📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 17)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 17)

Kaif E Junoon By Harram Shah

دروازہ کھٹکنے کی آواز پر سکینہ دروازے کے پاس گئیں لیکن دروازہ کھول کر انکی نظر روتی ہوئی چاہت پر پڑی تو گھبراہٹ سے انکا دل بند ہونے لگا۔

“کیا ہوا ہے چاہت تم ایسے یہاں۔۔۔”

سکینہ نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھا چاہت کی یہ حالت انہیں بہت زیادہ پریشان کر چکی تھی۔

“بولو تم کچھ بول کیوں نہیں رہی بہرام تو ٹھیک ہے ناں؟”

سکینہ نے اسے اندر لاتے ہوئے کہا جبکہ بہرام کے ذکر پر چاہت نے شکوہ کناں نگاہوں سے انہیں دیکھا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھ لیا۔

“میری قسم کھا کر کہیں اماں جو بھی میں آپ سے پوچھوں گی آپ مجھے سب سچ سچ بتائیں گی۔۔۔”

سکینہ فوراً اسے اندر لے کر آئیں اور دروازہ بند کر کے حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔

“بات کیا ہے چاہت؟”

سکینہ نے بے چینی سے پوچھا لیکن جواب میں چاہت نے انکا ہاتھ پھر سے اپنے سر پر رکھ دیا۔

“بولیں اماں میری قسم کھا کر کہیں گی کہ آپ مجھے ہر بات سچ سچ بتائیں گی۔۔۔۔؟”

چاہت کے سوال پر سکینہ بہت زیادہ بے چین ہو چکی تھیں ۔

“پوچھو میرا بچہ سچ بولنے کے لیے قسم اٹھانا کوئی شرط نہیں۔۔۔”

سکینہ نے اپنا ہاتھ اسکے سر سے ہٹاتے ہوئے کہا۔چاہت نے اپنے آنسو پونچھ کر انہیں بے چینی سے دیکھا۔

“اماں میرے بابا کو خان جی نے نہیں مارا ناں۔۔۔۔یہ جھوٹ ہے ناں اماں۔۔۔؟”

چاہت کے سوال پر سکینہ پتھر کی ہو چکی تھیں آج تک انہوں نے یہ سچ اس سے چھپایا تھا لیکن آخر سچ کب تک چھپ سکتا تھا۔

“بولیں ناں اماں میری قسم کھا کر کہہ دیں کہ یہ جھوٹ ہے۔۔۔”

چاہت اب سکینہ کا ہاتھ پکڑ کر زارو قطار رونے لگی تھی خوف سے اس کا دل بند ہو رہا تھا جبکہ پتھر بنی سکینہ نے اسے سچ بتانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ اس کی وجہ سے چاہت اور بہرام کے رشتے میں اختلافات پیدا ہوں۔

“نہیں چاہت یہ سچ ہے۔۔۔”

چاہت کے آنسو اس کی آنکھوں میں ہی اٹک گئے۔وہ بے یقینی سے سکینہ کو دیکھنے لگی۔

“کک۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔”

چاہت نے ان سے دور ہوتے ہوئے پوچھا۔

“چاہت میری پوری بات سنو۔۔۔۔”

“کیوں چھپائی یہ بات مجھ سے اماں آج تک کیوں نہیں بتایا مجھے کہ جس کو میں اتنا عظیم مقام دیتی رہی وہ میرے باپ کا قاتل تھا کیوں نہیں بتایا مجھے۔۔ “

چاہت سکینہ کی بات کاٹ کر روتے ہوئے چلائی تو سکینہ نے اسکے قریب ہونا چاہا۔

“چاہت اطمینان سے بیٹھ کر میری بات تو سنو۔۔۔”

“کیا سنوں میں اماں اب کیا بچا ہے سننے کو اس سچ کے آگے اب مزید جاننے کو کچھ نہیں بچا اماں کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔”

سکینہ نے انکار میں سر ہلایا اور چاہت کو کندھوں سے پکڑا۔

“چاہت ابھی تم بہت غصے میں ہو پہلے میری بات سن لو تمہارے باپ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا۔۔۔”

“وہ بہرام خانزادہ کے باپ کا ملازم ہونے کی سزا تھی یہی ناں۔۔۔ “

چاہت اپنے آپ کو چھڑوا کر سکینہ کی بات کاٹتے ہوئے چلائی۔

“اور آپ کو کیوں لگتا ہے اماں کہ میں آپ پر یقین کروں گی آج میرا ہر چیز سے بھروسہ اٹھ گیا اماں اس دنیا سے ہی بھروسہ اٹھ گیا۔۔۔”

اپنی بیٹی کی یہ بکھری حالت دیکھ کر سکینہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔وہ جلد از جلد چاہت کے ذہن سے یہ غلط فہمی نکالنا چاہ رہی تھیں جو اسے اندر ہی اندر نگل رہی تھی لیکن چاہت انکی بات سنتی تو ناں۔۔۔

“مجھے آپ سے کوئی جواب نہیں چاہیے اماں۔۔۔”

اچانک ہی چاہت نے آنسو پونچھ کر کہا اور اپنا دوپٹہ ٹھیک سے سر پر لینے لگی۔

“جواب تو میں اس سے لوں گی جس کا یہ گناہ ہے اسے مجھے بتانا ہو گا کہ آخر کیا قصور تھا میرے بابا کا ۔۔۔۔ہاں اسے بتانا ہو گا۔۔۔۔”

چاہت اتنا کہہ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ سکینہ اسے پکارتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگیں لیکن چاہت انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرتی ٹیکسی میں بیٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔

سکینہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں نہ جانے اپنی غلط فہمی میں چاہت بہرام کو کیا کچھ کہنے والی تھی۔بہرام کا خیال آنے پر سکینہ جلدی سے کمرے میں گئیں اور موبائل پکڑ بہرام کو فون کرنے لگیں۔

“اسلام و علیکم اماں جی۔۔۔”

بہرام نے فون اٹھاتے ہی عقیدت سے کہا لیکن سامنے سے اماں جی کے رونے کی آواز نے بہرام کو بے چین کر دیا۔

“کیا ہوا اماں جی آپ ٹھیک تو ہیں؟”

بہرام کے بے چینی سے پوچھنے پر سکینہ نے خود پر قابو پایا۔

“بہرام بیٹا وہ چاہت۔۔۔اسے نہ جانے کہاں سے معلوم ہو گیا ہے کہ اسکے ابا کی جان تم نے لی ہے۔۔۔۔”

بہرام کو لگا کہ اسکا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔جس چیز سے وہ ڈرتا تھا آج وہی ہوا تھا۔

“میں نے اسے سمجھانا چاہا لیکن وہ سنتی ہی نہیں۔۔۔”

اتنا کہہ کر سکینہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں اور بہرام تو بس پتھر کا ہو چکا تھا۔چاہت کا ایک عکس اسکی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا جو اسے بے انتہا نفرت سے دیکھ رہا تھا۔

“وہ بہت زیادہ غصے سے یہاں سے گئی ہے بیٹا تم اسے پیار سے سب سچ بتا دینا۔۔۔وہ نادان اور جلد باز ہے پیار سے سمجھاؤ گے تو سمجھ جائے گی۔۔۔۔”

سکینہ نے بہرام کو بتایا لیکن وہ انہیں کوئی بھی جواب دیے بغیر فون بند کر چکا تھا۔بہرام کرسی پر بیٹھا اور اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپا لیا۔آج اس کا سب سے ڈراؤنا خواب سچ ہو چکا تھا۔وہ کش مکش میں بیٹھا صرف یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے پاس اب دو ہی راستے تھے کہ وہ چاہت سے سچ چھپا کر خود کو اس کی نظروں میں گرا دے یا پھر اسے سچ بتا کر چاہت کو ہی اسکی نظروں میں گرا دے کیونکہ اپنے باپ کا سچ جاننے کے بعد وہ بہرام کے سامنے سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہتی اور یہی تو وہ نہیں چاہتا تھا۔

بہرام نے کرسی کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا لی اور آنکھیں موند گیا۔بہت سوچنے کے باوجود وہ اپنا راستہ تلاش نہیں کر پا رہا تھا۔آج وہ خود کو اتنا ہی بے بس محسوس کر رہا تھا جتنا اس نے اپنے ماں باپ کی موت پر خود کو کیا تھا۔
💞💞💞💞
فرزام کل رات دیر سے واپس آیا تھا اور آتے ہی پہلے سے سوئی مناہل کو اپنی پناہوں میں لے کر سو گیا۔آنکھ کھلتے ہی اس نے ٹائم دیکھا تو دن کے بارہ بج رہے تھے۔یہ دیکھ کر فرزام جلدی سے اٹھ کر فریش ہوا اور باہر آیا جہاں مناہل ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی۔

“تم نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں من؟”

فرزام کی آواز پر مناہل نے سہم کر اسے دیکھا۔اپنے جس خول سے وہ باہر آئی تھی اس دن فرزام کے کیے اس مطالبے پر پھر سے اس خول میں واپس جا چکی تھی۔فرزام جانتا تھا کہ وہ ہر لمحہ اسی خوف میں گزارتی تھی کہ اگر فرزام نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کیا کرے گی۔

“وہ آپ رات کو دیر سے واپس آئے تھے اس لیے مجھے لگا کہ آپ تھکے ہوں گے۔۔۔”

مناہل نے سر جھکا کر اعتراف کیا۔فرزام مسکرا کر اسکے پاس آیا اور اپنے ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھ کر ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔

“کتنا خیال رکھتی ہو تم میرا من بس میرے جزبات کا ہی خیال نہیں تمہیں اسی لیے ابھی بھی کتراتی ہو مجھ سے ۔۔۔۔”

اپنے کان کے قریب فرزام کی سرگوشی پر مناہل کانپ کر رہ گئی۔

“ککک۔۔۔کھانا کھا لیں فرزام ٹھنڈا ہو جائے۔۔۔۔”

فرزام اب اپنے ہونٹ اسکی گردن اور کندھے کے جوڑ پر رکھ گیا تو وہ دہکتا لمس محسوس کر کے مناہل کی بات کے ساتھ ساتھ اسکا سانس بھی سینے میں اٹک گیا۔

“تمہیں ہی نہ کھا جاؤں من۔۔۔۔؟”

فرزام نے شوخی سے کہتے ہوئے اسکے کان کی لو کو دانتوں کے درمیان دبایا تو مناہل کا روم روم کانپ اٹھا لیکن وہ کوئی بھی مزاحمت نہیں کر رہی تھی۔

“وہ پل میری زندگی کا سب سے حسین پل ہو گا من جب تم اپنا روم روم مجھے سونپ کر میری ہو جاؤ گی۔۔۔۔تمہارے اس وجود پر صرف میری مہر ہو گی صرف فرزام خانزادہ کی۔۔۔۔”

فرزام نے مدہوشی کے عالم میں اسکی نازک گردن کو دانتوں کے درمیان لے کر کاٹا تو ایک سسکی مناہل کے ہونٹوں سے نکلی۔فرزام نے فوراً اس سے دور ہو کر اسکی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کو دیکھا۔

“من۔۔۔میرا جنون۔۔۔”

فرزام نے مناہل کا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا لیکن مناہل جھٹکے سے اس سے دور ہوئی۔

“کیا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔؟ کیوں ہر پل میرا جینا مشکل کرتے ہیں۔۔۔۔کیا فرق ہے آپ میں اور اس میں آپ بھی تو بس اسکی طرح مجھے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔”

مناہل کے رو کر چلانے پر فرزام کا پارہ ہائی ہو گیا۔اس نے مناہل کو غصے سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ کر اسے باہوں میں اٹھایا اور اپنے کمرے کی جانب چل دیا جبکہ اسکی اس حرکت پر مناہل حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔

“ففف۔۔۔فرزام۔۔۔ “

کمرے میں آ کر فرزام نے مناہل کو بیڈ پر پھینکا اور اس سے دور ہو کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔یہ دیکھ کر مناہل مزید ڈرتے ہوئے بیڈ کی ٹیک سے جا لگی۔

“یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟”

فرزام نے اسے کوئی بھی جواب دیے بغیر شرٹ دور اچھالی اور اسے پیر سے پکڑ کر اپنے قریب کر لیا۔

ایک چیخ مناہل کے ہونٹوں سے نکلی اور وہ بری طرح سے مزاحمت کرنے لگی لیکن فرزام زبردستی اسکے ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے لگاتا اس پر مکمل طور پر قابض ہو گیا۔

اسکے ہونٹ مناہل کی گردن اور کندھوں پر گردش کرنے لگے اور مناہل روتے ہوئے اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔

“نن۔۔۔نہیں۔۔۔پلیز مت کرو ایسا۔۔۔”

فرزام اسکے الفاظ جنون سے اپنے ہونٹوں پر چن گیا۔اسکے عمل میں اس قدر شدت تھی کہ کچھ ہی دیر میں وہ مناہل کے ہونٹوں کو بری طرح سے زخمی کر چکا تھا۔

اس کے ہونٹوں سے ہٹ کر اب وہ اسکی گردن تک آیا اور وہاں بھی اپنے جنون کی داستان رقم کرنے لگا ۔مناہل ہر طرح کی مزاحمت ترک کرتی مردہ حالت میں وہاں پڑی تھی۔فرزام نے اسکا چہرہ اپنے ایک ہاتھ میں پکڑ کر لال آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“کون ہوں میں۔۔۔؟”

فرزام کے اچانک پوچھنے پر مناہل کو ہوش آیا اور وہ سہم کر اسے دیکھنے لگی۔

“ففف۔۔۔۔فرزام۔۔۔”

“کیا رشتہ ہے میرا تم سے۔۔۔؟”

فرزام نے فوراً ہی سختی سے پوچھا تو مناہل کی پلکیں بھیگ گئیں۔

“ش۔۔۔۔شوہر ہیں آپ میرے۔۔۔ “

فرزام اپنا انگوٹھا اسکے نچلے ہونٹ پر رکھ کر اسے سہلانے لگا۔

“کیا فرق ہے اس میں اور مجھ میں من۔۔۔۔؟”

فرزام کے سوال پر مناہل خاموش رہی تو فرزام کی آنکھوں سختی اتری اور وہ پھر سے اسکے ہونٹوں پر جھکنے لگا۔

“آپ۔۔۔۔حق رکھتے ہیں مجھ پر۔۔۔۔وہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔”

مناہل نے نم آنکھوں سے کہا تو فرزام کے ہونٹ اس سے ایک انچ کی دوری پر رک گئے۔

“ٹھیک کہا میرا جنون میرا حق تمہارے اس نازک وجود کے ایک ایک بال پر ہے۔۔۔ “

فرزام نے بہت شدت سے کہتے ہوئے گلے پر اپنے دانت رکھے تو مناہل پھر سے سانس لینا بھول گئی۔

“مگر جو بات مجھے اس سے مختلف بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اسکا مقصد تمہیں چھو کر تمہیں تکلیف پہنچانا اور برباد کرنا تھا لیکن میرا مقصد تمہارے اس وجود کو اپنی محبت سے صندل کرنا ہے تا کہ تم یہ بات جان جاؤ کہ میں اتنا ہی تمہارا ہوں جتنی تم میری۔۔۔۔”

فرزام اس سے دور ہوا اور اسے بیڈ سے اٹھا کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔

“اب یہ بات کبھی مت بھولنا من کہ تم سے زیادہ قیمتی میرے لیے کچھ نہیں اور میں تمہارا رکھوالا ہوں لٹیرا نہیں۔۔۔”

فرزام نے اسے اپنے سینے سے لگا کر کہا تو مناہل کے آنسو اس کے برہنہ سینے پر گرے۔مگر اب وہ یہ بات ٹھیک سے سمجھ چکی تھی کہ فرزام کہ لیے وہ اہمیت رکھتی تھی۔وہ اسے استعمال کر کے پھینکنا نہیں چاہتا بلکہ اپنی محبت دیکھا کر اسے اپنا بنانا چاہتا ہے۔

جو بات فرزام نہیں سمجھتا تھا وہ یہ تھی کہ مناہل اس کا جنون سہنے کے لیے بہت زیادہ کمزور اور بزدل تھی۔
💞💞💞💞
چاہت جب سے سکینہ کے پاس سے آئی تھی کمرے میں بیٹھی روتی جا رہی تھی۔اس شخص کی کہی باتیں چاہت کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں اور جو دھوکا اسے ملا تھا وہ چاہت کو مکمل طور پر توڑ کر رکھ گیا تھا۔

“کیوں کیا آپ نے ایسا خان جی کیوں چھپایا اپنا گناہ مجھ سے۔۔۔۔”

چاہت گھٹنوں میں سر دے کر سسکتے ہوئے کہنے لگی تبھی اسے احساس ہوا کہ کوئی اس کے پاس ہے تو فوراً سر اٹھا دیا۔اپنے سامنے بہرام کو بیٹھا دیکھ کر چاہت فوراً اس سے دور ہوئی اور چاہت کی آنکھوں میں وہ نفرت بہرام کو آدھا ختم کر چکی تھی۔

“چاہت میری بات۔۔۔”

“کیا سنوں میں۔۔۔یہ بتانے آئے ہیں کہ آپ نے میرے بابا کو کیسے مارا۔۔۔۔؟کیسے مجھے چھوٹی سی عمر میں یتیم کیا آپ نے۔۔۔۔؟”

بہرام کرب سے اپنی آنکھیں میچ گیا۔

“یا ہمیشہ کی طرح جھوٹ بول کر اپنا گناہ پھر سے چھپانے آئے ہیں۔۔۔”

اچانک ہی چاہت بہرام کے قریب آئی اور اس کا گریبان ہاتھوں میں پکڑ لیا۔

“بولیں خان جی کیا کرتے ہیں آپ اپنے گناہ کا اعتراف۔۔۔؟”

چاہت کے سوال پر بہرام نے اپنی آنکھیں کھولیں جو اس وقت سرخ ہو رہی تھیں اور پھر گھائل نظروں سے چاہت کو دیکھا۔

“ہاں۔۔۔کرتا ہوں میں اعتراف چاہت میں نے ہی مارا ہے تمہارے بابا کو۔۔۔”

اسکے منہ سے یہ بات سن کر جو تھوڑا سا بھی شبہ چاہت کے دل میں تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔بہرام کا گریبان چاہت کے ہاتھوں سے چھوٹا اور وہ مردہ آنکھوں سے بہرام کو دیکھنے لگی۔

“کیوں۔۔۔۔؟”

اسکے سوال پر بہرام نے ایک گہرا سانس لیا۔

“وہ میں تمہیں نہیں بتا سکتا چاہت بس اتنا کہوں گا کہ مجھ پر بھروسہ کرو کیونکہ میں نے اتنا بڑا قدم یونہی نہیں اٹھایا تھا۔۔۔۔”

بہرام نے بات کو بدلنا چاہا۔

“بھروسہ۔۔۔۔!!!میرے اعتماد کا مکمل طور پر قتل کر کے آپ چاہتے ہیں پر بھروسہ کر لوں۔۔۔۔!!!کیسے خان جی کیسے۔۔۔۔”

بہرام نے اپنا ماتھا سہلایا۔

“ویسے ہی جیسے آج تک کرتی آئی ہو چاہت مجھے جانتی ہو تم تو کیا تم مجھ پر یقین نہیں کر سکتی کہ میں نے کسی قسم کی زیادتی نہیں کی تمہارے بابا کے ساتھ وہی کیا جو ٹھیک تھا۔۔۔ “

بہرام نے سنجیدگی سے کہا۔چاہت کو اس شخص کی کہی بات یاد آئی کہ بہرام چاہت کے بابا کو اپنے ماں باپ کی موت کا زمہ دار سمجھتا تھا کیونکہ وہ اس کے ماں باپ کو بچا نہیں سکا۔

“جی جانتی ہوں کہ آپ کو کیا ٹھیک لگا اور اب میں بھی وہی کروں گی جو مجھے ٹھیک لگے گا۔۔۔”

چاہت کی بات پر بہرام کے ماتھے پر بل آئے۔

“کیا کرو گی تم؟”

چاہت کے ہونٹوں پر ایک گھائل مسکراہٹ آئی۔

“آپ جیسے شخص کے ساتھ ایک پل کے لیے بھی نہیں رہوں گی اور اماں کے پاس جا کر آپ سے خلع۔۔۔”

“چاہت۔۔۔!!”

بہرام کا ہاتھ ہوا میں اٹھا اور اتنی زور سے چاہت کے گال پر پڑا کے وہ بستر پر گر کر حیرت سے بہرام کو دیکھنے لگی۔

“تم یہاں سے کہیں نہیں جا رہی اور مجھ سے تعلق توڑنا تو بھول ہی جاؤ تم۔۔۔میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ مجھ سے تعلق مت جوڑو اب تم نے اپنی ضد میں یہ تعلق جوڑا ہے تو اسے اپنی آخری سانس تک نبھانا ہے تمہیں۔۔۔”

بہرام نے حتمی فیصلہ سنایا اور وہاں سے چلا گیا۔ اسکے جانے کے بعد چاہت وہیں بستر پر پڑی پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی تھی۔الطاف کی باتیں اسکے ذہن میں زہر گھول رہی تھیں۔اسے اپنے بیٹی ہونے کا حق ادا کرنا تھا تا کہ روز قیامت اپنے بابا کو منہ دیکھا سکے۔

اسے اس وقت بہرام سے سخت نفرت ہو رہی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ بہرام اسے خود سے نفرت کروا گیا تھا تا کہ وہ اپنے باپ کے کیے گناہ کی وجہ سے اپنے آپ سے نفرت کرنے سے بچ جائے۔
💞💞💞💞
بہرام مردہ آنکھوں سے اپنے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا جس پر لگے کٹ کی وجہ سے مسلسل خوں بہہ رہا تھا۔یہ سزا اس نے چاہت کو تکلیف دینے کے لیے اپنے ہاتھ کو دی تھی۔

چاہت کی وہ نفرت اور اسکے آنسو بہرام کو مکمل طور پر توڑ گئے تھے لیکن وہ بھی کیا کرتا ؟اسے سب کچھ سچ سچ بتا کر اپنے آپ سے ہی نفرت کرنے پر مجبور کر دیتا؟اگر اپنے باپ کا کیا گناہ جان کر وہ خود کو نقصان پہنچا دیتی تو بہرام کیا کرتا۔

بہرام جانتا تھا کہ وہ بہت نادان ہے لیکن صاف دل کی مالک ہے۔وقت اور محبت سے بہرام اسے خود پر بھروسا کرنے پر قائل کر سکتا تھا۔

اسی سوچ کے ساتھ بہرام نے ایک رومال ہاتھ پر لپیٹا اور اٹھ کر کمرے میں آیا تو اسے چاہت بیڈ پر لیٹی نظر آئی۔وہ شائید کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی کیونکہ آنسو ابھی بھی اسکی پلکوں پر تھے۔بہرام کی نظر اسکے گال پر پڑی جہاں اسکے بھاری بھرکم ہاتھ کا نشان تھا۔

بہرام نے انتہائی نرمی سے اس نشان کو چھوا اور نرمی سے اپنے ہونٹ اسکے گال پر رکھے تو چاہت کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ شکوہ کناں نگاہوں سے بہرام کو دیکھنے لگی۔بہرام محبت سے اس کا گال سہلانے لگا۔

“مجھے معاف کر دو چاہت میری ہر خطا کے لیے معاف کر دو۔۔۔”

چاہت کی آنکھوں سے پھر سے آنسو بہہ نکلے۔

“مجھ پر بھروسہ کرو چاہت اس وقت جو بھی ہوا وہ ایک بیٹا ہونے کے ناطے میرا فرض تھا۔اس سے زیادہ میں کچھ نہیں تمہیں بتا سکتا پلیز تم مجھ پر بھروسہ کرو ۔۔۔۔”

چاہت نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ کر اپنے چہرے سے ہٹایا۔

“کیسے بھروسہ کروں خان جی۔۔۔۔؟”

چاہت کی آنکھوں میں موجود آنسو بہرام نے اپنے پوروں پر چنے اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل کے مقام پر رکھ دیا۔

“اپنے دل کی مانو چاہت جس نے ہمیشہ مجھ سے محبت کی ہے اس دل سے پوچھو کہ کیا وہ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتا۔۔۔؟”

چاہت نے اپنا ہاتھ اسکی پکڑ سے چھڑوا لیا۔

“یہ دل اپنے بابا کو بھی بہت چاہتا تھا خان جی۔۔۔ہر عید پر انہیں یاد کیا ہر لمحہ جب دوسرے بچوں کو انکے باپ کے ساتھ دیکھا تو اپنے بابا کو یاد کیا جنہیں مجھ سے چھیننے والے آپ تھے۔۔۔پھر بھی آپ پر بھروسہ کروں۔۔۔۔۔؟”

چاہت کے سوال پر بہرام گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر طویل خاموشی کے بعد بولا۔

“پھر بھی مجھ پر بھروسہ کرو۔۔۔”

چاہت کتنی ہی دیر حیرت سے اسے دیکھتی رہی پھر اس نے ہاں میں سر ہلایا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔

“ٹھیک ہے کیا آپ پر بھروسہ۔۔۔”

اسکی بات پر بہرام کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اس نے چاہت کو کھینچ کر خود میں بھینچ لیا۔

“بہت شکریہ چاہت میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔”

“میرا سر درد کر رہا ہے اپنے لیے چائے بنانے جا رہی ہوں آپ پئیں گے؟”

چاہت نے بہرام سے دور ہو کر پوچھا اور اسکی یہ بے رخی بہرام کے دل کو کاٹ گئی۔

“میں خالہ سے کہہ کر منگوا لیتا ہوں۔۔۔”

چاہت نے انکار میں سر ہلایا۔

“نہیں میں خود بنانا چاہتی ہوں آپ کے لیے بھی بنا لوں؟”

بہرام نے اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے اور اثبات میں سر ہلا دیا تو چاہت وہاں سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔بہرام وہیں بیڈ پر بیٹھا اس کے بارے میں سوچتا رہا۔وہ جانتا تھا کہ وقت کے ساتھ ہی سہی لیکن چاہت اپنی محبت کی وجہ سے اس پر بھروسہ کرنے لگے گی۔

چاہت چائے کے دو کپ لے کر کچن میں داخل ہوئی اور ایک کپ پکڑ کر بہرام کے سامنے کیا۔

“تم نہیں پیو گی؟”

بہرام کے پوچھنے پر چاہت نے کانپتے ہاتھوں سے دوسرا کپ پکڑ لیا اور مردہ آنکھوں سے بہرام کو دیکھنے لگی۔

“مجھ پر بھروسہ کرنے کے لیے شکریہ چاہت۔۔۔”

بہرام نے اتنا کہہ کر وہ کپ اپنے ہونٹوں سے لگانا چاہا۔

“خان جی۔۔۔”

چاہت نے سہم کر بہرام کو پکارا اور اسکے کانپتے ہاتھوں میں پکڑا کپ چھوٹ کر زمین پر گر کر ٹوٹ گیا۔بہرام حیرت سے اسکے چہرے پر خوف اور آنسوؤں کو دیکھنے لگا۔

اس نے چاہت کے زرد ہوتے رنگ سے نظریں ہٹا کر ہاتھ میں پکڑی چائے کو دیکھا اور پل بھر میں بات کو سمجھ گیا۔پھر چاہت کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی اور ایک ڈمپل بہرام کے دائیں گال پر نمائیاں ہوا۔

“تمہاری ہر خواہش سر آنکھوں پر ۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر بہرام نے وہ کپ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور ایک ہی گھونٹ میں ساری چائے کو خود میں انڈیل گیا۔چاہت ابھی بھی وہیں کھڑی مردہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

بہرام اسکے قریب آیا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپا لیا۔

“تمہیں کیا لگتا تھا چاہت کہ محبت صرف تمہیں تھی؟”

چاہت کی مردہ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔

“اپنی زندگی کا ہر لمحہ تمہیں ٹوٹ کر چاہا ہے چاہت اتنا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتی شائید تم سے بھی بے پناہ زیادہ۔۔۔”

بہرام نے اپنے ہونٹ اسکی گردن پر رکھے پھر اس سے دور ہو کر اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔

“یہ زندگی کیا ہے چاہت میرے پاس ہزار زندگیاں ہوتیں تو وہ بھی تم پر قربان کر دیتا۔”

چاہت نے سہم کر بہرام کو دیکھا جس کی ناک سے خون نکلنے لگا تھا۔بہرام نے وہ خون انگوٹھے سے پونچھا اور ہلکا سا مسکرا دیا۔

“آخری بار اس ڈمپل کو دیکھ کر اپنی سب سے بڑی خواہش پوری کر لو۔۔۔۔۔”

بہرام کی بات پر چاہت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بہرام چکراتے سر کی وجہ سے لڑکھڑا کر زمین پر گرا تو چاہت نے چیخ کر اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے سینے پر رکھا۔بہرام نے کانپتے ہاتھ میں اسکا چہرہ تھام کر اسکے آنسو پونچھنے چاہے ۔۔۔۔

“ششش۔۔۔۔۔میری جان رو مت ۔۔۔۔”

اس بات پر چاہت مزید روانی سے رونے لگی۔

“تت۔۔۔۔تم نے جو کیا ٹھیک کیا تم نے بیٹی۔۔۔۔ہونے کا حق ادا کیا۔۔۔۔بس۔۔۔۔بس میری طرح اپنی پر سانس کے ساتھ پچھتانا مت چاہت۔۔۔۔”

چاہت کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا وہ بس اسکا سر اپنی گود میں رکھی روتی جا رہی تھی۔

“مجھے کوئی ڈراؤنا خواب سمجھ کر بھول جانا میری جان۔۔۔۔بھول جانا۔۔۔۔”

اس سے آگے بہرام سے کچھ نہیں کہا گیا۔وہ بری طرح سے کھانا جس کی وجہ سے بہت سا خون اسکے منہ سے نکلا اور اسکا وجود ساکت ہو گیا۔یہ دیکھ کر ایک چیخ چاہت کے ہونٹوں سے نکلی۔وہ اپنا بیٹی ہونے کا فرض پورا کر چکی تھی اس نے اپنے باپ کا بدلا لے لیا تھا لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ خود کو مکمل طور پر برباد کر چکی تھی۔
💞💞💞💞