📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 20)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 20)

Kaif E Junoon By Harram Shah

حبہ تقریباً آدھے گھنٹے سے اس کیفے میں بیٹھی انتظار کر رہی تھی اور اب تو اسے لگنے لگا تھا کہ مناہل نہیں آئے گی لیکن تبھی داخلی دروازے سے اسے چادر میں لپٹی مناہل گھبراہٹ کے مارے یہاں وہاں جھانکتے نظر آئی۔

حبہ نے اسے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا اور اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا تو اسے دیکھتے ہی مناہل اسکے پاس آئی۔

“کیسی ہو مناہل؟”

حبہ نے اٹھ کر اسے گلے لگاتے ہوئے پوچھا۔

“میں ٹھیک ہوں آپی۔۔۔”

مناہل نے گھبراتے ہوئے کہا اور پھر خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی۔حبہ کو وہ کافی گھبرائی سی لگ رہی تھی۔

“تم نے یہاں آنے کے بارے میں کسی کو بتایا تو نہیں ناں؟”

مناہل نے کچھ سوچ کر انکار میں سر ہلایا تو حبہ تھوڑا پر سکون ہوئی۔

“آپ نے کیوں بلایا مجھے؟”

مناہل کے سوال پر حبہ کچھ دیر کے لیے خاموش رہی پھر گہرا سانس لے کر بولی۔

“اس لیے کہ میں تمہیں یہ بتا سکوں کہ بہرام خانزادہ کو زہر کس نے دلوایا ہے اور تو اور اسی نے تمہارے ماں باپ کا ایکسیڈنٹ بھی کروایا تھا۔”

مناہل نے حیرت سے حبہ کی جانب دیکھا۔دل خوف کے باعث اور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔یعنی اسکے ماں باپ کی موت حادثہ نہیں تھی انہیں مناہل سے چھینا گیا تھا۔

“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ آپی۔۔۔۔”

حبہ نے اپنا ہاتھ مناہل کے ہاتھوں پر رکھا جو ایسا لگ رہا تھا ابھی بے ہوش ہو جائے گی۔

“دیکھو مناہل میں جانتی ہوں جو بات میں تمہیں بتانے والی ہوں شائید تمہیں اس پر یقین نہ ہو۔اپنے کانوں سے سننے کے بعد بھی مجھے یقین نہیں ہوا تھا لیکن پھر میں نے جانچ کی تو پتہ چلا کہ سچ تو میری سوچ سے زیادہ وحشت ناک ہے۔”

مناہل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“مناہل یہ سب کرنے والا کوئی اور نہیں میرے بابا ہیں۔۔۔۔”

یہ بات کہتے ہوئے دو آنسو حبہ کی آنکھوں پر ٹھہر گئے جبکہ مناہل تو بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“بابا نے ہی چچا اور چچی کا ایکسیڈینٹ کروایا تھا تا کہ وہ انکی پراپرٹی پر قبضہ کر سکیں اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔۔۔۔”

حبہ ایک پل کو رکی اور بے دردی سے اپنے آنسو پونچھے جب کہ اتنا بڑا سچ جان کر مناہل ایک بار پھر سے بری طرح سے بکھری تھی ۔

“انہوں نے تمہاری شادی خانزادہ خاندان میں اس لیے کی تا کہ وہ بہرام اور فرزام کو مروا دیں پھر ساری جائیداد تمہاری ہو جائے اور پھر وہ اس جائیداد کو تم سے چھین لیں۔۔۔۔”

مناہل کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔

“یقین نہیں آ رہا ناں جس انسان کو ساری زندگی جانا پل بھر میں وہ شیطان سے بدتر بن گیا۔۔۔۔۔”

حبہ کی مٹھیاں بھینچی ہوئی تھیں۔

“ت۔۔۔تایا ابو ایسے ہو سکتے ہیں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا حبہ آپی۔۔۔۔”

حبہ نے لاچارگی سے مناہل کو دیکھا۔

“میں نے بھی۔۔۔۔”

حبہ نے اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں پر رکھے۔

“مناہل میں چاہتی ہوں تم اپنے شوہر اور بہرام کو یہ سب باتیں بتا دو تا کہ وہ محتاط ہو جائیں لیکن ۔۔۔۔”

“میم آپ کا ارڈر؟”

ایک ویٹر کی آواز پر حبہ کا دھیان مناہل سے ہٹ کر ویٹر پر گیا۔

“دو کیپچینو۔۔۔”

ویٹر وہاں سے چلا گیا تو حبہ کی نظر سامنے موجود ٹیبل پر گئی پہلے تو اس نے بس ایک جھلک وہاں بیٹھے آدمی کو دیکھا لیکن پھر دوبارہ اس پر نظر آئی تو غصے سے مناہل کو دیکھنے لگی۔

“تم نے کہا تھا کہ تم نے اس ملاقات کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔۔۔۔”

مناہل گھبرا کر پیچھے مڑی اور ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھے فرزام کو دیکھا۔

“سس۔۔۔۔سوری آپی میں ان سے جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔۔۔۔”

حبہ کو باقاعدہ اپنے دانت کچکچاتا دیکھ فرزام اپنی جگہ سے اٹھ کر ان دونوں کے پاس آیا اور ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔

“کیوں بلایا تم نے میری بیوی کو یہاں؟”

فرزام کی جانچتی آنکھوں میں شک تھا جیسے کہ وہ حبہ پر بھروسہ نہ کرتا ہو۔

“میں مناہل کو جو بتانا چاہتی تھی بتا چکی ہوں آپ اس سے پوچھ لینا۔۔۔”

حبہ غصے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تو فوراً فرزام نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔حبہ کے ساتھ ساتھ مناہل نے بھی حیرت سے فرزام کی جانب دیکھا۔مناہل کا دل کر رہا تھا کہ فرزام کا ہاتھ کھینچ کر حبہ کے ہاتھ سے دور کر دے۔

“بیٹھو اور بتاؤ مجھے۔۔۔”

فرزام کی آواز میں چھپی وارننگ محسوس کر کے حبہ نے گہرا سانس لیا اور ان کے پاس بیٹھ کر ہر بات فرزام کو بتا دی جسے سن کر فرزام اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔

“دیکھیں مسٹر فرزام میں نہیں چاہتی تھی کہ اس سب میں میرا نام آئے اسی لیے میں نے مناہل کو ہر بات بتانا چاہتی تھی تا کہ وہ میرا نام لیے بغیر سب آپ کو بتا دے۔۔۔۔”

فرزام نے حبہ کو گہری نگاہوں سے دیکھا۔

“تم ایسا کیوں کر رہی ہو؟اپنے ہی باپ کے خلاف کیوں جا رہی ہو؟”

فرزام کے سوال پر حبہ کے چہرے پر افسردگی آئی اور وہ دوسری جانب دیکھنے لگی۔

“کیونکہ مجھ میں انسانیت باقی ہے لیکن وہ اپنی انسانیت کھو چکے ہیں۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر حبہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

“میرا کام بس آپ کو آگاہ کرنا تھا تا کہ آپ محتاط رہیں باقی آپ کو جو کرنا ہے کریں۔۔۔”

اب کی بار حبہ دروازے کے پاس پہنچی تو فرزام بھی اٹھ کر اسکے پیچھے آ گیا۔

“سنو۔۔۔ “

حبہ نے مڑ کر فرزام کو دیکھا۔

“میں تم پر بھروسہ کیوں کروں تم اپنے باپ کی کسی سازش میں اسکا ساتھ بھی تو دے رہی ہو سکتی ہو۔۔۔۔”

اس بات پر حبہ نے بھی غصے سے فرزام کو دیکھا۔

“لگتا ہے عقل کی کافی کمی ہے آپ میں مسٹر فرزام اگر میرا ارادہ آپ کو پھنسانے کا ہوتا تو آپ کو کچھ کرنے کا مشورہ دیتی نہ کہ سچائی بتا کر چلی جاتی اگر آپ کو مجھ پر نہیں یقین تو یہ آپ کا مسلہ ہے میں اپنا فرض پورا کر چکی ہوں۔۔۔”

فرزام اسکے انداز پر مسکرا دیا آخر حبہ کی رگوں میں بھی تو وہی خون تھا جو فرزام کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔

“ایک راز ہے جس سے تم بھی واقف نہیں۔۔۔۔”

حبہ نے حیرت سے فرزام کی جانب دیکھا۔

“کیسا راز؟”

فرزام نے اسکے پاس جا کر اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔جبکہ اپنی کرسی پر بیٹھ مناہل نے چبھتی نگاہوں سے وہ منظر دیکھا۔آنکھوں سے آنسو اب روانی سے بہنے لگے تھے۔

“میرے ساتھ گھر چلو میں اور بہرام مل کر تمہیں ہر بات بتا دیں گے۔۔۔۔”

حبہ کی حیرت میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔

“لیکن مجھے واپس جانا ہے اگر بابا کو پتہ چلا کہ میں یہاں آئی ہوں تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔”

فرزام کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔

“یہاں بھی تو کوئی جھوٹ بول کر ہی آئی ہو ناں مزید جھوٹ بول لینا لیکن ابھی میرے ساتھ چلو۔۔۔”

حبہ نے ایک نظر مناہل کو دیکھا پھر سوچ کر ہاں میں سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے میں ان سے جھوٹ بول دوں گی کہ میں اپنی دوست کے گھر رکی ہوں لیکن مجھے صبح ہر حال میں واپس جانا ہوگا۔۔۔”

فرزام نے ہاں میں سر ہلایا۔

“تم گاڑی کے پاس ویٹ کرو میں من کو لے کر آتا ہوں۔

اتنا کہہ کر فرزام مناہل کے پاس آ کر اسکا ہاتھ تھاما تو مناہل نے فوراً اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔

“ممم۔۔۔۔میں چلی جاؤں گی۔۔۔”

فرزام نے حیرت سے مناہل کی بے رخی کو دیکھا۔وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ مناہل کو اچانک کیا ہوا۔حالانکہ کل رات اس نے خود فرزام کو حبہ کے فون کے بارے میں بتایا تھا تو اب ایسا کیا ہوا کہ وہ فرزام سے خفا لگ رہی تھی۔

فرزام اسکی بے رخی کے بارے میں سوچتا اسکے پیچھے چلنے لگا لیکن شائید وہ بھول چکا تھا کہ اسکی من کس قدر حساس ہے وہ اسکے کسی لڑکی سے مسکرا کر بات کرنے پر دکھی ہو جاتی تھی تو آج تو فرزام نے اسکے سامنے کسی اور کو یوں حق سے چھوا تھا تو اسکے دل پر اس وقت کتنی بجلیاں گر رہی تھیں یہ صرف مناہل ہی جانتی تھی۔
💞💞💞💞
“یا اللہ آپ رحمن ہیں،رحیم ہیں،اپنے بندے سے بے تحاشا محبت کرنے والے ہیں۔اپنی اس محبت کے صدقے مجھے بخش دے میرے مولا۔۔۔ جانتی ہوں میں نے جو گناہ کیا اس کی کوئی معافی نہیں لیکن تجھے تیرے رحمن ہونے کا واسطہ مجھے بخش دے میرے رب۔۔۔بخش دے۔۔۔۔”

سکینہ دروازے میں کھڑی چاہت کو دیکھ رہی تھیں جو جائے نماز پر بیٹھی رو رو کر دعائیں مانگ رہی تھی۔انہیں یاد تھا کہ وہ چاہت کو بہت مشکل سے فجر کے لیے اٹھاتی تھیں پھر بھی چاہت کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے سو جاتی لیکن اب وہ خود ہی تہجد کے لیے اٹھ جاتی تھی اور پھر دعا مانگتے ہوئے کمرے میں اسکی سسکیاں سنائی دیتیں۔

یہی تو اللہ تعالیٰ سے انسان کے تعلق کی خوبصورتی ہے کہ انسان جتنا بھی اپنے رب سے غافل ہونے کی کوشش کر لے مصیبت میں اللہ کے سوا اس کا کوئی سہارا نہیں ہوتا۔اللہ کے سوا نہ تو کوئی اسکی پریشانی مٹا سکتا ہے اور نہ ہی سکون دے سکتا ہے۔

یہ بھی تو اس عظیم ہستی کی شان ہے کہ وہ اپنے غافل بندوں سے منہ نہیں پھیرتا بلکہ انکے گڑگڑا کر مانگنے پر انکا ہر گناہ بھلا کر انہیں اپنی رحمت کے سائے میں چھپا لیتا ہے۔

سکینہ نم آنکھوں سے چاہت کو دیکھتے ہوئے اسکے پاس آئیں اور اپنا ہاتھ اسکے سر پر رکھا۔چاہت نے اپنا ہاتھ چہرے پر پھیرا اور نم آنکھوں سے سکینہ کی جانب دیکھا۔

“اماں اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دیں گے ناں؟”

سکینہ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا اور پیار سے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔

“لیکن خان جی معاف نہیں کریں گے اماں کبھی معاف نہیں کریں گے۔۔۔۔”

چاہت نے کرب کی انتہا سے کہا۔کئی آنسو لڑیوں کی طرح چہرے پر بہنے لگے۔سکینہ نے بے بسی سے اپنی بیٹی کو دیکھا کیونکہ اس بات کا ان کے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا۔

“تمہیں پتا ہے چاہت دل سے مانگی ہوئی دعا اللہ تعالیٰ ضرور قبول کرتے ہیں پھر چاہے وہ نصیب بدلنے کی دعا ہو یا کسی کا دل۔دلوں میں محبت اور رحم ڈالنے والی وہ ذات ہے۔اس کے بس میں کیا نہیں ہے مانگ کر تو دیکھو وہ ہر وقت عطا کرنے کو تیار ہے۔۔۔۔۔”

چاہت نے آنکھیں موند لیں۔

“وہ مجھے معاف کر بھی دیں تو بھی میں ان کے قابل نہیں،ان کی محبت کے قابل نہیں بس نفرت کے قابل ہوں میں بالکل اپنے باپ کی طرح۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر چاہت نے جائے نماز طے کیا اور کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ سکینہ بے بسی سے وہاں کھڑی رہ گئیں۔

“یا اللہ میرے بیٹی کی خطاؤں کو معاف فرما کر اس کے مقدر میں خوشیاں لکھ دینا بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔”

سکینہ نے نم آنکھوں سے دعا کی اور ماں کی دعا بھی بھلا کبھی رد ہوئی تھی؟
💞💞💞💞
بہرام اکیلا کمرے میں بیٹھا تھا۔نظریں سامنے دیوار پر تھیں اور سوچوں کا مرکز بس اسکی چاہت تھی۔اسکی وہ معصومیت،اسکی نادانیاں یاد کر کے بہرام کا دل بری طرح سے بغاوت پر اترا ہوا تھا جو اسے اسی وقت چاہت کو اپنے پاس لانے کا کہہ رہا تھا لیکن بہرام ایسا کیسے کر سکتا تھا وہ تو بہرام سے اتنی نفرت کرتی تھی کہ اسکی جان لینا چاہتی تھی۔

“بہرام۔۔۔”

فرزام کی آواز پر بہرام نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔

“مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے۔۔۔۔۔”

فرزام بہرام کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور اسے ہر وہ بات بتا دی جو حبہ نے اسے بتائی تھی۔یعنی چاہت نے اتنا بڑا قدم اس لیے اٹھایا تھا کہ الطاف نے اسکے ذہن میں زہر گھولا تھا۔۔۔لیکن کیا پتہ وہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہو اور اپنے باپ کی کسی سازش میں اس کا حصہ ہو۔

“تم اس پر یقین کر سکتے ہو؟”

بہرام کے سوال پر فرزام گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر کچھ دیر کے بعد بولا۔

“کر سکتا ہوں۔۔۔۔”

بہرام نے اثبات میں سر ہلایا لیکن کچھ بولا نہیں۔

“بہرام میں چاہتا ہوں اسے ہر بات سچ بتا دیں تا کہ اسے خبر ہو کہ ہم اسکے بھائی ہیں۔”

بہرام نے مردہ آنکھوں سے فرزام کو دیکھا۔

“اور اگر یہ اسکی کوئی سازش ہوئی تو۔۔۔”

“اگر یہ اسکی کوئی سازش ہے تو الطاف ضرور یہ سوچ رہا ہو گا کہ ہم اسکی بیٹی پر اعتماد نہیں کریں گے کیونکہ وہ ہمیں جانتا ہے لیکن ہم اس پر یقین کر کے اسی کے منصوبے کو الٹا گھما دیں گے۔۔۔”

بہرام نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے وہ کرو جو تمہارا دل کرے۔۔۔”

فرزام نے زرا غصے سے بہرام کو دیکھا۔اج کل وہ ایسا ہی ہو گیا تھا۔اسے کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا تھا یہاں تک کہ اتنی محنت سے آسمان کی بلندیوں تک لے جانے والے بزنس سے بھی۔

“میں اسے یہیں بلا رہا ہوں۔۔۔”

فرزام نے ایک ملازم کو آواز دی اور اسے حبہ کو بلانے کا کہا۔کچھ دیر کے بعد ہی حبہ ملازم کے ساتھ اس کمرے میں آئی۔

“اسلام و علیکم۔۔۔”

حبہ نے بہرام کو کہا جس نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا۔فرزام کے اشارہ کرنے پر حبہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔

“آپ کے ساتھ جو بھی ہوا مسٹر بہرام میں اس کے لیے بہت شرمندہ ہوں۔”

حبہ کی بات کا بہرام نے کوئی جواب نہیں دیا تو حبہ پریشانی سے فرزام کو دیکھنے لگی۔

“ایک راز تم نے ہمیں بتایا حبہ اور ایک راز ہم تمہیں بتانا چاہتے ہیں۔ہو سکتا ہے تم بھی ہماری طرح میری باتوں یقین نہ کرو لیکن جو میں تمہیں بتاؤں گا وہ سب سچ ہے۔۔۔۔”

فرزام نے بات شروع کی اور ایک نظر بہرام کو دیکھ کر وردہ اور الطاف کے نکاح سے لے کر اس کے دھوکے تک ہر بات حبہ کو بتا دی جس کے بعد حبہ ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

“ااا۔۔۔۔۔اس کا مطلب آپ دونوں میرے بھائی ہیں؟”

حبہ نے نم آنکھوں سے دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“ہاں حبہ دنیا کہ لیے ہم سلیمان خانزادہ کی اولاد ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ہماری رگوں میں الطاف بیگ کا خون دوڑ رہا ہے۔۔۔۔”

حبہ اب اپنا سر ہاتھوں میں تھام چکی تھی۔

“ہم الطاف بیگ کا خون ضرور ہوں گے لیکن اولاد ہم سلیمان خانزادہ کی ہی ہیں۔اگر میرے بس میں ہوتا تو اپنی رگوں میں دوڑتا یہ زہریلا خون بہا کر خود کو ختم کر دیتا۔”

بہرام کی بات پر فرزام پریشان ہو گیا۔اسکا بھائی جو پہلے سے ہی سنجیدہ تھا اب زندگی سے مکمل طور پر نفرت کرنے لگا تھا۔

“کیسی بات ہے ناں۔۔۔۔”

حبہ نے نم آنکھوں کے ساتھ ان بھائیوں کو دیکھا۔

“بابا نے کبھی مجھ سے پیار نہیں کیا کیونکہ وہ ایک بیٹا چاہتے تھے جو ان کا وارث بن کر انکی دولت سنبھال سکے لیکن بہت کوشش کے باوجود خدا نے میرے بعد انہیں کوئی اولاد نہیں دی۔۔۔۔”

حبہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔

“اور جو بیٹے اس دنیا میں ہیں وہ ان کی ہی جان لینا چاہتے ہیں تا کہ ان کی دولت حاصل کر سکیں۔۔۔۔”

حبہ اب باقاعدہ اپنی مٹھیاں بھینچ چکی تھی۔

“دولت کی حرص کیا سے کیا بنا دیتی ہے انسان کو۔۔۔۔”

حبہ نے نفرت سے کہا جبکہ آنکھیں روانی سے بہنے لگی تھیں یہ دیکھ کر فرزام اسکے پاس آیا اور اپنا بازو اسکے گرد لپیٹ کر اسکا سر اپنے سینے پر رکھ لیا۔

“تم فکر مت کرو حبہ۔ہم دونوں تمہارا سہارا ہیں۔تم چاہو تو ہمارے پاس آ کر رہ سکتی ہو کوشش کریں گے کہ بھائی ہونے کا ہر فرض پورا کریں۔۔۔”

حبہ نے مسکرا کر محبت سے ایک نظر فرزام اور بہرام کو دیکھا۔کتنا پیارا رشتہ تھا ناں یہ پل بھر میں اسے اپنا آپ محفوظ لگنے لگا تھا۔

“شکریہ فرزام۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔”

حبہ کے ایسا کہنے پر فرزام نے اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھ دیے اور تبھی بہرام کے لیے سوپ لاتی مناہل نے یہ منظر دیکھا تو اسکے قدم زمین میں ہی جم گئے۔آنکھوں سے آنسو بہہ کر زمین بوس ہو گئے اور ہاتھ میں پکڑی ٹرے خود بخود اسکے ہاتھوں سے چھوٹ کر گر گئی۔

کچھ ٹوٹنے کی آواز پر سب نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں مناہل مردہ آنکھوں سے فرزام کو دیکھ رہی تھی۔

“من۔۔۔”

فرزام کے پکارنے پر مناہل نے واپس مڑنا چاہا تو اسکا پاؤں ٹوٹے ہوئے کانچ کے بول سے ٹکرایا اور زخمی ہو گیا یہ دیکھ کر فرزام فوراً اسکے پاس آیا اور نیچے بیٹھ کر پریشانی سے اسکے پاؤں سے نکلتا خون دیکھنے لگا۔

“یہ کیا کر دیا تم نے من؟”

فرزام جو اسکے زخم کی بات کر رہا تھا مناہل کو لگا کہ ان ٹوٹے برتنوں کے بارے میں کہہ رہا ہے اسی لیے سوری بول کر وہ کانچ کے ٹکڑے ہاتھ سے اٹھانے لگی۔

“چھوڑو اسے ملازمہ صاف کر دے گی پہلے جو پاؤں پر چوٹ لگی ہے اس سے خوش نہیں ہو کیا۔”

فرزام نے اسکے ہاتھ کانچ کا ٹکڑا لے کر واپس فرش پر رکھا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھا کر وہاں سے چلا گیا۔فرزام کی یہ محبت دیکھ کر حبہ مسکرا دی۔

“شکر ہے مناہل کا کوئی سہارا بنا ورنہ وہاں تو ہر دوسرا شخص اس معصوم کا دشمن بنا بیٹھا تھا۔”

حبہ نے بہرام کو بتایا جو اسے تیکھی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

“آپ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے ناں۔۔۔۔”

حبہ کے پوچھنے پر بہرام نے انکار میں سر ہلایا۔جانے کیوں یہ جواب جان کر حبہ کو افسوس ہوا۔

“آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی بھروسہ نہیں کرتا۔جو کچھ میرے بابا نے آپ دونوں کے ساتھ کیا اس کے بعد آپ دونوں کی مجھ سے نفرت جائز ہے۔۔۔۔۔”

حبہ نے شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے کہا۔بہرام اکثر ہی جھوٹ بولنے والے انسان کو سمجھ جاتا تھا لیکن حبہ کے چہرے پر وہ افسوس اور شرمندگی کوئی دیکھاوا نہیں تھا۔

“کیا مجھے زہر تمہارے باپ نے دلوایا؟”

بہرام کے اچانک سوال پر پہلے تو حبہ چوک گئی پھر اس نے ہاں میں سر ہلایا۔

“میں نے انہیں کسی سے بات کرتے سنا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ایک لڑکی نے ان کی بات مان کر آپ کو زہر دیا۔۔۔۔”

بہرام کی آنکھوں میں خون اتر چکا تھا۔

“وہ لڑکی میری بیوی ہے۔۔۔”

اس بات پر حبہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ بہرام کو کیا کہے۔

“مجھے اکیلا چھوڑ دو اس وقت۔۔۔ “

بہرام کے ایسا کہنے پر حبہ وہاں سے چلی گئی اور بہرام کرب سے اپنی آنکھیں موندتا چاہت کی بیوفائی یاد کرنے لگا۔اتنا تو وہ سمجھ چکا تھا کہ الطاف نے اس کے ذہن میں بہت زیادہ زہر گھولا ہوگا جس نے چاہت کی محبت کو ختم کر دیا لیکن پھر بھی بہرام کا دل مطمئن نہیں ہوا۔چاہت کا اس پر بھروسہ نہ کرنا بہرام کے لیے سب سے زیادہ کربناک تھا۔
💞💞💞💞
فرزام مناہل کو اپنے کمرے میں لے کر آیا اور اسے بیڈ پر بیٹھا کر الماری سے فرسٹ ایڈ باکس لینے چلا گیا۔مناہل مردہ آنکھوں سے اسکی ہر حرکت کو دیکھ رہی تھی۔فرزام نے پایوڈین کاٹن پر لگا کر اسکے زخم پر رکھی اور نرمی سے وہ زخم صاف کرنے لگا۔

“نہ جانے دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا۔۔۔۔؟”

فرزام نے اسکے زخم پر ایک پھونک ماری اور پھر نظریں اٹھا کر مناہل کو دیکھنے لگا۔

“کیا ہوا من؟”

مناہل کی آنکھوں سے کئی آنسو بہہ نکلے۔

“آپ مجھ سے اکتا گئے ہیں ناں فرزام اب میں آپ کو اپنے قابل نہیں لگ رہی۔۔۔”

فرزام نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“یہ کیا کہہ رہی ہو من؟”

“وہی جو سچ ہے اسی لیے تو آپ حبہ آپی کو و ۔۔۔۔ویسے حق سے چھو رہے تھے کیا وہ آپ کو اچھی لگنے لگیں ہیں؟”

مناہل کے سوال پر فرزام کا پارہ ہائی ہو گیا۔

“پاگل ہو گئی ہو کیا من جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہو۔۔۔؟”

فرزام کے اس قدر غصے سے چلانے پر مناہل سہم کر اسے دیکھنے لگی۔

“میں نے اس رات اپنی زندگی کی ہر سچائی تمہیں بتائی تھی پھر بھی تم یہ بے تکا سوال کیسے کر سکتی ہو؟الطاف بیگ میرا باپ ہے من اور حبہ کا بھی اس لحاظ سے وہ میری بہن لگتی ہے اور تم ہو کہ۔۔۔۔”

فرزام کی بات پر مناہل کا دل کیا کہ شرم سے ڈوب مرے آخر اس نے تب یہ کیوں نہیں سوچا کہ اس رات فرزام نے اسے وردہ اور الطاف کے نکاح کی ہر بات بتائی تھی اور اس لحاظ سے وہ دونوں حبہ کے بھائی ہوئے۔

مناہل کے احساس کمتری کے احساس نے اسکی عقل کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا جو وہ اتنی عام سی بات سوچ نہیں سکی۔

“ففف۔۔۔۔فرزام۔۔۔۔”

“کتنی بار میں نے تمہیں بتایا ہے من کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں جو تمہارے ساتھ ہوا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ تمہارا قصور نہیں تھا۔”

مناہل اب اپنا سر شرمندگی سے جھکا کر رونے لگی تھی۔

“اپنے ہر عمل سے تمہیں یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ تم میرے لیے کس قدر قیمتی ہو لیکن تمہیں ابھی بھی نا تو مجھ پر یقین ہوا اور نہ ہی میری محبت پر۔۔۔۔”

مناہل اب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اپنے ہاتھ فرزام کے سامنے جوڑ دیے۔

“آئی ایم سوری فرزام میں ۔۔۔۔”

“نہیں من اب بہت ہو گیا۔۔۔۔میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔۔”

مناہل نے سہم کر فرزام کو دیکھا۔

“مجھے لگا تھا کہ تم چاہت جیسی نہیں ہو۔مجھ پر بھروسہ کرتی ہو لیکن آج تم نے مجھے غلط ثابت کر دیا۔۔۔”

فرزام اتنا کہہ کر اس کے پاس سے اٹھا تو مناہل نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“شاید میری محبت میں ہی کوئی کمی ہوگی جو تمہیں خود پر یقین نہیں کروا پایا۔۔۔۔”

فرزام نے اپنا ہاتھ اسکے نازک ہاتھ سے چھڑوا لیا۔

“لیکن اب تب ہی تمہارے سامنے آؤں گا جب اس کمتری احساس کو ختم کرکے تم میری من کو تلاش کر لو گی وہ من جو مجھ پر بھروسہ کرتی ہے۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر فرزام کمرے سے چلا گیا اور مناہل بس اسے آواز دیتی رہ گئی لیکن وہ رکا نہیں۔مناہل کا دل کیا کہ اپنی جان لے لے آخر وہ اتنی بڑی بیوقوفی کیسے کر گئی۔یہی تو ہوتا ہے جب انسان جذبات کو خود پر حاوی ہونے دیتا ہے۔وہ جذبات اس کی عقل کو زائل کر دیتے ہیں۔
💞💞💞💞
الطاف اپنے کمرے میں آیا اور انجم بیگم کو دیکھا جو شیشے کے سامنے تیار کھڑی پریشانی سے کسی کو فون کر رہی تھیں۔

“ہیلو حبہ کہاں ہو تم؟”

انجم بیگم کی پریشان آواز کمرے میں گونجی۔

“کیا مطلب دوست کے گھر ہو تمہیں واپس آ جانا چاہیے تھا ناں۔۔۔۔”

الطاف نے اپنے دانت کچکچا کر انہیں دیکھا۔

“اچھا کوئی بات نہیں وہ بیمار ہے تو اس کے پاس ہی رک جاؤ لیکن صبح ہوتے ہی واپس آ جانا۔۔۔۔”

انجم بیگم نے اللہ حافظ کہہ کر فون بند کر دیا اور پیچھے مڑیں تو وہاں الطاف کو دیکھ کر مزید گھبرا گئیں۔

“الطاف وہ حبہ کی دوست بیمار ہے تو وہ اسکے پاس ہی رک گئی۔۔۔۔”

الطاف نے غصے سے انہیں دیکھا۔

“مجھے فرق نہیں پڑتا۔جو دل میں آتا ہے کرتے پھرو تم ماں بیٹی۔۔۔۔”

الطاف اتنا کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔اج کل اسکا رویہ سب سے مزید روکھا ہو چکا تھا کیونکہ اسکا بہرام کو مارنے کا پلین بری طرح سے فیل ہو گیا تھا۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ دونوں بھائی کون سی قسمت لے کر پیدا ہوئے تھے جو ہمیشہ اس کے وار سے بچ جاتے۔

الطاف گاڑی میں بیٹھا انجم بیگم کا انتظار کرنے لگا اور کچھ ہی دیر میں انجم بیگم آکر اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔

“اور دیر لگا دیتی تا کہ بزنس پارٹی پر دیر سے پہنچنے کی وجہ سے خوب بے عزتی ہو جانتی میری۔۔۔”

“الطاف۔۔۔۔”

انجم بیگم نے پریشانی سے اسے دیکھا تو وہ غصے سے ڈرائیو کرنے لگا۔

“کیا ہو گیا ہے الطاف آج کل آپ کو اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کیوں آتا ہے؟”

“چھوٹی چھوٹی باتیں؟تم ہو جسے اپنے تیار ہونے سے فرصت نہیں۔۔۔۔نا تو میری کوئی فکر ہے اور نہ ہی بیٹی کی۔۔۔۔اور بیٹی صاحبہ جہاں دل کرتا ہے وہاں آوارہ گردی کرتی پھر رہی ہے دیکھا بہت جلد ہماری عزت پامال کر دے گی یہ لڑکی۔۔۔۔”

الطاف کی اس قدر سختی پر انجم بیگ نے حیرت سے انہیں دیکھا۔

“الطاف آپ ۔۔۔۔”

“ابھی میرا دماغ خراب مت کرو انجم میں پہلے ہی۔۔۔”

اچانک ہی الطاف نے انجم سے دھیان ہٹا کر سڑک کو دیکھا تو خوف سے اسکی روح فنا ہو گئی کیونکہ سامنے سے آتا تیز رفتار ٹرک اب انکے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔

“الطاف۔۔۔۔”

انجم بیگم کی چیخ گاڑی میں گونجی لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔چاہ کر بھی الطاف اس گاڑی کو کنٹرول نہیں کر پایا اور وہ گاڑی بری طرح سے اس ٹرک سے ٹکرا گئی۔
💞💞💞💞