Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 21)
Kaif E Junoon (Episode 21)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
مناہل فرزام کے جانے کے بعد سے بیڈ پر لیٹی روتی چلی جا رہی تھی۔اپنی بیوقوفی پر ماتم کرنے کے سوا اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔اسے فرزام پر،اسکی محبت ہر بھروسہ کرنے چاہیے تھا اور وہ۔۔۔۔
اپنی کہی بات یاد کرکے مناہل مزید رونے لگی۔اچانک ہی دروازہ کھٹکنے کی آواز پر مناہل نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے اور دروازے کی جانب دیکھا۔
اگر فرزام ہوتا تو وہ دروازہ ناک نہیں کرتا لیکن اس کے علاوہ اور کون ہو سکتا تھا۔
“کک۔۔۔کون۔۔۔؟”
مناہل نے سہم کر پوچھا۔
“میں ہوں مناہل۔۔۔”
حبہ کی آواز پر مناہل نے سکون کا سانس لیا اور دروازے کے پاس آ کر دروازہ کھول دیا لیکن حبہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔
“حبہ آپی کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہیں؟”
مناہل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
“مناہل فرزام بھائی کہاں ہے۔۔؟”
“وہ تو۔۔۔۔”
مناہل زرا سا ہچکچائی۔اب وہ حبہ کو کیا بتاتی کہ فرزام کو اپنی بیوقوفی سے ناراض کر بیٹھی تھی۔
“آپ مجھے بتائیں تو سہی کیا ہوا ہے۔۔۔۔”
حبہ نے اپنے آنسو پونچھے اور مناہل کی جانب دیکھا۔
“ماما اور بابا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے مناہل۔۔۔۔ممم۔۔۔۔مجھے ابھی لاہور جانا ہے۔۔۔۔۔”
یہ بات سن کر مناہل بھی گھبرا گئی اس سے پہلے کے وہ حبہ کو کچھ کہتی پیچھے سے آتے فرزام نے ان دونوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“فرزام۔۔۔۔تایا ابو اور تائی امی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔۔”
مناہل نے روتے ہوئے کہا دل خوف سے بند ہو رہا تھا۔فرزام نے ایک نظر اسکے آنسوؤں کو دیکھا اور اپنا ہاتھ حبہ کے کندھے پر رکھا۔
“تم پریشان مت ہو ہم ابھی لاہور کے لیے نکلتے ہیں۔۔۔میں بہرام کو بتا کر آتا ہوں۔۔۔”
حبہ نے ہاں میں سر ہلایا اور اس کمرے کی جانب چلی گئی جہاں وہ رکی تھی۔فرزام نے کمرے میں جا کر اپنا موبائل اور کار کی چابیاں پکڑیں۔
“فرزام مجھے بھی ساتھ جانا ہے۔۔۔۔”
مناہل نے اسکے پیچھے آ کر کہا۔
“نہیں میں نہیں چاہتا کہ تم وہاں جاؤ۔۔۔۔”
فرزام کی آواز میں ہمیشہ والی محبت اور نرمی کی بجاۓ بے تحاشا سنجیدگی تھی۔
“پلیز مجھے ساتھ لے جائیں۔۔۔”
فرزام غصے سے اسکی جانب مڑا اور اسے کندھوں سے دبوچ لیا۔
“کہا ہے ناں مناہل تم ان لوگوں کے درمیان واپس نہیں جا رہی۔۔۔۔میں نہیں چاہتا ان میں سے کوئی تمہیں پھر سے تکلیف دے۔۔۔ “
فرزام کا غصہ دیکھ کر مناہل سہم گئی لیکن پھر ہمت کرتے ہوئے بولی۔
“پلیز فرزام مجھے جانا ہے۔۔۔”
اب کی بار فرزام کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچا تھا۔
“اس شخص نے تم سے تمہارے ماں باپ کو چھینا۔۔۔تمہیں چھوٹی سی عمر میں بے سہارا کر دیا۔۔۔۔تم سے اس قدر لاپروا رہا کہ ایک جانور تمہیں چھلنی کر گیا اور اسے خبر تک نہ ہوئی یہاں تک کہ جب پتہ چلا تو اسے بچانے کی کوشش کی پھر بھی تم اس کی پریشانی میں وہاں جانا چاہتی ہو۔۔۔۔”
فرزام کے سوال پر مناہل کی نظریں شرمندگی سے جھک گئیں۔
“مناتی ہوں وہ میرے گناہ گار ہیں لیکن مصیبت میں کوئی دوست یا دشمن نہیں ہوتا فرزام سب انسان ہوتے ہیں۔۔۔۔”
فرزام حیرت سے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے جھٹکے سے مناہل کو چھوڑ دیا۔
“دس منٹ میں باہر آ جانا میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام کمرے سے باہر نکل گیا اور غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچتا بہرام کے کمرے کی جانب چل دیا۔اسے اپنی من کی پاکیزگی پر تعجب ہو رہا تھا کہ کیسے وہ اس شخص کی تکلیف پر یہ بھی فراموش کر گئی تھی کہ وہ اس کا گناہ گار تھا۔
فرزام نے بہرام کے کمرے کا دروازہ کھولا تو اسے بہرام اپنی آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹا نظر آیا۔ہلکی سی آہٹ پر بہرام نے اپنا بازو آنکھوں پر سے ہٹایا جس کا مطلب صاف تھا کہ رات کے اس پہر بھی وہ سو نہیں رہا تھا۔
“الطاف بیگ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔۔”
بہرام نے حیرت سے فرزام کی طرف دیکھا پھر اسکی آنکھوں میں نفرت اتری۔
“وہ اتنی آسانی سے نہیں مر سکتا فرزام موت اس کے گناہوں کی بہت چھوٹی سزا ہے۔۔۔۔”
فرزام نے اثبات میں سر ہلایا۔
“میں حبہ اور مناہل کو لے کر لاہور جا رہا ہوں۔۔۔۔”
بہرام نے گہرا سانس لیا اور اپنی آنکھیں موند گیا۔
“دعا کرنا فرزام کے وہ مرے نہیں ورنہ۔۔۔۔”
“ورنہ۔۔۔۔؟”
بہرام کے رک جانے پر فرزام نے پوچھا۔
“اگر وہ مر گیا تو میری زندگی کا آخری مقصد بھی ختم ہو جائے گا،الطاف کے دولت اور طاقت کا غرور ٹوٹتے ہوئے دیکھنا۔۔۔۔اور بغیر مقصد کے زندگی سے بڑا عزاب کچھ نہیں۔۔۔۔”
فرزام نے فکر مندی سے بہرام کی جانب دیکھا جو مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔اسے چاہت پر مزید غصہ آنے لگا کیونکہ وہی تو بہرام کی اس حالت کی ذمہ دار تھی۔
“بہرام تم۔۔۔”
“جاؤ اب۔۔۔۔مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔”
بہرام نے پھر سے اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا تو فرزام آخری نگاہ اپنے بھائی کو دیکھتا کمرے سے باہر آ گیا۔وہ ہال میں آیا تو حبہ اور مناہل پہلے سے ہی وہاں اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
فرزام نے ان دونوں کو ساتھ لیا اور بائے روڈ لاہور کے لیے نکل پڑا۔وہ جتنی تیز ہو سکتا تھا گاڑی چلا رہا تھا پھر بھی انہیں پہنچنے میں چار گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔
لاہور پہنچ کر وہ سیدھا اس ہاسپٹل میں گئے جہاں الطاف اور انجم بیگم کو لایا گیا تھا۔ہاسپٹل پہنچتے ہی حبہ بے چینی سے ان دونوں کے بارے میں پوچھنے لگی۔فرزام بھی مناہل کا ہاتھ تھام کر حبہ کے ساتھ چلتا رہا۔
انہیں پتہ چلا کہ الطاف بیگ آپریشن تھیٹر میں ہے تو وہ تینوں سیدھا آپریشن تھیٹر کے باہر آ گئے۔کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر آپریشن تھیٹر کے باہر آیا۔حبہ بے چینی سے ڈاکٹر کے سامنے گئی۔
“میرے بابا کیسے ہیں اب۔۔۔۔ااا۔۔۔اور میری ماما۔۔۔۔وہ کہاں ہیں۔۔۔؟”
ڈاکٹر نے پہلے تو گھبرا کر ساتھ موجود نرس کو دیکھا پھر ہمت کرتے ہوئے بولا۔
“دیکھیں مس۔۔۔۔آپ پلیز ہمت سے کام لیں۔۔۔۔”
“میری ماما کیسی ہیں آپ بتائیں مجھے۔۔۔۔؟”
حبہ کے پھر سے پوچھنے پر ڈاکٹر گہرا سانس لیتے ہوئے بولا۔
“مسز بیگ از نو مور۔۔۔۔جب وہ یہاں پہنچیں تب ہی وہ دم توڑ چکی تھیں۔۔۔”
حبہ نے صدمے سے ڈاکٹر کی جانب دیکھا۔اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل لگ رہا تھا۔مناہل نے روتے ہوئے آگے ہو کر حبہ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
“اا۔۔۔۔۔اور میرے بابا۔۔۔؟”
آنسو حبہ کی آنکھوں میں اٹک چکے تھے ڈاکٹر کو بے ساختہ اس لڑکی پر رحم آیا۔
“ان کی حالت کافی کرٹیکل ہے۔انکی ٹانگوں کی ہڈیاں بری طرح سے چکنا چور ہو گئیں تھیں جس کی وجہ سے اگر وہ بچ بھی جائیں تو کبھی چل نہیں پائیں گے لیکن فی الحال یہ اتنی بڑی پرابلم نہیں۔۔۔۔”
فرزام نے آنکھیں چھوٹی کر کے ڈاکٹر کو دیکھا۔
“کیا مطلب۔۔۔۔؟”
“ان کا بلڈ لاسٹ بہت زیادہ ہوا ہے اور ان کا بلڈ گروپ بھی او نیگیٹو ہے جو بہت ڈھونڈنے کے باوجود ہمیں ناکافی ملا۔۔۔۔لیکن آپ ان کی بیٹی ہیں تو ہو سکتا ہے آپ کا بلڈ گروپ ان سے میچ کر جائے۔۔۔۔۔نرس آپ ان کا بلڈ ٹیسٹ کریں۔۔۔۔”
حبہ نے فوراً ہاں میں سر ہلایا اور نرس کے ساتھ چلی گئی۔ابھی وہ مکمل طور پر یہ بات بھول چکی تھی کہ اس کا باپ کیسا انسان تھا۔ابھی اسے کچھ یاد تھا تو صرف یہ کہ موت سے لڑتا وہ شخص کا باپ تھا۔
کچھ ہی دیر میں نرس حبہ کا بلڈ ٹیسٹ کر کے رپورٹ ڈاکٹر تک پہنچا چکی تھی اور اب حبہ فرزام اور مناہل کے ساتھ پریشانی کے عالم میں ڈاکٹر کے سامنے کھڑی تھی۔
“سوری مس لیکن آپ کا بلڈ گروپ اے بی پازیٹیو ہے جو آپکی ماں کا تھا۔۔۔۔”
حبہ یہ جان کر مزید پریشان ہو گئی۔
“اب کیا ہو گا؟”
ڈاکٹر بھی اب مایوس نظر آ رہا تھا۔
“ہم ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں آپ دعا کریں جلد ہی بندوبست ہو جائے ۔۔۔۔”
ڈاکٹر اتنا کہہ کر اس وارڈ سے باہر نکل گیا اور حبہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“حبہ آپی۔۔۔ “
مناہل نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔اسکی آنسو سے بھی آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔
“وہ جیسے بھی ہیں مناہل میرے بابا ہیں۔۔۔۔ماما کو تو کھو دیا ہے انہیں کھونا نہیں چاہتی۔۔۔۔”
مناہل اسکی بات پر خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور فرزام سنجیدگی سے وہاں کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
اگر وہ مر گیا تو میری زندگی کا آخری مقصد بھی ختم ہو جائے گا اور بغیر مقصد کے زندگی سے بڑا عزاب کچھ نہیں۔
فرزام کے ذہن میں بہرام کے الفاظ گونجے اور اسی کے ساتھ وہ فیصلہ کرتا اس وارڈ سے باہر آ گیا۔
💞💞💞💞
چاہت خاموشی سے دروازے میں کھڑی سکینہ کو دیکھ رہی تھی جو چادر کو اچھی طرح لیتے کہیں جانے کی تیاری کر رہی تھیں اور چاہت بھی جانتی تھی کہ وہ کہاں جارہی ہیں ابھی کل رات ہی تو انہوں نے چاہت کو یہ بات بتائی تھی۔
“کیا ہوا چاہت ایسے وہاں کیوں کھڑی ہو کچھ چاہیے کیا؟”
سکینہ کے سوال پر چاہت نے ہاں میں سر ہلایا اور گھبراتے ہوئے ان کے قریب آئی۔
“کیا بات ہے چاہت؟”
چاہت کا سر شرمندگی سے جھکا دیکھ سکینہ نے نرمی سے پوچھا۔
“آپ خان جی سے ملنے جا رہی ہیں ناں۔۔۔۔؟”
سکینہ نے کچھ دیر اسے دیکھا پھر ہاں میں سر ہلایا۔
“اسے ہسپتال سے گھر آئے کافی عرصہ ہو چکا ہے پہلے تو میرے میں جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی لیکن اب خود میں ہمت جمع کر ہی لی ہے۔۔۔۔”
سکینہ نے نرمی سے کہا تو چاہت کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر زمین پر گرے۔
“تم بتاؤ تمہیں کوئی کام ہے کیا؟”
چاہت نے ہاں میں سر ہلایا اور دوپٹے میں سے ایک کانپتا ہاتھ نکال کر سکینہ کے سامنے کیا۔
“آپ یہ خان جی کو دے دینا۔۔۔۔”
سکینہ نے حیرت سے اسکے ہاتھ میں موجود اس کاغذ کو دیکھا۔ پہلے تو دل میں آیا کہ اس سے پوچھیں یہ کیا ہے پھر اپنی بیٹی کی بکھری حالت کا سوچ کر خاموشی سے وہ کاغذ پکڑ لیا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔”
سکینہ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور گھر سے باہر آ گئیں۔انہوں نے ایک ٹیکسی لی اور خانزادہ مینشن پہنچ گئیں۔بہرام کا سامنا کرنے کی ہمت ان میں نہیں تھی لیکن جیسے تیسے انہوں نے اب خود میں یہ ہمت پیدا کی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ چاہت چاہ کر بھی ایسا کبھی نہیں کر پاتی۔سکینہ کو دیکھ کر ملازم بہرام کو خبر دینے چلے گئے۔
“کون آیا ہے۔۔۔۔؟”
ملازم کے بتانے کے باوجود بہرام نے دوبارہ پوچھا۔
“سکینہ اماں۔۔۔”
نہ جانے کیوں ان کے یہاں آنے کا جان کر ہی بہرام کو بے چینی سی ہوئی۔
“اکیلے آئی ہیں وہ؟”
“جی سر۔۔۔”
ملازم نے فوراً عقیدت سے جواب دیا تو بہرام کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔
“ٹھیک ہے اندر بھیجو انہیں۔۔۔۔”
ملازم ہاں میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا اور کچھ دیر کے بعد ہی سکینہ اس کمرے میں آئیں۔
“اسلام و علیکم بیٹا۔۔۔”
سکینہ نے بہرام کے پاس آ کر ہمیشہ والی محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“و علیکم السلام۔۔۔”
بہرام کے سنجیدگی سے جواب دینے پر وہ ہلکا سا مسکرا کر اسکے بیڈ کے پاس پڑے دیوان پر بیٹھ گئیں۔
“اب کیسی طبعیت ہے تمہاری ؟”
سکینہ کی آواز میں چھپی شرمندگی بہرام محسوس کر سکتا تھا۔
“ٹھیک ہوں۔۔۔۔آپ شرمندہ مت ہوں جو ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔۔۔۔”
بہرام کی بات پر سکینہ کا سر مزید جھک گیا۔
“سب میرا ہی قصور ہے بیٹا۔۔۔اگر میں چاہت سے سب نہ چھپاتی تو وہ ایسا نہیں کرتی۔۔۔”
سکینہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بہرام اپنی آنکھیں موند گیا۔
“اور آپ کو ایسا کرنے سے میں نے منع کیا تھا اگر کسی کا قصور ہے تو صرف میرا میں آپ کو یا چاہت کو قصوروار نہیں سمجھتا اماں جی نہ ہی آپ دونوں سے نفرت کرتا ہوں۔۔۔۔بلکہ قصوروار بھی خود کو ہی سمجھتا ہوں اور خود سے نفرت تو ہمیشہ سے ہے مجھے۔۔۔۔”
سکینہ نے بہرام کو رحم سے دیکھا۔کیا تھی اس کی قسمت۔اس نے تو بچپن سے خوشیوں کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا۔سکینہ کو لگا تھا کہ چاہت اپنی معصومیت اور شرارتوں سے اسکی زندگی کی خوشیاں لوٹا دے گی لیکن وہ تو بہرام کی زندگی مزید ویران کر چکی تھی۔
“چاہت تمہاری گناہگار ہے بیٹا تم اسے جو سزا دو گے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔۔۔۔”
ایک گھائل سی مسکان بہرام کے ہونٹوں پر آئی۔
“سزا وہ دیا کرتے ہیں اماں جی جو اس قابل ہوں جیسے چاہت نے مجھے میرے گناہ کی سزا دی۔۔۔۔”
سکینہ نے حیرت سے بہرام کو دیکھا۔
“جو اس نے کیا وہ کوئی گناہ نہیں بلکہ وہ تو اس کا حق تھا۔۔۔۔آپ اسے قصوروار مت ٹھہرائیں۔۔۔۔”
اماں جی نے اپنے آنسو پونچھے اور مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“تم بہت اچھے ہو بیٹا یہ چاہت کی بد بختی ہے کہ وہ تم جیسے ہیرے کی قدر نہیں کر پائی۔۔۔ “
وہ بہرام کے پاس آئیں اور چادر کے نیچے سے ایک کاغذ نکال کر بہرام کے سامنے کیا۔
“یہ چاہت نے تمہیں دینے کا کہا تھا۔۔۔۔”
بہرام کا دل چاہت کے ذکر پر بہت زور سے دھڑکا لیکن اس نے گھبراتے ہوئے اس کاغذ کو دیکھا۔بہرام نے وہ کاغذ پکڑ لیا تو سکینہ نے اس کے سر پر پیار دیا اور وہاں سے چلی گئیں۔بہرام کتنی دیر مردہ آنکھوں سے اس کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھتا رہا۔
کیا تھا اس کاغذ میں کہیں خلع تو نہیں۔۔۔بہرام کا دل کیا کہ اس کاغذ کے ٹکڑے کو پھاڑ کر پھینک دے۔چاہے کچھ بھی ہو جاتا وہ چاہت کو چھوڑنے والا نہیں تھا۔
اگر چاہت کو اس رشتے سے آزادی چاہیے تو اسے اس مرتبہ سچ میں بہرام کی جان لے کر بیوہ ہونا ہو گا کیونکہ اس کے علاوہ وہ اس رشتے سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتی تھی۔
بہرام نے ہمت کر کے اس کاغذ کو کھولا لیکن وہ کوئی خلع نامہ نہیں تھا۔۔۔نہیں بلکہ اس میں تو کچھ لکھا ہوا تھا اور بہرام جانتا تھا کہ وہ چاہت کی رائٹنگ ہے ۔بہرام نے مردہ آنکھوں سے اس خط کو پڑھنا شروع کیا۔
“خان جی۔۔۔۔
میں نہیں جانتی کہ اپنی بات کہاں سے شروع کروں۔زندگی میں پہلی بار باتونی سی چاہت کے پاس کہنے کو کوئی الفاظ ہی نہیں۔بس اتنا سمجھ لیجئے کہ جو اس میں لکھا ہے وہ الفاظ نہیں میرے احساسات ہیں۔
جب اس شخص نے ا کر مجھے بتایا کہ آپ نے میرے بابا کی جان لی کیونکہ میرے بابا آپ کے ماں باپ کو اس آگ میں جلنے سے نہیں بچا پائے تو مجھے لگا کہ جیسے کسی نے میری خوشیوں کو جلتی بھٹی میں جھونک دیا ہو لیکن میں نے اس کا یقین نہیں کیا خان جی۔کیسے کرتی؟کیسے مان لیتی کہ میرے خان جی جنہیں تب سے محبت کی ہے جب اس احساس سے بھی واقف نہیں تھی وہ ایسا کر سکتے ہیں۔کیسے مان لیتی کہ وہ شخص جو مجھے پوری دنیا میں سب سے اچھا لگتا ہے وہ کسی سے ایسی زیادتی کر سکتا ہے ۔۔۔۔میں یہ بات نہیں مان سکتی تھی اسی لیے اماں سے وجہ جاننے کی بجائے میں نے آپ سے پوچھا۔
میں چاہتی تھی آپ مجھے سب بتا دیں مجھے جھوٹا ثابت کر دیں اور سب ٹھیک ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔۔آپ کا مجھ سے سچ چھپانا میرے دل میں پلتے اس شک کو یقین میں بدل گیا اور میں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا گناہ کر دیا۔آپ پر یقین نہیں کر پائی۔
کیوں کیا آپ نے ایسا خان جی سچ جان کر میں شائید بکھر جاتی،شائید خود سے نفرت کرنے لگ جاتی لیکن آپ کی محبت مجھے سمیٹ لیتی خان جی،آپ کی محبت مجھے پھر سے خود کو چاہنے پر مجبور کر دیتی لیکن اب ۔۔۔
اب جو نفرت خود سے کرنے لگی ہوں وہ کبھی ختم نہیں ہو پائے گی۔اب جیسے بکھری ہوں پھر کبھی خود کو سمیٹ نہیں پاؤں گی۔جو میں نے آپ کے ساتھ کیا اس سے آپ کی چاہت مکمل طور پر مٹ گئی ہے خان جی اب بس ایک وجود باقی ہے اور وہ وجود آپ کی سزا کا مستحق ہے۔
آپ چاہیں تو مجھے طلاق دے دیں یا میری جان لے لیں مجھے ہر سزا قبول ہو گی خان جی بس ایک خواہش پوری کر دینا۔۔۔۔ ایسا کرنے سے پہلے بس اتنا کہہ دینا کہ آپ نے مجھے معاف کیا تا کہ میں یہ جان کر سکون سے مر جاؤں کہ اگلے جہان میری بخشش ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ اس جہان میں آپ کو مجھے دے دیں گے ہمیشہ کے لیے۔
جانتی ہوں میں خواہش کرنے کے قابل نہیں پھر بھی میری یہ خواہش پوری کر دیں گے تو میرے لیے بہت بڑا احسان ہو گا۔
فقط آپ کی چاہت۔”
خط میں لکھے الفاظ پڑھ کر کتنے ہی آنسو بہرام کی آنکھوں سے ٹوٹ کر ان صفحوں پر گرے تھے۔وہ جو یہ اتنے دنوں سے اس آگ میں جل رہا تھا کہ اسکی محبت اس سے نفرت کرتی ہے کتنا بے خبر تھا کہ اسکی محبت اس سے بھی زیادہ شدت سے اسی آگ میں جل رہی تھی۔
بہرام نے وہ تین صفحے اپنے سینے دل کے مقام پر رکھے اور پھر وہ تیس سالہ شخص اٹھارہ سال کے بعد آج پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
💞💞💞💞
الطاف کی آنکھ کھلی تو پہلی نگاہ ڈاکٹر پر پڑی جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
“نئی زندگی مبارک ہو مسٹر بیگ۔۔۔۔۔”
الطاف نے بند ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا اور اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
“مم۔۔۔میں کہاں۔۔۔”
ڈاکٹر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا لیکن اب آپ بالکل ٹھیک ہیں ۔۔۔۔”
ڈاکٹر کی بات پر الطاف کو اپنی کار کا ٹرک سے ٹکرانا یاد آیا اور ساتھ ہی اپنے جسم میں اٹھتی تکلیفوں کا اندازہ بھی ہوا۔
“آپ کا بلڈ گروپ رئیر ہونے کی وجہ سے ہمیں کافی مشکل درپیش آئی لیکن وہ تو شکر ہے کہ وقت پر آپ کا بیٹا یہاں آگیا ورنہ ہم آپ کو بچا نہیں سکتے۔۔۔۔”
ڈاکٹر کی بات پر الطاف کی آنکھوں میں حیرت اتری۔
“بب۔۔۔بیٹا للل۔۔۔۔لیکن میری بیٹی۔۔۔”
“جی جانتا ہوں آپ کی بیٹی ہے لیکن ان کا بلڈ گروپ آپ سے میچ نہیں ہوا تھا۔میں آپ کے بیٹے فرزام کی بات کر رہا ہوں ہوں۔۔۔۔”
الطاف کو لگا کہ اس نے کچھ غلط سنا ہو یا شائید وہ پاگل ہو چکا تھا۔
“تھینک یو ڈاکٹر آپ جا سکتے ہیں مجھے ان سے بات کرنی ہے۔۔۔”
فرزام کی آواز پر ڈاکٹر نے اسکی جانب دیکھا اور ہاں میں سر ہلا کر وارڈ سے باہر نکل گیا۔
“یی۔۔۔۔یہ ڈاکٹر کیا کہہ رہا تھا۔۔۔۔”
الطاف کے پوچھنے پر فرزام اس کے پاس آیا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگا۔
“وہی جو سچ ہے۔۔۔”
فرزام کی بات الطاف کی بے چینی میں مزید اضافہ کر چکی تھی۔
“کککک۔۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔۔کہنا کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔؟”
ایک طنزیہ مسکراہٹ نے فرزام کے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔
“یہی کہ فرزام خانزادہ اور بہرام خانزادہ تمہاری کی سگی اولاد ہیں۔۔۔کیوں یقین نہیں ہو رہا ناں۔۔۔ “
الطاف کی آنکھوں میں حیرت اترتے دیکھ فرزام نے نفرت سے کہا۔
“جب تم نے ہماری ماں کو چھوڑا تھا تب ہی وہ تمہیں اولاد دینے والی تھی لیکن دولت کے غرور میں ڈوبے شخص کو اس بات کی پرواہ کہاں سے ہوتی۔۔۔۔”
الطاف کو لگا اس کی سانسیں سینے میں ہی اٹک جائیں گی۔
“لیکن کوئی خوش فہمی پیدا مت کر لینا الطاف بیگ ہم دونوں سلیمان خانزادہ کی اولاد ہیں اور اسی کی اولاد رہیں گے کیونکہ اس نے ہماری ماں کو کوئی چیز سمجھنے کی بجائے نہ صرف اسے مقام دیا بلکہ ہم دونوں کو اپنا نام بھی دیا ورنہ تمہاری وجہ سے تو ہم جائز ہوتے ہوئے بھی نا جائز کہلاتے۔۔۔ “
“تتت۔۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔”
الطاف کے ایسا کہنے پر فرزام قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“یہ کہہ کر دل کو بہلاتے رہو۔۔۔۔۔”
فرزام نے اسکے پیروں کے پاس موجود ٹیبل سے کچھ پیپرز اٹھا کر اس پر پھینکے۔
“یہ رہی وہ ڈی این اے ریپورٹ جو میرا اور تمہارا تعلق ثابت کرتی ہے پھر بھی یقین نہیں تو یہ تمہارا مسلہ ہے۔۔۔ “
الطاف نے حیرت سے فرزام کو دیکھا اسے وہ ریپورٹ دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی فرزام کی آنکھوں میں موجود سچائی وہ دیکھ سکتا تھا۔
ساری زندگی وہ بیٹے کے لیے ترستا رہا تھا اور آج اسے پتہ چلا تھا اسکے ایک نہیں بلکہ دو بیٹے تھے۔
“دل میں کوئی خوش فہمی نہ پال لینا کہ میں نے تمہیں اپنا خون دے کر اس لیے بچایا کہ تم میرے باپ ہو۔۔۔۔میں نے تمہیں صرف اس لئے بچایا ہے کہ موت تمہارے لئے بہت چھوٹی سزا ہے تمہیں تو اس سزا کو جینا ہے الطاف بیگ جیسے زندگی کہتے ہیں۔۔۔۔جس دن تمہارا یہ دولت اور طاقت کا غرور ٹوٹ کر چکنا چور ہو گا اس دن میرے بابا سلیمان خانزادہ کو انصاف ملے گا۔۔۔ “
اتنا کہہ کر فرزام کمرے سے باہر نکل گیا۔اس نے الطاف کی کوئی بات بھی نہیں سنی تھی اور الطاف ہر چیز کو سمجھتا پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔اسے وہ پل یاد آیا جب وردہ اسکے پیروں میں گڑگڑا کر روئی تھی کہ وہ اسے نہ چھوڑے ورنہ وہ برباد ہو جائے گی۔
اور الطاف اس جیسی غریب لڑکی کو اپنا کھلونا سمجھتا اسے برباد کر گیا لیکن وہ تو برباد نہیں ہوئی تھی قدرت نے اسے سلیمان جیسے انسان کا ساتھ دیا تھا برباد تو الطاف ہوا تھا جو دو وارث ہونے کے باوجود ان سے انجان رہا تھا۔برباد تو وہ آج ہوا تھا۔
💞💞💞💞
وہ سب بیگ ولا آئے تھے جہاں انجم بیگم کی آخری رسومات ادا کر کے انہیں سپرد خاک کر دیا گیا تھا۔فرزام تو بس لاچارگی سے حبہ کو دیکھ رہا تھا جو اپنی ماں کو کھونے پر بہت زیادہ افسردہ تھی لیکن اسے صبر تو وقت کے ساتھ ہی آنا تھا۔
“مناہل۔۔۔”
فرزام کے پکارنے پر مہمانوں اور حبہ کے ساتھ بیٹھی مناہل اٹھ کر فرزام کے سامنے آئی۔
“جی۔۔۔”
“تیاری کرو ہم واپس جا رہے ہیں۔۔۔”
فرزام کی بات پر مناہل نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“لیکن فرزام رات کے گیارہ بج رہے ہیں ابھی۔۔۔”
“تو۔۔۔رات کا سفر بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔تم جاؤ اور اپنا سامان لے آؤ میں ایک اور پھول یہاں نہیں گزارنا چاہتا ۔۔۔۔”
فرزام کے ذرا سختی سے کہنے پر مناہل نے ہاں میں سر ہلایا اور حبہ کے کمرے کی جانب چلی گئی جہاں اس کا سامان پڑا تھا۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے اپنا بیگ پکڑا اور واپس جانے کے لیے مڑی تو دروازے میں کھڑی شیزہ بیگم کو دیکھ کر اسکا سانس خوف سے سینے میں ہی اٹک گیا۔
“پپ۔۔۔۔پھپھو آپ؟”
شیزہ کی آنکھوں میں نفرت کی آگ دیکھ کر مناہل مزید ڈر گئی اس نے وہاں سے جانا چاہا لیکن شیزہ نے اسے پکڑ کر دیوار سے لگایا اور اپنے ہاتھ میں اسکی نازک گردن دبوچ لی۔
“تمہاری وجہ سے میں نے اپنے شوہر کو کھویا تمہیں کیا لگتا ہے میری زندگی برباد کر کے تم خوش رہو گی۔۔۔۔میں تمہیں بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔مار دوں گی میں۔۔۔”
مناہل نے شیزہ سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن شیزہ کی پکڑ بہت زیادہ مظبوط تھی۔کچھ ہی دیر میں مناہل کو اپنا سانس اکھڑتا ہوا محسوس ہوا تو مزید مقابلہ کرنے لگی۔
“آج میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی مناہل میں تمہیں اس سے چھین لوں گی بالکل جیسے اس نے فیض کو مجھ سے چھینا۔۔۔۔”
بہت سے آنسو مناہل کی آنکھوں میں آئے۔وہ چلانا چاہ رہی تھی لیکن گردن پر موجود دباؤ کی وجہ سے اس کی آواز حلق سے نہیں نکل رہی تھی۔
مسلسل سانس نہ آنے کی وجہ سے اب مناہل کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔اسے اپنی موت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھی۔
فرزام
مناہل کے لبوں نے خاموش سرگوشی کی اور پھر اسکا وجود مزاحمت کرنا بند ہو گیا۔اڈے یوں ساکت ہوتا دیکھ شیزہ کی آنکھوں میں چمک آئی وہ فرزام خانزادہ سے انتقام لے چکی تھی۔