Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 18)
Kaif E Junoon (Episode 18)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
چاہت کی چیخ سنتے ہی خالہ بھاگ کر بہرام کے کمرے میں آئی تھیں۔وہاں پہنچ کر جب انہوں نے بہرام کے بے جان وجود کو زمین پر پڑے دیکھا تو جلدی سے ملازموں کو بلا لائیں۔
وہ مردہ حالت میں بہرام کے پاس بیٹھی چاہت سے بہرام کو ہاسپٹل لے گئے اور خالہ نے فوراً فرزام کو فون کیا جو پہلی فلائٹ سے اسلام آباد واپس آیا تھا اور سیدھا ہاسپٹل گیا۔
ہاسپٹل پہنچ کر فرزام بے چینی سے بھاگتے ہوئے بہرام کا کمرہ تلاش کرنے لگا جبکہ اسے یوں پریشان دیکھ کر مناہل بھی مسلسل رو رہی تھی۔
فرزام کو پتہ چلا کہ بہرام ایمرجنسی میں ہے تو جلدی سے وہاں آ گیا۔مناہل بھی اسکے پیچھے آئی اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسہ دینا چاہا۔کچھ دیر کے بعد ہی ڈاکٹر کمرے سے باہر آیا تو فرزام بے چینی سے اسکی جانب بڑا۔
“کیسا ہے میرا بھائی؟”
ڈاکٹر نے پریشانی سے فرزام کو دیکھا۔
“انہیں ذہر دیا گیا ہے مسٹر خانزادہ جو ان کی باڈی میں بری طرح سے پھیل گیا ہے۔۔۔ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں آپ دعا کریں۔۔۔”
ڈاکٹر اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور فرزام سکتے کے عالم میں بینچ پر بیٹھتا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
“فرزام۔۔۔”
مناہل نے روتے ہوئے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“میرا بھائی میرا سب کچھ ہے من اسے نہیں کھو سکتا۔۔۔۔نہیں کھو سکتا۔۔۔۔”
فرزام نے روتے ہوئے کہا اور اسے یوں بکھرا دیکھ مناہل کی آنکھوں سے کتنے ہی آنسو نکل گئے۔
“مسٹر خانزادہ ۔۔۔۔”
ایک آدمی کی آواز پر فرزام نے سر اٹھا کر ان پولیس والوں کو دیکھا۔
“آپکے بھائی کو زہر ضرور کسی ملازم یا قریبی نے دیا ہو گا اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم انویسٹیگیشن سٹارٹ کریں۔۔۔”
پولیس والوں کی بات پر فرزام کی لال آنکھوں میں غصہ اترا۔جس نے بھی بہرام کے ساتھ یہ سب کیا تھا فرزام اسے زندہ نہیں چھوڑنے والا تھا۔
“ابھی نہیں فلحال میں خود دیکھ لوں گا اگر آپ کی ضرورت ہوئی تو بتاؤں گا۔۔۔”
انسپکٹر نے ہاں میں سر ہلایا۔وہ بھی جانتا تھا کہ سامنے بیٹھا شخص کون ہے اور انہیں سب فرزام کی مرضی سے ہی کرنا تھا۔
فرزام نے مناہل کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ ہاسپٹل کے باہر لے آیا۔گاڑی میں بیٹھ کر وہ دونوں سیدھا خانزادہ مینشن گئے اور وہاں پہنچتے ہی فرزام نے سب ملازمین کو ہال میں جمع ہونے کا حکم دیا۔
اسکے حکم کے مطابق کچھ ہی دیر میں سب ملازمین ہال میں سر جھکائے کھڑے تھے۔
“آج کسی غدار نے بہرام کی جان لینے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔شرافت سے مجھے بتا دو کہ وہ کون ہے کیونکہ اگر میں نے اسے ڈھونڈا تو اسکا انجام بہت زیادہ بدتر ہو گا ۔۔۔۔۔”
فرزام کی بات پر سب ملازمین سہم کر ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔
“قسم لے لیں صاحب ہم میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا۔۔۔ہمیں تو بہرام صاحب چاہت بی بی کے ساتھ اسی حال میں اپنے کمرے میں ملے تھے ہم نہیں جانتے یہ سب کیسے ہوا۔۔۔”
ایک ملازم کے کہنے پر فرزام نے سب کو گہری نگاہوں سے دیکھا۔
” تم سب بے گناہ ہونے کا اقرار کرتے ہو؟”
فرزام کے پوچھنے پر سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے اگر بعد میں تم میں سے کسی نے یہ سب کیا ہوا ناں تو یہ دنیا کی اسکے لیے جہنم سے بھی بدتر بنا دوں گا۔۔۔۔”
فرزام کی بات پر سب ملازمین کی روح خوف سے کانپ گئی جبکہ چاہت کا خیال آنے پر فرزام سیدھا اسکے کمرے کی جانب چل دیا۔نہ جانے بہرام کی اس حالت پر چاہت کا کیا حال ہو رہا ہو گا۔
فرزام چاہت کے کمرے میں پہنچا تو اسے چاہت دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھی نظر آئی۔سکینہ اسکے پاس بیٹھی مسلسل اس سے کچھ پوچھ رہی تھیں جبکہ چاہت تو مردہ حالت میں وہاں بیٹھی تھی جیسے کہ اس کی جگہ اسکا کوئی بت ہو۔
مناہل چاہت کی یہ حالت دیکھ کر مزید روانی سے رونے لگی۔کتنا ہی چاہتی تھی وہ بہرام کو۔مناہل تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اگر چاہت کی جگہ وہ اور بہرام کی جگہ فرزام ہوتا تو اسکی کیا حالت ہوتی۔فرزام چاہت کے پاس آیا اور اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں پر رکھے۔
“چاہت میری گڑیا مجھے بتاؤ کیسے ہوا یہ سب۔۔۔؟”
فرزام نے اس سے بہت زیادہ محبت سے پوچھا لیکن چاہت بس بے جان حالت میں وہاں بیٹھی تھی۔انکھوں سے بہنے والے آنسو ہی بس اسے زندہ ثابت کر رہے تھے۔
“چاہت پلیز کچھ تو بولو۔۔۔۔”
اسکی حالت پر فرزام کی پلکیں پھر سے بھیگ گئیں اس نے بے بسی سے پاس بیٹھی سکینہ کو دیکھا۔
“اماں جی۔۔۔؟”
“میں بھی بہت دیر سے اس سے یہی پوچھ رہی ہوں فرزام بیٹا لیکن یہ کوئی جواب نہیں دے رہی۔۔۔۔”
فرزام نے افسردگی سے اپنا سر جھکا لیا پھر آنسو پونچھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں جانتا ہوں یہ کسی ملازم کا ہی کام ہے۔جس نے بھی یہ کیا ہے ناں میں جلد از جلد اسے ڈھونڈ لوں گا پھر اسے ایسی سزا دوں گا کہ سب کی روح کانپ جائے گی۔۔۔ “
فرزام وحشت سے کہتا وہاں سے جانے لگا ابھی وہ دروازے کے پاس ہی پہنچا تھا جب اسکے کانوں میں چاہت کی آواز پڑی۔
“خان جی کو زہر میں نے دیا ہے۔۔۔۔۔”
الفاظ تھے یا انگارے جو فرزام اور سکینہ پر گرے تھے۔فرزام نے مڑ کر حیرت سے چاہت کو دیکھا جبکہ اس بات پر مناہل بھی بے یقینی سے چاہت کو دیکھ رہی تھی۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو چاہت۔۔۔؟”
“وہی جو سچ ہے۔۔۔۔”
فرزام لمبے لمبے ڈنگ بھرتا چاہت کے پاس آیا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔سکینہ بھی کھڑے ہو کر بے یقینی سے اپنی بیٹی کو دیکھنے لگیں۔وہ مان ہی نہیں سکتی تھیں کہ ان کی چاہت اس حد تک گر سکتی ہے۔
“کیوں جھوٹ بول رہی ہو گڑیا مجھے بتاؤ سچ کیا ہے۔۔۔۔؟”
فرزام نے بہت پیار سے پوچھا تو چاہت نے مردہ آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“یہی سچ ہے فرزام بھائی میں نے خان جی کو زہر دیا ہے۔۔۔ “
“کیوں۔۔۔۔؟”
فرزام غصے سے چلایا وہ ابھی بھی نہیں مان سکتا تھا کہ وہ معصوم سی گڑیا جسے وہ اپنی بہن مانتا تھا وہ ایسا کچھ کر سکتی ہے۔
“کیونکہ انہوں نے میرے بابا کو مارا تھا اس لیے میں نے انہیں مار کر اپنے بابا کا بدلہ لے لیا۔۔۔۔”
چاہت کی بات پر پہلے تو فرزام کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں پھر ان آنکھوں میں بے انتہا غصہ اترا اور اس نے چاہت کی نازک گردن کو اپنے ہاتھ میں دبوچ لیا۔
“فرزام۔۔۔۔”
مناہل سہم کر فرزام کے پاس آئی اور اسکے مظبوط بازو کو کھینچ کر چاہت کی گردن چھڑوانے لگی لیکن فرزام کی طاقت کا مقابلہ وہ نازک جان بھلا کیسے کر سکتی تھی۔
چاہت کا چہرہ سانس گھٹنے کی وجہ سے لال ہو چکا تھا پھر بھی وہ کوئی مزاحمت نہیں کر رہی تھی بس مردہ حالت میں فرزام کی گرفت میں کھڑی تھی جیسے اپنی سزا اسے قبول ہو۔
“تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا میں پاگل عورت۔۔۔۔”
فرزام غصے سے چلایا اور چاہت کو دیوار سے لگا کر اسکی گردن پر دباؤ بڑھا دیا۔اب چاہت کا چہرہ نیلا پڑنے لگا تھا۔
فرزام کی نظر چاہت سے ہٹ کر سکینہ پر پڑی جو اپنی آنکھیں زور سے میچے روتے جا رہی تھیں لیکن انہوں نے فرزام کو روکا نہیں تھا۔ایسا انہوں نے تیرہ سال پہلے بھی تو کیا تھا اپنے شوہر کی بجائے انصاف کا ساتھ دے کر اپنی دنیا اجاڑ دی اور آج بھی اپنی بیٹی کو بچانے کی بجائے بس خاموشی سے وہاں کھڑی تھیں۔
اس عورت کی عظمت کا سوچ کر فرزام نے جھٹکے سے چاہت کو چھوڑا تو وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگی اور حیرت سے فرزام کو دیکھا۔
“اگر تم زندہ ہو ناں تو صرف اماں جی کی وجہ سے۔۔۔۔لیکن یاد رکھنا چاہت اگر میرے بھائی کو کچھ بھی ہوا ناں تو تمہاری یہ زندگی موت سے بھی بدتر بنا دوں گا۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام وہاں سے چلا گیا اور مناہل بھی جلدی سے اسکے پیچھے چلی گئی۔چاہت نے ایک ہاتھ اپنی گردن پر رکھا اور سانسیں اپنے اندر بھرتے نگاہیں اٹھا کر سکینہ کو دیکھا جو اسے نفرت سے دیکھ رہی تھیں۔
چاہت لڑکھڑاتے قدموں پر اٹھ کر سکینہ کے پاس آئی۔
“اماں۔۔ “
چٹاخ۔۔۔۔۔ایک انتہائی زور دار تھپڑ چاہت کے منہ پر پڑا تھا اور چاہت حیرت سے اپنی اس ماں کو دیکھنے لگی جس نے آج تک اس سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی تھی۔
اس سے پہلے کہ چاہت اس تھپڑ کے اثر سے سنبھلتی سکینہ نے دو اور تھپڑ اتنی ہی طاقت سے اسکے منہ پر مارے۔
“ثابت کر دیا ناں تم نے کہ اپنے گھٹیا باپ کا گھٹیا خون ہو تم۔۔۔”
چاہت اپنے گال پر ہاتھ رکھے حیرت سے سکینہ کو دیکھنے لگی۔
“اپنے جس باپ کی موت کا بلا لینے کے لیے تم نے یہ کیا جانتی ہو کیا تھا وہ جانور۔۔۔۔”
چاہت سہمی نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی۔
“جس آگ میں بہرام کے ماں باپ جل کر مرے تھے وہ آگ تمہارے اس باپ نے دس لاکھ روپے کے عوض ان کے گھر میں لگائی تھی۔۔۔۔”
ساتوں آسمان ایک ساتھ چاہت پر گرے۔
“اور ایسا کرتے ہوئے اس نے بہرام اور فرزام کا بھی نہیں سوچا جو اس وقت صرف بارہ سال کے بچے تھے۔۔۔۔”
چاہت مردہ حالت میں دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کی سانسیں اس کے سینے میں ہی تھم جائیں گی۔
“جاننا چاہتی تھی کہ میں نے تمہیں سچ کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔؟”
سکینہ نے اسکے قریب آ کر نفرت سے پوچھا۔
“میں تو کب کا تمہارے باپ کا یہ روپ تمہیں دیکھا چکی ہوتی لیکن مجھے ایسا کرنے سے بہرام نے منع کیا۔۔۔۔”
چاہت سکینہ کی ہر بات مردہ حالت میں سنتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
“وہ نہیں چاہتا تھا کہ اپنے باپ کی سچائی جان کر تم کبھی سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہ رہو۔۔۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اپنے باپ کا سچ جان کر تم اس سے نظریں تک نہیں ملا پاؤ گی۔۔۔۔”
چاہت اب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔
“وہ نہیں چاہتا تھا چاہت کہ تم ساری زندگی اس کرب ناک احساس کے ساتھ گزار دو کہ تم ایک قاتل کی بیٹی ہو۔۔۔۔۔۔”
اب کی بار سکینہ بھی رونے لگیں جبکہ چاہت تو زندہ ہی نہیں تھی سکینہ کی باتیں اسے اندر ہی اندر ختم کر چکی تھیں۔
“افسوس ہوتا ہے مجھے کہ تم میری اولاد ہو۔۔۔۔سوچا تھا تمہاری اچھی تربیت کروں گی تو اپنے باپ جیسی نہیں بنو گی تم۔۔۔۔۔لیکن میں بھول گئی تھی کہ خون اپنا اثر ضرور چھوڑتا ہے سانپ کی اولاد نے بھی تو ناگن ہی ہونا تھا ناں۔۔۔ “
سکینہ نے نفرت سے چاہت کو دیکھتے ہوئے کہا لیکن وہ نفرت اس نفرت کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی جو چاہت کو خود سے ہو رہی تھی۔
“اچھا ہوتا وہ بیچارا اٹھارہ سال پہلے اس آگ میں جھلس کر مر جاتا۔۔۔۔آج تمہارے دیے اس دھوکے سے تو بچ جاتا وہ۔۔۔۔”
سکینہ نے زارو قطار روتے ہوئے کہا اور چاہت کے پاس آ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں۔
“اس دنیا کی سب سے بد قسمت لڑکی ہو تم چاہت جس نے قسمت سے لڑ کر ایک ہیرا حاصل کیا اور پھر اس ہیرے کو تپتی بھٹی میں ڈال دیا۔۔۔۔”
سکینہ نے افسوس سے اسے دیکھا۔
“تم تو اپنے باپ سے بھی زیادہ بد تر ہو چاہت اس نے تو کسی کے گھر میں آگ لگائی تھی تم نے تو اپنی زندگی میں ہی آگ لگا لی۔۔۔”
اتنا کہہ کر سکینہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“زہر تم نے بہرام کے جسم میں نہیں اپنی زندگی میں گھولا ہے اب اپنی آخری سانس تک سسک سسک کر مرنا تم۔۔۔۔”
سکینہ یہ بات کہہ کر وہاں سے چلی گئیں اور انکے جاتے ہی چاہت چیخیں مار مار کر رونے لگی۔اس کا دل کر رہا تھا کہ خود کی جان لے لے۔اپنے اس گھٹیا وجود کو جلا کر خاک کر دے جو اپنے شوہر سے وفا نہیں کر سکا اس پر بھروسہ نہیں کر سکا۔
چاہت کو یاد آیا کہ کیسے بہرام نے اسے خود پر بھروسہ کرنے کا کہا تھا لیکن اپنی نادانی میں چاہت اسے ہی غلط سمجھتی رہی اور جلد بازی میں اس سے انتقام لینے کا بھی سوچ لیا۔
اب سب سچ جان کر چاہت کو اپنے روم روم سے نفرت ہو رہی تھی۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اگر بہرام کو کچھ ہو گیا تو وہ کیا کرے گی لیکن اب جو بھی ہوتا وہ اسکی نادانی اور جلد بازی کی سزا تھی۔اب یہ زندگی ہی چاہت کے لیے ایک سزا تھی۔
کتنی ہی دیر چاہت اسی جگہ پر بیٹھ کر روتی رہی تھی پھر اس کے وجود سے ساری طاقت ختم ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئی۔بے ہوش ہونے سے پہلے بس ایک ہی دعا اس کے دل میں تھی کہ کاش وہ مر جائے اور اسکی زندگی بہرام کو لگ جائے۔۔۔۔کاش۔۔۔
💞💞💞💞
صبح سے شام ہو چکی تھی اور سکینہ پریشانی سے ڈاکٹر کی جانب دیکھ رہی تھیں جو کہ بیڈ پر بے ہوش پڑی چاہت کا چیک اپ کر رہی تھی۔خالہ چاہت کو شام کا کھانا دینے آئیں لیکن وہاں چاہت کو بے ہوش پڑا دیکھ کر انہوں نے سکینہ کو بتایا اور پھر ڈاکٹر کو بلا لیا۔
“انکا بی پی بہت زیادہ کو ہو چکا ہے اور اتنی چھوٹی سی ایج میں اتنا بی پی لو ہونا اچھی بات نہیں پلیز انکا خیال رکھیں ورنہ ساری زندگی کے لیے پرابلم بن جائے گی۔”
ڈاکٹر نے سکینہ کو بتایا جنہوں نے ہاں بس میں سر ہلایا تھا۔
“میں نے انہیں انجیکشن دے دیا ہے جس کی وجہ سے یہ صبح تک نیند میں رہیں گی اور جب ہوش میں آئیں تو آپ انہیں یہ ٹیبلٹس دے دیجیے گا۔۔۔ “
ڈاکٹر سکینہ کو دوائی تھما کر وہاں سے چلی گئی اور سکینہ مردہ آنکھوں سے اپنی بے ہوش پڑی بیٹی کو دیکھا جو اتنا بڑا صدمہ سہنے کے لیے بہت نازک تھی لیکن یہ آگ بھی تو اسکی اپنی ہی لگائی تھی۔
“دیکھا چاہت میں ہمیشہ تم سے کہتی تھی ناں کہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھایا کرو جلدی کا کام شیطان کا کام ہوتا ہے اور جلد بازی میں انسان ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے۔۔۔۔”
سکینہ اب کی بار رحم سے چاہت کو دیکھ رہی تھیں۔وہ کچھ بھی کر لیتی تھی تو سکینہ کی اکلوتی اولاد ہی ناں۔
“اب دیکھو تم نے بھی اپنا اتنا بڑا نقصان کر دیا کہ ساری زندگی اس کی بھرپائی نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔”
چاہت کا انجام سوچ کر ہی سکینہ کی پلکیں نم ہو گئیں۔
“اگر بہرام کو کچھ ہو گیا تو تم بھی پچھتاتے پچھتاتے مر جاؤ گی اور اگر وہ بچ گیا تو بھی تمہیں معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔چھوڑ دے گا وہ تمہیں چاہت چھوڑ دے گا۔۔۔۔”
دو آنسو سکینہ کی آنکھوں سے نکلے۔
“,سب برباد کر دیا تم نے میری بچی اپنی پوری دنیا ایک غلط فہمی میں اجاڑ دی۔۔۔۔”
سکینہ نے کرب سے اپنی آنکھیں موند لیں اور آنسو پونچھ کر دروازے میں کھڑی خالہ کو دیکھا جو ان کے لیے کھانا لے کر آئی تھیں۔
“آپ کسی ملازم سے کہیں کہ مجھے اور چاہت کو میرے گھر چھوڑ آئیں۔۔۔۔”
خالہ نے حیرت سے سکینہ کو دیکھا۔
“لیکن سکینہ بہن چاہت کا گھر یہ ہے۔۔۔۔”
سکینہ نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ چاہت کو دیکھا۔
“اب نہیں رہا۔۔۔۔”
خالہ انکی بات پر حیران ہوتی وہاں سے چلی گئیں تا کہ ملازم کو بھیج سکیں اور سکینہ چاہت کو دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہی تھیں کہ چاہت کے حق میں یہی بہتر تھا کہ وہ اب بہرام کے سائے سے بھی دور رہے کیونکہ وہ بہرام جیسے انسان کے قابل نہیں تھی۔ویسے بھی چاہت کی یہی سزا تھی کہ بہرام سے دور اپنی زندگی پچھتاوے کی تپتی دھوپ میں گزارے۔
💞💞💞💞
فرزام ابھی بھی پریشانی کے عالم میں ایمرجنسی وارڈ کے باہر بیٹھا تو مناہل اسکی پریشانی میں پریشان اسکے ساتھ چپکی بیٹھی تھی۔اسکا بس چلتا تو ایک پل میں فرزام کے چہرے سے یہ پریشانی دور کر دیتی لیکن وہ اس معاملے میں بے بس تھی۔
ڈاکٹر کو وارڈ سے باہر آتا دیکھ فرزام بے چینی سے ڈاکٹر کے پاس گیا۔
“ڈونٹ وری مسٹر خانزادہ ہی از فائن ناؤ۔۔۔۔ الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے آپکے بھائی کو ایک نئی زندگی دی ہے۔۔۔۔”
ڈاکٹر کی بات پر کتنے ہی آنسو فرزام کی آنکھوں سے نکلے اور اس نے بے ساختہ الحمدللہ کہا۔مناہل بھی فرزام کے چہرے پر وہ اطمینان دیکھ کر مسکرا دی۔
“کیا میں اس سے مل سکتا ہوں؟”
“ابھی تو وہ بے ہوش ہیں امید ہے کل صبح تک ہوش میں آ جائیں گے لیکن آپ انہیں کچھ دیر کے لیے دیکھ سکتے ہیں۔۔۔”
فرزام مسکرایا تو ڈاکٹر نے اس سے ہاتھ ملایا اور وہاں سے چلا گیا۔اسکے جاتے ہی فرزام ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوا اور نم آنکھوں سے بہرام کو دیکھا جو مشینوں میں لپٹا بیڈ پر بے جان پڑا تھا۔
فرزام اسکے پاس آیا اور اسکی حالت دیکھ کر منہ بنا لیا۔
“مجھے کہتے رہے اپنا خیال رکھوں وہاں۔ لیکن خود کا ہی خیال نہیں رکھ پائے تم۔۔۔”
فرزام نے شکوہ کیا۔پل بھر میں بہرام اسکی جان نکال چکا تھا۔
“یہاں سے اٹھو پھر تمہیں بتاؤں گا۔۔۔زیادہ ہی بڑے بنتے ہو تم دو پڑیں گی مجھ سے تو ادھر جاؤ گے ۔۔۔۔”
فرزام نے آنسو پونچھ کر شرارت سے کہا اور بہرام کا ہاتھ چھوا تو بہرام کی پلکوں نے ایک جنبش لی اور آکسیجن ماسک میں چھپے ہونٹوں نے ہلکے سے کچھ کہا۔
“کیا چاہیے میرے پیارے بھائی۔۔۔؟”
فرزام نے پوچھا تو بہرام کے ہونٹ پھر سے ہلے لیکن آواز بہت زیادہ ہلکی تھی۔فرزام نے اپنا کان اسکے منہ کے پاس کیا تو ہلکی سی آواز اسکے کانوں میں پڑی۔
“چچ۔۔۔چاہت۔۔۔”
بہرام کو یوں تکلیف میں بھی اس بے وفا کا نام لیتا دیکھ فرزام اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
“اب وہ تمہاری زندگی میں پھر کبھی شامل نہیں ہو گی بہرام میں اسے نہیں ہونے دوں گا۔۔۔نہ تو وہ تمہیں ڈیزرو کرتی ہے ناں ہی تمہاری محبت کو۔۔۔”
فرزام نے چاہت کا وجود ذہن میں لا کر نفرت سے کہا اور اس کمرے سے باہر آ گیا۔اسکے باہر آتے ہی مناہل اسکے پاس آئی۔فرزام نے جیب سے موبائل نکالا اور سکینہ کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“اسلام و علیکم اماں جی۔۔۔”
سکینہ کے فون اٹھاتے ہی فرزام نے سنجیدگی سے کہا۔
“و علیکم السلام بیٹا بہرام نے ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔؟
فرزام ان کی آواز میں چھپی پریشانی محسوس کر سکتا تھا۔
“جی ہاں بالکل ٹھیک ہے آپ پریشان مت ہوں۔۔۔”
فرزام نے ایک نظر مناہل کو دیکھا پھر سنجیدگی سے بولا۔
“معاف کریے گا اماں جی لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ اس عہد کو اپنے ساتھ واپس لے جائیں اسے ایک پل کے لئے بھی اپنے اور بہرام کے گھر برداشت نہیں کر سکتا میں۔۔۔”
فرزام کی بات پر سکینہ کا دل کر رہا ہے گیا لیکن وہ بھی کیا کر سکتی تھیں یہ سب چاہت کا اپنا ہی قصور تھا۔
“تم فکر مت کرو بیٹا میں اسے پہلے ہی وہاں سے لے جا چکی ہوں اور جب تک بہرام اسے معاف نہیں کرتا میں اس سے واپس نہیں آنے دوں گی۔۔۔۔”
فرزام نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں اور مردہ آنکھوں سے سامنے موجود آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔
“وہ چاہت کو کبھی معاف نہیں کرے گا کبھی بھی نہیں۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام نے فون بند کر دیا۔مناہل نے سہمی نگاہوں سے موبائل کے گرد اس کی مضبوط پکڑ کو دیکھا۔ایسا لگ رہا تھا کہ موبائل ابھی اس کی مٹھی میں چکنا چور ہو جائے گا۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد فرزام نے ایک اور نمبر ڈائل کیا اور موبائل اپنے کان سے لگا دیا۔
“ایڈوکیٹ طارق۔۔۔مجھے ایک کام ہے آپ سے۔۔۔۔”
فرزام نے اپنے وکیل سے کہا تو مناہل حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“جی حکم کریں سر۔۔۔۔”
طارق نے فوراً جواب دیا۔
“مجھے طلاق کے کاغذات تیار کروانے ہیں…”
فرزام کی بات اور اس کی آنکھوں میں وحشت دیکھ کر مناہل کا ننھا سا دل خوف سے بند ہونے لگا کیا فرزام اسے چھوڑنے والا تھا۔۔۔؟”
“بہرام خانزادہ اور چاہت بہرام خانزادہ کے نام سے۔۔۔یہ پیپرز مجھے کل ہی مل جانے چاہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام نے فون بند کر دیا اور مناہل کے دل میں جہاں سکون آیا تھا وہی ایک نئی پریشانی نے بھی جنم لیا۔
“فرزام چچ۔۔۔۔چاہت بہت چھوٹی ہے پلیز ایسا
۔۔۔۔”
فرزام کی گھوری پر مناہل کے الفاظ منہ میں ہی اٹک گئے۔
“اور جو اس نے میرے بھائی کے ساتھ کیا۔۔۔۔؟وہ اسی قابل ہے مناہل۔۔۔۔میں اس کے نام کے ساتھ بھی بہرام کا نام نہیں رہنے دوں گا۔۔۔”
اس وقت فرزام کی آنکھوں میں چاہت کے لئے بے تحاشا نفرت تھی۔مناہل اسے سمجھانا چاہتی تھی کہ یہ فیصلہ اس کا نہیں بہرام کا تھا لیکن اس کا غصہ دیکھ کر خاموش رہی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ابھی وہ اس کی کوئی بات نہیں سنے گا۔
💞💞💞💞
الطاف نے میز پر بجتے فون کو اٹھایا اور کان سے لگا لیا۔
“اسلام و علیکم سر۔۔۔۔”
اپنے آدمی کی آواز پر الطاف کے ہونٹ مسکرائے۔
“ہاں کہو کیا بات ہے۔۔۔۔؟”
الطاف نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ ہونٹوں سے لگایا۔
“بات تو بہت بڑی ہے سر۔۔۔۔بہرام خانزادہ کو کل رات کسی نے ذہر دے دیا اب وہ ہاسپٹل میں پڑا زندگی اور موت سے لڑ رہا ہے۔۔۔۔”
اس کی بات پر الطاف کی آنکھوں میں ایک چمک آئی۔یعنی اس کا پلین کامیاب ثابت ہوا تھا۔وہ بے وقوف لڑکی اسکی باتوں میں آ چکی تھی۔
“واہ بہت اچھی خبر سنائی تم نے میرے ایک نشانے سے دو شکار ہو جائیں گے ۔۔۔۔”
الطاف کی بات پر مقابل آدمی حیران ہوا۔
“کیا مطلب سر۔۔۔۔؟”
الطاف نے ایک گہرا کش بھرا اور شان سے مسکرا دیا۔
“مطلب بہرام خانزادہ جائے گا اوپر اور اسکی وہ بیوی اسکے قتل کے جرم میں جیل میں۔۔۔پھر جیسا میں نے سوچا تھا سب ویسا ہو گا
۔۔۔۔۔”
الطاف نے اتنا کہہ کر فون بند کر دیا اور خود میں ہی مسکرانے لگا۔
“اب جلد ہی ساری دولت ہو گی صرف اور صرف فرزام کی اور فرزام کے بعد اسکے اکلوتے رشتے مناہل اور اس کے بچے کی۔۔۔۔بس تھوڑا سا انتظار اور جتنا فرزام نے مجھ سے چھینا ہے ناں اس سے چار گناہ زیادہ اس سے لوں گا۔۔۔۔”
الطاف طاقت کے نشے اور دولت کی حرص میں ڈوبا کہہ رہا تھا اس بات سے بے خبر کہ ایک وجود دروازے کے باہر کھڑا اسکی ہر بات سن رہا تھا اور اپنے باپ کے اس روپ پر اسے بے تحاشا نفرت سے دیکھ رہا تھا۔