📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 22)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 22)

Kaif E Junoon By Harram Shah

مناہل کے جسم کو یوں بے جان ہوتا دیکھ شیزہ مسکرانے لگی لیکن تبھی کسی نے اسکی کلائی کو اپنے مظبوط ہاتھ میں پکڑ کر مناہل کی گردن سے دور کیا تو مناہل فوراً کھانستے ہوئے گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔

مناہل کی نازک گردن پر انگلیوں کے لال نشان دیکھ کر ان آنکھوں میں خون اتر آیا۔اس نے ایک نگاہ شیزہ کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو جھٹکا دے کر اسکی کلائی توڑ دی۔

شیزہ کی درد ناک چیخ اس کمرے میں گونج اٹھی۔فرزام نے اسے جھٹکے سے زمین پر پھینکا اور مناہل کے پاس آیا جو ابھی بھی اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

فرزام کار کے پاس مناہل کا انتظار کر رہا تھا لیکن جب مناہل نے ضرورت سے زیادہ ہی وقت لگا دیا تو اس کا دل بری طرح سے گھبرانے لگا اور اسی لیے وہ خود کمرے میں مناہل کو لینے آیا لیکن یہاں کا منظر دیکھ کر فرزام غصے سے پاگل ہو چکا تھا۔

“میری من کو ہاتھ لگانے کی جرات نہیں کسی میں اور تم نے اسے نقصان پہنچانا چاہا میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا پاگل عورت۔۔۔۔”

فرزام نے اگے بڑھنا چاہا تو مناہل اس سے چپک گئی اور روتے ہوئے انکار میں سر ہلانے لگی۔

“نن۔۔۔۔نہیں فرزام پلیز چلیں ۔۔۔۔۔پلیز مجھے یہاں سے لے جائیں۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں آج وہی خوف تھا جو فرزام نے پہلی ملاقات میں دیکھا تھا۔دل تو کر رہا تھا کہ اس عورت کو اسکے انجام تک پہنچا کر یہاں سے جائے لیکن کچھ سوچ کر اس نے مناہل کا ہاتھ پکڑا اور اسے لا کر گاڑی میں بیٹھا دیا۔

مناہل کے گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے اپنا ہاتھ انتہائی زور سے گاڑی کی چھت پر مارا۔وہ مناہل کو ایک پل کے لئے بھی تنہا چھوڑنے کی بھول کیسے کر سکتا تھا اگر وہ وقت پر وہاں نہیں پہنچتا تو۔۔۔۔

یہ سوچ کر ہی فرازم کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کا دل مٹھی میں دبوچ لیا ہو۔وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھا اور ڈرائیو کرنے لگا۔مناہل سہم کر اسکے چہرے پر موجود غصے کو دیکھنے لگی۔

“فف۔۔۔۔فرزام۔۔۔۔”

“ایک لفظ بھی نہ نکلے تمہارے منہ سے اس وقت مناہل ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔”

مناہل اسکے اتنے زیادہ غصے سے کہنے پر سہم کو دروازے سے لگ گئی اور پھر آنکھیں موند کر رونے لگی۔

“آئی۔۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔۔”

“کیا سوری مناہل۔۔۔۔جب میں نے کہا تھا کہ تم ان لوگوں میں واپس نہیں آؤ گی تو تمہیں اپنی انسانیت یاد آ گئی۔۔۔۔قابل ہیں یہ لوگ انسانیت کے ؟”

مناہل نے اپنا سر شرمندگی سے جھکا لیا۔فرزام نے ایک نظر اسے یوں روتے دیکھا تو گاڑی کو سائیڈ پر لگا کر اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا۔

“دیکھو مناہل میں جانتا ہوں تم بہت صاف دل کی مالک ہو نفرت کرنا نہیں جانتی لیکن اپنی اس نرمی اور محبت کو انہیں لوگوں تک محدود رکھو جو اس قابل ہیں۔جو شخص زیادہ میٹھا ہوتا ہے یہ دنیا اسے نگل لیتی ہے مناہل ایسے لوگوں کے لیے اپنے اندر کڑواہٹ پیدا کرو ۔۔۔۔”

اسکے یوں پیار سے سمجھانے پر مناہل نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ کر کچھ کہنا چاہا لیکن فرزام نے اسکے بولنے سے پہلے ہی اپنے ہاتھ اسکے چہرے سے ہٹا دیے اور گاڑی چلانے لگا۔

“یہ بالکل مت سمجھنا کہ میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ناراضگی قائم ہے میری اور تب تک رہے گی جب تک تم مجھے منانے میں کامیاب نہیں ہو جاتی۔اب تمہاری آواز بھی نہ نکلے تمہاری۔۔۔۔”

مناہل نے حیرت سے فرزام کو دیکھا۔اس کے ناراضگی کے خیال سے ہی وہ ننھی سی جان مشکل میں آ چکی تھی۔اب بھلا وہ اپنے ڈمپل والے ناراض سے شہزادے کو کیسے مناتی؟
💞💞💞💞
چاہت کو بہرام کو وہ خط بھیجے ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت ہو چکا تھا لیکن بہرام نے ابھی تک اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔وہ سمجھتی تھی کہ وہ خط پڑھتے ہی بہرام اسے طلاق بھجوا دے گا۔اسی لیے ہر نماز کے بعد اسکی بس ایک ہی دعا ہوتی تھی کہ اسے طلاق دینے کی بجائے بہرام اسکی جان لے لے۔

ابھی بھی وہ عشا کی نماز کے بعد ہمیشہ والی دعا کر کے اٹھی اور سکینہ کی جانب دیکھا جو ابھی بھی جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھیں۔

“میں کمرے میں سونے جا رہی ہوں اماں۔۔۔۔اللہ حافظ۔۔۔”

سکینہ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا تو چاہت انکے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آ گئی۔اس نے اندھیرے میں سوچ پر ہاتھ رکھ کر لائٹ آن کرنا چاہی لیکن بٹن دبانے کے باوجود لائٹ آن نہ ہونے پر وہ حیران ہو گئی۔

لگتا ہے لائٹ خراب ہو گئی ہے۔

چاہت نے سوچا اور اندھیرے میں اندازے سے ہی بیڈ تک گئی اور اپنا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھنے کے بعد بالوں کو کیچر سے آزاد کر کے لوز سا جوڑا بنایا اور بستر میں لیٹ گئی۔

اچانک ہی اسے احساس ہوا کہ وہ اکیلی نہیں ہے بلکہ کوئی اور بھی اسکے ساتھ موجود ہے۔چاہت نے سہم کر اپنے ساتھ دیکھنا چاہا لیکن اتنے اندھیرے میں اسے کچھ نظر نہیں آیا۔پھر ایک دم ہی ایک مظبوط بازو اسکی کمر کے گرد لپٹا اور ایک بھاری وجود اس پر حاوی ہو گیا۔

چاہت نے چیخنے کے لیے منہ کھولا لیکن اس سے پہلے ہی ایک مظبوط اسکے منہ پر آ کر اسکی چیخ کا گلا گھونٹ چکا تھا۔

“ششش۔۔۔۔۔آواز بھی نہ نکلے تمہاری ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔”

اپنے کان کے پاس اس سرگوشی کو محسوس کر کے چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔وہ بھلا کیسے اس آواز کو نہ پہچانتی یہ آواز تو اسکے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی۔

“خخخ۔۔۔۔خان جی۔۔۔۔”

چاہت نے اپنے ہونٹوں سے اسکا ہاتھ ہٹا کر گھبراتے ہوئے اسے پکارا۔

“ہاں چاہت تمہارا خان آج تمہارے جرم کا حساب کرنے آیا ہے تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا دینے آیا ہے۔۔۔۔”

بہرام کی آواز نے جہاں چاہت کے دل کو ایک سکون دیا تھا وہیں اسکی بات چاہت کو بے چین کر چکی تھی۔کہیں وہ اسے طلاق تو نہیں دینے آیا تھا۔یہ سوچ کر چاہت کا جسم کپکپانے لگا اور اس نے بہرام کا ہاتھ پکڑ کر اپنی گردن پر رکھ دیا۔

“میری جان لے لیں خان جی میں اف تک نہیں کروں گی لیکن مجھے طلاق مت دیجیے گا۔۔۔۔خدا کے لیے مجھے یہ سزا مت دیجیے گا۔۔۔۔”

چاہت کی بات پر حیران ہوتے بہرام نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ کے ساتھ موجود لیمپ آن کیا اور اسکی آنکھوں میں موجود خوف کو دیکھنے لگا۔اتنے سے عرصے میں اس نازک گڑیا نے اپنی کیا حالت بنا لی تھی۔

آنکھوں کے نیچے ہلکے سے سیاہ حلقے نمایاں ہو رہی تھی اور سوجے ہوئے پپوٹے اس کے بے تحاشا رونے کی داستان بیان کر رہے تھے۔بہرام کو بے ساختہ اپنی نازک سی جان پر رحم آیا وہ تو اتنے غم کے لیے بہت زیادہ نازک تھی نہ جانے ابھی تک کیسے اس غم کا بوجھ اٹھا پائی تھی وہ۔

“میں تمہیں طلاق دینے نہیں آیا چاہت۔۔۔۔”

بہرام کی بات پر چاہت نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر اتنے عرصے کے بعد اسے دیکھنے پر بس دیکھتی ہی رہ گئی۔بہرام کا وہاں ہونا ہی اسکے دل پر ٹھنڈی پھوار کے مترادف تھا لیکن پھر اپنا گناہ یاد کر کے چاہت نے شرمندگی سے نگاہیں جھکا لیں۔

“تو میری جان لے لیں خان جی اور پھر کسی اور سے شادی کر لینا۔۔۔ وہ جو آپ کے قابل ہو۔۔۔۔”

یہ بات کہتے ہوئے چاہت کی بھیگی آواز میں بہت زیادہ کرب تھا۔

“لیکن مجھے تو میری نادان سی چاہت ہی چاہئے۔کیا کروں اسکی طرح اور کوئی اس دل پر چڑتی ہی نہیں۔۔۔”

چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اسکی یہ حیرانگی دیکھ کر بہرام مسکرا دیا۔

“یہ۔۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔؟”

“وہی جو سچ ہے میری جان مجھے اس جہان میں ہی نہیں بلکہ اس اگلے جہان میں بھی بس میری چاہت چاہیے کیونکہ بہرام اسکے علاوہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔”

بہرام کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے چاہت کی حیرت میں اضافہ کی ہوا تھا اور پھر اسکے یوں اتنی آسانی سے معاف کر دینے پر چاہت نے اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا اور سسک سسک کر رونے لگی۔اسے یوں اتنے کرب سے روتا دیکھ بہرام کا دل بے چین ہوا۔

“چاہت۔۔۔۔”

“آپ بہت زیادہ عظیم انسان ہیں خان جی۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔میں آپ کے قابل نہیں۔۔۔بالکل بھی آپ کے قابل نہیں۔۔۔آپ تو مجھے معاف کر سکتی ہیں لیکن میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی کبھی نہیں۔۔۔۔۔”

اسے یوں بکھرا ہوا دیکھ بہرام کی پلکیں بھی نم ہو جائیں گئی تھیں۔

“ضرور کر پاؤ گی چاہت۔۔۔۔جب میری تمہاری محبت میرے احساس گناہ کو مٹا کر مجھے زندگی سے محبت کرنا سکھا سکتی ہے تم میری محبت بھی تمہیں پھر سے خود کو چاہنے پر مجبور کر دے گی۔۔۔۔۔”

بہرام کی بات پر چاہت کے آنسو مزید روانی سے بہنے لگے۔

“تمہاری محبت مجھ سے مجھ جیسے بکھرے ہوئے شخص کو سمیٹ سکتی ہے تو تمہیں سمجھنا تو بہت آسان ہے میری جان کیونکہ تم محبت اور الفت سے بھری پڑی ہو بالکل اپنے نام کی طرح۔۔۔۔ “

چاہت نے اسکے ایک نظر دیکھا اور پھر کرب سے اپنی آنکھیں موند گئی۔

“اگر آپ کو کچھ ہو جاتا خان جی تو میں بھی مر جاتی۔۔۔۔”

بہرام نے اسے پھر سے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔

“خدا نے ہمیں ملایا ہے چاہت پھر وہ ایسا کیوں ہونے دیتا۔۔۔۔”

چاہت ابھی بھی سسک سسک کر رو رہی تھی۔

“آئی ایم سوری خان جی۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔”

بہرام جانتا تھا کہ وہ بار بار معافی مانگ کر اپنے دل کا بوجھ کم کر رہی ہے۔اس نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے محبت سے بولا۔

“میں نے تمہیں معاف کیا چاہت دل سے معاف کیا۔۔۔۔”

چاہت روتے ہوئے مسکرا دی اور اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر پہلے اپنے ہونٹ بہرام کی دونوں آنکھوں پر رکھے اور پھر اسکے ایک ایک نقش کو چوم لیا۔

“تھینک یو سو مچ۔۔۔۔”

چاہت تو جزبات میں آ کر یہ بے اختیاری کر چکی تھی لیکن وہ اس بات سے انجان تھی کہ اس کی یہ حرکت بہرام کے جزبات کو کس قدر بھڑکا چکی ہے۔

بہرام نے اپنا ہاتھ اسکی نازک کمر میں لپیٹ کر اسے اپنے قریب کیا اور پر تپش نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔

“معاف کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ تمہیں سزا نہیں ملے گی۔سزا تو میں تمہیں ضرور دوں گا۔۔۔۔۔”

چاہت بہرام کی آنکھوں میں چھپا پیغام پڑھ نہیں پائی تھی۔

“آپ جو بھی سزا دیں گے مجھے منظور ہو گی۔۔۔۔”

چاہت نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہا جبکہ اسکی بات پر بہرام کا گھیرا اسکے گرد مزید تنگ ہو گیا۔

“سوچ لو ہو سکتا ہے وہ سزا تمہاری نازک جان سہہ نہ پائے ۔۔۔ “

چاہت نے ایک پل کو گھبرا کر بہرام کو دیکھا۔کیا وہ اسے اتنی بری سزا دینے والا تھا لیکن وہ جو بھی سزا ہوتی چاہت اسے برداشت کر کے اپنے خان جی منانے والی تھی۔

“میں سہہ لوں گی آپ دیں مجھے سزا۔۔۔ “

اتنا کہہ کر چاہت نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں اور بہرام کی نظر ان گلابی ہونٹوں پر ٹھہر گئی جو خوف سے کپکپا رہے تھے۔مزید کچھ سوچے سمجھے بغیر بہرام شدت سے ان ہونٹوں پر جھکا اور ان پر اپنی محبت،جنون چاہت سب نچھاور کرنے لگا۔

جبکہ بہرام کی اس حرکت پر چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل چکی تھیں۔وہ تو اسے سزا دینے والا تھا ناں تو کیا یہی اسکی سزا تھی۔

چاہت پل بھر میں سرخ گلاب کی مانند ہوتی اپنے آپ کو بہرام کے رحم و کرم پر چھوڑ گئی اور بہرام تو آج شائید فرصت سے محبت کا جام پینا چاہتا تھا اسی لیے تو چاہت کے کوئی مزاحمت نہ کرنے پر کتنی ہی دیر اس کی رکی سانسوں کو نظر انداز کرتا اسکے ہونٹوں پر اپنی شدت لٹاتا رہا۔

دل تھا کہ تپتے صحرا کی ماند ہو چلا تھا جس کی پیاس بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی پھر خود ہی اسکا احساس کر کے دور ہوا اور اس کا گل نار چہرہ دیکھنے لگا۔

“تو میری ہر سزا منظور ہے تمہیں۔۔۔۔”

بہرام نے اسکی جھکی پلکوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا جبکہ ہاتھ اسکے کندھے سے شرٹ نیچے کھسکا رہا تھا۔

“خان جی۔۔۔”

چاہت گھبرا کر اپنی آنکھیں زور سے میچ گئی تو بہرام کے عنابی لبوں کو ایک مسکان نے چھوا۔

“بولو چاہت دوں تمہیں سزا؟”

بہرام نے اسکے کان کے پاس سرگوشی کی۔چاہت نے گھبرا کر اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا اور اسکے خود سپردگی کے انداز پر بہرام نے اسے شدت سے اپنی گرفت میں لیا۔

چاہت مشکل سے اسکی باہوں میں سمٹی اسکے ہونٹوں کی گستاخیوں کو برداشت کر رہی تھی جو کبھی اس کی گردن کو چومتے تو کبھی کندھوں کو۔

پھر بہرام نے اسکے کان کی لو کو دانتوں میں دبایا تو چاہت سسک کر اسکی پناہوں میں چھپنے لگی۔

“خان جی پلیز۔۔۔”

بہرام نے جنون سے لبریز نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا جس کا روم روم اسکی قربت کے باعث کانپ رہا تھا۔

“تم میرا سب کچھ ہو چاہت خانزادہ ہمیشہ یاد رکھنا یہ بات کہ تمہارا بہرام تمہارے پیار اور بھروسے کے بغیر کچھ نہیں۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر بہرام اسکے وجود پر اپنی گرفت مظبوط کرتا ہر پردہ گرا گیا اور چاہت کسی بھی طرح کی مزاحمت کیے بغیر خود کو اسے سونپ گئی۔اگر اس سزا سے چاہت کو بہرام مل رہا تھا تو اسے یہ سزا دل سے قبول تھی۔
💞💞💞💞
فرزام اپنے کمرے میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب مناہل کافی کا کپ تھام کر اسکے پاس آئی اور وہ کافی کا مگ اس کے سامنے کیا۔

“میں نے کافی نہیں مانگی تھی۔۔۔”

فرزام نے ایک نظر مناہل کو دیکھ کر کہا اور پھر سے کام کرنے لگا جبکہ مناہل اب رونے والی ہو چکی تھی۔اس نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ فرزام کی ناراضگی اس قدر لمبی چلے گی۔

اسے تو اپنے فرزام کی نرمی اور اس کے پیار کی عادت تھی وہ اسکی بے رخی کیسے برداشت کر رہی تھی یہ وہی جانتی تھی۔

“ہاں لیکن میں نے بنا لی ناں تو پی لیں۔۔۔۔”

فرزام نے خاموشی سے وہ مگ پکڑا اور میز پر رکھ کر اپنا کام کرنے لگا۔مناہل منہ بنا کر اسکے سامنے بیٹھ گئی اور اسے دیکھنے لگی۔

“فرزام بس کر دیں ناں اب نیند آ رہی ہے۔۔۔۔”

فرزام نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا وہ تو جانتی بھی نہیں تھی اسکی اس بات سے فرزام کتنے معنی نکال چکا تھا۔

“تو سو جاؤ میں نے تمہیں منع کیا ہے کیا؟”

مناہل کا منہ مزید پھول گیا۔

“اکیلے نیند نہیں آتی آپ بھی ساتھ چلیں پھر سوتے ہیں۔۔۔۔”

فرزام گہرا سانس لے کر لیپ ٹاپ کو دیکھنے لگا۔

“مجھے کام ہے مناہل۔۔۔۔”

مناہل کی اب بس ہوئی تھی اسی لیے اٹھ کر اسکے پاس آئی اور لیپ ٹاپ بند کر کے اسے گھورنے لگی۔

“مجھے آپ کے علاوہ کوئی اور من کہہ کر بلاتا ہے تو مجھے بہت برا لگتا ہے اور اس سے بھی زیادہ برا تب لگتا ہے جب آپ مجھے مناہل کہہ کر بلاتے ہیں میں آپ کی من ہوں فرزام۔۔۔۔”

مناہل زرا سا جھک کر اسکے سینے پر ہاتھ رکھے کہہ رہی تھی اور فرزام اسے جنون سے دیکھتا اپنے ہاتھ اسکی نازک کلائیوں پر رکھ چکا تھا۔اس نے مناہل کو ہلکا سا جھٹکا دیا تو وہ فرزام کی آغوش میں گر گئی۔

“تم میری من نہیں۔۔۔۔میری من میری بات مانتی ہے اور مجھ پر بھروسہ کرتی ہے تم تو یہ دونوں کام نہیں کرتی مناہل۔۔۔۔”

فرزام نے مناہل پر زور دیتے ہوئے کہا تو مناہل کی پلکیں بھیگ گئیں ۔

“اب معاف بھی کر دیں ناں فرزام۔۔۔۔”

فرزام نے اسکے چہرے سے بال ہٹا کر اسکی معصومیت کو دیکھا۔

“اتنی آسانی سے معاف نہیں کروں گا میں فرزام ہوں بہرام نہیں۔۔۔۔”

مناہل نے لاچارگی سے اسے دیکھا۔

“تو بتائیں ناں آپ کیسے مانیں گے میں آپ کو ویسے منا لوں گی۔۔۔۔۔”

فرزام نے پر تپش نگاہوں سے اس کے حسین چہرے کا دیدار کیا۔

“میں کیا بتاؤں تم ہی کرو اب کچھ۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر فرزام نے اسے چھوڑا اور اٹھ کر واش روم میں بند ہو گیا جبکہ اتنی سی دیر میں اسے منانے کا سوچ سوچ کر وہ چھوٹی سی جان ہلکان ہو چکی تھی۔اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ کچھ بھی کر کے وہ اپنے فرزام کو منا لے گی وہ پھر سے اسکی من بن کر رہے گی۔
💞💞💞💞
“خان جی اب سونے دیں ناں۔۔۔”

چاہت نے لاڈ سے اسکے سینے میں چہرہ چھپاتے ہوئے کہا۔گزری رات کے ہر پہر میں بہرام نے اسے اپنی بے تحاشا محبت سے باور کروایا تھا اور چاہت اسکی محبت میں پور پور ڈوبی اسکی باہوں میں پناہ تلاش کر رہی تھی لیکن بہرام تو جیسے اسے ایک پل کے لیے بھی خود سے دور نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔وہ تو اسے سونے بھی نہیں دے رہا تھا۔

“کیا کرنا ہے تم نے سو کر چپ چاپ میری ناراضگی ختم کرو۔۔۔”

بہرام نے اسکی گردن میں چہرہ چھپاتے ہوئے کہا۔اسکی نظر چاہت کی نازک گردن پر پڑے لال نشان پر پڑی تو اسے چوم گیا۔

“اب بھی آپ کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی کیا؟”

چاہت کے صدمے سے پوچھنے پر بہرام ہلکا سا ہنس دیا۔

“تمہیں کیا لگا تھا اتنی آسان ہو گی تمہاری سزا۔۔۔۔یہ سزا تو اب تمہیں روز ملا کرے گی میری جان۔۔۔۔”

بہرام نے اسکے ہونٹوں کے قریب ہوتے ہوئے کہا تو چاہت گھبرا کر خود میں ہی سمٹ گئی۔

“تو پھر ہم سویا کب کریں گے خان جی۔۔۔۔”

چاہت کے معصومیت سے پوچھنے پر بہرام پھر سے ہنس دیا اور اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔

“تم زندگی سے زیادہ عزیز ہو مجھے چاہت خانزادہ۔۔۔۔”

بہرام کی محبت پر شرمائی سی چاہت کی پلکیں پھر سے نم ہو گئیں اور بہرام نے نرمی سے وہ آنسو ہونٹوں پر چن لیے۔وہ جانتا تھا کہ چاہت کا پچھتاوا ختم ہونے میں بہت زیادہ وقت لگے گا۔

“اب تم پھر سے اموشنل ہو رہی لگتا ہے تمہارے یہ آنسو ختم کرنے کے لیے رات والی ٹون میں آنا پڑے گا مجھے۔۔۔”

بہرام کے ایسا کہنے پر چاہت پھر سے گھبرا کر نظریں جھکا گئی لیکن نظر بہرام کے برہنہ سینے پر پڑی تو پاؤں کے ناخن تک شرم سے سرخ ہو گئی۔

“چاہت اٹھ جا بیٹا فجر کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔ “

سکینہ کی آواز پر چاہت کا سانس اسکے حلق میں ہی اٹک گیا اور وہ سہم کر بہرام کو دیکھنے لگیں۔

“چھوڑیں خان جی ورنہ اماں یہاں آ جائیں گی۔۔۔۔”

اسکی اس گھبراہٹ پر بہرام مسکراتے ہوئے اسے مزید خود میں سمیٹ گیا۔

“اور اگر میں نہ چھوڑوں تو۔۔۔۔؟”

چاہت مزید ہڑبڑا گئی۔وہ تو پہلے ہی اس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی اور اب اس حالت میں سکینہ کا یہاں آنے کا خوف۔چاہت بہت زیادہ مشکل میں آ چکی تھی۔

“پلیز چھوڑ دیں ناں جان جی۔۔۔”

چاہت نے بہت پیار سے کہا تھا لیکن جب اسے سمجھ آیا کہ وہ پھر سے اسے جان جی کہہ کر بلا چکی تو آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھنے لگی۔

“خان جی بولا میں نے۔۔۔۔”

اب کی بار بہرام ہنسنا شروع ہوا تو ہنستا ہی چلا گیا اور چاہت کھوئی سی اسکے گال میں موجود ڈمپل کو دیکھتی جا رہی تھی جس میں اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

“یہ بس میرا ہے ناں؟”

چاہت نے اسکے ڈمپل کو اپنی انگلی سے چھوتے ہوئے پوچھا تو بہرام نے مسکرا کر اپنی باہوں میں موجود اس نازک سی گڑیا کو دیکھا جو اسکی رات بھر کی شدتوں سے چور بکھری بکھری سی اسکے دل میں اتر رہی تھی۔

“صرف تمہارا ہے یہ میری جان،صرف میری چاہت کا۔۔۔ “

چاہت نے مسکراتے ہوئے اسکے ڈمپل پر اپنے ہونٹ رکھے اور ایسا کر کے وہ پھر سے بہرام کے جزبات کو بھڑکا چکی تھی۔

“ایسی حرکتیں کر کے کہتی ہو چھوڑ دوں تمہیں یہ ظلم نہیں تو کیا ہے۔۔۔۔”

بہرام پھر سے اسکے ہونٹوں کے قریب ہو کر پوچھنے لگا تو چاہت کا سانس سینے میں ہی اٹک گیا۔

“چاہت بیٹا نماز قضا ہو جائے گی اٹھ جاؤ۔۔۔ “

اب کی بار سکینہ نے دروازہ کھٹکھٹا کر کہا تو چاہت نے بمشکل جی اماں کہا اور بہرام کو لاچارگی سے دیکھنے لگی۔

“پلیز خان جی جانے دیں ناں۔۔۔۔”

چاہت کے اتنی محبت سے کہنے پر بہرام نے اسکے ماتھے کو چوما اور اسے چھوڑ دیا۔

“جاؤ۔۔۔۔”

چاہت نے سکھ کا سانس لیا اور جلدی سے اٹھ کر واش روم میں بند ہو گئی۔بہرام اسے یوں جاتا دیکھ مسکرا دیا چاہت کی قربت نے اس میں نئی زندگی ڈال دی تھی۔سچ ہی تو تھا سکون صرف محبت میں ہی تو ہے۔

چاہت نہانے کے بعد ٹھیک سے دوپٹہ لیتی سکینہ کے پاس نماز پڑھنے چلی گئی اور بہرام نے بھی فریش ہو کر نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔اپنی زندگی کی تمام رنجشیں ختم ہو جانے پر وہ بھی خدا کا شکر ادا کرنا چاہتا تھا۔

چاہت کمرے سے باہر آئی اور سکینہ کے ساتھ جائے نماز بچھا کر نماز ادا کرنے لگی۔آج دعا مانگتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی نہیں تھی بلکہ اسکی آنکھوں میں خوشی اور شکرانے کے آنسو تھے۔

“چاہت تم کس سے باتیں کر رہی تھی؟”

نماز پڑھنے کے بعد سکینہ نے چاہت سے پوچھا تو چاہت گھبرا کر انہیں دیکھنے لگی۔

“بب۔۔۔۔باتیں۔۔۔؟”

“ہاں میں نے تمہیں کسی سے بات کرتے سنا۔۔۔ کس سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔”

سکینہ کے پھر سے پوچھنے پر چاہت کا حجاب میں لپٹا چہرہ گلال ہو گیا اور وہ اپنا سر جھکا گئی۔

“وہ اماں خان جی آئے تھے رات کو میں ان سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔”

چاہت کی بات پر سکینہ مسکرا دیں اور اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔چاہت کا وہ بھیگا سا روپ اور اسکا شرمانا ہی بہت کچھ بیان کر رہا تھا۔

“ہمیشہ خوش رہو۔۔۔”

سکینہ نے اسے دعا دی اور چاہت ناشتہ بنانے میں انکی مدد کرنے لگی۔سکینہ نے آج بہرام کی وجہ سے ناشتے میں خاص احتمام کیا تھا۔

“جاؤ چاہت بہرام کو بلا کر لاؤ ناشتے کے لیے۔۔۔”

سکینہ کی بات پر چاہت کے ہاتھ کپکپانے لگے۔۔

“اماں۔۔۔مم۔۔ میں برتن لگاتی ہوں ناں آپ بلا لائیں۔۔۔”

سکینہ نے زرا غصے سے اسے دیکھا۔

“وہ تمہارا شوہر ہے چاہت جاؤ اور اسے بلا کر لاؤ۔۔۔”

چاہت انکی بات مانتی اپنے کمرے کی جانب چل دی لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بہرام کا سامنا کیسے کرے گی۔آخر کار وہ ہمت کر کے کمرے میں آئی اور بہرام کو دیکھا جو آئنے کے سامنے کھڑا اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا۔

“خخ۔۔۔خان جی ناشتہ کر لیں۔۔۔”

بہرام نے آئنے میں سے اسے دیکھا جو سلیقے سے سر پر دوپٹہ سجائے شرمائی سی وہاں کھڑی تھی۔اسکا روم روم بہرام کی محبت کی گواہی دے رہا جس میں وہ رات بھر بھیگی تھی۔

“ٹھیک ہے کرواؤ ۔۔۔۔۔”

چاہت نے حیرت سے اسے دیکھا اور اسکی معنی خیز آنکھوں کا مطلب سمجھتے خفگی سے منہ بسور گئی۔

“باہر آ کر کھانا کھائیں۔۔۔سچی بہت خراب ہیں آپ۔۔۔ “

چاہت سرخ چہرے کے ساتھ کہتی کمرے سے باہر نکل گئی اور بہرام اپنی مسکراہٹ دباتا اسکے پیچھے آیا۔سکینہ نے یوں ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر ڈھیروں دعائیں دی تھیں۔

“اماں جی آپ اپنا سامان پیک کریں اب کی بار میں آپ کو بھی اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔۔۔”

ناشتہ کرتے ہوئے بہرام نے کہا تو سکینہ نے انکار میں سر ہلایا۔

“نہیں بیٹا میں اپنی بیٹی کے سسرال کیسے رہ سکتی ہوں تم دونوں اپنی زندگی میں خوش رہو میرے لئے یہی کافی ہے۔”

بہرام اٹھ کر انکے پاس آیا اور ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیے۔

“میں آپ کو اماں جی کہتا ہی نہیں اپنی ماں سمجھتا ہوں اور ماں اپنے بیٹے کے پاس رہتے ہوئے ہچکچاتی نہیں کیونکہ یہ اسکا حق ہوتا ہے۔۔۔۔”

سکینہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن بہرام کا سر انکار میں ہلتا دیکھ کر خاموش ہو گئیں۔

“اگر ابھی بھی آپ انکار کر دیں گی تو میں یہی سمجھوں گا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا نہیں مانتیں۔۔۔۔”

بہرام نے شرارت سے چاہت کی جانب دیکھا جو بظاہر تو ناشتہ کر رہی تھی لیکن بار بار نظریں چرا کر بہرام کو دیکھ رہی تھی۔

“ویسے بھی آپکی بیٹی زرا سی پاگل ہے اسے عقل دینے کے آپ ہر وقت اسکے پاس رہیں تو بہتر ہے۔۔۔۔”

سکینہ بہرام کی بات پر ہلکا سا ہنس دیں جبکہ چاہت اب منہ بسور کر اسے دیکھ رہی تھی۔

“بس آپ تیار ہوں ہم تینوں ساتھ ہی اپنے گھر چلیں گے جو کسی بزرگ کے سائے کے بغیر سونا ہے اماں جی اور آپ ہی ہمارے گھر کو مکمل کر سکتی ہیں۔۔۔۔”

بہرام کی محبت پر سکینہ کی پلکیں بھیگ گئیں اور انہوں نے بہرام کے سر پر ہاتھ رکھ کر ہاں میں سر ہلایا۔بہرام نے چاہت کی طرف دیکھا جو نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔سکینہ اسے صحیح تو کہتی تھیں بہرام ایک ہیرا تھا اور چاہت اسے پانے کے لیے خدا کا جتنا بھی شکر ادا کرتی کم تھا جبکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکی محبت بہرام کے لیے سب سے قیمتی تحفہ تھا۔
💞💞💞💞
الطاف کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔اسے جب سے یہ پتہ چلا تھا کہ وہ کبھی چل نہیں سکے گا تو وہ مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا۔

ابھی بھی اپنے تاریک کمرے میں تنہا بیٹھا وہ سوچ رہا تھا کہ جس دولت کے لیے اس نے اپنے بھائی کو مارا۔۔۔جس دولت کے غرور میں اس نے سلیمان اور وردہ کی زندگی کو کھلونا سمجھا اب وہ دولت اس کے کس کام آئی تھی۔

یہ عارضی دولت تو اس کے پاس تھی لیکن زندگی کی سب سے قیمتی دولت جسے پیار اور سکون کہتے ہیں الطاف اس سے ہی عاری تھا۔

وہ دولت جسے الطاف نے ہمیشہ پوجا تھا آج اس کے ہوتے ہوئے بھی وہ ایک فقیر سے بھی بد تر تھا۔

اپنے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر الطاف نے حبہ کو دیکھا جو کچھ پیپرز کے کر اسکے پاس آئی تھی۔

“میں بزنس کو ٹیک اور کرنے لگیں ہوں بابا اس کے لیے ان پیپرز پر آپ کے سائن چاہیں۔۔۔۔”

الطاف نے اپنے سامنے پڑے ان کاغزات کو دیکھا اور پھر حبہ کو دیکھا۔

“میں بہت اکیلا ہوں بیٹا تم بھی مجھ سے ملنے نہیں آتی۔۔۔۔اور اب میرے پاس آئی ہو تو کیا بس اس بزنس کے لیے۔۔۔۔”

حبہ نے گھائل نظروں سے الطاف کو دیکھا۔

“آپ تنہا خود کی وجہ سے ہیں بابا کیونکہ آپ کسی بھی رشتے کی قدر نہیں کر پائے تو اب رشتے آپ کی قدر کہاں سے کریں گے۔۔۔۔”

حبہ کی بات پر الطاف کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“میں ابھی ان پر سائن کر دیتا ہوں بس تم میری ایک خواہش پوری کر دو۔۔۔۔”

حبا نے سوالیہ نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا۔

“بہرام اور فرزام سے کہو کہ وہ ایک بار مجھ سے مل لیں مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہئے۔۔۔۔”

حبہ کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آئی۔

“آپ کو لگتا ہے کہ جو آپ نے ان کے ساتھ کیا اس کے بعد وہ آپ کو دیکھنا بھی گوارا کریں گے۔۔۔۔نہیں بابا ایک مظلوم لڑکی کو کھلونا سمجھنے کی سزا یہی ہے کے دو بیٹے ہوتے ہوئے بھی اب انہیں اپنا بیٹا نہیں کہہ سکتے۔۔۔۔اور اب آپ چاہیں یا نہ چاہیں آپ کو یہ سزا بھگتنی ہے۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر حبا بھی وہاں سے چلی گئی اور الطاف اپنی محرومیوں پر چیخ چیخ کر رو دیا لیکن اب رونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ یہ محرومیاں اس کے اپنے گناہوں کی سزا تھیں۔