📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 05)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 05)

Kaif E Junoon By Harram Shah

(ماضی)
سلیمان آفس سے گھر آیا تو سامنے ہی وردہ اسے ڈائنگ ٹیبل پر کھانا لگاتے نظر آئی۔یہ مکمل سا منظر سلیمان کے دل میں اترا تھا۔
سلیمان کے ماں باپ بچپن میں ہی چلے گئے تھے اور اس نے کبھی کوئی قریبی رشتہ نہیں دیکھا تھا اب اسکی جان سے پیاری فیملی ہی اسکا سب کچھ تھی۔بارہ سال سے زیادہ کا وقت ہو چکا تھا ان کی شادی کو لیکن آج بھی سلیمان کو یقین نہیں ہوتا تھا کہ اسکی محبت یوں اسکی زندگی کا ہر پل حسین بنا رہی تھی اور اسکے بچے۔۔۔۔

بچوں کا سوچ کر ہی سلیمان نے یہاں وہاں دیکھا لیکن اسے اسکے شرارتی بچے کہیں نظر نہیں آئے تو مسکرا کر وردہ کے قریب آیا اور اسے پیچھے سے اپنی گرفت میں لے لیا۔

“سلیمان کیا کر رہے ہو شرم کرو۔۔۔۔”

وردہ نے خود کو چھڑوانا چاہا لیکن سلیمان اب اپنا چہرہ اسکے بالوں میں چھپا چکا تھا۔

“میں کونسا نوکرانی کے ساتھ رومینس کر رہا ہوں جو شرم کروں بھئی اپنی پرائیوٹ بیوی ہے میری تو کیسی شرم۔۔۔”

وردہ اسکی جانب پلٹ کر اسے گھورنے لگی۔جتنی محبت کا سلیمان نے اس سے وعدہ کیا تھا ،ان بارہ سالوں میں اس سے کئی گناہ زیادہ محبت اس نے اس سے اور بچوں سے کی تھی۔

“بیوی تو تمہاری اپنی ہے لیکن یہ تمہارا بیڈ روم نہیں ہے خواہ مخواہ میرے معصوم بچوں کو خراب کرو گے تم ۔۔۔”

وردہ نے خود کو چھڑایا اور ٹیبل سیٹ کرنے لگی۔

“معصوم۔۔۔۔بہرام کے لیے یہ لفظ اچھا لگتا ہے لیکن فرزاااااامممم۔۔۔۔”

سلیمان نے فرزام کا نام کھینچا تو وردہ اسے گھورنے لگی۔جہاں بہرام سلیمان کا لاڈلا تھا وہیں فرزام وردہ کی جان تھا۔

“کیا کہتا ہے میرا معصوم بچہ تمہیں۔۔۔؟”

“ماما بہرام نے میری کار توڑ دی اس لیے میں نے اسکا سپائیڈر مین توڑ دیا جو بابا تھائی لینڈ سے لائے تھے۔۔۔”

بارہ سالہ فرزام نے وہاں آ کر فخر سے بتایا تو سلیمان ہنس دیا۔

“سن لو اپنے لعل کی معصومیت کے قصے۔۔۔”

سلیمان نے اپنی باہیں پھیلا کر کہا تو فرزام بھاگ کر اسکے سینے سے لگ گیا جبکہ وردہ گہرا سانس لے کر رہ گئی۔

“بابا یہ جھوٹ بول رہا ہے اسی نے اپنی کار خود توڑی ہے اور میرا سپائیڈر مین بھی۔۔۔۔کیونکہ میں نے اسکی کار کو ٹچ کیا تھا تو اس نے کہا کہ مجھے پنش کرے گا۔”

بہرام نے غصے سے وہاں آتے ہوئے کہا۔

“افف کتنا لڑتے ہو تم دونوں اتنی خوش تھی میں کہ میرے ٹونز ہیں تو پیار سے رہیں گے لیکن تم دونوں کا تو جھکڑا ہی ختم نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔”

وردہ نے سب کو ٹیبل پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

“ہاں تو اس سے کہیں ناں کہ میری چیزوں کو ٹچ نہیں کیا کرے تو میں اچھا بچہ بن کے رہوں گا پرامس۔۔۔۔”

فرزام نے وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ کتنا سچا تھا یہ اس کے ماں باپ دونوں جانتے تھے۔

“چلو ابھی خاموشی سے کھانا کھاؤ پھر کل تم دونوں کو مال لے جاؤں گا جو دل کرے لے لینا۔۔۔۔”

سلیمان کی بات پر دونوں نے خوشی سے پاپا از دا بیسٹ کا نعرہ لگایا اور کھانا کھانے لگے۔کچھ دیر کے بعد ہی سلیمان کا کافی پرانا اور قریبی گارڈ عباس ہانپتے ہوئے وہاں پر آیا۔

“ارے عباس تم یہاں اس وقت سب ٹھیک تو ہے ناں؟”

سلیمان نے گھبرا کر پوچھا۔

“جی مالک سب ٹھیک ہے بلکہ میں بہت زیادہ خوش ہوں اللہ نے میری دعا سن لی اور مجھے ایک انتہائی خوبصورت بیٹی سے نوازا ہے۔۔۔۔”

عباس کی خوشی اسکے چہرے سے چھلک رہی تھی۔سلیمان نے اٹھ کر اسے اپنے گلے سے لگایا ۔

“بہت زیادہ مبارک ہو اللہ تمہاری بیٹی کے نصیب اچھے کرے۔۔۔۔”

عباس نے مسکرا کر وردہ کو دیکھا جو خود بھی مسکرا رہی تھی۔

“آپ دونوں آئیں گے میری بیٹی کو دیکھنے؟”

عباس نے بہت امید سے پوچھا۔

“ہاں کیوں نہیں بلکہ ابھی چلتے ہیں تمہارے گھر۔۔۔۔”

سلیمان کی بات پر عباس کی خوشی مزید بڑھ گئی۔

“جی جی مالک ضرور۔۔۔”

سلیمان نے وردہ کو اشارہ کیا تو اس نے فرزام اور بہرام کو تیار ہونے کا کہا اور خود بھی کچھ ہی دیر میں تیار ہو کر سلیمان کے ساتھ عباس کے گھر میں آئے۔

عباس نے سلیمان کو تو اپنے چھوٹے سے گھر کی بیٹھک میں بیٹھایا لیکن وردہ اور بچوں کو اپنی بیوی سکینہ کے پاس بھیج دیا جس کی باہوں میں چھوٹی سی گڑیا تھی۔

“ماشاءاللہ بہت زیادہ پیاری ہے یہ بہت مبارک ہو آپ کو بہن۔۔۔”

سکینہ مسکرا دی۔سلیمان اور اس کی بیوی کے یہاں آنے سے وہ حیران نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کے شوہر کا مالک بہت زیادہ رحم دل انسان تھا وہ امیر اور غریب میں فرق کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔

“نام کیا رکھا ہے اسکا۔۔۔؟”

وردہ نے اس چھوٹی سی گڑیا کو اپنی باہوں میں لیتے ہوئے پوچھا۔

“چاہت عباس ۔۔۔۔۔اسکے بابا نے رکھا ہے کیونکہ انہیں بیٹی کی بہت زیادہ چاہت تھی۔۔۔”

وردہ مسکرا دی اور چھوٹی سی چاہت کو بہرام اور فرزام کے سامنے کیا۔

“تم دونوں کی زمہ داری ہے یہ سمجھے بڑے بھائیوں کی طرح خیال رکھنا اس کا۔۔۔”

وردہ نے انہیں سمجھایا۔

“کیا میں اسے اٹھا لوں مما؟”

بہرام کے پوچھنے پر وردہ نے ہاں میں سر ہلایا لیکن اس سے پہلے کہ بہرام اسے اٹھاتا فرزام نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔

“سنا نہیں تم نے مما نے کہا میری بہن ہے یہ تمہاری نہیں تم اپنے لیے جہاں سے مرضی لاؤ۔۔”

فرزام نے بہرام کو چڑایا اور بہرام بس دانت کچکچا کر رہ گیا۔تبھی سلیمان اور عباس بھی اس کمرے میں آئے اور سلیمان نے چاہت کو اپنی باہوں میں لے کر ہزار کے کئی نوٹ اسکے ننھے ہاتھ میں پکڑا دیے۔

“مالک یہ ۔۔۔۔”

“بیٹی کو پیار دیا ہے عباس زیادہ کچھ نہیں۔۔۔کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے ضرور بتانا۔۔۔۔”

عباس نے ہاں میں سر ہلایا تو سلیمان نے چاہت کو اسے تھما دیا اور وردہ کو چلنے کا اشارہ کیا۔انکے جاتے ہی عباس سکینہ کی جانب مڑا۔

“بہت اچھے ہیں ناں سلیمان صاحب اللہ انکی خوشیوں کو ہمیشہ قائم رکھے۔۔۔”

سکینہ مسکرا دی اور آہستہ سے آمین کہا لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ سلیمان خانزادہ اور اسکے گھر والوں کی خوشیاں تو بس چند پل کی مہمان تھیں کیونکہ قسمت اپنی اوٹ میں بہت سے وار چھپا کر بیٹھی تھی۔
💞💞💞💞
(حال)
فرزام نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے سامنے موجود بیگ ولا کو دیکھا۔وہ آج وہاں تھا جہاں وہ کبھی بھی آنا نہیں چاہتا تھا۔وہ الطاف حیدر بیگ کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔بہرام نے اسے یہاں اپنے ساتھ آنے کے لئے کس طرح منایا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔

“صرف تمہاری خاطر بہرام۔۔۔”

فرزام نے اسے پھر سے یاد دلایا اور خود کے غصے پر قابو رکھتے ہوئے اس گھر میں داخل ہو گیا جہاں سب ان کا انتظار کر رہے تھے۔

“بہت دیر لگا دی آپ دونوں نے آنے میں۔۔۔۔میں تو کافی دیر سے آپ دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔”

استقبال کے بعد الطاف نے بہرام کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور مسکرا کر فرزام کی جانب دیکھا۔

“امید ہے سفر اچھا گزرا ہو گا آپ کا؟”

الطاف کے پوچھنے پر فرزام مسکرا دیا۔

“سفر تو اچھا گزرا ہے لیکن منزل کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔۔۔۔۔”

فرزام کے جواب پر بہرام نے اسے گھورا لیکن وہ فرزام ہی کیا جو کسی کی سنتا۔الطاف نے خاطر تواضع کے دوران انہیں سب گھر والوں سے ملوایا۔فرزام سب سے ہی یوں ملا تھا جیسے ان پر بہت بڑا احسان کر رہا ہو۔

“چلیے آپ دونوں تھوڑا آرام کر لیں ویسے بھی منگنی کا نائٹ فنکشن ہے۔۔۔۔”

انہوں نے بہرام اور فرزام کو ان کا کمرہ دیکھایا۔کمرے میں آتے ہی بہرام فرزام کی جانب مڑا۔

“فرزام ایسے رویے کی وجہ؟”

بہرام کے سوال پر فرزام نے مسکرا کر ایک سگریٹ جیب سے نکالا اور اپنے ہونٹوں میں دبا لیا۔

“جسکا جو مقام ہوتا ہے اسکو وہیں رکھنا عادت ہے فرزام خانزادہ کی۔۔۔”

“میرا مقصد بھی اسے اس کے اصل مقام پر لانا ہے فرزام میں نہیں چاہوں گا کہ تمہارا رویہ میری راہ میں مشکل بنے اس پلیز کچھ عرصہ تمہیں یہ سب برداشت کرنا ہو گا۔۔۔۔”

فرزام کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی۔

“اب ہر ایک کی برداشت تمہارے جیسی نہیں ہوتی۔تم تو صبر کا مجسمہ ہو ناں تبھی تو چاہت کو چاہنے کے باوجود اسکا دل توڑ کر یہاں کسی اور کے ہونے آ گئے۔۔۔۔”

چاہت کے ذکر پر بہرام نے پلٹ کر اپنے بھائی کو دیکھا۔

“یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟”

“سچ۔۔۔”

فرزام نے عام سے انداز میں کہا۔بہرام اپنی مظبوط مٹھیاں بھینچ چکا تھا۔

“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔”

ایک طنزیہ مسکراہٹ فرزام کے ہونٹوں پر آئی۔

“کس سے جھوٹ بول رہے ہو مجھ سے یا خود سے۔۔۔۔شاید تم خود سے جھوٹ بول سکتے ہو میرے بھائی لیکن مجھ سے نہیں بول سکتے بکاز آئی ایم یور بیٹر ہاف۔”

فرزام نے شان سے کہا تو بہرام اپنی آنکھیں زور سے میچ گیا۔

“میں نے چاہت کو اس وجہ سے نہیں ٹھکرایا فرزام تم جانتے ہو میں اس کا گناہگار ہوں کیا وہ اسی قابل ہے کہ اسکی بیوی بنے جس نے اسکے باپ کو۔۔۔۔۔”

بہرام اپنی بات کہتے کہتے خاموشی ہو گیا۔فرزام نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔

“اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی بہرام؟”

بہرام نے سرد مہری سے اسے دیکھا۔

“کس سے جھوٹ بول رہے ہو مجھ سے یا خود سے ؟”

فرزام اسکی بات پر خاموش ہو گیا۔

“وہ سب بھول جاؤ فرزام اب ہمارا بس ایک ہی مقصد ہے الطاف بیگ کی بربادی اور تمہارے ساتھ کے بغیر میں کچھ نہیں بکاز یو آر مائے بیٹر ہاف ۔۔۔۔۔”

فرزام نے سنجیدگی سے بہرام کو دیکھا اور پھر ہاں میں سر ہلایا۔

“فی الحال میں باہر جا رہا ہوں شام تک واپس آ جاؤں گا۔۔۔۔”

بہرام نے ہاں میں سر ہلایا تو فرزام خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔وہ بس کچھ پل کے لیے الطاف بیگ کے سائے سے بھی دور جانا چاہتا تھا تا کہ اپنے اندر ابلتے غصے کو کم کر سکے۔
💞💞💞💞
“واو مناہل جسٹ لک ایٹ یو کتنی زیادہ پیاری لگ رہی ہو تم؟”

حبہ کی آواز پر مناہل نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ہلکے گلابی رنگ کے فراک میں ملبوس مناسب سے میک اپ اور ہلکی وائٹ جیولری کے ساتھ وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔

مناہل کبھی تیار نہیں ہوئی تھی اس لیے اب زرا سی تیاری بھی اسے کوئی حسین پری بنانے کے لیے کافی تھی۔

“تم تو کسی کی بھی چاہت بن جاؤ۔۔۔۔بہرام خانزادہ تو گیا کام سے۔۔۔۔”

حبہ نے شرارت سے کہا۔

“تم کسی کی چاہت نہیں ہو سکتی لڑکی تم پر لگا داغ تمہیں کسی کے قابل نہیں رہنے دے گا۔ہر کوئی تمہیں برا سمجھے گا۔۔۔۔”

مناہل کے ذہن میں کسی کے الفاظ گونجے تو وہ کرب سے اپنی آنکھیں میچ گئی۔آنسو نکلنے کو بے تاب ہو رہے تھے۔

“سب تیاری ہو گئی؟”

شیزہ کی آواز پر حبہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“جی پھوپھو اور دیکھیں مناہل کتنی پیاری لگ رہی ہے۔۔۔ “

شیزہ نے مناہل کو سر سے کے کر پیر تک دیکھا۔

“ہمم۔۔۔۔ٹھیک ہے تم جاؤ حبہ میں مناہل کے پاس ہی ہوں۔۔۔۔”

حبہ نے ہاں میں سر ہلا کر خود کو آخری بار آئنے میں دیکھا اور اپنے بال سنوار کر وہاں سے چلی گئی۔شیزہ اسکے جاتے ہی مناہل کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی۔

“یہ رشتہ ہمارے خاندان اور بزنس کی بقا کے لیے بہت زیادہ اہم ہے امید ہے تم اسے کسی بیوقوفی کی وجہ سے برباد نہیں کرو گی۔۔۔۔۔”

مناہل نے آئینے میں ایک نظر اپنی پھپھو کو دیکھا اور آہستہ سے ہاں میں سر ہلایا۔

“کچھ پریشانی ہے؟”

مناہل نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔شیزہ نے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔

“اگر تم کچھ چھپا رہی ہو تو یہ جان لو کہ راز رکھنا اتنا بھی مشکل نہیں ہے بس یہ یاد رکھنا کہ سامنے والا تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور اگر تم اسے نہیں بتاؤ گی تو اسے بتانے والا کوئی بھی نہیں۔۔۔”

مناہل نے پھر سے ہاں میں سر ہلا دیا۔اس وقت اسے اپنا آپ صرف ایک زندہ لاش لگ رہا تھا۔شیزہ نے ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی جبکہ خود کو تنہا پاتے ہی بہت سے آنسو مناہل کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔

خود کو یہ ہفتہ اس سب کے لیے اس نے کیسے تیار کیا تھا یہ وہی جانتی تھی۔یہ بات اپنے شوہر سے چھپانا اسے اسکی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف لگ رہا تھا۔ویسے بھی شادی کے بعد اگر وہ مناہل کی قربت چاہتا تو وہ اپنے اس خوف پر کیسے قابو پاتی۔

وہ تو کسی کا لمس بھی برداشت نہیں کر پاتی تھی تو کیسے سمجھاتی وہ اپنے شوہر کہ وہ کیوں اس سے اس قدر ڈرتی ہے۔۔۔۔یا پھر وہ اس ڈر کو کیسے چھپاتی۔

مناہل اپنی ہی سوچوں میں گھری تھی جب اچانک سے لائٹ چلی گئی۔ہر طرف مکمل اندھیرا چھا جانے پر مناہل گھبرا گئی اور باہر کے دروازے کی جانب جانے لگی جب اسکے کانوں میں ملازم کی آواز پڑی۔

“شائید کوئی مسلہ ہو گیا ہے لائٹ میں ہم دیکھتے ہیں سر۔۔۔۔”

یہ سن کر مناہل اپنی جگہ پر رک گئی اور لائٹ آنے کا انتظار کرنے لگی۔اسے اندھیرے سے بہت زیادہ ڈر لگتا تھا لیکن پھر بھی وہ باہر سب کے سامنے نہیں جانا چاہ رہی تھی۔

اچانک کہیں سے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنائی دی۔اسے ایسا لگا کہ کہ اس کے علاوہ کمرے میں کوئی اور بھی داخل ہوا تھا۔وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ کمرے میں کون تھا لیکن خوف سے اسکی آواز گلے میں دب چکی تھی۔

تبھی لائٹر کی ہلکی سی روشنی اسکے قریب نمودار ہوئی اور اس کا سامنا دو سیاہ آنکھوں سے ہوا۔

فرزام جو ابھی یہاں واپس آیا تھا تیار ہونے کے لیے اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا۔پریشانی کی بات تو یہ تھی کہ تب غصے میں ہونے کی وجہ سے اس نے جگہ کو غور سے نہیں دیکھا تھا اس لیے اب اپنے کمرے کا رستہ بھول چکا تھا۔

پہلے اس نے سوچا کہ کسی سے پوچھ لے لیکن پھر ایک دروازہ دیکھ کر اسکی جانب بڑھ گیا کیونکہ وہ دروازہ اسے جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھولتا سب لائٹیں بند ہو گئیں اور ملازم نے بتایا کہ شائید کوئی مسلہ ہو گیا ہے۔وہ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا لیکن اندھیرے میں کچھ دور جانے کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ وہاں کوئی اور بھی تھا۔

فرزام نے جیب سے لائٹر نکال کر جلایا تو ہلکی سی روشنی میں اسکی پہلی نظر دو آنسوؤں سے تر سہمی نگاہوں پر پڑی اور پھر نظر بھٹکتے ہوئے معصوم چہرے کے ان نازک ہونٹوں پر پڑی جو خوف کے مارے ہلکے ہلکے پھڑپھڑا رہے تھے۔

وہ جو کوئی بھی تھی اس وقت ایک معصوم پری کی ماند فرزام کے سامنے کھڑی تھی اور فرزام پلک جھپکنا تک بھول چکا تھا۔اسے لگا کہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس نے پلکیں بند کیں تو یہ پری اسکے سامنے سے غائب ہو جائے گی۔

تبھی تمام لائٹیں پھر سے چل گئیں اور فرزام کی نظر ٹھیک سے اس معصوم حسن پر پڑی جو اسکی موجودگی میں خوف سے کانپ رہی تھی۔

“کون ہو تم؟”

فرزام کے پوچھنے پر وہ مزید گھبرا گئی اور سہم کر دو قدم پیچھے ہو گئی۔مناہل ایک پل میں اس شخص کو پہچان چکی تھی وہ اسکے ہونے والے منگیتر کا جڑواں بھائی تھا لیکن اس سے بات کرنے کی ہمت وہ چاہ کر بھی اکٹھی نہیں کر پا رہی تھی۔

“مناہل۔۔۔”

حبہ کی آواز پر مناہل نے گھبرا کر اسے دیکھا اور بھاگنے والے انداز میں اسکے پیچھے جا کر کھڑی ہو گئی جیسے کہ خود کو چھپانا چاہ رہی ہو۔

“ارے مسٹر فرزام آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟”

حبہ نے ایک دلکش مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر سجا کر کہا لیکن فرزام کی نظر ابھی بھی مناہل پر تھی جسکا یوں اس سے چھپنا اسے بہت ناگوار گزرا تھا۔

” آئی تھاٹ اٹ واز مائی روم۔۔۔”

فرزام بات تو حبہ سے کر رہا تھا لیکن نظریں مناہل پر تھیں۔

“نہیں یہ آپ کا روم نہیں مناہل کا ہے پر اچھا ہے آپ یہاں آ گئے میں آپ کو انٹروڈیوس کروا دیتی ہوں۔”

حبہ مناہل کی جانب مڑی جو سہم کر اسکے پیچھے کھڑی تھی۔

“مناہل یہ فرزام خانزادہ ہیں بہرام خانزادہ کے جڑواں بھائی اور فرزام یہ مناہل ہے بہرام کی ہونے والی فیانسی۔۔۔”

فرزام نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں اور اسکو اس طرح سے دیکھنے پر خود پر ہزار بار لعنت بھیجی۔

“میں تو یہاں مناہل کو لینے آئی تھی لیکن آپ کہتے ہیں تو آپ کو آپ کا روم دکھا دیتی ہوں۔۔۔۔”

حبہ نے ایک ادا سے بال اپنے کندھے سے ہٹاتے ہوئے کہا۔اس کے ہر انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ فرزام کے ساتھ فلرٹ کر رہی تھی۔فرزام گہرا سانس لے کر رہ گیا۔

“بس یہی رہ گیا تھا تمہاری قسمت میں فرزام خانزادہ ۔۔۔۔”

فرزام نے آہستہ سے کہا اور بہرام والی سختی اپنے چہرے پر سجا کر حبہ کو دیکھا۔

“نو تھینکس اپنا راستہ خود ڈھونڈ لوں گا۔”

اتنا کہہ کر فرزام کمرے سے نکل آیا اور ملازم سے پوچھ کر سیدھا اپنے کمرے کی جانب آ گیا۔کمرے میں آتے ہی اس نے غصے سے ایک ٹانگ پاس پڑی کرسی کو ماری۔

وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اسے اس قدر غصہ کیوں آرہا تھا۔اس بات میں حبہ کا تو کوئی قصور نہیں تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ فرزام اس کا بھا۔۔۔

فرزام نے اپنی سوچوں کا تسلسل توڑا اور جلدی سے تیار ہو کر مین ہال میں آگیا جہاں سب منگنی کے فنکشن کے لیے موجود تھے۔

فرزام ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور سگریٹ نکال کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے بہرام کے ساتھ بیٹھی مناہل کو دیکھنے لگا جو ایسے لگ رہا تھا کہ بس وہاں سے غائب ہونا چاہتی ہے۔

“چلیں دیر کیے بغیر منگنی شروع کرتے ہیں۔۔۔”

الطاف نے مسکرا کر کہا تو بہرام نے ایک انگوٹھی اپنی جیب سے نکالی اور اپنا ہاتھ مناہل کے سامنے کر دیا۔مناہل نے اپنا کپکپاتا ہاتھ بہرام کو پکڑا دیا تو بہرام نے خاموشی سے وہ انگوٹھی اسے پہنا دی۔

جبکہ مناہل کا نازک ہاتھ بہرام کے ہاتھ میں دیکھ کر آج پہلی مرتبہ فرزام کو اپنے بھائی سے نفرت ہوئی تھی اور یہ وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ ایسا کیوں ہوا تھا۔جبکہ فرزام کی طرح کوئی اور بھی نفرت سے بہرام کو دیکھ رہا تھا۔

منگنی ہونے کے بعد ہر طرف مبارکباد کا شور مچ گیا۔اس سب میں اگر کوئی خوش نظر آ رہا تھا تو وہ صرف الطاف بیگ تھا جو اب بہرام کے قریب سے اٹھ کر مہمانوں کی جانب مڑا تھا۔

“میری طرف سے بہرام اور میری جان سے پیاری بھتیجی کو منگنی کی بہت زیادہ مبارک ہو۔۔۔۔لیکن ایک خوشخبری ہے جو کافی دیر سے آپ لوگوں سے بانٹنے کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔”

سب نے الطاف کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“میں نے اور بہرام نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔”

الطاف نے ایک نظر بہرام کو دیکھا جس نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔

“ہم نے سوچا ہے کہ منگنی کوئی اتنا بھی مضبوط رشتہ نہیں جس کی بنا پر ہم کافی عرصہ انتظار کر سکیں اس لیے کل شام بہرام اور مناہل کا نکاح ہوگا۔۔۔۔”

فرزام نے حیرت سے بہرام کو دیکھا جس نے نظروں سے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا جبکہ یہ بات سن کر بہرام کے پہلو میں بیٹھی مناہل کا سانس سینے میں ہی اٹک چکا تھا۔

“لیکن بھائی اتنی جلدی یہ سب ؟”

فیض نے بہت مشکل سے اپنی نفرت پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

“یہ میرا اور بہرام دونوں کا فیصلہ ہے امید کرتا ہوں کہ کسی کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔۔”

فیض الطاف کی آواز میں چھپی وارننگ محسوس کر سکتا تھا اس لئے خاموش ہو گیا لیکن فرزام پھر سے وہاں سے ہٹا اور گھر سے باہر نکل گیا۔وہ بعد میں بہرام سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اس نے اس سے پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا ۔
💞💞💞💞
چاہت لائٹ بند کیے اپنے کمرے میں لیٹی تھی۔اتنے دن ہو گئے تھے اسے یہاں اسی حال میں رہتے ہوئے ۔پہلے کی طرح ہنسنا اور چہچہانا تو دور کی بات وہ نہ تو کسی سے بات کرتی تھی اور نہ ہی اتنے دنوں سے کالج گئی تھی بس خاموشی سے اپنے کمرے میں لیٹی رہتی۔

اسے بچپن سے اب تک کا ہر لمحہ یاد آنے لگا۔کیسے بہرام کا اپنے گھر آنا یا چاہت کا اس کے گھر جانا عید کے مترادف ہوتا تھا۔اس معصوم نے تو محبت لفظ کا مطلب سمجھنے سے پہلے بہرام خانزادہ کو چاہا تھا۔

وہ بہرام خانزادہ جو سے ایک بچے کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔اسے تحفظ کا احساس دلاتا تھا چاہے جانے کا احساس دلاتا تھا لیکن وہی بہرام خانزادہ ایک پل میں اس کا ہر احساس ختم کر چکا تھا۔

“چاہت میری جان اٹھو کھانا کھا لو۔۔۔”

سکینہ نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو چاہت خاموشی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔اس دن بہرام کے گھر سے آنے کے بعد چاہت کتنی ہی دیر سکینہ کی گود میں سر رکھ کر روتی رہی تھی۔

سکینہ سے اپنی لاڈلی کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔لیکن وہ بھی کیا کر سکتی تھیں۔چاہت خاموشی سے بیٹھ گئی تو سکینہ خود نوالے توڑ کر اس کے منہ میں ڈالنے لگیں۔

“بس۔۔۔”

تھوڑا سا کھا کر چاہت نے سکینہ کا ہاتھ روک دیا اور سکینہ کہ لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اس نے کچھ کھایا تو تھا۔وہ اٹھ کر برتن لے جانے لگیں جب انکے کانوں میں چاہت کی آواز پڑی۔

“خان جی سے بات ہوئی آپ کی؟”

سکینہ نے بے بسی سے اپنی بیٹی کو دیکھا پھر اس معاملے کو ختم کرنے کا سوچا۔

“ہاں ہوئی تھی۔۔۔”

“منگنی ہو گئی ان کی۔۔۔۔؟”

چاہت کی آواز میں بہت زیادہ کرب تھا،بہت زیادہ دکھ۔

“ہاں ہو گئی۔۔۔۔”

چاہت نے لال آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا۔انکھوں میں آنسو لیکن ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ تھی۔

“مبارک دے دینا ان کو۔۔۔”

چاہت نے آنکھیں میچ لیں تو آنسو اسکے گال پر بہنے لگے۔

“کل نکاح ہے اس کا۔۔۔ “

چاہت نے حیرت سے سکینہ کو دیکھا۔

“اس نے سوچا کہ بات پکی ہو جائے گی۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر سکینہ وہاں سے چلی گئی لیکن چاہت سانس تک لینا بھی بھول چکی تھی۔سکینہ اس کے ساتھ آ کر لیٹ گئیں لیکن چاہت اپنے بستر پر مردہ حالت میں بیٹھی رہی تھی۔

پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسو پونچھے اور اٹھ کر الماری میں سے اپنی چادر نکال کر کچھ پیسے پکڑ لیے۔ایک نگاہ اپنی سوئی ماں پر ڈالی اور خاموشی سے گھر سے نکل کر گئی۔

کچھ دور آ کر اس نے ایک ٹیکسی لی اور اسے پتہ بتا کر ایک اپارٹمنٹ کے باہر آئی جس کے بارے میں اسے اس کی دوست نے بتایا تھا۔پہلے تو وہ کھڑی ہو کر سوچتی رہی پھر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک لڑکا باہر آیا۔

“جی۔۔۔۔؟”

“مجھے سیفی سے ملنا ہے۔۔۔۔”

اس لڑکے نے چاہت کو سر سے لے کر پیر تک دیکھا پھر ہاں میں سر ہلا کر اندر چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد ہی سیفی باہر آیا۔

“چاہت تم یہاں؟”

سیفی چاہت کو دیکھ کر اس قدر حیران ہوا کہ اسے ہمیشہ کی طرح چاہت کو چھیڑنے کا دھیان ہی نہیں رہا۔

“تم سے کام تھا۔۔۔۔”

چاہت نے سپاٹ سے انداز میں کہا۔سیفی کو اسکی حالت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔

“ٹھیک ہے اندر چلو۔۔۔”

چاہت نے انکار میں سر ہلایا پھر کچھ سوچ کر نگاہیں اٹھائیں اور آنسوؤں سے تر آنکھوں سے سیفی کو دیکھا۔

“کیا میں تمہیں اچھی لگتی ہوں؟”

سیفی اس کے سوال پر مزید حیران ہو گیا۔وہ لڑکی جسے وہ کالج میں اس کی خوبصورتی اور معصومیت کی وجہ سے تنگ کرتا تھا آج اس کے سامنے کھڑے ہوکر اسے پوچھ رہی تھی کہ کیا وہ اسے پسند کرتا ہے۔

“ہاں کرتا ہوں کوئی اندھا ہی ہوگا جو تم جیسی بلا کو پسند نہ کرے۔۔۔”

سیفی نے اسے سر سے لے کر پیر تک خباثت سے دیکھتے ہوئے کہا۔اس کے دیکھنے کا انداز ہی ایسا تھا کہ چاہت کو چادر میں بھی اپنا آپ بے لباس لگ رہا تھا۔

“تو کیا تم مجھ سے شادی کرو گے؟کل ہی ؟”

سیفی کی آنکھیں اسکے سوال پر ابل کر باہر آنے کو تیار تھیں۔کیا یہ وہی لڑکی کہہ رہی تھی جو اسکے سائے سے بھی نفرت کرتی تھی۔