Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Last Episode)
Kaif E Junoon (Last Episode)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
وقت کو تو شائید بنایا ہی پر لگا کر اڑنے کے لیے گیا ہے۔اچھے دن کیسے گزر جاتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔یہی معاملہ ان سب کے ساتھ بھی ہوا تھا۔خوشیوں میں ڈوبے کیسے ایک مہینہ گزر گیا انہیں اندازہ بھی نہیں ہوا تھا۔
آج بہرام اتنے عرصے کے بعد دوبارہ اپنے آفس جا رہا تھا۔وہ تو بہت پہلے ہی ایسا کرنا چاہتا تھا لیکن فرزام نے اسے خوب آرام کر کے ٹھیک ہونے کا حکم دیا تھا۔
بہرام کے آفس میں داخل ہوتے ہی سب اسے دیکھ کر کافی خوش ہوئے تھے۔بہرام سب سے مل کر اپنے آفس میں آیا تو کچھ دیر کے بعد ہی اسکی سیکریٹری کمرے میں داخل ہوئی۔
“سر مس حبہ بیگ آپ سے ملنے آئی ہیں۔۔۔۔”
بہرام نے اس بات پر آبرو اچکا کر سیکریٹری کو دیکھا۔بھلا اس کے بہرام کے پاس آنے کا کیا مقصد ہو سکتا تھا۔
“بھیجو انہیں۔۔۔”
سیکریٹری یس سر کہہ کر وہاں سے چلی گئی اور تھوڑی دیر کے بعد ہی حبہ کمرے میں آئی اور بہرام کو سلام کیا۔بہرام نے ہاں میں سر ہلا کر اسے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اتنا تو فرزام اسے پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ حبہ کے ساتھ مل کر بیگ گروپ آف انڈسٹریز کو سنبھال رہا ہے لیکن بہرام اس کے جیسا نہیں تھا۔وہ الطاف کی وجہ سے حبہ سے کوئی تعلق جوڑنا نہیں چاہتا تھا پھر چاہے ان کے درمیان خون کا تعلق ہی کیوں نہیں تھا۔
“وہ مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”
حبہ نے زرا سا ہچکچا کر کہا۔
“کہو۔۔۔”
بہرام سرد مہری سے کہتے ہوئے سامنے پڑی فائلز کو دیکھنے لگا جبکہ حبہ اپنے اضطراب پر قابو پاتی ہمت کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“میرے بابا آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔”
بہرام نے فوراً سخت نظروں سے اسے دیکھا۔
“وہ روزانہ رو کر مجھ سے ایک ہی بات کہتے ہیں کہ آپ ان سے مل لیں۔میں بہت دیر سے یہ نظر انداز کر رہی ہوں لیکن اب ان کا یوں رونا مجھ سے دیکھا نہیں جاتا آپ پلیز بس ایک بار۔۔۔”
“نہیں۔۔۔۔”
بہرام نے اسکی بات کاٹ کر کہا اور غصے سے سامنے پڑے پیپرز کو دیکھنے لگا۔
“دیکھیں میں جانتی ہوں جو انہوں نے کیا وہ بہت بڑا ظلم تھا لیکن آپ جتنا مرضی اس بات کو جھٹلا لیں سچ یہی ہے کہ وہ آپ کے باپ ہیں اور آپ کو ان کے حقوق کا جواب دینا ہے۔۔۔۔”
بہرام نے اب کی بار دانت کچکچا کر حبہ کو دیکھا۔
“کیسا حق؟وہ باپ جس نے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہمارے سر سے اپنا سایہ ہٹا لیا اس کے لیے کیسا فرض ہمارا کوئی فرض نہیں بنتا۔۔۔ “
بہرام کی سختی پر حبہ کی پلکیں نم ہو گئیں۔بہت ہمت کر کے اس نے بہرام کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“پلیز صرف ایک بار ان سے مل لیں تو شائید ان کو سکون آ جائے آپ جانتے بھی نہیں وہ کتنا تڑپتے ہیں بس ایک بار مل لیں۔۔۔۔”
بہرام خاموشی سے اسکی باتوں کو سنتا گہرا سانس لے کر رہ گیا۔وہ اس شخص کے لیے سکون کا باعث نہیں بننا چاہتا تھا۔
“پلیز بہرام۔۔۔۔بھائی۔۔۔”
حبہ کے اسے بھائی پکارنے پر نہ جانے کیوں بہرام کے دل میں ایک ہلچل سی ہوئی تھی۔
“ٹھیک ہے میں سوچوں گا اس بارے میں۔۔۔”
حبہ اسکی بات پر مسکرا دی اور اپنے آنسو پونچھنے لگی۔
“آپ بھی فرزام بھائی کی طرح بہت اچھے ہیں اور میں جانتی ہوں آپ کی بات مان کر وہ بھی بابا سے ملنے ضرور آئیں گے۔۔۔”
حبہ اتنا کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی پھر اچانک کچھ یاد آنے پر مڑ کر بہرام کو دیکھنے لگی۔
“میں شکر گزار ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ جیسے بھائی دیے ہیں۔۔۔۔اب یہ زندگی بہت آسان لگتی ہے۔۔۔”
اتنا کہہ کر حبہ وہاں سے چلی گئی اور بہرام کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اسے روک لے اور اسے گلے سے لگا کر اسکا ہر دکھ کم کر دے لیکن پھر بھی وہ اسے روک نہیں پایا تھا۔
موبائل بجنے کی آواز پر بہرام نے اپنا موبائل جیب سے نکالا اور سکینہ کا نمبر دیکھ کر پریشانی سے موبائل کان سے لگا لیا۔
“جی اماں جی سب ٹھیک ہے ناں؟”
بہرام نے بے چینی سے پوچھا سب سے پہلے اسے چاہت کا خیال آیا تھا کہ وہ ٹھیک تو ہے کیونکہ صبح بھی وہ طبیعت خرابی کا بہانہ کر کے کالج نہیں گئی تھی۔
“بیٹا وہ۔۔۔۔چاہت کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تھی تو اسے ہسپتال لے کر آئی ہوں۔۔۔۔تم بھی آ جاؤ یہاں۔۔۔۔”
بہرام کا دل یہ جان کر بہت زور سے دھڑکنے لگا۔وہ فوراً اپنی کار کی چابیاں پکڑتا کھڑا ہو چکا تھا۔
“کونسے ہاسپٹل میں۔۔۔؟”
سکینہ کے بتاتے ہی بہرام جلدی سے گاڑی کے پاس گیا اور گاڑی میں بیٹھ کر تیز رفتاری سے گاڑی چلانے لگا وہ بس اتنا جانتا تھا کہ اسے جلد از جلد اپنی چاہت کے پاس پہنچنا ہے کہیں اسے کچھ ہو ۔۔۔۔
اس سے آگے بہرام کچھ سوچ ہی نہیں پایا۔وہ گاڑی کو مزید تیزی سے بھگاتا ہاسپٹل پہنچا اور وہاں سے چاہت کا پوچھ کر سیدھا اس وارڈ میں گیا جہاں چاہت کو رکھا تھا۔
بہرام جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا بیڈ پر لیٹی چاہت اسے دیکھتے ہی ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی۔بہرام پریشانی سے اسکے پاس آیا اور اسکے چہرے سے ہاتھ ہٹانے چاہے لیکن چاہت تو جیسے اسے چہرہ دیکھانا ہی نہیں چاہتی تھی۔
“کیا ہوا ہے میری جان بتاؤ تو سہی۔۔۔۔”
اپنی پریشانی میں بہرام کا دھیان سکینہ اور ڈاکٹر پر گیا ہی نہیں جو اس کی فکر مندی پر مسکرا رہے تھے۔
“ڈونٹ وری مسٹر خانزادہ شی از فائن۔۔۔۔”
بہرام نے غصے سے ڈاکٹر کو دیکھا۔
“وٹ ڈو یو مین شہ از فائن۔ہو سکتا ہے اسے ایسا کچھ ہوا ہو جسکا آپ کو نہیں پتہ آپ اس کا ہر ایک ٹیسٹ کروائیں تا کہ پتہ چلے کہ اسکی طبیعت کیوں نہیں ٹھیک۔۔۔۔”
بہرام کی پریشانی پر ڈاکٹر کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔اسے اس چھوٹی سی گڑیا کی قسمت پر رشک ہوا جسے اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا تھا۔
“شی از ایکسپیکٹنگ مسٹر خانزادہ اور اس حال میں یہ سب چلتا رہتا ہے۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر کی بات پر بہرام کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور وہ ہکا بکا سا چاہت کو دیکھنے لگا جو ابھی بھی ہاتھوں میں چہرہ چھپائے ہوئے تھی۔
“آئیے ڈاکٹر صاحبہ آپ مجھے بتا دیں کہ چاہت کو کونسی دوائیاں دینی ہیں میں اسے سب سمجھا دوں گی۔۔۔۔”
سکینہ نے ڈاکٹر کو وہاں سے لے جانے کے لیے کہا اور انہیں وہاں سے لے جا کر ان دونوں کو اکیلے رہنے کا موقع دیا۔
ان کے جانے کے بعد چاہت نے ایک آنکھ سے ہاتھ ہٹا کر بہرام کو دیکھا لیکن اسکے چہرے پر پریشانی دیکھ کر چاہت کی ساری حیا گل ہوئی۔
“کیا ہوا خان جی آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟”
چاہت ھے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر گھبراتے ہوئے پوچھا اور بہرام نے اسکے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“خوشی چاہت؟مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ مجھے پورا جہان مل گیا ہو زندگی میں جو ایک کمی تھی آج وہ بھی پوری ہو گئی ہو میرے احساسات خوشی سے بہت زیادہ بڑھ کر ہیں۔۔۔۔”
چاہت مسکرائی اور اسکا ہاتھ اپنے قریب کر کے اپنے نرم ہونٹ اس پر رکھے۔
“تو پریشان کیوں ہیں؟”
بہرام نے محبت سے سے دیکھا اور جھک کر اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔
“کیونکہ چھوٹی سی عمر میں تم پر اتنی بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے چاہت نہ جانے تم کیسے نبھا پاؤ گی۔۔۔؟”
چاہت نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔
“میں اکیلی تھوڑی سنبھالوں گی جتنی میری اولاد ہے اتنی آپ کی بھی ہے ناں تو آپ بھی سنبھالیں گے اسے۔۔۔۔”
بہرام اسکی بات پر مسکرایا۔
“او اچھا۔۔۔”
“جی،آپ اسکا ڈائپر بدلا کریں گے اور اسے فیڈر بھی آپ ہی پلائیں گے جب رات کو اٹھ کر روئے تو آپ ہی چپ کروائیں گے اور اسے نہلایا بھی کریں گے۔۔۔۔”
چاہت کی اتنی لمبی لسٹ پر بہرام نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“تو تم کیا کرو گی؟”
“میں اسے کھلایا کروں گی چھوٹی ہوں ناں ابھی۔۔۔۔”
چاہت کی شرارت کو سمجھ کر بہرام قہقہ لگا کر ہنس دیا اور چاہت بھی اسے دیکھ کر مسکرا دی۔
“یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے خان جی اس کے لیے میری جان بھی حاضر ہے۔۔۔۔۔”
بہرام نے آنکھوں میں محبتوں کا جہان سمو کر اسے دیکھا۔
“اور تم دونوں کے لیے میرا پورا جہان حاضر ہے ۔۔۔۔۔”
بہرام نے اسکے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر کہا تو چاہت آنکھیں موند کر مسکرا دی اور انکی خوشیوں کو دیکھ کر قسمت بھی مسکرا دی۔
💞💞💞💞
چاہت کی جانب سے خوشخبری نے پورے خانزادہ مینشن کی خوشیوں میں چار چاند لگا دیے تھے۔ابھی بہرام نے سب کو لاونج میں بلا کر یہ خوشخبری سنائی تھی۔فرزام تو چچا بننے کی خوشی میں پاگل ہو رہا تھا جبکہ مناہل خوشی سے جگمگاتی شرمائی سی چاہت کو اپنے ساتھ لگائے بیٹھی تھی۔
“اب تم دونوں بھی جلد ہی یہ خوشخبری سنا دو تا کہ نانی کے ساتھ ساتھ دادی بھی بن جاؤں میں۔۔۔۔”
سکینہ نے فرزام سے کہا تو مناہل شرم سے گلابی ہوتی فوراً اپنا سر جھکا گئی۔
“سوچتا ہوں اماں جی اب آج تک ہر کام بہرام کے ساتھ کیا ہے میں نے تو اب پیچھے کیسے رہ جاؤں۔۔۔”
فرزام کی آنکھوں میں جنون دیکھ کر مناہل خود میں سمٹ سی گئی۔اسے تو اب اس جنون سے ڈر لگتا تھا جو اسے ہر روز سہنا ہوتا تھا۔
اسے لگا تھا کہ فرزام کی محبت ہمیشہ نرمی سے بھرپور ہو گی لیکن یہ اسکی خوش فہمی جلد ہی ختم ہو گئی تھی۔فرزام اپنی شدت اور جنون سے اسے بہت جلد آگاہ کروا گیا تھا۔
لیکن اسکی محبت تھی جو اسکے جنون پر بھی حاوی ہوتی تھی۔چند دن پہلے ہی وہ مناہل کی ساری پراپرٹی واپس اسکے نام کر کے اسے کاغزات دے چکا تھا لیکن مناہل نے یہی کہا تھا کہ اسکا سب کچھ فرزام کا تھا کیونکہ وہ خود بھی تو اسی کی تھی۔اور اسکے ایسا کہنے پر فرزام کا وہ جون یاد کر کے وہ پھر سے شرما گئی تھی۔
“اللہ تعالیٰ تم دونوں کو بھی اولاد کی نعمت سے نوازیں اور ڈھیروں خوشیاں دیں آمین۔۔۔۔”
سکینہ نے محبت سے دعا دی تو فرزام مسکرا دیا۔
“آمین۔۔۔۔”
مناہل نے آہستہ کہا اور نگاہیں اٹھا کر شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ فرزام کو دیکھا جو مناہل کے پاس بیٹھ کر اپنا ہاتھ چاہت کے سر پر رکھ چکا تھا۔
“صدا خوش رہو میری پیاری سی چھٹکی اور بچہ میرے جیسا پیارا سا،شریف سا،ہنس مکھ سا ہو ورنہ ایک اور بہرام جیسا آ گیا تو گئی بھینس پانی میں۔”
فرزام کی بات پر جہاں سب ہنسنے لگے تھے وہیں صوفے کے ساتھ کھڑا بہرام اسے گھورنے لگا تھا۔
“تم میں تو شرافت کچھ زیادہ ہی ہے ناں۔۔۔۔”
فرزام نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔
“میرا تو اوڑھنا بچھونا شرافت ہے۔۔۔”
اچانک ہی فرزام ہلکا سا جھک کر مناہل کے قریب ہوا۔
“کیوں ہوں ناں میں شریف؟”
اسکے گھمبیر لہجے ہر مناہل پاؤں کے ناخن تک سرخ ہوئی تھی۔
“تیار رہنا اب کی بار ہنی مون پر سویٹزر لینڈ جانے کا ہی سوچ رہا ہوں میں۔۔۔۔”
فرزام ہلکی سی سرگوشی کر کے اس سے دور ہوا جبکہ مناہل کا دل کر رہا تھا کہ یہاں سے غائب ہو جائے۔اچانک ہی چاہت نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھ لیے۔
“میں نے کچھ نہیں سنا۔۔۔اور سویٹزر لینڈ جانے کے بارے میں تو بالکل نہیں سنا۔۔۔۔”
اض
چاہت کی بات پر سب کے ہنسنے کے ساتھ بہرام بھی مسکرا دیا۔اسکے دل سے بے ساختہ دعا نکلی کہ انکے خوشیوں میں ڈوبے جہان کو کسی کی نظر نہ لگے۔
💞💞💞💞
الطاف اندھیرے میں اکیلا اپنی ویل چیئر پر بیٹھا تھا۔تنہائی،معزوری اور بے بسی اسے مکمل طور پر ختم کر چکے تھے۔حبہ تو جب اسکے پاس آئی تھی الطاف نے رو کر بس ایک التجا کی تھی کہ بہرام اور فرزام سے کہو اس سے ایک بار مل لیں۔
اب تو حبہ بھی اسے یہ بتاتے بتاتے تھک چکی تھی کہ وہ دونوں اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتے شائید اسی لیے اب وہ اس کے سامنے ہی نہیں آتی تھی۔
اپنی زندگی کی محرومیوں پر الطاف چیخ چیخ کر رونے لگا۔کس فائدے آئی تھی اسکی یہ بے تحاشا دولت آج دولت کے ہوتے ہوئے بھی وہ خود کو سب سے زیادہ تباہ حال محسوس کرتا تھا۔
“یا اللہ مجھے معاف کر دے۔۔۔۔معاف کر دے میرے مولا۔۔۔۔”
الطاف کے رونے کی آواز خالی کمرے میں گونج رہی تھی لیکن آج اسکی تنہائی میں اسکا کوئ ساتھی نہیں تھا۔
“مجھے معاف کر دینا وردہ۔۔۔۔”
الطاف اتنا کہہ کر کتنی ہی دیر روتا رہا اور پھر دل میں اٹھتے درد کی وجہ سے بے ہوش ہو کر زمین پر ڈھے گیا۔آخری خوف اسکے دل میں تنہائی میں مر جانے کا تھا۔
💞💞💞💞
آدھی رات کو فرزام کی آنکھ موبائل بجنے کی آواز سے کھلی تھی۔کال پک کرتے ہی اسے حبہ کے رونے کی آواز سنائی دی جس نے انہیں الطاف کے بارے میں بتایا جو ایمرجنسی میں تھا اور بس ایک بار ان سے ملنا چاہتا تھا۔
فرزام وہاں جانا تو نہیں چاہتا تھا لیکن حبہ نے اسے بھائی ہونے کا واسطہ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ بے بس ہوتا اب بہرام کے سامنے کھڑا تھا۔
بہرام چاہت کی نیند ڈسٹرب ہونے کے خیال سے فرزام کی بات سننے باہر ہال میں آیا تھا لیکن جو بات اسے پتہ چلی تھی اسکے بعد وہ بالکل خاموشی سے اسکے سامنے کھڑا تھا۔
“ہمیں جانا چاہیے بہرام اس نے جو بھی کیا ہے تو وہ ہمارا باپ ہی ناں ہمارا اتنا فرض تو بنتا ہی ہے۔۔۔۔”
بہرام نے مردہ آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“وہ آگ تم بھول گئے ہو کیا فرزام؟ کیونکہ میں نہیں بھولا اور نہ ہی کبھی بھولوں گا۔۔۔۔”
فرزام نے آگے ہو کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“میں تمہیں اسے معاف کرنے کو نہیں کہہ رہا بس اتنا کہہ رہا ہوں کو جو انتقام ہم اس سے لینا چاہتے تھے وہ قدرت نے لے لیا ہے۔اس کا غرور اب مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے بہرام وہ مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے۔۔۔۔”
بہرام نے مردہ آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“میں یہ بس حبہ کی خاطر کر رہا ہوں بہرام کیونکہ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن وہ ہماری بہن ہے اور ہمیں بھائی ہونے کے ناطے اسے اس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔۔۔۔”
کچھ سوچ کر بہرام نے ہاں میں سر ہلایا تو فرزام مسکرا دیا۔وہ دونوں پہلی فلائٹ سے لاہور کے اس ہاسپٹل میں آئے جہاں الطاف ایڈمٹ تھا۔
ان دونوں کو دیکھ کر ہی حبہ ہو ایک حوصلہ ملا تھا کہ وہ اس دنیا میں اکیلی نہیں ہے۔فرزام نے اسکے پاس آ کر اسے حوصلہ دیا جبکہ بہرام خاموشی سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔
ڈاکٹر کے باہر آتے ہی حبہ نے بے چینی سے ڈاکٹر کی جانب دیکھا۔
“سوری مس بیگ لیکن ان کے ہارٹ کے تمام والز تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ہم انہیں بچا نہیں پائیں گے۔۔۔۔”
یہ بات سن کر حبہ سسک کر رو دی۔جبکہ فرزام اور بہرام کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں آیا تھا۔
“آپ ان سے مل لیں ان کے پاس زیادہ وقت نہیں۔۔۔۔”
ڈاکٹر اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور حبہ نے آنکھوں میں امید کے ساتھ بہرام اور فرزام کو دیکھا۔
” پلیز ایک بار ان سے مل لیں۔ایک مرتے شخص کی آخری خواہش سمجھ کر۔۔۔۔”
بہرام نے فرزام کو دیکھا جس نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔وہ دونوں حبہ کے ساتھ الطاف کے پاس گئے جو مشینوں میں لپٹا بے جان سا پڑا تھا۔
“بابا۔۔۔۔بابا آنکھیں کھولیں دیکھیں آپ سے ملنے کون آیا ہے۔۔۔۔”
حبہ کی آواز پر الطاف نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں اور بہرام اور فرزام کو دیکھا۔ان کو دیکھ کر ہی الطاف کی پلکیں بھیگ گئیں اور اس نے ہونٹ ہلائے لیکن کوئی بھی آواز نہیں آئی۔
حبہ نے اپنا کان اسکے منہ کے پاس کیا۔
“اااا۔۔۔۔۔ان سے کہو مممم۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں۔۔۔بس مجھے مممم۔۔۔۔معاف کر دیں۔۔۔۔”
حبہ اس بات پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور الطاف حسرت سے بہرام اور فرزام کو دیکھنے لگا۔خدا نے درست انصاف کیا۔دنیا میں اسکے بیٹے ہوتے ہوئے بھی وہ انہیں اپنا نام نہیں دے سکتا تھا اور آخرت میں بھی وہ جانتا تھا کہ اسے رسوائی ہی ملے گی اور شائید یہ غم الطاف کے لیے بہت زیادہ تھا۔
کیونکہ اس کی سانسیں بری طرح سے اکھڑنے لگیں۔بہرام نے فوراً ڈاکٹر کو بلایا جس نے الطاف کا معائنہ کر کے مایوسی سے انہیں دیکھا۔
“سوری ہی از نو مور۔۔۔۔”
ڈاکٹر کے الفاظ سن کر حبہ فرزام سے دور ہو کر الطاف کے پاس گئی اور اسکے سینے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔آج وہ خود کو مکمل تنہا محسوس کر رہی تھی۔
یہ دیکھ نہ چاہتے ہوئے بھی دو آنسو فرزام کی پلکوں پر ٹھہر گئے لیکن حیرت تو اسے تب ہوئی جب بہرام حبہ کے پاس گیا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے گلے سے لگا لیا۔
,”ششش۔۔۔۔تم اکیلی نہیں ہو حبہ ہم دونوں تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔۔تمہارے بھائی تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔۔”
بہرام کی بات پر حبہ اسکے سینے میں چہرہ چھپا کر سسک کر رونے لگی اور اسے خود سے لگاتے بہرام کی پلکیں بھی بھیگ گئی۔بہن کے پیار کا احساس آج اسے مکمل طور پر ہوا تھا کہ یہ رشتہ کس قدر پیارا تھا۔
💞💞💞💞
(ایک سال بعد)
“چاہت مجھے لگتا ہے تم نے جو کہا تھا وہ سچ ہی کہا تھا اسے سنبھالنا صرف میری ہی ذمہ داری ہے۔۔۔۔”
بہرام نے اپنی باہوں میں موجود سلیمان کو سنبھالتے ہوئے کہا جس کا نخرہ ہی علیحدہ تھا۔موڈ کے لحاظ سے وہ کسی کے پاس جاتا تھا اور ابھی تو اسکا بہرام کے پاس رہنے کا کوئی موڈ نہیں تھا اسی لیے برے برے منہ بنا کر رو رہا تھا۔
“کیا بات ہے خان جی میں ہی تو سنبھالتی ہوں اسے دو منٹ ہوئے ہیں آپ کو اٹھائے اور آپ میرے بٹو کے پیچھے پڑھ گئے۔۔۔۔”
چاہت نے سلیمان کو باہوں میں اٹھا کر نرمی سے اپنے ہونٹ اسکے گال پر رکھے تو وہ فوراً چپ ہو گیا۔
“دیکھا آپ تو اسے سنبھالنا بھی نہیں آتا۔۔۔۔”
بہرام نے زرا سا گھور کر اپنے بیٹے تین ماہ کو دیکھا جو چاہت کی گردن میں موجود چین کو ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“بدعا لگ گئی ہے فرزام کی بالکل اپنے چچا پر چلا گیا ہے یہ باپ جیسا تو کچھ ہے ہی نہیں اس میں۔۔۔۔”
بہرام نے اسکے گال پر ہلکی سی چٹکی کاٹی تو وہ گلا پھاڑ کر روتے ہوئے چاہت کو اسکی شکائیت لگانے لگا۔
یہ دیکھ کر چاہت نے خفگی سے بہرام کو دیکھا اور پھر کسی طرح سے اسے بہلا کر سلا دیا۔ابھی اسے نرمی سے بستر پر لیٹا کر وہ مڑی ہی تھی جب زور سے پیچھے کھڑے بہرام کے سینے سے ٹکرائی اور بہرام نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
“ویسے جب سے تمہارا بیٹا آیا ہے مجھ پر تو دھیان دینا بھول ہی گئی ہو تم۔۔۔۔”
بہرام نے جتلاتے ہوئے اسکی نازک سفید گردن میں موجود چین کو چھڑا۔
“آپ بچے ہیں جو آپ پر دھیان دوں میں اپنا خیال خود رکھنا سیکھیں دو دو بچے نہیں پالے جاتے مجھ سے ۔۔۔”
بہرام اسکی بات پر آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“بس اتنی جلدی تھک گئی تم میں تو کوئی دس بچوں کے بارے میں سوچ رہا تھا انہیں کون سنبھالے گا۔۔۔۔؟”
“کیا دس؟”
چاہت نے صدمے سے پوچھا تو بہرام اپنی ہنسی دباتا اسکے چہرے پر موجود حیرت کو دیکھنے لگا۔
“کیوں کم ہیں کیا؟”
“نہیں بہت زیادہ ہیں۔۔۔۔اتنے کسی کے نہیں ہوتے۔۔۔۔”
بہرام نے اسکی ناک پر اپنے ہونٹ رکھے۔
“ہمارے ہوں گے ناں تم موقع تو دو۔۔۔”
چاہت نے فوراً اپنا آپ اسکی باہوں سے چھڑوا لیا۔
“نہ کوئی موقع نہیں بس ہماری ایک اور بیٹی ہو گی انہیں پر گزارہ کریں۔۔۔۔”
چاہت کے حتمی فیصلہ سنانے پر بہرام کو شرارت سوجھی۔
“یعنی باقی آٹھ بچوں کے لیے مجھے دوسری شادی کرنی پڑے گی۔۔۔”
چاہت فوراً واپس اسکے پاس آئی اور کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے گھورنے لگی۔
“کر کے تو دیکھیں آپ بال نوچ دوں گی اس چڑیل کے کچا چبا جاؤں گی اسے اس دن کو کوسے گی جس۔۔۔۔”
اسے یوں بولتا دیکھ بہرام نے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچا اور اپنے ہونٹوں کو اسکے ہونٹوں پر رکھتا اسکی بولتی بند کر گیا۔
“بولا تھا اب جب بھی زیادہ بولو گی تو یہی کروں گا۔۔۔۔”
بہرام نے اسکے ہونٹوں سے ہٹتے ہوئے کہا تو چاہت لہو چھلکاتا چہرہ اسکے سینے میں چھپا گئی۔بہرام نے بھی اسے باہوں لیتے ہوئے سکون سے آنکھیں موند لیں۔
“خان جی؟”
“ہممم۔۔۔۔”
چاہت کے پکارنے پر بہرام نے آہستہ سے کہا۔
“میں دس بچے پال لوں گی لیکن آپ دوسری شادی مت کرنا۔۔۔۔”
اس بات پر بہرام ہنسنا شروع ہوا تو ہنستا ہی چلا گیا۔
“ٹھیک ہے میری جان بعد میں مکرنا مت۔۔۔۔”
بہرام نے اسکا ماتھا چوم کر کہا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔زندگی اتنی حسین ہو چکی تھی کہ اب اس پر خود ہی رشک ہونے لگا تھا۔
💞💞💞💞
“مناہل یہ کیا کر رہی ہو تم؟”
فرزام کی آواز پر بیڈ شیٹ ٹھیک کرتی مناہل نے سہم کر اسے دیکھا۔
“کیا ہوا؟”
فرزام فوراً اسکے پاس آیا اور اسے کندھوں سے تھام کر بیڈ پر بیٹھا دیا۔
“ڈاکٹر نے منع کیا ہے ناں کام کرنے سے تو کیوں کرتی ہو؟”
فرزام کا غصہ دیکھ کر مناہل نے گہرا سانس لیا۔جب سے مناہل کے پیر بھاری ہوئے تھے فرزام تو اسکی جان کا وبال بن چکا تھا۔ہر وقت اسکے پیچھے پڑا رہتا تھا۔
انکی زندگی خوشیوں سے بھرپور ہو چکی تھی۔فرزام اور بہرام اپنی بیویوں کو جان سے زیادہ چاہتے تھے اور حبہ کی شادی بھی انہوں نے اپنے ایک دوست سے کر دی تھی اور وہ بھی اس کے ساتھ کینیڈا میں خوشحال زندگی گزرا رہی تھی۔
“بیڈ شیٹ ٹھیک کرنا کوئی کام نہیں فرزام کیا ہو گیا ہے؟”
مناہل کی بات پر فرزام نے غصے سے اسے دیکھا اور اسکے پیر بیڈ پر رکھ کر اسکے پاس بیٹھ گیا۔
“اب میری اجازت کے بغیر یہاں سے اترو گی نہیں تم۔۔۔۔”
مناہل نے اکتا کر اسے دیکھا۔
“فرزام آپ چاہتے کیا ہیں مجھے کچھ کرنے نہیں دیتے کسی سے بات نہیں کرنے دیتے تا کہ بے بی کسی اور پر نہ چلا جائے۔۔۔۔میں کروں تو کروں کیا؟”
فرزام نے محبت سے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا۔
“بس مجھے دیکھو اور مجھ سے پیار کرو اور کسی سے نہیں۔۔۔۔”
فرزام کے جنون سے کہنے پر مناہل نے سہم کر اسے دیکھا۔
“آپ کے علاوہ کل کو اپنے بچے سے بھی تو پیار کرنا پڑے گا ناں تو کیا آپ اس سے بھی جیلس ہوں گے؟”
اسکی معصومیت پر فرزام نے اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔
“وہ تو میرا حصہ ہو گا ناں اسے تمہارے قریب برداشت کر لوں گا میں۔۔۔”
یہ جان کر ایک بوجھ مناہل پر سے کم ہوا اور وہ مسکراتے ہوئے فرزام کے قریب ہوئی ۔
“فرزام ہماری بیٹی ہو گی ناں تو ہم اس کا نام دلکش رکھیں گے مجھے بہت پسند ہے اور ہم ہر وقت اس کے ساتھ رہا کریں گے اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔اسکے ساتھ کچھ برا نہیں ہونے دیں گے۔۔۔”
آخری بات کہتے ہوئے مناہل کی آنکھوں میں ایک کرب اور خوف تھا۔فرزام نے اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔
“فرزام خانزادہ کی بیٹی کی جانب کسی کی آنکھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہو گی من۔میں اپنے جی جان سے اسکی اور تمہاری حفاظت کروں گا۔۔۔۔”
خود کے اور اپنی اولاد کے گرد فرزام کا تحفظ محسوس کر کے مناہل مسکرا دی۔ہاں ان کے پاس ان کا فرزام انکی حفاظت کے لیے ہر وقت موجود تھا۔
“اس کے تو شوہر کو بھی اسے دیکھنے کے لیے مجھ سے اجازت مانگنی ہو گی۔۔۔”
فرزام کی اگلی بات پر مناہل نے اسکے سینے سے سر اٹھایا اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“نہیں اب اتنی بھی حفاظت مت کیجیے گا۔۔۔”
مناہل کی بات پر فرزام قہقہ لگا کر ہنس دیا اور اسے اپنے سینے سے لگاتا سکون سے آنکھیں موند گیا۔بے شک اگر زندگی میں دل۔ اور مشکل ہے تو اس کے بعد خوشیاں اور آسانی بھی ہو گی۔بس انسان صبر اور برداشت کا دامن تھامے تو خدا اسکا صلہ ضرور دیتا ہے۔
💞💞💞💞
ختم شد۔