Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 07)
Kaif E Junoon (Episode 07)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
Farzam Minahil special 💞
“مناہل بیگ ولد شہاب بیگ آپ کا نکاح فرزام خانزادہ ولد سلیمان خانزادہ کے ساتھ حق مہر پچاس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت ہونا طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
خود سے پوچھے جانے سوال پر مناہل کی آنکھوں میں کئی آنسو آ گئے۔وہ اس سوال کا کیا جواب دیتی۔وہ رشتہ جس کی بنیاد ہی سچ اور بھروسہ ہوتا ہے وہ اس کی شروعات ہی اپنے شوہر سے اتنا بڑا سچ چھپا کر کرنے جا رہی تھی۔شوہر بھی وہ شخص جو اپنی چیز کسی کے چھونے پر برباد کر دیتا تھا وہ بھلا کیسے مناہل کو اسکی ناپاکی کے باوجود قبول کرتا۔
“جواب دو مناہل۔۔۔۔”
اپنی تائی امی کی آواز پر مناہل نے بے بسی سے انہیں دیکھا جو اس کی پہلے سے برباد زندگی کو مزید تباہ کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔لیکن مناہل بھی کیا کرتی ہے وہ مجبور تھی اور اسی مجبوری کے تحت اس نے وہ جواب دیا جو وہ بالکل بھی دینا نہیں چاہتی تھی۔
“قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے۔۔۔”
نکاح خواں نے مناہل سے نکاح نامے پر دستخط کروائے اور وہاں سے چلا گیا۔نہ جانے کون کون مناہل کو اپنے گلے سے لگا کر مبارکباد دے رہا تھا اور مناہل ہر شے سے بے خبر اپنے ہی خوف اور وسوسوں میں مبتلا تھی۔
کچھ دیر کے بعد ہی اسے باہر لان میں لاکر فرزام کے عقب میں بٹھا دیا گیا۔مناہل کا دل کر رہا تھا کہ وہ بس وہاں سے غائب ہو جائے اور پھر کسی کو نہ ملے۔فرزام نے اپنی نئی نویلی بیوی کے کپکپاتے ہاتھ دیکھے تو مسکرا دیا۔
“ابھی سے ڈر رہی ہو میرا جنون ابھی تو بہت سے امتحان باقی ہیں۔۔۔”
میرا جنون؟مناہل کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آئی۔وہ جنون جو اسکی سچائی جان کر ہی ختم ہو جانے والا تھا۔
“تم کسی کو سچ نہیں بتاؤ گی تو اسے پتہ کیسے چلے گا؟بس تم راز رکھنا سیکھو۔۔۔”
کسی کے الفاظ مناہل کے ذہن میں گردش کرنے لگے۔ہاں وہ ایسا ہی کرے گی وہ فرزام کو سچ نہیں بتائے گی اور ایسا کر کے وہ ہمیشہ کے لیے دغا باز بن جائے گی۔
“ما شاءاللہ چاند اور سورج کی جوڑی ہے بہت زیادہ اچھے لگ رہے ہیں دونوں ساتھ میں۔۔۔”
ایک عورت نے مسکراتے ہوئے کہا۔مناہل نے آنکھیں اٹھا کر حبہ کو دیکھا جو سینے پر ہاتھ باندھے اسے حسد سے دیکھ رہی تھی۔
ایک حبہ ہی تو تھی جو باقیوں کی طرح مناہل سے بلا وجہ کی نفرت نہیں کرتی تھی لیکن لگتا تھا آج وہ ایک رشتہ بھی مناہل نے کھو دیا۔سب آپس میں ہنسی خوشی باتیں کر رہے تھے اور جسکی وہ خوشی تھی اسے خوف اندر ہی اندر ختم کر رہا تھا۔
“میرے خیال سے اب مناہل تھک گئی ہو گی اسے اسکے روم میں لے جانا چاہیے۔۔۔۔”
شیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو مناہل نے شکر ادا کیا کہ کچھ پل کے لیے ہی سہی وہ فرزام کے سائے سے دور تو جائے گی جسکی نظریں اسے نہ جانے کب سے دیکھے جا رہی تھیں۔شیزہ اور انجم مناہل کے قریب ہوئے اور اسے پکڑ کر کھڑا کیا۔
“روم میں تو من جائے گی لیکن اپنے نہیں میرے۔۔۔۔”
فرزام کی بات پر جہاں مناہل کا دھڑکتا دل بند ہوا تھا وہیں سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“شائید بھول گئے ہیں آپ کہ میں نے نکاح کے ساتھ رخصتی کی بھی بات کی تھی اب اس وقت تو آپ ہمیں جانے نہیں دیں گے اس لیے مناہل کو میرے روم میں لے جائیں۔۔۔”
فرزام کے نئے شوشے پر الطاف کا ضبط جواب دے گیا اور اسکو دانت کچکچاتا دیکھ فرزام اٹھ کر مسکراتے ہوئے اسکے سامنے گیا۔
“وہ کیا ہے ناں اپنی پیاری بیوی کہ بغیر ایک پل نہیں گزارنا چاہتا میں۔۔۔۔آئی ہوپ آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔۔۔ “
الطاف فرزام کی آنکھوں میں چیلنج دیکھ سکتا تھا جیسا کہ آنکھوں سے کہنا چاہ رہا ہو کہ مجھے روک کر بتاؤ۔الطاف نے گہرا سانس لے کر اپنا غصہ ٹھنڈا کیا اور انجم کی جانب دیکھا۔
“مناہل کو فرزام کے روم میں چھوڑ آؤ۔۔۔”
مناہل نے پر خوف نگاہیں اٹھا کر اپنے تایا کو نظروں میں ہی التجا کی لیکن انہیں مناہل کے ہونے یا نہ ہونے سے کبھی کوئی فرق پڑا تھا جو اب پڑتا۔
انجم بیگم نے اثبات میں سر ہلایا اور مناہل کو لے کر اس کمرے میں آ گئیں جہاں فرزام ٹھہرا ہوا تھا۔مناہل کو وہاں چھوڑ کر انجم بیگم تو خاموشی سے وہاں سے چلی گئیں لیکن مناہل نے شیزہ کا ہاتھ تھام لیا اور نم پلکوں سے اس کو دیکھا۔
“پھوپھو۔۔۔پلیز مجھے یہاں چھوڑ کر مت جائیں۔۔۔”
شیزہ نے اپنا ہاتھ مناہل کے ہاتھ پر رکھا اور اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔
“ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں مناہل۔۔۔۔اپنے خوف کو چھپانا سیکھو۔۔۔”
بچپن سے لے کر اب تک مناہل یہی تو کرتی آ رہی تھی لیکن کب تک؟ اس کی ہمت اب جواب دے چکی تھی۔
کتنی دیر ہی وہ اسی جگہ پر کھڑی اپنے شوہر کا انتظار کرتی رہی۔جسم کا روم روم خوف سے کانپ رہا تھا۔خانزادہ خاندان سے تعلقات بڑھانے کے لیے اسکی شادی فرزام خانزادہ سے کی گئی تھی لیکن وہ اسکے بارے میں سچ نہیں جانتا تھا اگر جانتا تو۔۔۔۔یہ سوچ کر ہی مناہل کی روح کانپ گئی تھی۔
“کتنے حسین لوگ تھے جو ایک بار ہی
آنکھوں میں اتر گئے دل میں سما گئے”
ایک شوخ سی آواز پر مناہل نے سہم کر اپنے شوہر کو دیکھا جو اسکے حسین سراپے کو پر شوق نگاہوں سے دیکھتا اسکے قریب آ رہا تھا جبکہ انتہائی دلکش چہرے پر موجود ڈمپل فرزام کی شان کو چار چاند لگا رہا تھا۔
“لگا تھا کہ وہ لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی جو فرزام خانزادہ کے دل میں اتر سکے لیکن تم تو صرف سانس لے کر ہی دل گھائل کر رہی ہو میرا جنون۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ مناہل کو کچھ سمجھ آتا فرزام نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے بے انتہا قریب کھینچ لیا۔اپنے چہرے پر اسکی سانسوں کی مہک محسوس کرتے مناہل کا نازک وجود سوکھے پتے کی مانند تھرتھرانے لگا۔
“اف میرے جنون یہ رات بہت بھاری گزرے گی تماری نازک جان پر۔۔۔۔۔”
فرزام نے اس کے کپکپاتے ہونٹوں کو پر تپش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا لیکن تبھی اسکی نگاہ اپنے سینے پر رکھے مناہل کے حنائی ہاتھ پر پڑی جس میں اسکے بھائی کی پہنائی گئی انگوٹھی تھی۔فرزام اس دنیا میں سب سے زیادہ اپنے بھائی کو چاہتا تھا لیکن اپنی ملکیت پر کسی اور کی چھاپ دیکھنا اسے گوارا نہیں تھا پھر وہ چاہے اسکا بھائی ہی کیوں نہ ہوتا۔
فرزام نے نفرت سے وہ انگوٹھی اسکی انگلی سے نکال کر پھینک دی اور اسے گردن کے پیچھے سے جکڑ کر اپنے ہونٹوں کے قریب کر لیا۔
“تمہاری منگنی بہرام سے ضرور ہوئی تھی لیکن اب تم میری ہو سنا تم نے صرف اور صرف فرزام خانزادہ کی ملکیت ہو تم من۔۔۔۔۔اور آج تم پر اپنا ہر حق جتا کر یہ ثابت کر دوں گا میں کہ تم صرف میری ہو ۔۔۔۔۔”
فرزام اپنی دلہن کے حسین سراپے پر گرفت مظبوط کرتا شدت سے کہہ رہا تھا۔الفاظ سے جنون کی انتہا چھلک رہی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ ان کپکپاتے ہونٹوں پر اپنی مہر لگاتا اسے اندازہ ہوا کہ اسکی گرفت میں موجود وجود خوفزدہ تھا۔اس قدر خوفزدہ کہ وہ سانس بھی نہیں لے رہی تھی۔
“من؟ کیا ہوا میرے جنون؟”
فرزام نے نرمی سے اسکا گال پکڑ کر پوچھا لیکن اسکی بیوی خوف سے اچھل کر اس سے دور ہو گئی۔
“نہیں مت چھوؤ مجھے مت ہاتھ لگاؤ۔۔۔۔نہیں پلیز دور رہو۔۔۔۔”
وہ دیوار سے لگی خوف سے روتے ہوئے چلا رہی تھی اور فرزام اب حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔یہ ہر لڑکی جیسا انجان جزبات کا خوف نہیں تھا۔یہ خوف اس سے بڑھ کر تھا۔
“من۔۔۔”
فرزام اسکے قریب ہونے لگا تو مناہل نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور بری طرح سے سسکنے لگی اس کے بے تحاشا خوف کو سمجھ کر فرزام مٹھیاں بھینچتے ہوئے اسکے قریب ہوا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔
“کیا ہوا تھا؟ بتاؤ مجھے کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ؟”
مناہل اسکی سختی دیکھ کر مزید ڈر گئی پہلے تو اس نے سوچا کہ جھوٹ بول دے لیکن وہ اس کا شوہر تھا بھلا اس سے سچ چھپ سکتا تھا۔ یہ سوچ کر ہی مناہل کا نازک دل خوف سے بند ہوا کہ سچ جان کر وہ کیا کر گزرے گا۔
“مم ۔۔۔۔۔میں بارہ سال کی تھی۔۔۔۔۔انہوں نے میرے ساتھ۔۔۔فیض انکل نے مجھے میرے ہی روم میں بند کر دیا اور۔۔۔۔ممم۔۔۔۔میں بہت لڑی بہت چلائی لیکن۔۔۔۔میں کمزور ثابت ہوئی بہت کمزور۔۔۔۔”
اس سے آگے مناہل سے کچھ نہیں بولا گیا تھا بس وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی جبکہ اسکی بات کو سمجھ کر فرزام نے اپنا ہاتھ انتہائی زیادہ زور سے دیوار میں مارا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
مناہل کا ہر انکشاف سچ ثابت ہوا تھا۔ضدی سا فرزام خانزادہ جو اپنی سب سے پسندیدہ چیز کسی کے چھونے پر توڑ کر برباد کر دیتا تھا کسی اور کی چھوڑی ہوئی عورت کو کیسے قبول کرتا؟ وہ مناہل کی بربادی کا جان کر ہی اسے چھوڑ کر جا چکا تھا۔
🌺🌺🌺
“مبارک ہو بھائی صاحب بہت بہت آخر کار آپ کا منصوبہ کامیاب ہو ہی گیا۔۔۔”
سب مہمان جا چکے تھے اور الطاف اس وقت فیض کے ساتھ لان میں بیٹھا تھا جب فیض کی بات پر اس نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔
“ارے اب ایسے مت دیکھیں بھائی صاحب جانتا ہوں کہ خانزادہ سے آپ نے تعلق ضرور کچھ سوچ کر ہی جوڑا ہے خاص طور پر مناہل کے ذریعے جس کے نام شہاب کے حصے کی ساری جائیداد ہے اس لحاظ سے وہ آپ کے بزنس کی پچاس فیصد مالک ہے۔۔۔”
الطاف کی آنکھوں میں غصہ اترنے لگا۔
“میرے کام میں دخل اندازی مت کرو فیض میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں۔۔۔”
فیض دلچسپی سے مسکراتے ہوئے الطاف کے قریب ہوا۔
“آپ تو جانتے ہیں زرا مجھے بھی بتا دیں۔۔۔آخر آپ کا راز دار ہوں میں بہت سے راز جانتا ہوں آپ کے اتنا تو حق بنتا ہے ناں میرا۔۔۔”
الطاف نے بھوئیں اچکا کر اسے دیکھا۔
“کیا تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟”
فیض ہلکا سا ہنس دیا۔
“ارے میری اتنی اوقات کہاں بھائی صاحب میں تو بس آپ کو یاد کروا رہا تھا کہ کہیں آپ بھول تو نہیں گئے کہ جو آپ نے کیا وہ سب میں بھی جانتا ہوں اب آپ کو یہ دھمکی لگی ہے تو آپ کی مرضی۔۔۔۔”
فیض نے عام سے انداز میں کہا تو الطاف کافی دیر اپنے بہنوئی کو دیکھتا رہا اور پھر گہرا سانس لے کر آہستہ سے بولا۔
“فرزام اور بہرام کا اس دنیا میں ایک دوسرے کے سوا کوئی بھی نہیں۔۔۔”
الطاف کے بات شروع کرنے پر فیض دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔
“اس لیے اگر دونوں میں سے کسی ایک کی بھی شادی اور بچہ ہو جائے تو کل کو ان کی جائیداد اس عورت اور بچے کی ہو گی ناں۔۔۔”
الطاف کی چالاکی پر فیض عش عش کر اٹھا۔
“اور اگر کل کو انہیں کچھ ہو جائے تو وہ جائیداد مناہل اور اسکی اولاد کی ہو گی اور جتنی مناہل معصوم ہے تم یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ جائیداد ہماری ہو گی۔۔۔۔۔”
الطاف نے چلاکی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ویسے بھی شہاب کی وصیت کے مطابق مناہل کو جائیداد پر اختیار تب ہی ملے گا جب اس کی شادی گی۔۔۔۔اس لیے سمجھ لو ایک تیر سے دو نشانے لگاؤں گا۔بس ایک بار مناہل کی اولاد اس دنیا میں آ جائے پھر ان دونوں بھائیوں سے بھی پیچھا چھڑوا لونگا اور شہاب کی جائیداد کے ساتھ ساتھ خانزادہ خاندان کے جائیداد بھی صرف میری ہوگی۔”
الطاف نے مسکراتے ہوئے کہا اور فیض بھی اسکے ساتھ مسکرا دیا۔
” کیا بات ہے بھائی صاحب ماننا پڑے گا بہت ہی شیطانی دماغ ہے آپ کا اپنے ماضی کے کارنامے آج تک کسی کو پتہ نہیں چلنے دیے اور اب یہ۔۔۔۔۔بہت ہی آگے جائیں گے آپ۔۔۔”
الطاف نے سامنے پڑا گلاس مسکراتے ہوئے ہونٹوں سے لگایا۔طاقت کا نشا اسکی انسانیت تک کو ختم کر چکا تھا۔
“ارے آپ دونوں یہاں بیٹھ کر کیا باتیں کر رہے ہیں؟”
شیزہ ان کے پاس بیٹھ کر مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی۔فیض نے مسکرا کر اپنی بیوی کو دیکھا۔
“کچھ خاص نہیں بس کچھ ماضی کی یادیں تازہ کر رہے تھے اور کچھ مستقبل کا سوچ رہے تھے۔۔۔”
شیزہ کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
“یوں ہی ساتھ رہیں گے تو مستقبل بھی روشن ہو گا آپ کا۔۔۔”
“ضرور۔۔۔”
الطاف نے مسکرا کر شان سے کہا اس بات سے بے خبر کے گناہوں کی بھی ایک مدت ہوتی ہے جو اب ختم ہونے والی تھی۔
💞💞💞💞
فرزام کا دل کر رہا تھا کہ یہ دنیا جلا دے ہر چیز ختم کر دے۔اس وقت فرزام کو یہ دنیا جتنی بری لگ رہی تھی اتنی اسے کبھی نہیں لگی تھی تب بھی نہیں جب اس نے اپنے ماں باپ کو آنکھوں کے سامنے جلتے دیکھا تھا۔
اس نے سوچا تھا کہ اس کی جس دلکشی پر ہر لڑکی فدا ہو جاتی ہے اسی کا جادو مناہل پر چلا کر صبح کو اسے ٹوٹا بکھرا الطاف بیگ کے قدموں میں پھینک جائے گا لیکن جسے اس نے برباد کرنے کے لیے چنا تھا وہ تو پہلے ہی تباہ تھی۔فرزام اسے کیا توڑتا جسکے وجود اور انا کو اسکے اپنوں نے ہی کرچی کرچی کر دیا تھا۔
فیض سے زیادہ غصہ تو فرزام کو بیگ ولا کے مکینو پر آ رہا تھا۔انکی چھت کے نیچے ایک معصوم پر قیام ٹوٹ پڑی اور انہیں خبر ہی نہیں ہوئی۔اگر انہیں پتہ بھی تھا تو وہ شخص سانس کیوں لے رہا تھا۔
فیض اور اسکے گناہ کا سوچ کر ہی فرزام نے اپنی مظبوط مٹھیاں بھینچ لیں اور سیدھا باہر لان میں آیا جہاں فیض ہنس ہنس کر الطاف اور شیزہ سے باتیں کر رہا تھا۔مہمان شائید گھروں کو واپس جا چکے تھے کیونکہ پوری جگہ پر ان تینوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔
فیض کو دیکھ کر ہی فرزام کو اس ستم کا احساس ہوا جو اس نے ایک بارہ سال کی بچی پر ڈھایا تھا۔فرزام انتہائی غصے سے آگے بڑھا تو اسکو وہاں دیکھ کر الطاف کافی حیران ہوا۔
“فرزام تم یہاں؟کیا ہوا سب ٹھیک ۔۔۔۔”
الطاف کو نظر انداز کرتے ہوئے فرزام نے فیض کو گریبان سے پکڑ لیا اور اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا۔اسکی اس حرکت پر الطاف اور شیزہ حیرت سے اسکی طرف لپکے۔
“فرزام خانزادہ یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے۔۔۔”
الطاف نے غصے سے کہا لیکن فرزام ہر کسی کو نظر انداز کرتا جھپٹتے ہوئے فیض کو اپنے ساتھ کھینچ کر لے جا رہا تھا جبکہ الطاف اور شیزہ پریشانی کے عالم میں اسکے پیچھے جا رہے تھے۔
اپنے کمرے میں آ کر فرزام نے دروازہ کھولا اور جھٹکے سے فیض کو مناہل کے قدموں میں پھینکا جو فیض کو دیکھ کر ہی سہم کر دیوار سے لگ چکی تھی۔
“فرزام کیا ہے یہ سب؟”
الطاف غصے سے چلایا تو اسکا چلانا سن کر انجم بیگم بھی بھاگتے ہوئے وہاں آ گئیں۔
“یہ آپ کو آپ کا بہنوئی ہی بتائے گا کہ میں کیوں اسے یہاں لایا ہوں۔۔۔۔”
فرزام نے فیض کو بری طرح سے گھورتے ہوئے کہا جبکہ فیض تو فرزام کی نظروں میں غصے کے شرارے دیکھ کر ڈر چکا تھا۔
“کیا ہوا ہے فیض بتاؤ مجھے۔۔۔۔”
الطاف نے اپنا دھیان فیض کی طرف کیا۔
“مم۔۔۔میں نہیں جانتا بھائی صاحب یہ پاگل ہو گیا ہے مجھے سچ میں کچھ نہیں پتہ۔۔۔۔”
فرزام نے اپنی آنکھیں چھوٹی کیں۔
“لگتا ہے تمہاری یاداشت کمزور ہو گئی ہے۔کوئی بات نہیں ابھی سب یاد آ جائے گا۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام مناہل کے پاس آیا جو پر خوف نگاہوں سے زمین پر بیٹھے فیض کو دیکھ رہی تھی۔فرزام نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما تو مناہل خوف سے اچھل پڑی اور نم آنکھوں سے فرزام کو دیکھنے لگی۔
“بتاؤ انہیں من جو تم نے مجھے بتایا۔۔۔۔سب کو بتاؤ کہ یہ لوگ کس قدر بے حس اور لا پرواہ ہیں۔۔۔۔”
مناہل اپنے شوہر کی آنکھوں میں بے پناہ غصہ دیکھ سکتی تھی لیکن وہ غصہ مناہل کے لیے نہیں تھا اور اسی بات پر مناہل حیران تھی کہ جو اپنی چیز پر کسی کا لمس برداشت نہیں کرتا وہ اسے سب کے سامنے طلاق کیوں نہیں دے رہا تھا۔
مناہل کی آنکھیں مزید روانی سے بہنے لگیں اور اس نے انکار میں سر ہلایا۔فرزام نے انتہائی نرمی سے اسکے آنسو پونچھ دیے۔
“ڈرو مت من،،، میں تمہارے ساتھ ہوں میرے ہوتے ہوئے کوئی بھی تمہیں چھو نہیں سکتا بس تمہیں ہمت کر کے سب بتانا ہے اس جانور کا اصلی چہرہ سب کو دیکھانا ہے۔۔۔۔”
نہ جانے فرزام کے نرمی سے بولے گئے ان الفاظ اور اسکے مناہل کا گال سہلاتے لمس میں ایسا کیا جادو تھا جو مناہل کی طاقت بن رہا تھا۔
“بتاؤ من اب چپ مت رہو سب کو بتا دو۔۔۔۔اس کا گناہ چھپانے کے قابل نہیں بتا دو سب کو کیا کیا اس نے۔۔۔”
فرزام کے الفاظ مناہل کی ہمت بنے تھے۔اس نے ایک نظر زمین پر بیٹھے فیض کو دیکھا پھر ہمت کرتے ہوئے بولی۔
“مم۔۔۔میں بارہ سال کی تھی۔۔۔۔یہ آدھی رات کو میرے روم میں آئے۔۔۔اور انہوں نے۔۔۔۔”
مناہل خوف سے کانپنے لگی تو فرزام نے اسکا چہرہ اپنی جانب کر لیا اور اپنی نظروں سے اسکی ہمت بڑھانے لگا۔
“انہوں نے مجھے۔۔۔۔زبردستی۔۔۔”
مناہل اب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی اور کمرے میں موجود ہر شخص پتھر ہو چکا تھا۔
“میں نے کہا کہ میں سب کو بتا دوں گی۔۔۔۔تت۔۔۔۔ تو انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ اگر میں نے کک۔۔۔۔کسی کو کچھ بتایا تو مجھے مار دیں گے۔۔۔”
مناہل اب اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔فرزام مناہل سے دور ہوا اور فیض کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
“کچھ یاد آیا ۔۔۔۔؟”
فیض کا رنگ اب زرد پڑھ چکا تھا اس نے کمرے میں کھڑے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے دیکھا۔
“یہ جھوٹ بول رہی ہے بھائی صاحب ایسا کچھ۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ فیض اپنی بات مکمل کرتا فرزام نے اسے گریبان سے پکڑ کر اپنے مقابل کیا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔اس سے پہلے کہ فیض اس تھپڑ کے اثر سے سنبھلتا فرزام اسے مکوں سے بری طرح مارنے لگا۔شیزہ نے روتے ہوئے آگے بڑھنا چاہا۔
“دور رہو۔۔۔۔”
فرزام کی آواز کمرے میں گونجی تو شیزہ سہم کر اپنی ہی جگہ پر رک گئی۔
“ورنہ یہ سب تمہارے ساتھ کرتے ہوئے یہ نہیں سوچوں گا کہ تم عورت ہو۔۔۔۔۔”
فرزام کا غصہ دیکھ کر شیزہ کی روح تک کانپ گئی۔فرزام نے اب فیض کو زمین پر پھینکا اور اسے پیروں سے مارنے لگا۔سب کی طرح مناہل بھی حیرت سے فرزام کو دیکھ رہی تھی۔
“نہیں بس۔۔۔۔وہ سچ کہہ رہی ہے سب سچ کہہ رہی ہے میں نے سات سال پہلے مناہل سے زیادتی کی تھی۔۔۔۔پلیز مجھے مت مارو۔۔۔۔مت مارو۔۔۔معاف کر دو مجھے۔۔۔۔معاف کر دو ۔۔۔”
فیض روتے ہوئے چلایا اور اس کی بات پر جہاں ہر کوئی سکتے میں چلا گیا تھا وہیں فرزام نے نفرت سے اپنی ٹانگ فیض کی پیٹ میں ماری جس کی وجہ سے وہ کراہ اٹھا۔۔
“معافی مانگنی ہے ناں تو اس سے مانگ جس پر ظلم کرتے ہوئے تو نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ تیری بیٹیوں جیسی ہے۔۔۔۔میری من سے معافی مانگ۔۔۔”
سب سچ جاننے کے بعد بھی فرزام کے میری من کہنے پر مناہل نے حیرت سے اسے دیکھا کیونکہ وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر رہا تھا جیسا مناہل نے سوچا تھا۔
“مانگ معافی۔۔۔”
فرزام نے ایک زور دار لات اسکے پیٹ میں مار کر کہا تو فیض رینگتے ہوئے مناہل کے پاس گیا اور اسکے پیر پکڑ لیے۔مناہل ڈر کر اس سے دور ہونے لگی۔
“پلیز مجھے معاف کر دو مناہل۔۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔۔”
فیض نے روتے ہوئے کہا اور مناہل نم آنکھوں سے اپنے گناہ گار کو دیکھنے لگی۔کبھی مناہل بھی تو اس کے سامنے یوں ہی روئی تھی یوں ہی گڑگڑائی تھی لیکن اس نے مناہل کی ایک نہیں سنی تھی اور آج وہ بھی مناہل کے قدموں میں گرا بھیک مانگ رہا تھا لیکن مناہل کے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں تھا معافی بھی نہیں۔
“کیا تم اسے معاف کرنا چاہتی ہو من؟”
فرزام کی آواز پر مناہل نے ایک نظر اپنے شوہر کو دیکھا پھر خود کو مضبوط کرتے ہوئے انکار میں سر ہلا دیا۔نہیں کرنا چاہتی تھی وہ اس درندے کو معاف،نہیں تھا وہ معافی کے قابل۔۔۔
اسکے جواب پر ایک خطرناک مسکراہٹ نے فرزام کے ہونٹوں کو چھوا۔فرزام نے آگے بڑھ کر فیض کو پیچھے گردن سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اپنی کمر کے پاس سے ایک ریوالور نکال کر فیض کی کنپٹی پر رکھ دیا۔ایک چیخ شیزہ کے ہونٹوں سے نکلی اور اس نے آگے ہونا چاہا۔
“دور رہو میڈم ورنہ جو گولی ایک منٹ بعد مارنی ہے اسے چلتے سیکنڈ نہیں لگے گا۔
مناہل کے ساتھ ساتھ کمرے میں موجود ہر شخص کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔مناہل کو تو لگا تھا کہ وہ اسے پولیس کو دے دے گا لیکن فرزام کے ہاتھ میں وہ ریوالور دیکھ کر مناہل خوف سے کانپنے لگی۔
“چھوڑو اسے فرزام۔۔۔”
الطاف کے حکم دینے پر فرزام نے نظریں گھما کر اسے دیکھا لیکن پکڑ ابھی بھی فیض پر مظبوط تھی جو اپنے زخموں اور گردن پر دباؤ کی وجہ سے مزاحمت بھی نہیں کر پا رہا تھا۔
“سب جاننے کے بعد بھی آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں اسے چھوڑ دوں؟”
فرزام نے کافی دلچسپی سے پوچھا۔
“یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے فرزام خانزادہ ہم خود دیکھ لیں گے۔۔۔”
فرزام کے گال پر موجود ڈمپل نمایا ہوا۔
“غلط الطاف حیدر بیگ یہ میری بیوی کا معاملہ ہے اور وہ اسے معاف نہیں کرنا چاہتی۔۔۔”
فرزام نے خوف سے کانپتی مناہل کو بہت زیادہ حق سے دیکھتے ہوئے کہا۔اسکے الفاظ میں وحشت لیکن آنکھوں میں بے پناہ جنون تھا۔
“اگر تم نے اسے کچھ کیا تو ہمارے تعلق اور دوستی کو بھول جانا تم،پھر ہمارے درمیان بس ایک ہی تعلق رہ جائے گا جسے دشمنی کہتے ہیں اور یقین کرو فرزام خانزادہ تم الطاف بیگ سے دشمنی مول لینا نہیں چاہو گے۔۔۔”
الطاف نے فرزام کو دھمکا کر ڈرانا چاہا لیکن اسکا الٹا ہی اثر ہوا ڈرنے کی بجائے فرزام کے چہرے کی مسکان گہری ہو چکی تھی جیسے کہ اسے الطاف کا چیلنج پسند آیا ہو۔
“تمہاری دشمنی۔۔۔”
فرزام ایک پل کو رکا اور اپنی گرفت میں روتے ہوئے فیض کو دیکھا۔
“قبول ہے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام نے گولی چلا دی اور فیض کا بے جان وجود جھٹکے سے زمین پر گر گیا۔سر کے پاس سے خون پانی کی طرح فرش پر بہہ رہا تھا۔
“فیض۔۔۔۔”
شیزہ چلا کی فیض کے پاس گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جبکہ مناہل تو خوف سے ہی پتھر بنی فیض کے مردہ موجود کو اپنے قدموں میں پڑا دیکھ رہی تھی۔
اسے یہ سب ڈراؤنا خواب لگ رہا تھا کیا سچ میں اسکے شوہر نے اسکی وجہ سے کسی کی جان لی تھی؟
اچانک ہی فرزام آگے بڑھا اور مناہل کا ہاتھ تھام لیا۔مناہل نے سہم کر اسے دیکھا اور اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا۔مناہل کی اس حرکت پر فرزام کی پکڑ میں مظبوطی اور آنکھوں میں سختی اتر آئی جیسے مناہل کی یہ حرکت خاص پسند نہ آئی ہو۔
“چلو من میرے ساتھ وہاں جہاں تمہیں تکلیف دینا تو دور کوئی تمہارے سائے کو بھی فرزام خانزادہ کی اجازت کے بغیر نہیں چھو سکے گا میرے ساتھ میری دنیا میں چلو میرے جنون۔۔۔”
مناہل نے سہم کر اس شخص کو دیکھا جو اس کا شوہر تھا۔
“آپ نے مار دیا انہیں۔۔۔”
مناہل نے ڈرتے ہوئے کہا فرزام نے نرمی سے اسکے آنسو اپنے پوروں پر چن لیے۔
“میں نے صرف وہی کیا جو بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا۔۔۔۔”
مناہل حیرت سے اس دیوانے کو دیکھنے لگی۔
“مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے میں آپ کے ساتھ نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔”
مناہل کی بات پر شریر کالی نگاہوں میں وحشت اتری تھی۔
“معاملہ اب تمہاری چاہت کا نہیں رہا میرے جنون اب تم بس میری ہو خود کی بھی نہیں رہی تم مناہل خانزادہ تم پر صرف میرا حق ہے ہمیشہ یاد رکھنا یہ۔۔۔۔”
فرزام بہت زیادہ شدت سے کہہ رہا تھا اور اسکی یہ شدت پسندی مناہل کو ڈرا رہی تھی۔وہ اسکے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی لیکن وہ جو بھی کر لیتی اسکا سفر فرزام خانزادہ سے شروع ہوتا تھا اور منزل اسی پر ختم ہو جاتی تھی۔
“چلو من ورنہ قسم کھاتا ہوں تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا اور مجھے روکنے کی کسی نے کوشش بھی کی ناں تو اسکی جان لے لوں گا۔۔۔”
مناہل نے حیرت سے اسے دیکھا۔فرزام کی آنکھوں سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ سچ کہہ رہا ہے۔اس سے پہلے کہ جو اس نے کہا تھا وہ کر دیکھاتا مناہل نے ڈرتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔
فرزام نے ایک آخری نگاہ فیض پر ڈالی جس کے بے جان وجود سے شیزہ لپٹی رو رہی تھی اور مناہل کا ہاتھ مظبوطی سے تھام کر اسے وہاں سے لے جانے لگا۔
“رک جاؤ فرزام تم مناہل کو نہیں لے جا سکتے۔۔۔۔”
الطاف نے غصے سے کہا لیکن فرزام تو ایسے تھا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔وہ بس مناہل کو اپنے ساتھ کھینچتا ہال تک آ چکا تھا۔الطاف اسکے پیچھے آیا اور مناہل کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا تم مناہل کو نہیں لے جا سکتے میں یہ رشتہ اسی وقت توڑتا ہوں۔۔۔”
مناہل کا ہاتھ الطاف کے ہاتھ میں دیکھ کر فرزام نے اپنی بندوق نکال کر الطاف کے ماتھے پر رکھ دی۔
“ایک سیکنڈ لگے گا تمہیں تمہارے بہنوئی کے پاس پہنچانے میں اس لیے آج کے بعد میری من کو غلطی سے بھی مت چھونا۔۔۔”
الطاف نے سہم کر مناہل کا ہاتھ چھوڑ دیا تو فرزام نے بندوق واپس اپنی کمر کے پاس رکھی اور خوف سے کانپتی مناہل کو اپنے ساتھ لے جانے لگا۔
“تمہیں یہ دشمنی بہت مہنگی پڑے گی فرزام خانزادہ۔۔۔”
“اچھا ہے سستی چیزیں میں استمعال بھی نہیں کرتا۔۔۔”
الطاف بس غصے سے دانت کچکچا کر رہ گیا۔وہ بس مناہل کو فرزام کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھ سکتا تھا لیکن فرزام وہ آگ تھا جس کی سامنے الطاف بیگ بھی بے بس ہو چکا تھا۔