
مہرالہ ساکت رہ گئی۔
کبھی ایسا وقت تھا کہ اگر اس کی انگلی پر معمولی سا کٹ بھی لگ جاتا تو وہ آدھی رات کو اسے اسپتال لے جاتا تھا۔
اسے یاد آیا کہ ڈاکٹر ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا،
“شکر ہے آپ وقت پر لے آئے، ورنہ زخم تو خود ہی ٹھیک ہو جاتا۔”
اس کے سامنے کھڑا شخص اور اس کی یادوں والا ظہران ایک ہی تھا۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں۔ مگر اب اسے احساس ہوا کہ جو توجہ وہ کبھی دکھاتا تھا، وہ کہیں گم ہو چکی تھی، اس کی جگہ بے رحم سرد مہری نے لے لی تھی۔

سخت لہجے میں ظہران بولا،
“مہرالہ، کیا تم واقعی سمجھتی ہو کہ میں تمہیں نہیں جانتا؟ تم ایک میل دوڑ سکتی ہو، پلٹا کھا سکتی ہو، اور مجھے یہ یقین دلانا چاہتی ہو کہ چند قدم دوڑ کر گر گئی ہو؟”
اس کی آنکھوں میں تمسخر خنجر کی طرح چبھ رہا تھا۔
مہرالہ نے ہونٹ کاٹ لیے اور خود کو سنبھالتے ہوئے کہا،
“ایسا نہیں ہے… میں جھوٹ نہیں بول رہی۔ میں بس بیمار ہوں، اسی لیے کمزور ہوں—”

وہ اس کی بات مکمل ہونے ہی نہ دے سکا۔ ظہران نے جھک کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔ اس کی کھردری انگلیاں مہرالہ کے سوکھے، پھٹے ہوئے ہونٹوں کو چھو گئیں۔

“تم واقعی اپنے باپ کی بیٹی ہو۔ تم دونوں انتہا درجے کے بناوٹی ہو، پیسے کے لیے کسی بھی حد تک ڈرامہ کر سکتے ہو۔”
یہ الفاظ سرد ہوا سے بھی زیادہ تیز تھے۔ وہ اس کے دل میں بار بار پیوست ہوتے گئے۔ مہرالہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“میرے ابا ایک سیدھے انسان ہیں۔ وہ کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے!”

ظہران نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔ مزید بحث سے بیزار ہو کر اس نے بٹوہ نکالا، ایک چیک نکالا، لاپرواہی سے رقم لکھی، دو انگلیوں میں تھام کر مہرالہ کے سامنے رکھ دیا۔
“یہ چاہیے؟”
پانچ ملین ڈالر کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ اس سے کائف مہرباش کے علاج کے اخراجات آسانی سے پورے ہو سکتے تھے۔ مگر مہرالہ نے چیک کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔ وہ جانتی تھی کہ ظہران اتنا مہربان نہیں ہو سکتا۔

“لیکن میری ایک شرط ہے۔”
وہ اس کے کان کے قریب جھکا اور سرگوشی کی،
“اگر تم میرے پیچھے یہ جملہ دہرا دو تو یہ پیسے تمہارے ہیں۔ کہو، کائف مہرباش ایک گھٹیا انسان ہے۔”

مہرالہ کا چہرہ یکدم بدل گیا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے تھپڑ مارنا چاہا۔
ظہران نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑ لی۔ مہرالہ نے چھٹکارا پانے کی کوشش کی تو اس کے خون آلود ہاتھ کا نشان اس کی قمیض پر لگ گیا۔
ظہران کی گرفت اور سخت ہو گئی،
“کیا؟ نہیں کہو گی؟ تو پھر وہ اسپتال ہی میں مر جائے گا۔ میں نے اس کی قبر کی جگہ بھی چن لی ہے۔”

مہرالہ کے آنسو بہنے لگے۔
“آپ ایسے کیوں ہو گئے؟”
وہ انسان جو کبھی عمر بھر اس کی حفاظت کا وعدہ کرتا تھا، کہیں کھو چکا تھا۔ اس کی جگہ ایک ایسا شخص کھڑا تھا جو اس کے آنسوؤں سے لطف لیتا تھا۔

اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں اس کا چہرہ اور بھی بے صبر اور بے رحم لگ رہا تھا۔
“تو نہیں کہو گی؟”
اس نے اس کی کلائی چھوڑ دی اور آہستہ آہستہ چیک کے ٹکڑے کر دیے۔
“نہیں! پلیز مت کریں!”
مہرالہ نے آگے بڑھ کر روکنا چاہا، مگر اس نے اسے دھکا دے دیا۔
“میں نے تمہیں موقع دیا تھا۔”
کاغذ کے ٹکڑے زمین پر بکھر گئے، بالکل اس امید کی طرح جو اس نے اس کے لیے سنبھال کر رکھی تھی۔

مہرالہ گھبراہٹ میں انہیں سمیٹنے لگی۔ وہ اس بچے کی طرح لگ رہی تھی جس سے سب کچھ چھین لیا گیا ہو—بے بس، بے سہارا۔
ظہران پلٹنے لگا۔ گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ اسے ایک بھاری آواز سنائی دی۔ مڑ کر دیکھا تو مہرالہ زمین پر بے ہوش پڑی تھی۔
سہیل نعمانی نے گھبرا کر کہا،
“سر، بیگم بے ہوش ہو گئی ہیں۔ کیا انہیں اسپتال لے چلیں؟”

ظہران نے اسے ایسی نظر سے دیکھا کہ وہ سہم گیا۔
“تمہیں اس کی فکر ہو رہی ہے؟”
یہ اس کا ذاتی معاملہ تھا، سہیل مزید کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
گاڑی دور ہوتی گئی۔ ظہران نے ریئر ویو مرر میں دیکھا، مہرالہ اب بھی نہیں اٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر ناگواری اور گہری ہو گئی۔

اس کے خیال میں یہ سب محض پیسوں کے لیے اداکاری تھی۔ اس سوچ کے ساتھ ہی اس نے نظریں ہٹا لیں۔
کچھ دیر بعد ریدان سُہرابدی مہرالہ کے پاس پہنچا۔

جب مہرالہ کو دوبارہ ہوش آیا تو وہ اسی کمرے میں تھی جہاں سے کچھ دیر پہلے نکلی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ڈرِپ لگی ہوئی تھی اور بائیں ہاتھ پر پٹی بندھی تھی۔ گھڑی دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ رات کے تین بج چکے ہیں۔
ریدا نرمی سے بولا،
“معاف کیجیے، میں آپ کے پیچھے آیا تھا۔ مجھے لگا آپ خود کو نقصان نہ پہنچا لیں۔”
مہرالہ اٹھنے لگی تو اس نے فوراً تکیہ پیچھے رکھا اور پانی دیا۔

“کیا آپ نے سب کچھ دیکھ لیا تھا؟”
“میرا ارادہ نہیں تھا…”
“کوئی بات نہیں، میں اس کی بیوی ہوں۔ چھپانے کو کچھ نہیں۔”
ریدا ن لمحہ بھر کو خاموش ہو گیا۔
مہرالہ نے تلخی سے مسکرا کر کہا،
“سب اب توران کاسی کو اس کی منگیتر سمجھتے ہیں۔ کل صبح نو بجے ہماری طلاق ہو جائے گی۔”

“کیا اسے آپ کی بیماری کا علم ہے؟”
“اسے جاننے کا کوئی حق نہیں۔”