📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 13)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 13)

Kaif E Junoon By Harram Shah

مناہل گھبراتے ہوئے کمرے میں ٹہل رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔فرزام رات کا کھانا کھانے کے بعد کسی کام سے گیا تھا اور دوپہر میں اسکی کہی باتوں کو یاد کر کے مناہل بری طرح سے گھبرا رہی تھی۔

وہ فرزام کو کیسے بتاتی کہ وہ ابھی اسکی قربت کے لیے تیار نہیں تھی اور شائید کبھی ہو بھی نہیں پاتی۔خود کے غلیظ اور کمتر ہونے کا جو خیال اسکے ذہن میں بیٹھایا گیا تھا وہ مناہل کو اسکی ہی نظروں میں گرا رہا تھا۔

دروازے کا لاک کھلتا دیکھ کر مناہل کو اندازہ ہوا کہ فرزام واپس آ چکا ہے اس لیے اس سے چھپنے کے لیے فوراً واش روم میں بند ہو گئی۔

خالی کمرہ دے کر فرزام کے ماتھے پر بل آئے۔

“من کہاں ہو تم؟”

فرزام نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“ممم۔۔۔۔میں نہا رہی ہوں۔۔۔”

واش روم سے آنے والی مناہل کی گھبرائی سی آواز پر فرزام کے لب مسکرا دیے۔

“ٹھیک ہے جلدی آ جاؤ میں انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔”

مناہل کا دل بہت زور سے دھڑکا اور وہ مجبوراً شاور لینے لگی۔تبھی واش روم کا دروازہ ناک ہوا۔

“نہا تو رہی ہو تو یہ ڈریس چینج کر لینا تمہارے لیے یہی لینے گیا تھا۔فرزام کی آواز پر مناہل نے ہلکا سا دروازہ کھولا تو فرزام نے ایک شاپنگ بیگ اسے تھمایا تو مناہل نے فوراً دروازہ بند کر دیا۔

مناہل نے وہ ڈریس پہن کر دیکھا تو مزید گھبرا گئی۔کیونکہ وہ نیلے رنگ کی میکسی ویسے تو پیروں تک تھی لیکن بازوں کے نام پر صوفے دو سٹریپس تھیں جن پر سلور کام ہوا تھا۔مناہل نے اسے پہن کر اپنا دوپٹہ اچھی طرح سے اپنے گرد لپیٹ لیا۔

تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد وہ بالوں کو تولیے میں لپیٹ کر روم سے باہر آئی اور کمرے میں چلتے ہیٹر کے باوجود ٹھنڈ سے بری طرح کانپنے لگی۔

تبھی کسی نے پیچھے سے اسے اپنی گرم آغوش میں لیا اور اپنے ہونٹوں سے اسکی گردن پر آتا پانی کا قطرہ چن لیا۔

“ففف۔۔۔۔فرزام۔۔۔۔”

“جی فرزام کے جنون۔۔۔۔”

فرزام نے انتہائی محبت سے کہا اور اسکا رخ اپنی جانب کر کے اسکے بال سے تولیا ہٹا دیا اور دوپٹہ ہٹانا چاہا لیکن مناہل نے مظبوطی سے اس دوپٹے کو تھام لیا۔

“فرزام پلیز۔۔۔۔مت کریں مم۔۔۔مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔”

“مجھ سے؟”

فرزام نے محبت سے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر پوچھا۔

“ننن۔۔۔۔نہیں آپ سے نہیں۔۔۔۔بس ڈر لگتا ہے۔۔۔۔”

مناہل نے بے بسی سے کہا پلکوں پر آنسو ٹھہر چکے تھے۔فرزام نے اپنے ہونٹ اسکی بھیگی پلکوں پر رکھے۔

“اور میں بھی سمجھ چکا ہوں یہ ڈر تب تک ختم نہیں ہو گا جب تک میں اسے ختم نہیں کروں گا۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر فرزام نے مناہل کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا تو خوف کے باعث مناہل کا سانس اٹک گیا۔اس رات کا ہر ایک پل مناہل کی آنکھوں کے سامنے آیا۔وہ تب بھی تو کمزور ہی تھی،بہت زیادہ بے بس تو کیا وہ آج بھی کمزور ہی رہے گی،کیا وہ ہمیشہ کمزور ہی رہے گی۔

“من سانس لو۔۔۔”

فرزام نے اسکا اٹکا سانس دیکھا تو سختی سے کہا لیکن مناہل تو اپنے ہی خوف میں ڈوب چکی تھی۔

“من میں نے کہا سانس لو۔۔۔”

فرزام نے سختی سے کہا ساتھ ہی اسکے ہاتھ مناہل کی کمر پر سخت ہوئے لیکن پھر بھی مناہل نے سانس نہیں لیا تو فرزام اسکے ہونٹوں پر جھک گیا اور اپنی سانسیں اسکو سونپنے لگا۔

مناہل کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں اور اس نے گھبرا کر گہرا سانس کھینچا اور یہی موقع دیکھتے فرزام ان نازک ہونٹوں کو اپنی شدت سے آگاہ کروانے لگا۔

مناہل اسکے جنون پر کانپ کر رہ گئی۔فرزام اسے یونہی اپنی باہوں میں اٹھائے بیڈ تک لے آیا اور اسے بیڈ پر لیٹا کر اپنے ہونٹ اسکی گردن تک لے گیا۔

فرزام کی اس بے خودی پر مناہل کی جان خوف سے لرز رہی تھی لیکن فرزام کو اسکا اندازہ ہی کہاں تھا وہ تو مدہوش ہوا اسے اپنی محبت سے باور کروا رہا تھا۔

اس نے مناہل کا دوپٹہ اسکے گرد سے ہٹایا اور کندھے میکسی کی سٹریپ ہٹا کر وہاں اپنے ہونٹ رکھے تو مناہل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔یہ دیکھ کر فرزام اس سے دور ہوا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔

“من۔۔۔۔؟”

“پلیز ایسا مت کریں۔۔۔۔ممم۔۔۔۔میں کچھ بھی کر لوں میرے ذہن سے اس کالی رات کا عکس نہیں جاتا۔۔۔۔اپنا آپ بہت بے بس لگنے لگ جاتا ہے بہت حقیر۔۔۔۔”

مناہل نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا تو فرزام اٹھ کر بیٹھا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

“شششش ۔۔۔۔رو مت میرا جنون کچھ نہیں کر رہا میں۔۔۔”

فرزام نے اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔

“ممم۔۔۔۔۔میں آپ کے قابل نہیں فرزام آپ دوسری شش۔۔۔شادی کر لیں۔۔۔۔”

مناہل کی بات پر فرزام نے اپنا ہاتھ اسکے بالوں میں پھنسایا اور اسکا چہرہ اوپر کر کے لال ہوتی انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔

“یہ بکواس آج تو کر لی آئندہ برداشت نہیں کروں گا میں من۔۔۔۔میں پہلے بھی تمہیں کہہ چکا ہوں کہ تم پاکیزہ اور معصوم ہو غلیظ وہ تھا جسے میں نے مار دیا۔۔۔۔اب خود کو کبھی کم تر مت سمجھنا۔۔۔۔”

مناہل نے انکار میں سر ہلایا اور فرزام سے دور ہو کر بیڈ سے اتر گئی۔

“نہیں ممم۔۔۔میں گھٹیا ہوں۔۔۔مم۔۔۔میں اتنی بری ہوں کہ اپنے ہی پھوپھا کو ادائیں دیکھا کر اپنی طرف مائل کیا اور جب وہ بہک گئے تو ان پر الزام لگا دیا۔۔۔۔جو انہوں نے میرے ساتھ کیا میں اسی قابل ہوں۔۔۔۔میں گھٹیا ہوں۔۔۔میں بری ہوں۔۔۔۔”

مناہل اب اپنا چہرہ نوچتے ہوئے رو رو کر کہہ رہی تھی اور اسکی بات پر فرزام مٹھیاں بھینچتا اسکے پاس آیا۔

“کس نے کہا تم سے یہ سب من بتاؤ مجھے کس نے یہ باتیں ڈالیں تمہارے معصوم ذہن میں۔۔۔۔”

مناہل نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور بس سسکتے ہوئے رونے لگی۔

“میں کسی مرد کے قابل نہیں۔۔۔۔جو عورت اپنی لاج کی حفاظت نہ کر پائے اس کو تو مر ہی جانا چاہیے۔۔۔۔”

مناہل نے پھر سے کہا۔۔۔اس وقت وہ اپنے حواس میں نہیں لگ رہی تھی۔

“بس کرو من بس کرو۔۔۔۔”

فرزام اسے کندھوں سے پکڑ کر چلایا۔

“میری جگہ اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مرتی اور میں اتنی بے حیا ہوں کہ چیخ چیخ کر دنیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ میرے پھوپھا نے مجھے۔۔۔”

فرزام کا ہاتھ اٹھا اور زور سے مناہل کے گال پر پڑا تو مناہل کی بات اسکے منہ میں ہی رہ گئی اور وہ حیرت سے نم آنکھیں کھولے فرزام کو دیکھنے لگی۔

“اب بس۔۔۔۔بہت سن لیا میں نے من تم اب بس مجھے یہ بتاؤ گی کہ یہ باتیں تم سے کس نے کہیں؟”

مناہل نے اپنے گال سے ہاتھ ہٹایا اور نظریں چرانے لگی۔

“بتاؤ من کس نے کہا تھا یہ سب تم سے۔۔۔”

فرزام نے اسے کندھوں سے تھام کر سختی سے پوچھا تو مناہل اسکے سینے سے لگ گئی اور زارو قطار رونے لگی۔فرزام کو اب اپنی حرکت پر بے انتہا افسوس ہوا کہ اس نے کیا سوچ کر اس نازک جان پر ہاتھ اٹھایا جو پہلے ہی بکھری ہوئی تھی۔

“ج۔۔۔۔جس رات انہوں نے وہ سس۔۔۔سب کیا میں پوری رر۔۔۔۔رات ایک کونے میں بیٹھ کر روتی رہی۔۔۔”

فرزام نے کرب سے اپنی آنکھوں موند لیں۔

“صبح میں ملازمہ کو اسی کونے میں بے ہوش پڑی ملی تو انہوں نے میری پھپھو کو بتایا کیونکہ اس وقت گھر پر وہی تھیں۔۔۔”

مناہل ایک پل کو خاموش ہوئی اور فرزام کے مزید قریب ہو گئی جیسے کہ اس میں چھپنا چاہ رہی ہو۔

“وہ مجھے ہاسپٹل لے کر گئیں تو ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔۔۔انہوں نے میرے سامنے ہی اپنے کانوں سے ڈائمنڈ کے ٹاپس نکال کر ڈاکٹر کو دیے اور اس سے کہا کہ یہ بات کسی کو نہ بتائے۔۔۔”

فرزام نے اسکی کمر کو سہلایا۔

“انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ سب کس نے کیا۔۔۔؟”

اتنا بول کر مناہل کے گلے میں آنسوؤں کا ایک پھندہ بن گیا۔

“میں نے انہیں بتایا کہ یہ سب فیض انکل نے کیا تو انہوں نے کہا کہ میں یہ بات کسی کو نہ بتاؤں۔۔۔کسی کو بھی نہیں بلکہ بھول جاؤں کہ ایسا کچھ ہوا تھا۔۔۔”

مناہل اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی تو فرزام اس سے دور ہوا اور محبت سے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا۔

“پھر۔۔۔؟”

مناہل نے آنکھوں میں آنسو آنے پر آنکھیں موند لیں۔

“میں نے انہیں کہا کہ میں تایا ابو کو بتا دوں گی پھر وہ فیض انکل کو ماریں گے۔۔۔”

مناہل اب کی بار سسک اٹھی اور اس کو اس حال میں دیکھ کر فرزام کا دل کر رہا تھا کہ بیگ ولا کے ہر فرد کو زندہ درگو کر دے۔

“تو پھپھو نے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور مجھے اس چھوٹی سی عمر میں ہی یہ سب باتیں مجھے کہہ کر اس بات سے باور کروا دیا کہ میں کس قدر گھٹیا ہوں۔۔۔۔”

مناہل نے شکوہ کناں آنکھوں سے فرزام کو دیکھا۔

“جانتے ہیں اپنی زندگی کے یہ سات سال ہر لمحہ میں یہ سوچتی رہی کہ ایک بارہ سالہ بچی جو خود کو سجانا بھی نہیں جانتی وہ بھلا کیسے کسی کو اپنی طرف مائل کر سکتی تھی۔۔۔۔”

مناہل نے کرب سے اپنی آنکھیں موند لیں۔

“میں نہیں سمجھ پائی فرزام کہ اتنی چھوٹی عمر میں میں اس طاقتور آدمی کا مقابلہ نہیں کر پائی تو اس میں میرا کیا قصور۔۔۔۔”

اب کی بار فرزام نے بھی ضبط سے اپنی آنکھیں موند لیں جو تب سے روکے جانے والے آنسوؤں کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھیں۔

“میں نہیں سمجھ پائی کہ گناہ اس کا تھا تو گھٹیا میں کیوں ہوں۔۔۔؟”

مناہل نے اپنا ایک ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھا اور پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔اسے لگا فرزام اسے اپنی باہوں میں لے کر دلاسا دے گا لیکن فرزام کو خود سے دور ہوتا دیکھ مناہل نے سہم کر اپنی آنکھیں کھولیں اور فرزام کو دیکھا جو اپنی جیکٹ کے ساتھ ساتھ کار کی چابیاں پکڑ کر باہر کے دروازے کی جانب جا رہا تھا۔

مناہل کو لگا کے وہ بھی اسے چھوڑ کر جانے والا ہے تو بند ہوتے دل کے ساتھ اسکی جانب بھاگی۔

“کہاں جا رہے ہیں آپ؟”

مناہل کو لگ رہا تھا اس کا دل بند ہو جائے گا کیونکہ اس وقت فرزام بہت زیادہ غصے میں تھا۔

“اس گھٹیا عورت کو اسکے شوہر کے پاس پہنچانے۔۔۔”

فرزام کا جواب سن کر مناہل مزید ڈر گئی اور بھاگ کر پیچھے سے اس لپٹ گئی۔

“پلیز مت جائیں فرزام۔۔۔۔”

“کیوں؟”

فرزام نے پلٹے بغیر پوچھا آواز میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔

“میں نہیں چاہتی آپ میری وجہ سے کسی اور کی جان لیں۔۔۔”

فرزام اس کی جانب پلٹا۔

“مناہل ایک بارہ سالہ بچی کی ہمت توڑنے ان سے اسی کی نظروں میں گرا دینے کی یہی سزا ہے۔۔۔۔۔ہمارے معاشرے میں رہنے والے ہر اس فرد کی یہی سزا ہونی چاہیے جو مرد کو تو دودھ کا دھلا کرار دیتا ہے اور عورت کا سب کچھ لٹ جانے کے باوجود اسی کو قصوروار کہتا ہے ۔۔۔۔۔میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔”

فرزام اتنا کہہ کر وہ اسے جانے لگا تو مناہل فوراً اس کے سامنے آئی اور اپنے ہاتھ اس کے سامنے جوڑ دیے۔

“پلیز مت جائیں فرزام۔۔۔۔اگر تایا ابو نے آپ کو کچھ کر دیا تو۔۔۔۔”

ایسا سوچ کر یہ مناہل کا دل بند ہوا تھا کہ وہ اس کو کھو دے گی۔

“پلیز مت جائیں۔۔۔۔”

فرزام کافی دیر وہیں کھڑا اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا رہا۔

“ٹھیک ہے روک لو مجھے۔۔۔”

مناہل نے حیرت سے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔

“مجھے یہاں روک لو من تو تو آج اس کی جان بچ جائے گی لیکن اگر یہاں سے چلا گیا ناں تو وعدہ کرتا ہوں اسکی وہ زبان ہی باقی نہیں رہے گی جس سے اس نے یہ سب باتیں کیں۔”

مناہل اضطراب سے اپنی انگلیاں چٹخانے لگی۔

“میں کیسے روکوں آپ کو؟”

“کچھ ایسا کرو کہ میں یہاں سے جانا ہی نہ چاہوں۔۔۔۔کچھ ایسا من کہ میرا غصہ پل بھر میں غائب ہو جائے۔۔۔۔”

مناہل نے سہم کر فرزام کو دیکھا اور فرزام بھی جانتا تھا کہ وہ اسکی نازک جان کو مشکل میں ڈال چکا تھا لیکن آگے جو مناہل نے کیا وہ فرزام نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔

مناہل نے اسکے قریب ہو کر اپنے ہاتھ اسکے سینے پر رکھے اور جھک کر اپنے کپکپاتے ہونٹ فرزام کے سینے پر رکھ دیے۔

ان ہونٹوں کی نرمی محسوس کر فرزام نے سکون سے اپنی آنکھیں موند لیں۔س

مناہل نے اپنے ہونٹ اسکی ٹھوڈی ہر رکھے تو فرزام نے اسکی کمر پر اپنے ہاتھ رکھ دیے اور اسے اپنے قریب کھینچا۔مناہل اس کی اس حرکت پر سہم گئی لیکن پھر بھی ہمت کرتے ہوئے اپنے ہونٹ فرزام کی گردن پر رکھے اور اپنے ہاتھ اسکے گرد گرد لپیٹ کر اپنا سر اسکے سینے پر رکھ دیا۔

“پلیز مت جائیں فرزام۔۔۔۔۔”

مناہل نے اتنی محبت سے کہا کہ فرزام اپنا تمام غصہ بھلا کر مسکرا دیا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔

“اتنے پیار سے روکو گی تو کون کمبخت تم سے دور جا پائے گا۔۔۔”

فرزام نے اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔

“ایک بات یاد رکھنا مناہل جو باتیں تم سے کہی گئیں وہ سب اس معاشرے کے لوگوں کی جاہلانہ سوچ ہے جو کبھی نہیں بدلے گی۔۔۔ “

فرزام نے اسے بہت زیادہ محبت سے دیکھا۔

“تم بہت پاکیزہ ہو جانتی ہو کیوں؟کیونکہ تمہارا یہ دل پاکیزہ ہے تمہاری طرح ہی معصوم یہ جسم تو بس مٹی ہے من یہ بھلا کسی کو کیسے پاکیزہ یا نا پاک بنائے گا یہ کام بس ہمارا دل کر سکتا ہے یا ہمارے اعمال۔۔۔۔”

مناہل نے آنکھوں میں محبت سمو کر اپنے شوہر کو دیکھا۔

“آپ کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ آپ اتنے اچھے ہیں۔۔۔۔”

فرزام نے اسکی بات پر قہقہ لگایا۔

“بس میں ناں زرا سی ہٹ کر پرسنیلٹی ہوں لوگ سمجھ ہی نہیں پاتے مجھے۔۔۔”

فرزام نے کالر جھاڑ کر کہا اور مناہل کو لے کر پھر سے بیڈ کی جانب چل دیا۔

“گھبراؤ مت کچھ نہیں کروں گا تمہارے ساتھ تب تک جب تک تم خود مجھے اپنے پاس نہیں بلاؤ گی۔۔۔”

فرزام نے مناہل کو پھر سے گھبراتے دیکھا تو اسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر دونوں کے گرد کمبل دیتے ہوئے کہا۔

“میں بھلا کیسے۔۔۔۔؟”

مناہل ایسا سوچ کر ہی سرخ ہو گئی۔

“جانتا ہوں میرا جنون اتنی ہمت نہیں تم میں کہ میری جانب پیش قدمی کرو اس لیے جس دن تمہیں میرے حال پر رحم آ جائے تو یہی ڈریس پہن لینا میں سمجھ جاؤں گا کہ میرا امتحان ختم ہوا۔۔۔۔”

فرزام نے اسکے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ کر کہا تو مناہل سکون سے اپنی آنکھیں موند گئی۔فرزام کی باتوں نے اس کے دل سے وہ بوجھ ہلکا کر دیا تھا جو وہ نازک جان سات سال سے برداشت کر رہی تھی۔
💞💞💞💞
اس وقت چاہت لان میں تنہا بیٹھی حد سے زیادہ بور ہو رہی تھی۔سنڈے ہونے کی وجہ سے وہ گھر پر ہی تھی۔مناہل اور فرزام بھی تو یہاں نہیں تھے جو وہ ان کے ساتھ باتیں کر لیتی۔چاہت گہرا سانس لیتے ہوئے وہاں سے اٹھی اور بہرام کے کمرے میں آ گئی۔

کل رات بہرام کے کمرے سے چلے جانے کے بعد سے اس نے بہرام کو نہیں دیکھا تھا۔نہ جانے وہ تب سے کہاں چلا گیا تھا ویسے بھی وہ بہرام کا سامنا کرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ابھی بھی اس کمرے میں آ کر رات کا منظر یاد کرتے ہوئے چاہت کے گال شرم سے سرخ ہو گئے۔

پہلے تو وہ ارد گرد کا جائزہ لیتی رہی پھر بہرام کی وارڈروب کھول کر دیکھنے لگی۔بہرام کپڑوں پر نظر پڑتے ہی اس نے شرارت سے ایک سوٹ پکڑا اور اسے لے کر واش روم میں گھس گئی۔

وہ بہرام کا پیٹ کوٹ پہن کر باہر آئی جو اسکے لیے بہت زیادہ بڑا تھا لیکن پھر بھی وہ اس میں حد سے زیادہ کیوٹ لگ رہی تھی۔کمرے میں بنے بڑے سے شیشے کو دیکھ کر چاہت اسکے سامنے آئی اور شرٹ کا کالر ٹھیک کرنے لگی۔پھر اس نے برا سا منہ بنایا اور خود کو شیشے میں دیکھنے لگی۔

“تمہیں سمجھ نہیں آتا چاہت میں نے کیا کہا ہے بات کیوں نہیں سنتی تم؟”

اپنی آواز بھاری کر کے چاہت نے بہرام کی نقل اتاری اور پھر خود کو شیشے میں دیکھ کر ہنس دی۔وہ نہیں جانتی تھی کہ جس شیشے کے سامنے وہ کھڑی تھی وہ دراصل ایک دروازہ تھا جو بہرام کے سیکرٹ آفس کا تھا جہاں وہ اکثر ہی گھر بیٹھ کر آفس کا کام کیا کرتا تھا۔

اور اس وقت بھی وہ وہیں بیٹھا تھا جب چاہت کی آواز پر اسکا دھیان اس شیشے کے دروازے کی جانب گیا۔اس دروازے کی خاصیت یہ تھی کہ باہر موجود شخص کو تو اپنا آپ اس میں دیکھائی دیتا تھا لیکن اندر بیٹھا شخص باہر ہر چیز دیکھ سکتا تھا۔

“تم نے ابھی بہرام خانزادہ کو جانا نہیں چاہت خانزادہ۔اس دنیا کا سب سے بڑا سڑیل ہوں میں اتنا کہ ہٹلر بھی مجھ سے آ کر ٹیوشن لیتا تھا۔”

چاہت نے پھر سے آواز بھاری کر کے کہا اور پھر قہقہ لگا کر ہنس دی۔بہرام کے قدم خود بخود اس دروازے کی جانب چل دیے جہاں چاہت کھڑی تھی۔

بہرام نے اپنا ہاتھ اس شیشے کے دروازے پر رکھا اور گہری نگاہوں سے چاہت کو دیکھنے لگا جو پھر سے اپنی پاگل حرکتوں سے اس کے لیے سراپا امتحان بنی ہوئی تھی اور شائید یہ معصوم حرکتیں کافی نہیں تھیں اسی لیے چاہت نے اسکے کمرے میں موجود ہوم تھئیٹر پر گانا لگایا اور شیشے کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔

پہلے تو وہ خالی میوزک پر کھڑی رہی پھر گانے کے بول شروع ہوتے ہی اس نے اپنی کمر پر ہاتھ دونوں ہاتھ رکھے اور ہلکے ہلکے ڈانس سٹیپ لینے لگی۔

“میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو
آئی رت مستانی کب آئے گی تو
بیتی جائے زندگانی کب آئے گی تو
چلی آ تو چلی آ۔۔۔”

چاہت آئنے میں اپنے ہی عکس کو لڑکا بن کر کہہ رہی تھی اور گانے کے بول کے متابق حرکتیں بھی کر رہی تھی۔

“پھولوں سی کھل کے پاس آ دل کے
دور سے مل کے چین نہ آئے
اور کب تک مجھے تڑپائے گی تو
میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو۔۔۔”

چاہت نے آئنے پر ہاتھ رکھ کر آئنے کے قریب ہو کر اپنے لمبے بالوں کو جھٹکا دیا اور رہی سہی کسر تو تب پوری ہوئی جب اس نے آخر میں آنکھیں میچ کر اپنے ہونٹ آئنے پر رکھنے چاہے لیکن تبھی بہرام نے دروازہ کھول دیا اور چاہت کے ہونٹ سیدھا اس کے سینے سے جا لگے۔

چاہت نے بوکھلا کر آنکھیں کھولیں اور حیرت سے سر اٹھا کر بہرام کو دیکھا جو اسے گھور رہا تھا۔بہرام کو وہاں دیکھ کر اپنی حرکتیں یاد کرتے ہوئے چاہت کے رخسار گلال ہو گئے اور اس نے وہاں سے بھاگنا چاہا لیکن بہرام نے اسکی نازک کلائی پکڑ کر اسے وہاں سے جانے سے روکا۔

“یہ کیا کر رہی تھی تم ؟”

بہرام کے سوال پر چاہت بری طرح سے ہڑبڑا گئی۔

“ک۔۔۔۔کچھ نہیں خان جی۔۔۔۔وہ میں بور ہو رہی تھی اس لیے۔۔۔۔۔۔ممم۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ گھر پر ہیں۔۔۔”

چاہت نے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑانا چاہا لیکن بہرام کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔اچانک ہی بہرام نے اسکے اپنے آفس میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کر کے چاہت کو اس دروازے کے ساتھ لگا دیا۔

“آخر چاہتی کیا ہو تم چاہت کیوں ہر پل میرے لیے امتحان بنی رہتی ہو۔۔”

بہرام اسکے قریب ہوتے ہوئے پوچھنے لگا تو اسکے سوال پر چاہت کی پلکیں بھیگ گئیں کیا وہ اتنی بری لگتی تھی بہرام کو۔

“سس۔۔۔۔سوری مم۔۔۔میں آپ کو بری لگتی ہوں ناں اب آپ کے سامنے نہیں آؤں گی۔۔۔”

بہرام نے اسکا چہرہ ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر کیا۔

“کس نے کہا تم مجھے بری لگتی ہو؟”

بہرام گہری نگاہوں سے اسکی گھنی پلکوں کا رقص دیکھ رہا تھا۔

“بری لگتی ہوں اسی لیے کل رات مجھے چھوڑ کر نہ جانے۔۔۔”

چاہت نے اپنی بات پر غور کیا تو پاؤں کے ناخن تک سرخ ہوئی اور فوراً خود کو بہرام کی نظروں سے چھپانے کے لیے اسی کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا۔

“تم مجھے بری نہیں لگتی چاہت۔۔۔”

بہرام کے گھمبیر آواز میں کہنے پر چاہت نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔

“تم میری چاہت ہو،میرا جنون ہو جسے دیکھ کر ہی مجھے سکون ملتا ہے۔۔۔”

بہرام اچانک سے چاہت کے ہونٹوں کے قریب ہوا تو وہ سانس تک لینا بھول گئی۔

“اگر مجھے اس دنیا میں کوئی اچھا لگتا ہے تو صرف تم اور یہی سب سے بڑی مشکل ہے۔۔۔۔”

چاہت نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“میں آپ کو سمجھ نہیں پا رہی خان جی۔۔۔ کیوں آپ مجھے چاہتے ہوئے بھی دھتکار رہے ہیں۔۔۔”

بہرام نے کرب سے اپنی آنکھیں موند لیں اور اپنا ماتھا چاہت کے کندھے سے ٹکا دیا۔

“چلی جاؤ یہاں سے چاہت اور آج کے بعد میرے سامنے مت آنا۔”

بہرام کے اتنی بے رخی سے کہنے پر چاہت نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی۔وہ یونہی روتے ہوئے سیدھا اپنے کمرے میں آئی۔بہرام کی آواز بار بار اس کے کانوں میں گونج رہی تھی جو سے کہہ رہی تھی کہ وہ اس کے سامنے کبھی مت آئے۔

وہ آواز چاہت کا ہر حوصلہ بری طرح سے توڑ چکی تھی۔بہرام کا اسے بار بار دھتکارنا چاہت کے معصوم دل کو بہت بری طرح سے توڑ چکا تھا۔کچھ سوچ کر چاہت نے اٹھ کر کپڑے چینج کیے اور اپنے بیگ میں ضروری سامان ڈال کر باہر پورچ میں آ گئی۔

“چاہت بی بی آپ کو کہیں جانا ہے کیا؟”

چاہت کو دیکھتے ہیں رشید اس کے پاس آیا اور کمر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر پوچھنے لگا۔

“جی مجھے اماں کے پاس جانا ہے۔۔۔۔”

چاہت نے اپنی آنسو سے تر آواز پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

“رکیں میں بہرام صاحب سے پوچھ۔۔۔۔”

“آپ مجھے چھوڑ کر آ رہے ہیں یا میں خود چلی جاؤں؟”

چاہت نے سختی سے رشید کی بات کاٹی تو رشید حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔

“لیکن بی بی میں بہرام صاحب سے پوچھے بغیر آپ کو کیسے چھوڑ کر آ سکتا ہوں؟”

“ٹھیک ہے تو آپ جا کر ان سے پوچھ لیں میں خود چلی جاؤں گی ۔۔۔۔”

چاہت دروازے کی جانب بڑھ گئی تو رشید بھاگ کر اسکے پیچھے آیا۔

“آپ کو اکیلے نہیں جانے دے سکتا چاہت بی بی۔۔۔۔”

چاہت نے گھائل آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“تو پھر خاموشی سے مجھے میری اماں کے پاس چھوڑ آئیں ورنہ آپ تو کیا کوئی بھی مجھے یہاں سے جانے سے نہیں روک سکے گا۔۔۔”

چاہت نے بہرام کے کمرے کی کھڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا اور آگے بڑھ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔رشید پریشانی سے کبھی گاڑی کو دیکھتا تو کبھی خانزادہ مینشن کو۔پھر وہ گہرا سانس لے کر گاڑی میں بیٹھا اور چاہت کو اسکے گھر لے جانے لگا یہ جانے بغیر کے وہ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھا تھا۔
💞💞💞💞
بہرام نے سارا دن اپنے کمرے کے بنے آفس میں ہی گزارا تھا۔چاہت کے وہ آنسو اس کے دل پر گرے تھے اور ان آنسوؤں کی تکلیف وہ ابھی تک محسوس کر سکتا تھا پھر بھی اس میں اتنی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ چاہت کے پیچھے جا کر اسے منا سکتا۔

دروازہ کھٹکھانے کی آواز پر بہرام اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آیا اور اپنے آفس سے نکل کر کمرے کے دروازے کی جانب چل دیا۔

“بہرام بیٹا کھانا تیار ہے یہاں کھائیں گے یا ڈائننگ ٹیبل پر لگا دوں؟”

بہرام کہ دروازہ کھولتے ہی سامنے کھڑی خالہ نے عقیدت سے پوچھا۔بہرام کو فوراً چاہت کا خیال آیا نہ جانے اس نے غصے میں کھانا بھی کھایا تھا یا نہیں۔

“ڈائننگ ٹیبل پر ہی لگا دیں۔۔۔”

خالہ نے ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئیں۔بہرام بھی فریش ہوا اور کپڑے تبدیل کر کے نیچے ڈائننگ ہال میں آگیا۔چاہت کو وہاں نہ پا کر بہرام بے چین ہوا اور خالہ کو دیکھا۔

“چاہت کا بلا لائیں خالہ وہ میرے ساتھ ہی کھانا کھائے گی۔۔۔”

بہرام کی بات پر خالہ نے ہاں میں سر ہلایا اور چاہت کے کمرے کی جانب چل دیں۔بہرام کرسی پر بیٹھ کر چاہت کا انتظار کرنے لگا۔تقریبا دس منٹ کے بعد خالہ کافی پریشانی کے عالم میں بہرام کے پاس آئیں۔

“بہرام بیٹا چاہت اپنے کمرے میں نہیں ہے بلکہ میں نے سارا گھر دیکھ لیا ہے مجھے کہیں بھی نہیں مل رہی۔۔۔ “

خالہ کی بات پر بہرام کو لگا کہ اس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ کہاں ہے میری چاہت؟”

بہرام نے غصے سے پوچھا تو خالہ مزید گھبرا گئیں۔

“ممم۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ بیٹا اسے ناشتے کے وقت تو دیکھا تھا پھر اس کے بعد نظر نہیں آئی مجھے لگا اپنے کمرے میں ہو گی لیکن اب وہاں بھی نہیں ہے۔۔۔۔”

بہرام فوراً اپنی جگہ سے اٹھا اور اسے پاگلوں کی طرح پورے گھر میں تلاش کرنے لگا۔جب وہ اڈے کہیں نہیں ملی تو دروازے کے پاس کھڑے گارڈز کے پاس آیا۔

“چاہت کہاں ہے؟”

بہرام کے غصے کو دیکھ کر گارڈ نے ہڑبڑا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔

“ہمیں نہیں پتہ سر وہ گھر سے باہر نہیں نکلیں۔۔۔”

“کیا مطلب نہیں پتہ؟کس بات کی ڈیوٹی کر رہے ہو تم لوگ؟”

بہرام کے غصے سے چلانے پر دونوں گارڈز نے اپنا سر جھکالیا۔

“اسے ڈھونڈو اسی وقت اگر وہ مجھے نہیں ملی ناں تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”

رشید جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا بہرام کو یوں غصے میں دیکھ کر پریشانی سے اسکی جانب آیا۔

“کیا ہوا سر سب ٹھیک ہے؟”

بہرام نے لال انگارہ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“نہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے چاہت گھر سے غائب ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔۔۔”

بہرام کو پہلی مرتبہ اتنے زیادہ غصے میں دیکھ کر رشید نے اپنا تھوک نگلا۔

“وہ اپنی اماں کے پاس گئیں ہیں بہرام صاحب میں خود انہیں چھوڑ کر آیا تھا۔۔۔”

بہرام نے حیرت سے اسے دیکھا اور اسکے قریب آ کر اسکا گریبان اپنی مٹھی میں جکڑ لیا۔

“کس کی اجازت سے؟”

رشید اب بہت زیادہ گھبرا گیا تھا۔

“وہ۔۔۔۔وہ چاہت بی بی نے کہا تھا کہ وہ وہاں جانا چاہتی ہیں۔۔۔۔”

رشید کے سر جھکا کر کہنے پر بہرام نے اپنے دانت کچکچائے۔

“اور تم نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا خود کو سمجھ کیا رکھا ہے تم نے؟”

بہرام اتنے غصے سے چلایا کہ اس کا ہر ملازم کانپ کر رہ گیا۔

“سس۔۔۔۔سوری سر۔۔۔آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔”

بہرام نے اسے جھٹکے سے چھوڑا اور گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔اسے اسی وقت اپنی چاہت کو واپس اپنے پاس لانا تھا اسکے بعد شائید وہ ٹھیک سے سانس لے سکتا۔

کچھ بھی کرتی تم لیکن مجھے سے دور جا کر تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور تمہیں یہ غلطی بہت مہنگی پڑے گی چاہت۔۔۔

بہرام دل میں ہی چاہت سے مخاطب ہوا اور گاڑی بھگاتا سکینہ کے گھر کی جانب جانے لگا جبکہ اسے یوں غصے سے جاتا دیکھ پر ملازم یہ سوچنے لگا کہ چھوٹی سی چاہت اس غصے کا مقابلہ کیسے کرے گی۔