📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 09)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 09)

Kaif E Junoon By Harram Shah

(ماضی)
“یہ میں کیا سن رہا ہوں سلیمان تم ہمارے درمیان ہر طرح کی پارٹنرشپ کو ختم کر رہے ہو؟”

الطاف کو کچھ دیر پہلے ہی یہ خبر ملی تھی کہ سلیمان نے اپنا بزنس اس سے علیحدہ کر لیا تھا اسی لیے وہ سلیمان سے یہ بات پوچھنے اس کے آفس آیا۔

“ٹھیک سنا ہے تم نے۔۔۔”

سلیمان نے سنجیدگی سے اپنا کام کرتے ہوئے کہا۔

“لیکن کیوں؟”

الطاف کے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔سلیمان کے ساتھ جڑ کر اسے بہت فائدہ حاصل ہونے والا تھا۔

“کیونکہ تم جیسا دغا باز شخص کسی بھی قسم کا تعلق قائم کرنے کے قابل نہیں۔۔۔۔”

الطاف نے حیرت سے سلیمان کو دیکھا۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو تمہیں کیا لگا کہ میری وردہ مجھے اپنے ماضی کے بارے میں نہیں بتائے گی؟۔۔۔۔”

سلیمان ہلکا سا ہنسا۔

“اس نے مجھے تمہارا یہ مکرہ چہرہ کب کا دیکھا دیا اس لیے گیٹ آؤٹ آف مائے آفس۔۔۔۔”

سلیمان نے سنجیدگی سے کہا پھر کچھ یاد آنے پر الطاف کی جانب دیکھا۔

“اور ہاں زرا اب جیل اور عدالت کی ہوا کھانے کے لیے تیار رہنا۔وہ کیا ہے ناں کہ میں تم پر ایک لڑکی کے ساتھ نکاح کے بعد فراڈ کا کیس کرنے والا تھا پھر جب تمہیں جانا تو تمہارے کتنے ہی فراڈ سامنے آ گئے جو تم نے بزنس کو اوپر لے جانے کے لیے کیے ہیں۔۔۔۔”

الطاف نے دانت پیس کر سلیمان کو دیکھا۔

“آگ سے مت کھیلو سلیمان خانزادہ جل جاؤ گے ۔۔۔۔”

سلیمان کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔

“آگ سے کھیلنا ایک خانزادہ کا شوق ہوتا ہے اور وہ اس سے جلتا نہیں دوسروں کو جلا دیتا ہے۔۔۔۔”

سلیمان اٹھ کر آفس کے دروازے کے پاس آیا اور اسے کھول کر الطاف کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔

“اب عدالت میں ملاقات ہو گی۔۔۔”

الطاف اپنے غصے کو قابو میں کرتا وہاں سے چلا تو گیا لیکن دل ہی دل میں وہ سلیمان خانزادہ کو سزا دینے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
💞💞💞💞
(حال)
فرزام صبح حسب معمول گھر میں بنی جم میں آیا تو اسکی نظر بہرام پر پڑی جو پہلے سے ہی وہاں پش اپس کر رہا تھا۔فرزام کو دیکھ کر بہرام کی آنکھوں میں بھی حیرت اتری اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

“تم واپس کب آئے؟”

“صبح چار بجے۔۔۔”

فرزام نے ٹریڈ مل پر چڑتے ہوئے کہا وہ یہی سوچ رہا تھا کہ بہرام کو فیض کی موت کے بارے میں کیسے بتائے گا۔

“ہمم۔۔۔۔زیادہ مسلہ تو نہیں ہوا تھا کل وہاں؟”

بہرام نے اسکے قریب دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا تو فرزام ہنسنے لگا۔

“نہیں کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہوا تھا بس وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ تمہیں بلا لوں ورنہ بندوقیں لے کر تمہیں مارنے نکل پڑیں گے۔۔۔”

بہرام نے اپنی آنکھیں گھمائیں۔

“پھر کیا کیا تم نے۔۔۔”

فرزام اپنے کمرے میں سوئی مناہل کو یاد کر کے مسکرا دیا۔

“میں نے انہیں کہا کہ انہیں ایک خانزادہ سے ہی رشتہ جوڑنا ہے پھر میں ہوں یا بہرام کیا فرق پڑتا ہے۔اس طرح میں نے من کو ان سے چرا لیا۔”

بہرام نے حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھا۔

“تم نے مناہل سے نکاح کر لیا۔۔۔۔؟”

فرزام نے اسے شریر نگاہوں سے دیکھا۔

“اب تم تو اپنی چاہت کی چاہت پوری کرنے پہنچ گئے تھے کسی نہ کسی کو تو سیچویشن سنبھالنی تھی۔”

بہرام نے اسکی بات کا مطلب سمجھ کر ہاں میں سر ہلایا لیکن فرزام کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

“میں نے سوچا کہ من کو اپنا کر صبح اسے طلاق دینےکے بعد الطاف کو ذلیل کر دوں گا۔۔۔”

بہرام نے غصے سے فرزام کو دیکھا۔

“میں نے تم سے کہا تھا کہ ہم اپنے بدلے میں ایک معصوم کی زندگی تباہ نہیں۔۔۔”

“لیکن جب اس کے قریب گیا تو معلوم ہوا کہ وہ تو پہلے سے ہی ٹوٹ چکی ہے اور اسے توڑنے والا وہ فیض تھا جس نے اسکا بارہ سال کی عمر میں۔۔۔۔”

فرزام کے ہاتھ ٹریڈ مل کے ہینڈل پر سخت ہو گئے اور چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا جبکہ بہرام اسکی بات سن کر حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔

“اور بیگ ولا کے سب بھیڑیے اس بات سے بے خبر تھے کہ ان ہی میں سے ایک جانور اس معصوم کی زندگی اجاڑ گیا تھا۔۔۔”

فرزام اپنی ہی دھن چہرے پر سختی سے سجائے بولتا جا رہا تھا۔

” کیا کیا تم نے فرزام؟”

فرزام کے ہونٹوں پر خطرناک مسکراہٹ آئی۔

“فیض حسن کو مار دیا ان کی آنکھوں کے سامنے۔۔۔”

اس کی بات پر بہرام نے اپنی آنکھیں موند کر گہرا سانس لیا۔

“یہ کیا کر دیا تم نے؟”

فرزام کے ماتھے پر بل آ گئے۔

“تو کیا کرتا اسے گلے لگا کر شاباشی دیتا؟”

“میں نے ایسا نہیں کہا۔۔۔”

فرزام کا غصہ دیکھ کر بہرام نے سنجیدگی سے کہا۔

“تو تم بتاؤ بہرام اگر تم وہاں میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے اس درندے کو چھوڑ دیتے جس نے ایک بارہ سال کی بچی پر ظلم کیا اور وہ بھی وہ بچی جو اسکی بیٹی کی جگہ تھی۔۔۔”

فرزام ٹریڈ مل سے اتر کر بہرام کے سامنے آیا اور غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے پوچھنے لگا۔

“ہاں چھوڑ دیتا اسے لیکن صرف تب کے لیے اور بعد میں اسے ایسی سزا دیتا کہ ایسا کام کرنے والے کی روح کانپ جاتی لیکن یوں سب کے سامنے آ کر دشمنی مول نہیں لیتا۔۔۔”

فرزام نے مسکرا کر اپنے بھائی کو دیکھا جس کے چہرے پر یہ بات کہتے ہوئے کسی قسم کا تاثر نہیں تھا۔

“تمہارا یہ سٹائل ہو گا لیکن فرزام خانزادہ دشمن کی آنکھوں میں جھانک کر اسے للکارنا پسند کرتا ہے۔۔۔۔”

فرزام اس سے دور ہوا اور ایک ڈمبل اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔

“رہی الطاف حیدر کو برباد کرنے کی بات تو تم مجھے ایک موقع دے کر تو دیکھو اسکی زندگی اس قدر اذیت ناک بنا دوں گا کہ موت کی بھیک مانگے گا تو بھی نہیں ملے گی۔۔۔۔”

فرزام کے لہجے میں بہت زیادہ نفرت تھی۔

“تمہیں کیا لگتا ہے میں ایسا نہیں کر سکتا؟لیکن میرا مقصد اسے جسمانی اذیت دینا نہیں اس کے اس دولت اور طاقت کے غرور کو ختم کرنا ہے جس کے سامنے اسے ہر کوئی حقیر لگتا ہے۔۔۔۔جس دن وہ خود حقیر ہو گا اس دن میرا مقصد پورا ہو گا۔۔۔۔”

فرزام بہرام کی آواز میں چھپی وحشت پر مسکرا دیا۔

“اور ایسا ضرور ہو گا۔۔۔۔”

بہرام نے اثبات میں سر ہلایا۔

“فیض اسکے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ابھی اس کے جانے سے وہ آدھا ختم ہو چکا ہے اور ضرور ہمارے خلاف کچھ کرنے کی سوچے گا اس لیے تم محتاط رہنا۔۔۔۔”

فرزام قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔

“تم میری فکر مت کرو بھائی مجھ سے بھڑے گا تو منہ کی کھائے گا۔”

بہرام اپنے بھائی کی لاپرواہی پر گہرا سانس لے کر رہ گیا۔

“جو دل میں آئے کرو بس ایک بات یاد رکھنا کہ تمہارے ساتھ کسی اور کی زندگی بھی جڑی ہے۔”

بہرام اتنا کہہ کر جم سے باہر نکل گیا اور اپنے کمرے کی جانب چل پڑا۔ابھی وہ کچھ دور ہی گیا تھا جب کچن سے آنے والی آواز پر اس کے قدم خود بخود رک گئے۔

“چاہت بیٹا آپ مت کرو بہرام صاحب کو پتہ لگا تو ڈانٹیں گے۔۔۔۔”

خالہ پریشانی سے کہہ رہی تھیں جبکہ چاہت چولہے کے سامنے کھڑی نہ جانے کیا کر رہی تھی۔

“وہ ڈانٹیں گے تو میں کہوں گی کہ میں اپنی مرضی سے کر رہی ہوں آپ انکی فکر مت کریں اور جا کر کچھ اور کام کر لیں۔۔۔۔”

“لیکن چاہت بیٹا۔۔۔۔”

“اف او خالہ جائیں ناں۔۔۔۔”

خالہ نے گہرا سانس لیا اور دوسرے دروازے سے کچن سے نکل گئیں۔چاہت نے جلدی سے پراٹھا توے سے اتار کر پلیٹ میں رکھا پھر منہ بنا کر اسکا جائزہ لینے لگی۔جبکہ بہرام دروازے میں کھڑا اسکی ہر حرکت دیکھ رہا تھا۔

“اماں جیسا بن ہی گیا ہے تھوڑا تھوڑا۔۔۔بس گول کی بجائے پاکستان کا نقشہ لگ رہا ہے اور تھوڑا جل بھی گیا ہے۔۔۔۔”

چاہت نے خود سے کہا اور پھر پراٹھے کا جلا ہوا حصہ نکال کر پھینک دیا۔

“اب ٹھیک ہے کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ جل گیا۔۔۔”

چاہت نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا اور پھر چائے کے لیے پانی چولہے پر رکھنے لگی جب بہرام اسکے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔

“کیا کر رہی ہو تم؟”

بہرام کی آواز پر چاہت چیخ مار کر مڑی اور ہاتھ میں پکڑی ساری پتی بہرام کے چہرے کے ساتھ شرٹ پر گر گئی۔یہ دیکھ کر چاہت بری طرح سے بوکھلا گئی اور اپنے دوپٹے سے بہرام کا چہرہ اور شرٹ صاف کرنے لگی۔

“سوری جان جی غلطی سے ہو گیا۔۔۔۔”

اسکی بات پر بہرام نے جہاں اسے گھورا وہیں چاہت کی آنکھیں مزید بڑی ہو گئیں۔

“خان جی بولا قسم سے خان جی بولا ۔۔۔”

بہرام نے ضبط سے اپنی کن پٹی کو سہلایا۔

“تم یہاں کیا کر رہی ہو چاہت؟”

بہرام نے ایک نظر اسکے حسین سراپے پر ڈالی۔گلابی سوٹ میں دوپٹہ کندھوں پر پھیلائے اور لمبے بالوں کو چوٹی میں باندھے وہ کوئی نازک سی گڑیا ہی تو لگ رہی تھی۔

“آپ کے لیے ناشتہ بنا رہی ہوں۔۔۔۔”

بہرام نے اسے زرا غصے سے دیکھا۔

“یہ تمہارا کام نہیں۔۔۔”

“کیوں میرا کام نہیں آپ کا ہر کام کرنا میرا حق ہے اور آپ مجھے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتے۔۔۔”

چاہت بہرام کی آنکھوں میں موجود سختی کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔

“اگر ایک بار بھی تم نے حق کی بات کی ناں چاہت تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔اور تمہیں یہ سب کرنے کی بجائے اپنی پڑھائی پر دھیان دینا ہے۔۔۔”

چاہت کی حسین آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“پڑھائی۔۔۔۔؟اس سب میں پڑھائی کہاں سے آ گئی خان جی بھلا شادی کے بعد بھی کوئی لڑکی پڑھتی ہے سب کو بے وقوف لگوں گی۔۔۔۔”

“کوئی بے وقوف نہیں لگو گی اور میں تمہیں گھر بیٹھ کر یہ سب نہیں کرنے دوں گا تمہاری پڑھائی کی عمر ہے ابھی اسی پر دھیان دو۔۔۔”

چاہت کا منہ بن چکا تھا۔

“جاؤ تیار ہو میں آفس جانے سے پہلے تمہیں کالج چھوڑ دوں گا۔۔۔۔”

“لیکن خان جی۔۔۔”

“تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا چاہت۔۔۔”

بہرام کے رعب سے کہنے پر چاہت خوف سے اچھل پڑی اور اپنے دوپٹے کا کونا ٹٹولنے لگی۔

“میرے پاس کتابیں نہیں وہ تو میرے گھر پر رہ گئی تھیں۔۔۔”

چاہت نے بہانہ بنانے کی کوشش کی۔

“ٹھیک ہے ہم کالج جانے سے پہلے اماں جی کے پاس جائیں گے اس طرح تم وہاں سے اپنی کتابیں لے لینا اور ان سے مل بھی لینا۔۔۔۔”

چاہت نے برا سا منہ بنا کر اثبات میں سر ہلایا۔بہرام وہاں سے چلا گیا تو چاہت نے غصے سے اپنا پیر پٹخا۔

“ہیں کیا یہ،گوریلا،کنگ کانگ،گوڈزیلا،ڈائناسور سب کی ملی جلی فارم ہیں۔۔۔۔”

چاہت بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے میں آئی اور اپنا یونیفارم نکالنے لگی۔

“اوپر سے میری قسمت دیکھو ان کے شوہر ہونے کی وجہ سے کسی کو کوس بھی نہیں سکتی اپنا ہی کارنامہ ہیں یہ۔۔۔۔”

چاہت نے یونیفارم کو دیکھتے ہوئے کہا پھر کچھ سوچ کر ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ آ گئی۔

“لیکن دنیا کے سب سے پیارے کنگ کانگ ہیں۔۔۔”

چاہت اپنی بات پر خود ہی ہنس دی اور یونیفارم چینج کرنے چلی گئی۔کیونکہ اس نے سوچ لیا تھا کہ بہرام کے دل میں اترنے کے لیے بالکل ویسا بنے گی جیسا وہ چاہتا ہے۔ایک بات ماننے والی اچھی بیوی۔۔۔
💞💞💞💞
فرزام جم سے اپنے کمرے میں آیا تو نظر بیڈ پر سوئی مناہل پر پڑی جو کسی بچے کی مانند پر سکون نیند سو رہی تھی۔اسے دیکھ کر ہی فرزام کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ اور دل میں سکون کی لہر اٹھی تھی۔

وہ مسکراتے ہوئے مناہل کے قریب آیا لیکن تبھی مناہل کا سکون اضطراب میں بدلا تھا۔پہلے تو چہرے پر بہت زیادہ خوف آیا اور پھر وہ نیند میں ہی سسکنے لگی۔

“من اٹھو میرا جنون۔۔۔کیا ہوا؟”

فرزام نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس کے ایسا کرتے ہی مناہل کی سسکیاں چیخوں میں بدل گئیں۔۔۔۔

“نہیں پلیز نہیں۔۔۔۔”

مناہل چیختے ہوئے فرزام سے دور ہوئی تو فرزام کی آنکھوں میں وحشت اتری۔دل کر رہا تھا کہ کاش فیض زندہ ہوتا تو اسے پھر سے مار دیتا۔

“من میرا جنون یہ میں ہوں یہاں آؤ میرے پاس۔۔۔۔”

فرزام نے اسے اپنے قریب بلایا تو مناہل سہم کر مزید دور ہو گئی اور یہ فرزام کو کہاں گوارا تھا اسی لیے وہ بیڈ کی دوسری طرف آیا اور اسے ہاتھ سے کھینچ کر کھڑا کرتے ہوئے اپنی آغوش میں بھینچ لیا۔

ایک مظبوط وجود کو خود کو جکڑتا محسوس کر مناہل بری طرح سے مزاحمت کرنے لگی۔

“شش۔۔۔۔۔من مت ڈرو میرے جنون۔۔۔۔مت کتراو تم یہاں محفوظ ہو میرے قریب کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔”

فرزام نے مناہل کی کان میں سرگوشی کی تو کچھ ہی دیر میں مناہل کا جسم کانپنا بند ہو گیا اور وہ فرزام کی پناہ میں بالکل ساکت ہو گئی۔فرزام کو یہ کچھ ٹھیک نہیں لگا اس نے مناہل کو چہرہ سر سے تھام کر اپنے سینے سے نکالا تو اسے پتہ چلا کہ مناہل سانس تک نہیں لے رہی تھی۔

“من سانس لو۔۔۔۔”

فرزام نے اسے حکم دیا جبکہ مناہل تو ایسا لگ رہا تھا کہ اسکی بات سن ہی نہیں رہی تھی۔فرزام اچانک ہی اسکے بہت قریب ہوا تو مناہل مزید سہم گئی۔

“سانس لو من ورنہ تمہیں اپنی سانسیں دے دوں گا اور یہ تم سے برداشت نہیں ہو گا۔۔۔۔”

فرزام کی دھمکی کار آمد ثابت ہوئی مناہل خود سے زبردستی کرتے ہوئے کھینچ کھینچ کر سانس لینے لگی۔فرزام مسکرایا اور اپنے ہونٹ نرمی سے اسکے ماتھے پر رکھ کر اس سے دور ہو گیا۔

“اف قسمت یار بیوی تو سائے سے بھی ڈرتی ہے اپنے لگتا ہے شادی شدہ ہو کر بھی کنوارہ ہی مروں گا۔۔۔”

فرزام نے آئنے کے سامنے جا کر اپنے بال سنوارتے ہوئے کہا اور مناہل نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔

“تم مجھ سے اتنا کیوں ڈرتی ہو من؟”

فرزام نے اسے آئینے میں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“میں سب سے ڈرتی ہوں۔۔۔”

مناہل نے عام سے انداز میں کہا جیسے یہ اس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہو۔

“آج کہ بات تم میرے ہوتے ہوئے کسی سے نہیں ڈرو گی اور مجھ سے تو بالکل نہیں۔۔۔”

مناہل نے حیرت سے اس عجیب سے شخص کو دیکھا جسے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔

“آپ مجھے نہ ڈرنے کا حکم کیسے دے سکتے ہیں؟”

اسکے سوال پر فرزام قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔

“تم نے اپنے شوہر کو جانا ہی کہاں ہے میرا جنون،میں وہ سب کر سکتا ہوں جو تم نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو۔۔۔”

مناہل اسکی معنی خیز بات پر کانپ کر رہ گئی۔اچانک ہی فرزام نے اپنی ٹی شرٹ اتار کر صوفے پر اچھال دی تو اسکے چوڑے سینے اور مظبوط باہوں کو دیکھ کر مناہل نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں اور دیوار کے ساتھ جا لگی۔

فرزام اسکی یہ حالت دیکھ کر مسکراتے ہوئے اسکے قریب آیا اور اپنا ایک ہاتھ اسکے سر کے ساتھ دیوار پر رکھا۔

“اپنی آنکھیں کھولو من۔۔۔”

مناہل نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔

“آنکھیں کھولو ورنہ تمہاری بند آنکھوں کا فائدہ اٹھا لیا تو پھر سے سانس لینا بھول جاؤ گی۔۔۔۔”

مناہل نے فوراً اپنی سہمی نم آنکھیں کھول دیں تو فرزام نے اسکا نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر اپنے مظبوط بازو پر رکھ دیا۔

“ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا من میری یہ طاقت تمہاری حفاظت کے لیے ہے کیونکہ میرے رب نے مرد کو طاقت ہی عورت کی حفاظت کے لیے دی ہے۔۔۔”

فرزام کی بات پر مناہل کی آنکھیں روانی سے بہنے لگیں۔

“پھر مرد ہی اس طاقت کو ہمارے خلاف استعمال کر کے ہمیں تکلیف کیوں دیتا ہے؟”

مناہل کے سوال پر فرزام نے اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ٹکا دیا۔

“”یقین جانو من ایسا مرد مرد کہلانے کے قابل ہی نہیں جو اپنی طاقت سے کمزور کو تکلیف دے۔۔۔”

مناہل نے اپنی پلکیں اٹھا کر فرزام کو دیکھا۔

“آپ وعدہ کرتے ہیں کہ مجھے کبھی تکلیف نہیں دیں گے؟”

مناہل کے سوال پر فرزام اس سے دور ہوا اور دراز میں سے ایک بلیڈ نکال کر اپنے ہاتھ پر کٹ لگا دیا۔یہ دیکھ کر مناہل کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔

“اپنے اس بہتے خون کی قسم کھا کر کہتا ہوں مناہل خانزادہ کہ فرزام خانزادہ اپنی آخری سانس تک اپنی طاقت کو صرف تمہاری حفاظت کے لیے استعمال کرے گا۔”

فرزام کے اس انداز پر مناہل حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔اچانک ہی فرزام نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے پھیلا دیا۔

“تم بھی وعدہ کرو من کہ مجھ پر بھروسہ کرو گی اور مجھ سے کبھی نہیں ڈرو گی۔۔۔”

مناہل کتنی ہی دیر فرزام کے ہاتھ کو دیکھتی رہی پھر اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔

“کوشش کروں گی۔۔۔”

فرزام کے دائیں گال پر ڈمپل نمایاں ہوا۔

“یہ بھی کافی ہے۔۔۔”

فرزام نے ٹشو سے اپنے اور مناہل کے ہاتھ سے خون صاف کیا اور وارڈ روب سے کپڑے نکالنے لگا تو ایک خیال کے تحت مناہل کی جانب مڑا۔

“تمہارے پاس کپڑے نہیں ہیں ناں؟”

مناہل نے بھی اپنے جسم پر موجود سرخ عروسی لباس کو دیکھا اور انکار میں سر ہلا دیا۔

“اوکے پھر ناشتے کے بعد شاپنگ پر چلتے ہیں۔۔۔”

مناہل نے سہم کر انکار میں سر ہلایا۔

“مجھے لوگوں میں جانے سے ڈر لگتا ہے۔۔۔”

فرزام نے مسکرا کر اسے دیکھا اور ایک تولیہ اپنے کندھوں پر ڈالا۔

“یہ سمجھو کہ تمہارے مجھ پر بھروسے کا پہلا امتحان ہے یہ۔۔۔”

فرزام اسکی قریب آیا اور اسے یوں شرٹ لیس دیکھ کر مناہل کتراتے ہوئے اس سے دور ہوئی۔

“اور یقین کرو مال میں جا کر تم سوچو گی کہ جتنا لڑکیاں تمہارے شوہر کو دیکھتی ہیں اپنی بجائے اس کے لیے برقع لینا پڑے گا۔۔۔”

فرزام نے اسکی ناک دبا کر شرارت سے کہا اور واش روم میں چلا گیا جبکہ مناہل اپنی جگہ پر کھڑی یہ سوچتی رہ گئی تھی کہ آخر وہ کیسے کسی مرد پر بھروسہ کر سکتی تھی؟فیض نے تو اسے اس قابل ہی نہیں چھوڑا تھا لیکن وہ ابھی نکاح کے دو بول کی طاقت سے واقف نہیں تھی۔
💞💞💞💞
فیض کی تدفین کے بعد الطاف اپنے کمرے میں آیا۔فرزام خانزادہ ایک ہی پل میں اس کی بہن کی دنیا اُجاڑنے کے ساتھ ساتھ الطاف کی آدھی طاقت کم کر چکا تھا۔اگر الطاف کا بس چلتا تو وہ فرزام کو ایک ہی دن میں مروا دیتا لیکن مناہل اب فرزام کی بیوی تھی اور الطاف کو کسی بھی طرح اپنے پلین کے پورے ہونے کا انتظار کرنا تھا کیونکہ اسے خانزادہ خاندان کی دولت چاہیے تھی اور اسے اس کے لیے ابھی انتظار کرنا تھا۔

اچانک ہی کمرے کا دروازا کھلا اور شیزہ روتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔

“بھائی میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔۔۔آپ پولیس کو فون کریں۔۔۔۔مجھے اس شخص کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا ہے ۔۔۔۔”

الطاف نے اپنی بہن کی جلد بازی پر گہرا سانس لیا۔

“تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم اسے جیل میں ڈلوا دو گی اور وہ وہیں پر رہے گا؟بہرام خانزادہ کا بھائی ہے وہ ایک گھنٹے کے لئے بھی بہرام اسے جیل میں نہیں رہنے دے گا۔”

الطاف کی بات پر شیزہ روتے ہوئے اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔۔

“تو مجھے بتائیں بھائی میں کیا کروں اتنی بے رحمی سے اس نے ہماری آنکھوں کے سامنے میرے شوہر کو مار دیا۔۔۔وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے سے نہیں جا رہا۔۔۔میں کیا کروں بھائی میں کیا کروں۔۔۔۔؟”

الطاف نے اپنی روتی ہوئی بہن کے سر پر ہاتھ رکھا۔

“صبر کرو شیزہ۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں ایک دن اسے اس کی اتنی بڑی سزا دوں گا کہ بیگ خاندان کی طرف آنکھ اٹھانے والے کی روح خوف سے کانپ جائے گی لیکن ابھی تمہیں صبر کرنا ہوگا۔۔۔۔”

شیزہ نے بے بسی سے ہاں میں سر ہلایا اور خاموشی سے آنسو بہانے لگی جب کہ اسے یوں روتے دیکھ الطاف نے خانزادہ بھائیوں کو تباہ و برباد کرنے کی قسم کھائی تھی۔

تم دونوں اس دن کو کوسو گے جس دن تم الطاف بیگ سے بھڑنے کا سوچا۔۔۔۔

الطاف نے اپنے ذہن میں سوچا اور ایک مکروہ مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی۔اس نے بہرام اور فرزام کو برباد کرنے کی قسم کھالی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کے خلاف کچھ کرنا اتنا آسان بھی نہیں تھا۔الطاف کو بس کوئی ایسا ذریعہ ڈھونڈنا تھا جس کے وار سے وہ بچ نہ سکتے اور وہ اس زریعے کو جلد از جلد ڈھونڈنا چاہتا تھا۔