Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 12)
Kaif E Junoon (Episode 12)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
“میں ٹھیک ہوں اماں آپ تو ٹھیک ہیں ناں وہ ملازمہ جو بھیجی ہے خان جی نے ،حفضہ ،وہ آپ کا خیال تو رکھتی ہے ناں اور آپ زیادہ کام تو نہیں کرتیں،کہیں آپ کے گھٹنے میں درد۔۔۔”
“بس کر دو چاہت مجھے بھی تو بولنے دو ۔۔۔۔”
چاہت نے کچھ دیر پہلے ہی سکینہ کو فون کیا تھا اور ان کے فون اٹھا کر حال پوچھتے ہی چاہت نے سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔
“تم تو ٹھیک ہو ناں بہرام خیال تو رکھتا ہے تمہارا؟”
سکینہ کے بہت محبت سے پوچھنے پر چاہت کی پلکیں بھیگ گئیں اور اسے اندازہ ہوا کہ وہ اپنی ماں کے بغیر کس قدر اداس ہو چکی تھی۔
“جی خیال تو بہت رکھتے ہیں مگر۔۔۔”
چاہت کچھ سوچ کر اٹک گئی۔
“مگر؟”
چاہت کی آنکھوں سے آنسو اب روانی سے بہنے لگے۔
“مگر محبت نہیں کرتے۔۔۔”
سکینہ اپنی بیٹی کی آواز میں چھپا غم محسوس کر سکتی تھیں۔
“تم جانتی تو ہو چاہت کہ تم نے کس طرح ضد کرکے اسے حاصل کیا اب اس کی محبت پانا اتنا آسان تو نہیں ہو گا تمہیں بہت صبر اور ہمت سے کام لینا پڑے گا۔۔۔۔”
چاہت انکی بات پر اپنا سر جھکا گئی۔
“اگر محبت نہیں کرتے وہ اماں تو اتنی فکر کیوں ہے انہیں میری پتہ ہے کل میرا تھوڑا سا جلا ہاتھ دیکھ کر اتنے زیادہ پریشان ہو گئے تھے۔۔۔”
چاہت نے اپنی کلائی کو دیکھا جو ابھی بھی زرا سی لال تھی۔
“کس نے کہا کہ وہ محبت نہیں کرتا تم سے؟بیٹا انسان فکر اسی کی کرتا ہے جسے وہ بہت چاہتا ہو۔۔۔بہرام بس اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتا تم اسکی اس فکر کو ہی اسکی محبت سمجھ جاؤ۔۔۔”
سکینہ نے اسے سمجھایا لیکن چاہت اسکی محبت کا اقرار چاہتی تھی بالکل جیسے اس نے کیا تھا وہ خود سے اپنے دل میں بہرام کی محبت کی خوش فہمی نہیں پالنا چاہتی تھی۔
“اچھا اماں میں بعد میں بات کروں گی ابھی خان جی آنے والے ہیں۔۔۔”
“ٹھیک ہے بیٹا اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا۔۔۔”
سکینہ نے محبت سے کہا تو چاہت مسکرا دی۔
“آپ بھی اماں۔۔۔”
اتنا کہہ کر چاہت نے فون بند کر دیا اور سکینہ کی باتوں کے بارے میں سوچنے لگی۔
کیا سچ میں بہرام کی محبت اس کی فکر مندی کی آڑ میں چھپی تھی؟اگر ایسا تھا تو چاہت اس فکر مندی کے بھیس میں چھپی محبت کو باہر لانا چاہتی تھی اور وہ جانتی تھی کہ ایسا کیسے کرنا ہے۔
💞💞💞💞
فرزام مناہل کو ایک وادی گھمانے لایا تھا جہاں چاروں طرف پھیلی سفید برف اور درختوں پر چھائی سفیدی اس جگہ کو کوئی اور ہی دنیا بنا رہی تھی۔
مناہل وہاں بنے ایک ہٹ کے نیچے مسکراتے ہوئے سارے منظر کو دیکھ رہی تھی جب فرزام اسکے پیچھے آیا اور ہاتھ میں پکڑا کافی کا مگ اسے پکڑایا۔
“میں نے ہمیشہ سنا تھا کہ مری بہت زیادہ پیارا ہے لیکن کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ سچ میں اس قدر خوبصورت ہو گا۔۔۔۔”
فرزام اسکی بات پر مسکرایا۔
“ابھی تو تم نے سوئزرلینڈ نہیں دیکھا وہ تو اس سے بھی زیادہ پیارا ہے۔۔۔”
مناہل نے خفگی سے منہ بسور کر فرزام کو دیکھا۔
“نہیں جی ہمارے ملک سے زیادہ خوبصورت کچھ نہیں۔۔۔”
اس کے اس انداز پر فرزام نے ایک ابرو اچکایا۔
“واہ من تم تو میری مخالفت کرنا بھی سیکھ گئی ہو۔۔۔”
فرزام کی بات پر مناہل نے گھبرا کر اسے دیکھا۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ فرزام اس سے ناراض ہو جائے۔اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ اگر فرزام اس سے ناراض ہو گیا تو وہ کیا کرے گی۔
“میں نے مخالفت نہیں کی ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے اپنا وطن سب سے پیارا ہوتا ہے۔۔۔”
اسکی گھبراہٹ پر فرزام ہنس دیا اور پاس سے برف اپنی انگلی پر پکڑ کر مناہل کی تیکھی ناک پر رکھی۔
“مزاق کر رہا تھا میرا جنون تم تو جان بھی لے لو تو چلے گا۔۔۔”
مناہل نے اپنی ناک کو چھوا جو برف کی وجہ سے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
“کیا سچ میں؟”
مناہل کے پوچھنے پر فرزام نے اثبات میں سر ہلایا تو مناہل نے کافی کا مگ سائیڈ پر رکھ کر ہاتھ میں تھوڑی سی برف پکڑی اور اسے فرزام کے سینے پر دے مارا۔فرزام نے حیرت سے ایک نظر اپنے سینے کو دیکھا اور پھر مناہل کو۔
“مم۔۔۔مزاق کر رہی تھی۔۔۔”
فرزام نے آنکھیں چھوٹی کیں اور جھک کر زیادہ سی برف اپنے ہاتھ میں پکڑ لی۔
“نن۔۔۔۔۔نہیں فرزام سردی لگ جائے گی۔۔۔”
فرزام نے اسے شریر نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ اٹھایا تو مناہل نے ایک چیخ ماری اور وہاں سے بھاگنے لگی لیکن اس کے کچھ دور جانے سے پہلے ہی برف کا گولا کی کمر میں لگا ۔
“زیادہ سردی تو نہیں لگی ناں؟”
فرزام کی شرارت پر مناہل نے منہ بسورا اور مٹھی میں برف پکڑ کر فرزام کے چہرے کا نشانہ لے کر دے ماری۔
“اتنی سردی لگی۔۔”
فرزام نے چیلنج سے اسے دیکھا اور اسکے پیچھے بھاگنا چاہا لیکن مناہل ہنستے ہوئے اسکے سامنے بھاگنے لگی۔یہ دیکھ کر فرزام پریشان ہوا اور جلدی سے آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیا۔
“کیا کر رہی ہو من گر جاتی تو ؟”
فرزام کا غصہ دیکھ کر مناہل کی مسکراہٹ گل ہو گئی اور اس نے گھبرا کر فرزام کر اپنا ایک ہاتھ فرزام کے گال پر رکھا۔
“سوری۔۔۔”
اس کے انداز پر فرزام کی آنکھوں میں حرارت اتری اس نے ایک ہاتھ مناہل کی کمر میں ڈال کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔
“کیوں میرا امتحان لے رہی ہو من؟”
مناہل نے حیرت سے اسے دیکھا۔وہ ہمیشہ کی طرح فرزام کی قربت پر گھبرا رہی تھی۔
“مم۔۔۔میں نے کیا کیا؟”
جواب میں فرزام اس کے کان کے قریب جھک گیا۔اپنے کان پر فرزام کی سانسوں کی تپش محسوس کر مناہل کی نازک جان کانپ گئی۔
“اب مجھ سے ڈر نہیں لگ رہا۔۔۔؟”
فرزام کی سرگوشی پر مناہل نے کانپتے ہوئے انکار میں سر ہلایا۔
“میں سمجھ گئی ہوں کہ آپ فیض انکل جیسے نہیں آپ اچھے ہیں میرا خیال رکھنا چاہتے ہیں۔۔ “
فرزام نے اسکے کان کی لو پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تو مناہل کا روم روم کانپ گیا۔
“تو پھر آج رات ہوٹل واپس جا کر معلوم ہو جائے گا کہ کتنا بھروسہ کرنے لگی ہو مجھ۔۔۔”
فرزام نے یہ جان لیوا سرگوشی کی اور اس سے دور ہو کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“چلو فلحال شاپنگ کرنے چلتے ہیں کیونکہ مجھے تمہیں بہت کچھ دلانا ہے اور میری بھابھی جی نے کل رات کال کر بہت سی ڈیمانڈز کر لیں جنہیں پورا نہ کیا تو اسکی پٹر پٹر برداشت کرنی پڑے گی۔۔۔۔”
مناہل خاموشی سے اسکے پیچھے چلنے لگی۔فرزام کی کہی بات اور آنے والی رات کا سوچ کر مناہل اضطراب میں آ چکی تھی۔اب وہ فرزام کو کیسے بتاتی کہ وہ اس سے تو ڈرنا چھوڑ چکی تھی لیکن ابھی بھی اسے اپنا آپ اس کے قابل نہیں لگتا تھا۔
💞💞💞💞
آفس کا کام ختم کرنے کے بعد بہرام تقریباً رات کے دس بجے گھر واپس آیا تھا۔اس نے چاہت کو فون کرکے بتا دیا تھا کہ اسے آنے میں دیر ہو جائے گی اس لیے کھانا کھا کر سو جائے اور بہرام اسی امید کے ساتھ گھر داخل ہوا کہ چاہت اب تک کھانا کھا کر سو چکی ہوگی۔
مگر پورچ میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر پورچ کے ساتھ اٹیچ اس شیشے کے کمرے میں پڑی جہاں پر سویمنگ پول تھا۔بہرام نے جب چاہت کو سویمنگ پول کے پاس بیٹھے دیکھا تو ماتھے پر بل آ گئے۔بہرام وہ شیشے کا دروازہ کھول کر وہاں داخل ہوا۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو چاہت؟”
بہرام کی آواز پر چاہت نے فوراً پلٹ کر اسے دیکھا اور مسکرا دی۔اس وقت وہ گلابی رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس تھی،دوپٹہ کندھوں پر پڑا تھا اور لمبے بال کمر پر پھیلے تھے جو شائید اس نے سکھانے کے لیے کھلے چھوڑے تھے۔
“کچھ نہیں بس پانی دیکھ رہی تھی۔۔۔”
چاہت نے عام سے انداز میں کندھے اچکا کر کہا۔
“یہ کوئی وقت ہے پانی دیکھنے کا وہ بھی اتنی سردی میں سویٹر کے بغیر۔۔۔بیمار ہو جاؤ گی تم۔”
بہرام کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے زبردستی وہاں سے اٹھا کر لے جاتا۔
“تو ہو جاؤں گی بیمار کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔”
بہرام نے اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا اور اسکے قریب آ کر کھڑا ہو جائے گا۔
“پاگل تو نہیں ہو گئی تم؟”
چاہت نے انکار میں سر ہلایا اور شفاف نیلے پانی کو دیکھنے لگی۔
“نہیں خان جی سچ کہہ رہی ہوں مجھے کچھ ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے کسی کو میرے خیال سے مر بھی جاؤں گی ناں تو۔۔۔”
ابھی الفاظ چاہت کے منہ میں ہی تھے جب بہرام نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور غصے سے لال ہوتی آنکھوں سے اسے گھورنے لگا۔
“آج کے بعد کبھی مرنے کی بات بھی کی ناں تو قسم کھاتا ہوں چاہت تمہیں ایسی سزا دوں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گی۔۔۔۔”
بہرام نے انتہائی غصے سے کہا لیکن چاہت اپنی کاجل لگی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔
“کیوں دیں گے سزا کیا اہمیت ہے میری جو مجھے کچھ ہونے سے آپ کو فرق پڑتا ہے پیار تو کرتے نہیں آپ مجھ سے۔۔۔”
اسکی بات پر بہرام نے ضبط سے ہے اپنی آنکھیں موند کر گہرا سانس لیا اور اسے چھوڑ کر وہاں سے جانے کے لیے مڑا۔
“کمرے میں جاؤ اور جا کر آرام کرو۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے تو اپنے ساتھ لے کر جا۔۔۔۔۔آہہہ۔۔۔۔”
چاہت کی چیخ پر بہرام مڑا لیکن تب تک چاہت اپنا پاؤں پھسلنے کی وجہ سے پول کے پانی میں جا گری تھی۔بہرام نے پریشانی سے پانی کو دیکھا جہاں چاہت گری تھی۔وہ پول اتنا گہرا تو نہیں تھا کہ بہرام جتنا انسان اس میں ڈوب سکتا لیکن چاہت کے لیے وہ گہرا تھا۔
پریشانی کے عالم میں بہرام نے جلدی سے اپنا کوٹ اتارا اور پول کے پانی میں چھلانگ لگا دی۔کچھ ہی دیر میں چاہت کو پانی سے نکال چکا تھا لیکن چاہت کی بند پلکیں دیکھ کر بہرام کا سانس اسکے سینے میں ہی اٹک گیا۔
“چاہت۔۔۔۔چاہت کیا ہوا ہے اٹھو۔۔۔۔”
بہرام نے اسکے سینے پر دباؤ ڈالا اور پھر ناک کو دبا کر نازک ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اسے اپنی سانسیں دینے لگا۔اس کے دوبارہ یہ عمل دہراتے ہی چاہت سانس لینے لگی تھی لیکن سردی کی شدت سے اسکا وجود بہت زیادہ کانپ رہا تھا۔
بہرام نے فورا اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور اپنے کمرے کی جانب بھاگنے لگا۔راستے میں اسے خالہ نظر آئیں جو چاہت کو یوں دیکھ کر پریشانی سے بہرام کی طرف بڑھیں۔
“ڈاکٹر کو فون کریں خالہ اور چاہت کے کپڑے لے کر جلدی سے میرے کمرے میں آئیں۔۔۔”
بہرام کے حکم دیتے ہی خالہ نے اثبات میں سر ہلایا اور فون کی جانب لپکیں۔کمرے میں آکر بہرام نے چاہت کو صوفے پر لٹایا اور پریشانی سے اسکے پاس بیٹھ گیا۔
“چاہت آنکھیں کھولو میری جان۔۔۔”
بہرام پریشانی سے اسکے ہاتھ سہلا رہا تھا جو سردی کی شدت سے نیلے پڑ رہے تھے۔
“چاہت پلیز آنکھیں کھولو۔۔۔۔”
بہرام کی یہ پریشانی اگر کوئی دیکھ لیتا تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹ جاتیں۔آج وہ سرد مہر سا شخص اس چھوٹی سی لڑکی کی پریشانی میں مکمل طور پر بکھر چکا تھا۔
“بہرام بیٹا چاہت کے کپڑے لے آئی ہوں اور ڈاکٹرنی صاحبہ پانچ منٹ میں یہاں پہنچ جائیں گی۔”
بہرام نے ہاں میں سر ہلایا اور کمرے سے باہر چلا گیا تاکہ خالہ چاہت کے گیلے کپڑے بدلوا سکیں۔کمرے کے باہر وہ کبھی بے چینی سے ٹہلتا تو کبھی اپنے بال نوچنے لگتا۔اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اندر لیٹی لڑکی کو اگر کچھ ہو گیا تو وہ بھی جی نہیں پائے گا۔
تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر وہاں پر آئیں اور چاہت کا چیک اپ کرنے کے بعد کمرے سے نکلیں تو بہرام پریشانی سے ان کی جانب بڑھا ۔
“وہ ٹھیک ہیں مسٹر بہرام کوئی پرابلم تو نظر نہیں آ رہی شاید پانی میں گرنے کہ خوف کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے ہیں آپ فکر مت کریں صبح تک انہیں ہوش آجائے گا۔۔۔”
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلی گئیں۔بہرام کمرے میں داخل ہوا تو چاہت بیڈ پر کمبل میں لپٹی نظر آئی۔
“آپ جائیں خالہ کچھ چاہیے ہو گا تو میں بلا لوں گا۔۔۔”
خالہ نے ہاں میں سر ہلایا اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔اسے صحیح سلامت دیکھ کر بہرام کو اپنے گلے کپڑوں کا اندازہ ہوا تو کپڑے بدل کر چاہت کے پاس آیا اور اسے اپنی باہوں میں لے کر کمفرٹر اچھی طرح سے دونوں کے گرد لپیٹ لیا۔
“چاہت۔۔۔۔آنکھیں کھولو میری جان۔۔۔۔”
بہرام نے اسکا گال تھام کر بہت زیادہ محبت سے کہا تھا۔اگر یہ محبت چاہت دیکھ لیتی تو شائید خوشی سے پاگل ہو جاتی۔
“بہت تڑپاتی ہو تم مجھے چاہت خانزادہ اس کے علاوہ تم نے کبھی کچھ نہیں کیا۔۔۔”
بہرام نے خفگی سے کہا اور اسے مزید سختی سے اپنے اندر سما لیا۔
“کبھی اپنی معصوم شرارتوں سے اور کبھی ایسے۔۔۔۔بس مجھے بے چین کرنا ہی سیکھا ہے تم نے کیا؟”
بہرام نے اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔
“جی خان جی۔۔۔”
چاہت کی آواز پر بہرام نے حیرت سے سر جھکا کر اسکی آنکھوں کو دیکھا جو شرارت سے بھری ہوئی تھیں۔
“اب بولیں کیوں ہے آپ کو میری اتنی پرواہ کہ مجھے بیمار دیکھ کر یوں تڑپ اٹھے۔۔۔۔یہ پریشانی محبت نہیں تو کیا ہے خان جی؟”
چاہت نے مسکرا کر پوچھا جبکہ اسکی اس حرکت پر بہرام کی آنکھوں میں غصہ اتر چکا تھا۔اچانک ہی وہ چاہت کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسکے اوپر ہوا اور بری طرح سے اسکے نازک وجود پر حاوی ہو گیا۔
“یہ کیا حرکت تھی؟”
بہرام کو اپنے اتنے قریب اتنے غصے میں دیکھ کر چاہت کا سانس اس کے سینے میں اٹک گیا۔
“وو۔۔۔۔وہ آپ نے کہا تھا کہ آپ پیار نہیں کرتے مجھ سے تو میں دیکھنا چاہتی تھی کہ آپ کو میری کتنی پرواہ ہے۔۔۔۔”
بہرام نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھ میں دبوچ لیا۔
“تمہیں یہ سب مزاق لگتا ہے چاہت خانزادہ؟”
چاہت کی پلکیں اسکے سوال پر نم ہو گئیں اور اس نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں خان جی مزاق تو آپ کو میرا پیار لگتا ہے جو آپ بار بار میرا دل توڑتے ہیں جب پیار کرتے ہیں مجھ سے تو مان کیوں نہیں لیتے۔۔۔”
بہرام ضبط سے اپنی آنکھیں میچ گیا۔
“چاہت خاموش ہو جاؤ۔۔۔”
“نہیں ہوں گی میں خاموش خان جی مانا مجھ سے غلطی ہوئی تھی لیکن اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ اتنی زیادہ بے رخی دیکھائیں مجھے۔ آپ کے اس پیار پر حق بنتا ہے میرا آپ کیسے میری حق تلفی کر سکتے ہیں؟”
چاہت کے سوال پر بہرام کی آنکھوں میں جنون اترا۔
“تمہیں میری محبت چاہیے ناں تو اب اسے محبت کو برداشت کرنے کی ہمت بھی پیدا کر لو اپنی نازک جان میں۔۔۔”
بہرام کی بات پر چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اس سے پہلے کہ وہ اسکی بات کا مطلب سمجھتی بہرام اس پر جھکا اور بہت شدت سے اسکے پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
چاہت کا سانس اسکے سینے میں اٹکا جبکہ ان ہونٹوں کی نازکی محسوس کرتے ہی بہرام پر ایک سرور تاری ہوا ۔
وہ تو کب سے اسکے جزبات کا امتحان لے رہی تھی اور آج بس اسکے ایک لمس پر ہی بہرام مکمل طور پر مدہوش ہوتا خود پر باندھا ہر پہرہ توڑ گیا۔
اسکے عمل میں اس قدر شدت تھی کہ چاہت کو لگا کہ وہ اسکا سانس ہی روک دے گا۔پھر اسے بہرام کا ہاتھ اپنی کمر پر رینگتا محسوس ہوا اور اپنی شرٹ کی زپ کھلتی محسوس کر چاہت کی جان ہوا ہوئی۔
اس نے بہرام کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر پوری طاقت سے اسے خود سے دور کرنا چاہا تو بہرام اس سے دور ہو کر اسے گھورنے لگا۔
“اب کیا ہوا کرنے دو مجھے پیار۔۔۔”
بہرام کی آواز میں ایک ایسا جنون تھا جسے محسوس کر چاہت کانپ کر رہ گئی۔
“خخخ۔۔۔۔خان جی۔۔۔”
“بہت تڑپتی ہو ناں تم میری محبت دیکھنے کے لیے چاہت خانزادہ تو آج پوری رات تمہیں اس محبت کی شدت دیکھاؤں گا اور بتاؤں گا کہ تمہاری یہ محبت مجھے کتنا تڑپاتی ہے۔۔۔۔”
بہرام نے اسکے کندھے سے شرٹ سرکائی تو چاہت کی روح تک کانپ گئی۔اسے لگا تھا کہ بہرام بس اپنی محبت کا اظہار کرے گا لیکن اسکا یہ عملی مظاہرہ تو چاہت کی جان لینے کے در پہ تھا۔
“پلیز۔۔۔خان جی۔۔۔”
اپنی گردن پر بہرام کے ہونٹوں کے ساتھ ساتھ اسکی مونچھوں کی چبھن محسوس کر چاہت نے پکارا تو بہرام نے اسکی گردن سے چہرہ نکالا اور اسکی لرزتی پلکوں اور کپکپاتے ہونٹوں کو جنون سے دیکھنے لگا۔
“اب میری محبت کے اس کیفِ جنون کو برداشت کرو چاہت جسے تم نے اسکی قید سے آزاد کر دیا ہے۔۔۔”
اتنا کہہ کر بہرام اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا تو چاہت زور سے اپنی آنکھیں میچ گئی۔بہرام نے شرٹ اتار کر دور اچھالی اور پھر سے اسے اپنی گرفت میں لیتا مدہوش ہونے لگا۔
چاہت بھی اپنی مزاحمت ترک کرتی خود سپردگی کا اعلان کر چکی تھی۔بہرام نے اسے کمر سے بھینچ کر خود کے بہت قریب کر لیا۔اس سے پہلے کہ وہ ہر پردہ گراتا ایک پرانا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے آیا۔
خون میں سنا ایک وجود فرش پر گرا تھا اور سترہ سالہ بہرام کے ہاتھوں میں وہ بندوق تھی جس سے اس وجود کی جان گئی تھی۔وہ منظر یاد کرتے ہی بہرام ہوش میں آیا اور جھٹکے سے چاہت سے دور ہو گیا۔
یوں اچانک بہرام کے دور ہو جانے پر چاہت نے گھبرا کر کمفرٹر کو بھینچا اور اپنا لباس کندھوں سے ٹھیک کرنے لگی۔
چاہت کو اس حال میں شرم میں ڈوبا دیکھ کر بہرام کا دل کیا کہ اپنی جان لے لے۔اس نے اپنی شرٹ اٹھائی اور چاہت کو دیکھے بغیر کمرے سے نکل گیا۔اسکے یوں چلے جانے پر چاہت پہلے تو حیران ہوئی پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔آخر ایسی کیا بات تھی جو بہرام کو چاہت کا نہیں ہونے دے رہی تھی۔ایسا کون سا راز تھا جو ان کے رشتے میں رکاوٹ بن رہا تھا۔
💞💞💞💞
(ماضی)
نہ جانے رات کا کون سا پہر تھا جب سلیمان کو کچھ عجیب محسوس ہوا تھا جیسے اس کے گرد بہت گرمی اور عجیب سا شور ہو اور اسکا دم بری طرح سے گھٹ رہا تھا۔
اسے یاد آیا کہ وردہ کے ناراض ہو کر کمرے میں جانے کے بعد وہ وہیں ہال میں صوفے پر لیٹ گیا تھا لیکن نہ جانے کب اتنی گہری نیند میں چلا گیا اسے اندازہ ہی نہیں ہوا۔
درد سے پھٹتے سر کو نظر انداز کر کے اس نے آنکھیں کھولیں تو ارد گرد کا منظر دیکھ کر اسکی روح فنا ہو گئی۔اسکا گھر چاروں طرف سے آگ کی لپٹوں میں تھا۔ہر چیز جل رہی تھی اور اگر وہ وقت پر نہ اٹھتا تو جلد وہ بھی جلنے والا تھا۔
“وردہ۔۔۔”
سلیمان اٹھ کر سیڑھیوں کی طرف بھاگا۔اسے اپنی محبت کی پرواہ ہو رہی تھی جو شائید ابھی بھی کمرے میں تھی۔ابھی اس نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا جب اسے بہرام اور فرزام کا خیال آیا جو نچلے فلور پر اپنے کمرے میں سو رہے تھے۔
وہ جلدی سے انکے کمرے کی جانب آیا اور جلتے دروازے کو زور سے تین سے چار بار ٹانگ مار کر توڑ دیا۔سامنے ہی بیڈ پر فرزام اور بہرام سو رہے تھے۔
سلیمان حیران تھا کہ اتنی بڑی آفت کے باوجود وہ سب سو کیوں رہے تھے؟سلیمان جلدی سے ان دونوں کے پاس آیا اور انہیں جھنجھوڑ کر اٹھانے لگا۔
پہلے بہرام اٹھا جس نے اٹھتے ہی اپنا دکھتا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور پھر سہم کر ارد گرد لگی آگ کو دیکھنے لگا۔
“بابا۔۔۔”
فرزام جو اب جاگ چکا تھا سہم کر سلیمان کے ساتھ لگا۔
“چلو میرے بچو ہمیں جلدی سے یہاں سے جانا ہے۔۔۔”
سلیمان نے ان دونوں کو اپنے ساتھ لگایا اور ایک کمبل ان کے گرد لپیٹ کر انہیں باہر کی جانب لے جانے لگا لیکن ہال کا دروازہ بری طرح جل رہا تھا اور وہ دروازہ بہت مظبوط تھا۔اسے توڑنا اتنا آسان نہیں تھا۔
سلیمان نے پریشانی سے اردگرد دیکھا اور لوہے کی ایک کرسی پکڑ کر اسے شیشے کی کھڑکی میں مار کر کھڑکی توڑ دی۔سلیمان کھڑی پھلانگ کر باہر نکلا اور پہلے بہرام کو آگ سے بچاتے ہوئے کھڑکی سے باہر نکالا اور پھر فرزام کو لیکن ایسا کرتے ہوئے اسکے اپنے بازؤں پر آگ لگ چکی تھی جسے اس نے ہاتھ مار کر بھجایا اور پھر سے کھڑکی کی جانب لپکا لیکن فرزام فوراً اس سے لپٹ گیا۔
“بابا۔۔۔۔مت جائیں۔۔۔”
سلیمان نے بے بسی سے اپنے دونوں بیٹوں کو دیکھا اور انکے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے۔
“مجھے تمہاری مما کو بھی نکالنا ہے تم دونوں رکو میں ابھی اسے لے کر آتا ہوں۔۔۔”
سلیمان نے ان سے دور ہونا چاہا۔
“میں بھی ساتھ جاؤں گا بابا۔۔۔”
بہرام نے کہا لیکن سلیمان نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
“بہرام فرزام کچھ بھی ہو جائے تم اندر نہیں آؤ گے میں ابھی وردہ کو لے کر آتا ہوں۔۔۔۔”
سلیمان اتنا کہہ کر ان سے دور ہوا اور حیرت سے اردگرد دیکھا۔ان پر اتنی بڑی مصیبت آن پڑی تھی اور سب ملازمین اور گارڈز نہ جانے کہاں غائب تھے۔نہ جانے کسی نے فائر بریگیڈ کو بھی بلایا تھا یا نہیں۔
فلحال یہ سب سوچنے کا وقت نہیں سلیمان وردہ ابھی بھی مصیبت میں ہے۔
سلیمان نے سوچا اور بہرام فرزام پر آخری نگاہ ڈالتا واپس اسی کھڑکی سے گھر میں داخل ہو گیا۔اب تک آگ بھڑک کر پہلے سے دوگنا ہو چکی تھی۔سلیمان نے خود کو دھوئیں سے بچانے کے لیے اپنا آدھا جلا سویٹر اتار کر اپنے منہ پر رکھا اور جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بھاگا جو بری طرح سے جل رہی تھیں لیکن وہ خود کو آگ سے بچاتا جلدی سے اپنے کمرے کی جانب جانے لگا۔
اپنے کمرے کا دروازہ توڑنے کے بعد وہ کمرے میں آیا تو اس نے دیکھا کہ آگ اب پھیل کر اس بیڈ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی جس پر وردہ ایسے سو رہی تھی جیسے کہ بے ہوش ہو۔
سلیمان کو لگا کہ کچھ تو صیح نہیں تھا آخر وہ سب اتنی گہری نیند میں کیسے جا سکتے تھے۔سلیمان جلدی سے بیڈ کے پاس آیا اور وردہ کو کھینچ کر بیڈ سے اتارا۔
سلیمان کے کھینچنے پر وردہ سسک اٹھی اور اسکی آنکھیں ہلکی سی کھل گئیں لیکن اردگرد کا منظر دیکھ کر وہ آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
“سس۔۔۔سلیمان یہ۔۔۔”
“شش۔۔۔گھبراؤ مت میری جان کچھ نہیں ہو گا ہمیں یہاں سے نکلنا ہے چلو۔۔۔”
سلیمان نے وردہ کے دوپٹے کو اسکی ناک پر رکھتے ہوئے کہا اور اسے لے کر کمرے سے نکل گیا لیکن سیڑھیوں پر آگ بری طرح سے پھیل چکی تھی۔
“سسس۔۔۔۔۔سلیمان۔۔۔۔”
وردہ اب رونے لگی تھی۔ سلیمان نے جیسے تیسے آگ سے بچ کر وردہ کو سیڑھیوں سے اتارا اور ہال میں آ گیا۔اب وہاں ہر آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا بس ہر طرف آگ تھی۔
سلیمان نے کھڑکی میں سے اپنے بچوں کی سہمی نم آنکھوں کو دیکھا۔ان کے پیچھے کچھ لوگ کھڑے تھے جو شائید ان کے ہمسائے تھے جو اب وہاں آ کر پریشانی سے ہر منظر دیکھ رہے تھے۔
“چلو وردہ۔۔۔”
سلیمان نے اسے لے کر کھڑکی کی جانب جانا چاہا مگر تبھی اسکی نگاہ ہال کے ایک کونے میں پڑے سیلنڈر پر پڑی جو وہاں تو نہیں ہونا چاہیے تھا پھر وہ وہاں کیسے آیا۔
اس سے پہلے کہ سلیمان کچھ سوچتا وہ سیلنڈر بری طرح سے ہلنے لگا اور اس پر آگ لگ گئی۔سلیمان نے فوراً وردہ کو خود میں بھینچا اور اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں۔
تبھی وہ سیلنڈر پھٹا اور ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد آگ کے سوا کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔بس وہاں وردہ کی ہولناک چیخیں گونج اٹھی تھیں۔
“ماما۔۔۔۔بابا۔۔۔۔”
فرزام نے روتے ہوئے اس جلتے گھر کی جانب جانا چاہا لیکن ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اسے اپنی پکڑ میں لے لیا۔
“نہیں چھوڑو مجھے۔۔۔بابا۔۔۔۔”
فرزام چیختے ہوئے رو رہا تھا اور اپنے آپ کو چھڑوا کر اس گھر میں اپنے ماں باپ کے پاس جانے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ بہرام تو ایک زندہ لاش بنا وہاں کھڑا تھا بس دو آنسو تھے جو اسکی آنکھوں سے بہے تھے۔ایک ہی پل میں انکا ہنستا بستا جہاں جل کر تباہ ہو گیا تھا۔