📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 06)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 06)

Kaif E Junoon By Harram Shah

“نکاح کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں امید ہے شام تک آپ اور آپ کے بھائی بھی تیار ہونگے۔۔۔۔”

الطاف جو اس وقت بہرام کے ساتھ اپنے گھر کے لاونج میں بیٹھا تھا اسے تمام تیاری سے آگاہ کرنے لگا۔

“جی ہم تیار ہوں گے آپ فکر مت کریں۔”

بہرام نے سرد مہری سے کہا۔الطاف اسکی بات پر زرا سا مسکرا دیا۔

“اوہ تو پھر جو پارٹنرشپ ہمارے درمیان ہونی تھی اسکا پراسیس۔۔۔”

“اتنی بھی کیا جلدی ہے بیگ صاحب نکاح کے بعد اس سب کی طرف ہی جائیں گے ہم۔۔۔۔”

الطاف نے ہاں میں سر ہلایا۔

“مجھے ہمارے پھر سے ایک ہونے پر بہت زیادہ خوشی ہے یقین جانیں سلیمان کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا تھا میرا۔۔۔”

بہرام نے اسکی بات پر صرف اثبات میں سر ہلایا۔

“اور ہمارا وقت اس سے بھی زیادہ اچھا گزرے گا۔۔۔۔”

الطاف کی مسکراہٹ اسکی بات پر گہری ہو گئی۔

“ضرور۔۔۔اچھا اب میں زرا باقی کے انتظامات دیکھ لوں آپ تب تک آرام کر لیں۔۔۔”

الطاف نے گھڑی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا اور مسکرا کر وہاں سے چلا گیا اسکے جاتے ہی بہرام کی آنکھوں میں بے پناہ نفرت اتری تھی۔

“تمہاری اس خوشی کو بہت جلد تمہاری بربادی بنا دوں گا۔۔۔۔”

بہرام نے آہستہ سے خود سے کہا۔

“تیار رہنا الطاف بیگ بیت جلد تم سڑک پر آنے والے ہو۔۔۔”

اچانک ہی بہرام کی جیب میں موجود اسکا موبائل بجنے لگا۔اس نے موبائل نکال کر دیکھا تو اس میں سکینہ کا نمبر دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔

“اسلام و علیکم اماں جی۔۔۔۔”

بہرام نے موبائل کان سے لگاتے ہی کہا لیکن سکینہ کے رونے کی آواز نے اسے بہت زیادہ بے چین کر دیا۔

“اماں جی کیا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے ناں؟”

بہرام نے بہت زیادہ پریشانی سے پوچھا جبکہ سکینہ مسلسل رو رہی تھیں۔

“سب ٹھیک نہیں ہے بیٹا۔۔۔۔۔چاہت۔۔۔”

چاہت کے ذکر پر بہرام کا دھڑکتا دل ایک پل کو رک گیا۔

“کیا ہوا چاہت کو وہ ٹھیک تو ہے ناں؟”

بہرام نے بے چینی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔

“نہیں ٹھیک وہ بیٹا پاگل ہو گئی ہے۔۔۔اپنے کالج کے لڑکے سے نکاح کرنے جا رہی ہے اور وہ بھی وہ لڑکا جو انتہائی آوارہ ہے اور اسے کالج میں چھڑا کرتا تھا۔۔۔۔۔”

یہ بات سن کر بہرام کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا۔

“لیکن چاہت کیسے اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے وہ صرف سترہ سال کی ہے قانون اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔”

اس بات پر سکینہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئیں۔

“تین دن پہلے اسکی سالگرہ تھی بیٹا اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے وہ۔۔۔”

بہرام کو خود پر بے تحاشا افسوس ہوا اپنی پریشانی میں وہ پہلی مرتبہ چاہت کا برتھ ڈے بھول گیا تھا۔

“اب وہ میری ایک نہیں سن رہی بہرام،میں نے پیار سے،غصے سے ہر طرح سے کہہ کر دیکھا ہے لیکن وہ کہتی ہے میں نے اسے روکا تو اپنی جان لے لے گی۔۔۔۔”

اماں جی روتے ہوئے کہہ رہی تھیں اور ان کی باتیں سن کر بہرام کا دل کر رہا تھا کہ کسی کی جان لے لے۔

“آپ فکر مت کریں میں وہاں آ رہا ہوں اسے ایسی بیوقوفی نہیں کرنے دوں گا لیکن آپ پلیز پریشان مت ہوں۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر بہرام نے فون بند کر دیا اور سیدھا اپنے کمرے میں جاکر ضروری چیزیں پیک کرنے لگا۔

“آپ نے بلایا تھا سر۔۔۔۔”

بہرام کے گارڈ نے کمرے میں آکر پوچھا جسے بہرام نے ایک ملازم کے ہاتھ پیغام بھجوایا تھا۔

“ہاں رشید میری ایک ارجینٹ اسلام آباد کی ٹکٹ کنفرم کرواؤ۔۔۔۔”

رشید نے حیرت سے اپنے مالک کو دیکھا جو اپنے نکاح والے دن اچانک اسلام آباد جانے کی بات کر رہا تھا۔پھر اس نے موبائل نکالا اور ایک ایجنٹ کو کال کرکے ٹکٹ بک کروائی۔

“ایک گھنٹے میں اسلام آباد کی پہلی فلائٹ جا رہی ہے سر۔۔۔۔”

بہرام نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنا سامان پکڑ کر ملازم کی جانب مڑا۔

“میں شام تک واپس آنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم یہیں رکو۔”

رشید مزاحمت کرنا چاہتا تھا لیکن بہرام نے اسے بولنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔

“فرزام کو میں فون کر رہا ہوں لیکن وہ اٹھا نہیں رہا نہ جانے صبح سے کہاں آوارہ گردی کرنے چلا گیا ہے۔۔۔۔”

بہرام نے زرا غصے سے کہا۔

“تم یہیں رکو اور جیسے ہی وہ گھر واپس آئے تو اسے بتانا کہ مجھے ایک ضروری کام سے اسلام آباد جانا پڑ گیا ہے اور شام تک واپس آ جاؤں گا۔۔۔۔”

رشید کے اثبات میں سر ہلانے پر بہرام دروازے کی جانب بڑھ گیا پھر کچھ سوچ کر واپس رشید کی طرف مڑا۔

“فرزام کا خیال رکھنا اس کی ذمہ داری تم پر ہے۔۔۔۔”

رشید نے پھر سے عاجزی سے اثبات میں سر ہلا اور بہرام اس خاموشی سے گھر سے نکل گیا کہ کسی کو بھی اس کے جانے کی خبر نہیں ہوئی۔اسے بس جلد از جلد اسلام آباد پہنچ کر چاہت کو یہ بیوقوفی کرنے سے روکنا تھا۔
💞💞💞💞
چاہت تیار ہوکر خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھی۔سفید رنگ کی جالی دار فراک پہنے وہ نازک سی پری سادگی میں بھی بہت زیادہ دلکش لگ رہی تھی لیکن چہرے پر بے تحاشہ افسردگی اس کے دل کا ہر حال بیان کر رہی تھی۔

“چاہت میں کہہ رہی ہوں ایسا مت کرو تمہیں میری قسم۔۔۔۔”

سکینہ نے ایک مرتبہ پھر سے کوشش کی۔صبح جب چاہت نے اپنے نکاح کی بات کرکے ان پر بم گرایا تھا تب سے اب تک وہ کتنی ہی بار چاہت کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کر چکی تھیں۔

“میں تیار ہوں آپ بھی تیار ہو جائیں سیفی کسی بھی وقت ہمیں یہاں لینے پہنچتا ہوگا۔۔۔”

چاہت نے سنجیدگی سے کہا اور اپنی کالی چادر اٹھا کر اپنے گرد لپیٹ لپیٹ لی۔

“تم اس لڑکے سے کیسے شادی کر سکتی ہو چاہت جو تمہیں کالج میں پریشان کیا کرتا تھا میں کیسے اپنی اکلوتی بیٹی کو ایک آوارہ کے پلّے بندھتا دیکھ لوں میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔۔”

چاہت نے گھائل نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا۔

“تو ٹھیک ہے آپ گھر رہیں میں اکیلی چلی جاؤں گی۔۔۔۔”

سکینہ حد سے زیادہ بے بس ہو چکی تھیں۔

“میری چھوٹی سی گڑیا آج اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ میری مرضی کے بغیر اپنے فیصلے لینے لگ گئی۔۔۔”

سکینہ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا چاہت ان کے پاس آئی اور ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لئے۔

“آپ کی اس چھوٹی سی گڑیا کو کسی نے بہت بے دردی سے توڑ دیا اماں اب میں وہ گڑیا نہیں رہی۔۔۔”

سکینہ نے لا چارگی سے چاہت کو دیکھا وہ اسے سمجھانا چاہتی تھیں یہ بیوقوفی کرنے سے روکنا چاہتی تھیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں دروازہ کھٹکنے کی آواز پر چاہت نے دروازے کی جانب دیکھا۔

“لگتا ہے سیفی آ گیا۔۔۔”

چاہت نے اپنے گرد چادر ٹھیک کی۔

“میں باہر اس کے ساتھ آپ کا انتظار کروں گی اگر اب دس منٹ میں باہر آ گئیں تو میں سمجھ جاؤں گی کہ آپ کو بہرام خانزادہ سے زیادہ اپنی بیٹی پیاری ہے۔۔۔۔”

چاہت نے اتنا کہا اور باہر چلی گئی۔سکینہ بہت دیر بے بسی سے آنسو بہاتی رہیں پھر انہوں نے بھی اپنی چادر پکڑ کر سر پر لی اور چاہت کے ساتھ باہر آ گئیں جہاں ایک لڑکا چاہت کے قریب کھڑا تھا۔

اس کی آنکھوں سے ہی چاہت کے لیے ہوس صاف ٹپک رہی تھی اگر وہ یہ نکاح کر رہا تھا تو صرف اپنا مطلب پورا کرنے کے لیے۔

“یا اللہ میری بیوقوف بیٹی کو ہدایت دینا اسے اچھے برے کا نہیں پتہ میرے مولا اسکی حفاظت کرنا۔۔۔۔”

سکینہ نے دعا کی اور خاموشی سے چاہت کے ساتھ ٹیکسی کے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔سیفی نے ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر اسے نادرا آفس جانے کا کہا کیونکہ انہیں پہلے چاہت کا شناختی کارڈ لینا تھا۔

سکینہ بس دعائیں کر رہی تھیں کہ کسی طرح یہ نکاح ہونے سے پہلے بہرام یہاں آ جائے اور چاہت کو ایسا کرنے سے روک لے۔انہوں نے نادرا سے شناختی کارڈ لیا اور پھر رجسٹرار کے آفس کی جانب چل دیے۔

“نکاح کے پیپرز میں نے صبح ہی تیار کروا لیے تھے بس جلدی سے کام ختم کرنا ہے اب۔۔۔۔”

سیفی کی آواز ٹیکسی میں گونجی۔

“میں نے اپنے گھر والوں کو تو ابھی نکاح کے بارے میں نہیں بتایا وہ کیا ہے ناں میرے ابا گاؤں میں چوہدری ہیں انہیں پتہ لگا تو برا مان جائیں گے خیر تم آج میرے ساتھ چلنا ہم کچھ وقت ساتھ گزاریں گے اور پھر جا کر میرے گھر والوں کو بھی سب بتا دیں گے۔۔۔۔”

سیفی نے کار کے فرنٹ مرر سے چاہت کو دیکھتے ہوئے کہا جس نے جواب میں بس ہاں میں سر ہلا دیا جبکہ سکینہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنی بچی کو اسکی غلیظ نظروں سے کہیں چھپا لیں۔

رجسٹرار کے آفس پہنچ کر سیفی دفتر چلا گیا تا کہ پوچھ سکے کہ سب تیار ہے یا نہیں۔

“آخری بار سوچ لے چاہت یہ پوری زندگی کا معاملہ ہے میرا بچہ اپنی زندگی یوں برباد مت کرو۔۔۔”

ایک گھائل مسکراہٹ چاہت کے ہونٹوں پر آئی۔

“جو پہلے ہی برباد ہو وہ خود کو کیا برباد کرے گا۔۔۔”

تبھی سیفی مسکراتے ہوئے وہاں آیا اور کار کا دروازہ کھولا۔

“چلیں بھئی سب تیاری مکمل ہے۔آپ بھی آ جاؤ اماں جی آپکی گواہی ڈلے گی۔۔۔”

سیفی کی بات پر چاہت نے کرب سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔اس نے ہمیشہ سے خود کو بس بہرام کے لیے سوچا تھا اور ابھی کسی اور کا ہونا اسکے لیے کس قدر اذیت ناک تھا یہ وہی جانتی تھی۔

لیکن وہ چاہتی تھی کہ بہرام جب نکاح کرکے واپس آئے تو اسے پتہ چلے کہ کیسے چاہت نے خود کو اسکی وجہ سے برباد کر لیا تھا۔

“ہم چلو۔۔۔”

چاہت نے آہستہ سے کہا اور گاڑی سے باہر نکل آئی۔سکینہ بھی باہر نکل کر بے بسی سے اسکے ساتھ چل دیں۔وہ سب رجسٹرار کے آفس کی جانب چل دیے لیکن آفس کے راستے میں ایک گاڑی کھڑی دیکھ کر سیفی حیران ہو گیا۔

“ہیے مسٹر اپنی گاڑی ہٹاؤ یہاں سے۔۔۔”

سیفی نے کار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے آدمی سے کہا جو اسے ایسے گھور رہا تھا جیسے اسے یہیں زندہ درگو کر دے گا۔

“اپنا منہ بند رکھو ورنہ گاڑی کا تو پتہ نہیں البتہ تمہیں ضرور راستے سے ہٹا دوں گا۔”

اس گھمبیر آواز پر چاہت نے حیرت سے نگاہیں اٹھا کر بہرام خانزادہ کو دیکھا جس کی آنکھوں سے غضبناک شرارے نکل رہے تھے۔سکینہ نے تو بہرام کو دیکھ کر ہی خدا کا شکر ادا کیا تھا۔

“خان جی آپ یہاں؟”

چاہت کے حیرت سے پوچھنے پر بہرام اپنی کار کے پاس سے ہٹا اور چاہت کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔

“گاڑی میں بیٹھو تم ابھی اور اسی وقت گھر واپس جا رہی ہو۔۔۔”

چاہت بے یقینی سے اس سنگ دل آدمی کو دیکھنے لگی جو کتنے حق سے یہ بات کہہ رہا تھا۔

“نہیں میرا نکاح ہے اور نکاح ہونے کے بعد میں اپنے گھر جاؤں گی۔۔۔”

چاہت نے بہادری سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سیفی کا ہاتھ پکڑ لیا جبکہ بہرام نے دانت کچکچا کر اسکا وہ نازک ہاتھ اس لڑکے کے ہاتھ میں دیکھا۔

“تم نے سنا نہیں چاہت کہ میں نے کیا کہا تم گھر جا رہی ہو۔۔۔کوئی نکاح نہیں ہو رہا یہاں۔اپنی اس بے وقوفی کو ختم کرو اب۔۔۔”

بہرام نے سختی سے کہا اور آگے بڑھ کر چاہت کا ہاتھ پکڑ کر سیفی کے ہاتھ سے چھڑوا دیا۔

“کس حق سے روک رہے ہیں آپ مجھے ہاں؟آپ کا کوئی حق نہیں بنتا مجھ پر جائیں اور اپنی اس بیوی پر حق جتائیں آپ۔”

بہرام نے اب کی بار اسکا بازو سختی سے اپنی گرفت میں لے لیا۔اسکے لمس میں اتنی سختی تھی کہ چاہت نے بہت مشکل سے اپنی سسکی کو روکا۔

“شٹ اپ چاہت ۔۔۔۔اپنی اس بیوقوفی کو فوراً ختم کرو اور شرافت سے گھر واپس چلو تم۔۔۔۔”

چاہت نے بھی سختی سے اپنا بازو چھڑوا لیا۔

“نہیں جاؤں گی میں یہاں سے۔۔۔۔آپ نے کہا تھا کہ میں آپ کے قابل نہیں تو میں نے اپنی اوقات کے مطابق شوہر ڈھونڈ لیا ہے اب مجھے یہ شادی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔”

چاہت بہرام سے دور ہو کر سیفی کے پاس جانے لگی لیکن بہرام نے پھر سے اسکا بازو پکڑ کر اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔

“تم یہ نکاح نہیں کر رہی چاہت سنا تم نے۔۔۔۔”

بہرام اتنے غصے سے چلایا کہ اردگرد موجود ہر شخص حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔

“کیوں نہیں؟جب آپ اس سے نکاح کر سکتے ہیں تو میری مرضی میں جس سے چاہے شادی کروں آپ کے پاس مجھے روکنے کا کوئی حق نہیں ۔۔۔۔ “

چاہت نے بھی بغیر ڈرے غصے سے کہا اور آگے بڑھ کر سیفی کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“چلو سیفی ہمیں وقت نہیں ضائع کرنا۔۔۔۔”

چاہت نے بہرام کو دیکھتے ہوئے کہا اور رجسٹرار کے دفتر کی جانب چل دی۔ابھی وہ کچھ قدم ہی چلے تھے جب بہرام آگے بڑھا اور سیفی کو گریبان سے جکڑ لیا۔

“چلے جاؤ یہاں سے یہی بہتر ہو گا تمہارے حق میں۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں یہ غصہ دیکھ کر سیفی گھبرا گیا مگر چاہت نے سیفی کا گریبان بہرام کے ہاتھوں سے چھڑایا اور خود اسکے سامنے ہو گئی۔

“نہیں جائے گا وہ یہاں سے۔۔۔۔اگر آپ کو یہ نکاح اتنا ہی برا لگ رہا ہے تو آپ چلے جائیں بہرام خانزادہ اور جا کر اس سے نکاح کر لیں جو آپ کے قابل ہے کیونکہ میں غریب اپنی اوقات کے مطابق شوہر ڈھونڈ چکی ہوں۔۔۔۔”

بہرام نے آنکھیں چھوٹی کر کے چاہت کو دیکھا۔انکھوں میں غصے کے شرارے دوڑ رہے تھے لیکن وہ بھی چاہت کو ڈرانے کے لیے نا کافی تھے۔اچانک ہی بہرام نے انتہائی سختی سے چاہت کو دونوں کندھوں سے پکڑ لیا۔

“ٹھیک ہے تمہیں نکاح کرنے کی اتنی ہی بے چینی ہے ناں تو تمہارا نکاح اسی وقت ہو گا لیکن اس سے نہیں بہرام خانزادہ سے۔۔۔۔”

بہرام کی بات پر چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔وہ بت بن کر بس اسے تکنے لگی۔

“بہت شوق تھا ناں تمہیں میری ہونے کا تو مبارک ہو چاہت عباس آج تم بہرام خانزادہ کی ہو جاؤ گی لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔۔”

بہرام ایک پل کو رکا اور اپنے دائیں ہاتھ میں اسکا خوبصورت چہرہ دبوچ لیا۔

“اپنی اس ضد کی وجہ سے زندگی کا ہر پل پچھتاؤ گی تم۔۔۔۔”

بہرام نے انتہائی زیادہ غصے سے کہا اور اسے بازو سے کھینچتا رجسٹرار کے آفس کی جانب چل دیا۔چاہت اسکی بے خودی پر حیران تھی لیکن اندر ہی اندر سے خوش بھی ۔اسکے لیے تو یہی کافی تھا کہ جسے وہ جی جان سے چاہتی تھی وہ اسکی ہونے جا رہی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکا یہ بچپنا اسے کس قدر مہنگا پڑنے والا تھا۔
💞💞💞💞
فرزام بیگ ولا واپس آیا تو بہرام کے گارڈ نے اسے ہر بات بتا دی۔اسکی بات سن کر فرزام کافی زیادہ پریشان ہو چکا تھا۔اس نے بہرام کو کوئی مرتبہ فون کرنا چاہا لیکن وہ شائید اس نے فلائٹ پر ہونے کی وجہ سے ائیر پلین موڈ پر لگایا تھا۔

“فرزام صاحب آپ کو الطاف صاحب بلا رہے ہیں۔۔۔۔”

فرزام نے ملازم کی بات پر دانت کچکچائے۔کل سے وہ جس قدر ہو سکتا تھا اس گھر اور گھر والوں سے دور ہی رہ رہا تھا لیکن اب ایک نئی مصیبت سر پر آن پڑی تھی۔

“تم چلو میں آ رہا ہوں۔۔۔”

ملازم نے ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔فرزام نے ایک آخری مرتبہ بہرام کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن اسکا نمبر ابھی بھی نہیں لگ رہا تھا۔

گہرا سانس کے کر وہ کمرے سے باہر نکلا اور ہال میں آ گیا جہاں الطاف فیض،شیزہ اور انجم بیگم کے ساتھ اسکا انتظار کر رہا تھا۔

“مجھے چوکیدار نے بتایا کہ بہرام صاحب صبح سے کہیں گئے ہیں اور اب تک واپس نہیں آئے کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔۔۔”

فرزام الطاف کی آواز میں چھپا غصہ محسوس کر سکتا تھا لیکن اسے اس غصے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

“میں نہیں جانتا لیکن بہرام سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جیسے ہی مجھے کچھ پتہ چلتا ہے آپ کو ضرور بتاؤں گا۔۔۔”

اتنا کہہ کر فرزام وہاں سے جانے لگا۔

“مسٹر فرزام باہر سب مہمان آ چکے ہیں مناہل بالکل تیار ہے اب میں سب کو کیا جواب دوں کہ دلہے صاحب آخری موقع پر نہ جانے کہاں غائب ہو چکے ہیں۔۔۔”

الطاف کے غصے سے کہنے پر فرزام اسکی جانب مڑا۔

“یہ میرا مسئلہ نہیں ہے وہ آپ کے رشتہ دار ہیں جو مرضی جواب دیں آپ انہیں۔۔۔میرا بہرام سے جیسے ہی رابطہ ہوگا میں آپ کو بتا دوں گا۔”

فرزام اتنا کہہ کر پھر سے وہاں سے جانے لگا اور الطاف اس لڑکے کی ہٹ دھرمی پر مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔تبھی فرزام کی جیب میں موجود موبائل بجنے لگا۔

فرزام نے موبائل نکال کر دیکھا تو بہرام کا نمبر دیکھ کر اس نے سکھ کا سانس لیا۔

“ہیلو بہرام وئیر دا ہیل آر یو مین ۔۔۔؟”

فرزام نے پریشانی سے پوچھا جبکہ اسکے سوال پر کچھ دیر دوسری طرف خاموشی چھائی رہی۔پھر بہرام نے گہرا سانس لے کر ساری بات فرزام کو بتا دی جسے فرزام اطمینان سے سنتا رہا۔

“ابھی کہاں ہو تم؟”

فرزام کے سوال پر بہرام نے اپنی گاڑی کو دیکھا جس میں چاہت اور سکینہ بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ وہ خود گاڑی سے باہر تھا۔

“ابھی میرج رجسٹرار کے آفس ہی ہوں۔۔۔”

فرزام کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی۔

“تو کیا تم نے چاہت سے؟”

بہرام نے ایک گہرا سانس لیا۔

“ہاں ہمارا نکاح ہو چکا ہے لیکن مجھے پریشانی اس بات کی ہے کہ ہم الطاف بیگ کو کیا جواب دیں گے؟”

فرزام کے گال کا گھڑا مزید گہرا ہو گیا۔

“فکر مت کرو میں سب سنبھال لوں گا تم چاہت اور اماں جی کو گھر لے کر جاؤ۔۔۔”

“لیکن فرزام۔۔۔”

“ٹرسٹ می بگ بی میں سب ہینڈل کر لوں گا۔۔۔۔۔”

کچھ دیر سوچنے کے بعد بہرام نے گہرا سانس لیا اور ٹھیک ہے کہہ کر فون بند کر دیا۔فرزام بھی فون بند کر کے الطاف کی طرف مڑا۔

“کیا کہا بہرام نے کہاں ہے وہ؟”

فرزام نے دلچسپی سے سب کے چہرے پر موجود اس پریشانی کو دیکھا۔

“ایک مجبوری کی وجہ سے اسے اسلام آباد جانا پڑا بہرام یہ نکاح نہیں کر سکتا۔۔۔”

فرزام نے سب پر بم گرایا۔

“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم؟”

فیض کے غصے سے چلانے پر فرزام کے ماتھے پر بل آ گئے۔

“سچ۔۔۔کیوں پسند نہیں آیا؟”

فیض نے اپنے دانت کچکچائے اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ کہتا الطاف نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا کہا اور خود فرزام کے قریب ہو گیا۔

“یہ کوئی مزاق نہیں ہے بچے ہمارے خاندان کی عزت کا معاملہ ہے اگر آج یہ نکاح نہیں ہوا ناں تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔”

الطاف کا لہجہ دھمکی آمیز تھا۔

“اچھا کیا ہو گا پھر؟زرا ڈیٹل سے بتا دیں۔۔۔”

فرزام نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا انکے چہرے پر پریشانی اور بے بسی دیکھ کر فرزام کو بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا۔

“تم بیگ خاندان سے دشمنی مول لینا نہیں چاہو گے۔۔۔”

فرزام کی آنکھیں بڑی ہو گئیں اور اس نے اپنا منہ واؤ شیپ میں کر لیا۔

“میں تو ڈر گیا۔۔۔دیکھیں ہاتھ کانپ رہے ہیں میرے۔۔۔”

فرزام نے ہاتھ سامنے کر کے انہیں ہلاتے ہوئے کہا۔اب کی بار الطاف نے بھی دانت کچکچا کر اسے دیکھا۔

“تمہیں ہمارے خاندان کی عزت کوئی مزاق لگ رہی ہے۔ہمارے سب رشتہ دار اور دوست باہر لان میں نکاح شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اگر آج یہ نکاح نہیں ہوا تو جانتے ہو کتنی بدنامی ہو گی ہماری۔۔۔۔”

فرزام یہی چاہتا تھا کہ ان کی بدنامی ہو لیکن یہ بدنامی ان گناہوں کی بہت چھوٹی سی سزا تھی جو الطاف بیگ نے کیے تھے۔بہت سوچنے کے بعد فرزام نے ایک فیصلہ لیا۔

“میرے پاس ایک حل ہے۔۔۔”

“کیسا حل؟”

فیض نے بے چینی سے پوچھا تو فرزام مسکرا دیا۔

“بہرام کی جگہ میں آپ کی بھتیجی سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔”

سب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔سب سے زیادہ حیرت تو انجم کو ہوئی جنہوں نے اپنی حبہ کے لیے فرزام کو سوچ رکھا تھا اس لیے فوراً بول اٹھیں۔

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے نکاح بہرام سے ہونا تھا۔۔۔۔”

فرزام نے دلکشی سے مسکرا کر انہیں دیکھا۔

“کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ جہاں تک مجھے یاد ہے آپ نے یہ نکاح دونوں خاندانوں کے درمیان تعلق قائم کرنے کے لیے کرنا تھا تاکہ ہمارے بزنس ریلیشن اچھے ہو جائیں۔۔۔۔”

فرزام نے انجم بیگم سے دھیان ہٹا کر الطاف کو دیکھا۔

“آپ کو یہ نکاح ایک خانزادہ سے کرنا تھا پھر وہ بہرام ہو یا فرزام کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔؟”

اس بات پر الطاف بھی گہری سوچ میں ڈوب گیا پھر کافی سوچنے کے بعد اس نے فرزام کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“فرزام ٹھیک کہہ رہا ہے ہمیں رشتہ خانزادہ خاندان سے جوڑنا ہے۔۔۔جا کر مناہل کو بتا دو کہ اسکی شادی فرزام سے ہو رہی ہے اور اسے لے کر باہر آؤ۔۔۔”

فرزام کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی۔

“لیکن میری ایک شرط ہے۔”

الطاف نے آنکھیں چھوٹی کر کے فرزام کو دیکھا۔

“بہرام سے صرف نکاح کی بات ہوئی تھی لیکن مجھے ساتھ رخصتی بھی چاہیے تو آپ نکاح کے فوراً بعد اسے میرے ساتھ رخصت کر دیں گے۔۔۔۔”

فیض نے فرزام کی مانگ پر اپنے دانت کچکچائے۔الطاف کچھ دیر فرزام کو دیکھتا رہا پھر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے لیکن ابھی کافی رات ہو گئی ہے تو تم دونوں آج رات یہیں رک جانا پھر صبح ہوتے ہی تم مناہل کو اپنے ساتھ لے جا سکو گے ۔کچھ عرصے بعد ہم ولیمہ کر کے سب کو اپنی پارٹنرشپ سے آگاہ کریں گے۔۔۔”

سب کے چہروں سے نظر آ رہا تھا کہ انہیں الطاف کا یہ فیصلہ کچھ خاص اچھا نہیں لگا تھا لیکن کسی نے بھی اس فیصلے پر سوال اٹھانے کی ہمت نہیں تھی۔اس لئے فرزام کے حامی بھرتے ہی سب خاموشی سے وہاں سے چلے گئے۔

بہت بڑی غلطی کر دی تم نے الطاف بیگ میں بہرام نہیں ہوں جو تمہیں برباد کرنے کا انتظار کرے گا میں فرزام ہوں۔۔۔یہ نکاح نہ ہونے سے جو تمہارے خاندان کی بدنامی ہونی تھی وہ بہت تھوڑی تھی اصل بدنامی تو تب ہو گی جب اس نکاح کے بعد ایک ہی رات میں تمہاری بھتیجی کو اپنا دیوانا بنانے کے بعد سب کے سامنے اسے طلاق دوں گا ۔۔۔۔

تیار رہنا الطاف بیگ صبح تمہیں پتہ چلے گا کہ بدنامی کسے کہتے ہیں۔۔۔

فرزام نے مسکرا کر سوچا اور تیار ہونے چلا گیا اسے الطاف بیگ کو برباد جو کرنا تھا لیکن وہ خود نہیں جانتا تھا کہ قسمت نے اسکے لیے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔
💞💞💞💞
مناہل تب سے خاموشی سے آئنے کے سامنے بیٹھی خود کو دیکھ رہی تھی۔لال رنگ کے کرتی اور شرارے میں مناسب میک اپ کے ساتھ سجی وہ چاند کا ٹکڑا لگ رہی تھی لیکن چہرے پر اضطراب واضح تھا۔

کل جب اسے یہ خبر ملی کہ اسکا نکاح ہو رہا ہے تو وہ بہت زیادہ ڈر گئی۔اس نے جیسے تیسے خود کو منگنی کے لیے تیار کیا تھا لیکن نکاح کے لیے وہ ابھی تیار نہیں تھی۔

اب اس کا خوف اس پر بہت زیادہ حاوی ہو رہا تھا۔ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسکا ہر وسوسہ اسکے دل میں مزید پھندے گاڑھ چکا تھا۔دروازہ کھلنے کی آواز پر مناہل سہم کر اٹھ کھڑی ہوئی اور شیزہ اور انجم کو دیکھا جن کی آنکھوں میں بہت زیادہ نفرت تھی۔

مناہل آج تک اس نفرت کی وجہ نہیں سمجھ پائی تھی اس نے کبھی انہیں نفرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں دی تھی۔

“چلو تمہارے نکاح کا وقت ہو چکا ہے۔۔۔”

یہ سن کر مناہل مزید گھبرا گئی۔اس نے بہت مشکل سے خود کو اس نکاح کے لیے تیار کیا تھا کیونکہ اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

“جج۔۔۔۔جی پھپھو۔۔۔”

انجم نے دانت کچکچا کر اس لڑکی کو دیکھا اور دل ہی دل میں اسکی قسمت پر جلنے لگیں۔

“تمہارا نکاح بہرام سے نہیں ہو رہا۔۔۔”

مناہل کی خوبصورت آنکھوں میں حیرت اتری۔۔۔۔

“بہرام کو کسی مجبوری کی وجہ سے جانا پڑا اس لیے اب وہ یہ نکاح نہیں کر سکتا۔۔۔”

شیزہ کے کہنے پر مناہل گھبرا کر ان دونوں کو دیکھنے لگی۔

“اس لیے اب تمہارا نکاح فرزام خانزادہ سے ہو رہا ہے۔۔۔”

ساتوں آسمان ایک ساتھ مناہل پر گرے۔ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔

“یہ آپ ککک۔۔۔کیا کہہ رہی ہیں پھپھو میں فف۔۔فرزام سے نہیں مجھے ان سے نکاح نہیں کرنا پلیز آپ تایا ابو کو منع۔۔۔۔”

“بکواس بند کرو مناہل یہ اتنی بھی بڑی بات نہیں ہے فرزام بہرام کا بھائی ہی ہے ویسے بھی جو تم سے کہا جا رہا ہے وہ کرو۔۔۔”

انجم نے آگے بڑھ کر کہا اور مناہل کا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگیں۔

“پلیز تائی امی میری شادی ان سے مت کریں۔۔۔”

مناہل اب روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

“بس اب یہ آنسو نہ آئیں تمہاری آنکھوں میں اور شرافت سے ساتھ چلو ورنہ اپنے تایا کے غصے سے بخوبی واقف ہو تم۔۔۔”

مناہل انکے پیر پڑ کر بھیک مانگنا چاہتی تھی کہ وہ ایسا نہ کریں لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ جتنا بھی گڑگڑاتی کسی کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔اس لیے اس نے اپنے آپ کو مارا اور مردہ حالت میں ان کے ساتھ چل دی۔

فرزام نے اس ٹرافی کو سب کے سامنے پھینک کر توڑ دیا کیونکہ اسکی چیز کو پہلے کسی اور نے چھوا تھا اور فرزام خانزادہ اپنی چیزوں کے لیے بہت زیادہ پوزیسسو ہے۔

مناہل کو حبہ کی بات یاد آئی تو وہ خوف سے کانپ اٹھی۔اب وہ بس یہ دعا ہی کر سکتی تھی کہ فرزام خانزادہ اسکے بے آبرو ہونے کی وجہ سے اسکی جان نہ لے لے۔۔۔