📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 03)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 03)

Kaif E Junoon By Harram Shah

چاہت نے تیار ہو کر خود کو آئینے میں دیکھا تو ایک شرمیلی سی مسکراہٹ اسکے لبوں پر آئی۔بہرام کے دلوائے جوڑے اور جھمکوں میں ہلکے سے میک اپ کے ساتھ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی۔

لمبے بالوں میں ملٹی کلر کر پراندہ ڈال کر چوٹی بنائی گئی تھی جو چاہت کے بائیں کندھے پر تھی۔سکینہ اسکی چادر لے کر اسکے پیچھے آئیں۔

“چاہت بیٹا دیر ہو رہی ہے کب تیار۔۔۔۔۔”

سکینہ کی نظر چاہت پر پڑی تو الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔بے ساختہ وہ اپنی بچی کے پاس آئیں اور محبت سے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا ۔

“ماشاءاللہ بہت زیادہ پیاری لگ رہی ہو۔کسی کی نظر نہ لگ جائے میری چندا کو۔۔۔۔”

سکینہ نے کچھ پیسے نکال کر اس کا صدقہ نکالتے ہوئے کہا۔

“اماں خان جی نے جانا تھا ناں میرے ساتھ وہ کب آئیں گے۔۔۔۔؟”

سکینہ چادر پکڑ کر اسکے سر پر دینے لگیں۔

“آتا ہی ہوگا لیکن تم نے اسے خواہ مخواہ کیوں پریشان کیا پتہ نہیں اپنے کتنے کام پیچھے ڈال کر آرہا ہوگا وہ۔۔۔۔”

چاہت نے مسکراتے ہوئے سکینہ کے گال کھینچے۔

“فکر مت کریں اماں اپنی خوشی سے آرہے ہیں وہ۔۔۔۔”

تبھی دروازہ کھٹکنے کی آواز پر سکینہ مسکرا کر دروازے کی طرف چل دیں۔

“ارے آؤ بہرام بیٹا۔۔۔۔”

چاہت بہرام کا نام سن کر مسکرا دی اور خود پر آخری نگاہ ڈالنے کے بعد چادر لے کر کمرے سے باہر آ گئی۔

“چاہت تیار ہے تم بیٹھ کر چائے وغیرہ پی لو۔۔۔۔”

بہرام نے انکار میں سر ہلایا۔

“نہیں اماں جی ابھی دیر ہو رہی ہے آپ چاہت کو بھیج دیں اسے واپس گھر چھوڑ کر مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔۔”

بہرام نے سنجیدگی سے کہا۔

“تم اپنا کوئی ضروری کام تو چھوڑ کر نہیں آئے۔۔۔۔میں نے کہا بھی تھا چاہت کو کہ تمہیں پریشان نہیں کرے لیکن بچی ہے ناں۔۔۔۔”

“نہیں آپ پریشان مت ہوں میں کوئی ضروری کام چھوڑ کر نہیں آیا۔۔۔”

بہرام نے صاف جھوٹ بولا حالانکہ سچ تو یہ تھا کہ یہاں آنے کیلئے اسے اپنی میٹنگ چھوڑنی پڑی تھی جس کی وجہ سے اس کی کمپنی کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں کا نقصان ہو چکا تھا۔

“چاہت اگر تیار نہیں تو میں بعد میں۔۔۔ “

“نہیں میں تیار ہوں کب سے چلیں۔۔۔ “

بہرام کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی چاہت بھاگ کر باہر آئی اور اپنی چادر سنبھال کر چہکتے ہوئے کہنے لگی۔بہرام خاموشی سے آگے بڑھ گیا اور چاہت سکینہ سے مل کر اس کے پیچھے چل دی۔تقریبا دس منٹ کے سفر کے بعد ہی وہ دونوں چاہت کے کالج کے باہر موجود تھے۔

“تم چلو میں دس منٹ میں آتا ہوں۔۔۔۔”

چاہت نے فورا اپنا منہ بسور لیا۔

“سچ میں آئیں گے ناں دس منٹ کا کہہ کر غائب تو نہیں ہو جائیں گے۔۔۔۔”

بہرام نے گہرا سانس لیتے ہوئے انکار میں سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے میں آپ کا انتظار کروں گی۔۔۔”

اتنا کہہ کر چاہت گاڑی سے نکل کر اپنے کالج میں داخل ہو گئی جہاں اسکی سہیلیاں اسکا انتظار کر رہی تھیں۔

“اف چاہت کتنی پیاری لگ رہی ہو تم۔۔۔۔”

اپنی ایک سہیلی کی بات پر چاہت نے اتراتے ہوئے اسے دیکھا۔

“پیاری تو لگوں گی ناں یہ سب کچھ خان جی نے مجھے سینٹارس مال سے لے کر دیا ہے سوائے پراندے کے وہ بازار کا ہے۔۔۔۔۔”

چاہت کی بات پر اسکی سہیلیاں ہنس دیں۔

“شکر ہے پرنسپل صاحب نے کہا لڑکے اور لڑکیوں کا فنکشن علیحدہ ہو گا ورنہ وہ سیفی آج پھر تمہیں پریشان کرتا۔”

سیفی کے ذکر پر ہی چاہت کا موڈ بری طرح سے آف ہوا تھا۔

“تم اس کی شکایت اپنے خان جی کو کیوں نہیں لگا دیتی۔۔۔۔؟”

“کیونکہ پھر خان جی میرا کالج بدلوا دیں گے بدھو۔۔۔ویسے بھی وہ جو بھی کرتا پھرے مجھے فرق نہیں پڑتا بھاڑ میں جائے میری بلا سے۔۔۔”

چاہت نے اپنا پراندہ کمر کی جانب پھینکتے ہوئے کہا۔

“اف سچ میں کچھ بھی کر لوں تمہیں کوئی اعتراض نہیں؟”

سیفی کی آواز پر چاہت گھبرا کر پلٹی اور اس آوارہ سے لڑکے کو دیکھا جو آوارگی کے لیے پورے کالج میں مشہور تھا۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟”

چاہت نے اسکے پاس آ کر غصے سے پوچھا۔

“دیدار عشقم کرنے آیا تھا اب پرنسپل صاحب نے تو یہاں آنے سے منع کیا ہے لیکن حسن کے دیدار کے لیے اتنا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔۔۔۔”

سیفی نے خباثت سے ببل چباتے ہوئے کہا۔

“سیفی میں تمہیں کہہ رہی ہوں چلے جاؤ یہاں سے اگر خان جی آ گئے ناں تو۔۔۔۔۔چلے جاؤ پلیز۔۔۔ “

سیفی اسکی بے چینی دیکھ کر مسکرا دیا۔

“ٹھیک ہے چلا جاؤں گا لیکن بدلے میں مجھے کیا ملے گا۔۔۔۔”

“دو سو جوتے وہ بھی تمہارے سر پر۔۔۔۔دفع ہو جاؤ یہاں سے شرافت سے کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔”

چاہت نے اب اسے دھکا دیا لیکن سیفی نے اپنا ہاتھ وہاں رکھ کر آنکھیں موند لیں جہاں چاہت نے اسے دھکا دینے کے لیے چھوا تھا۔

“اف دل کو قرار آیا
تجھ پہ ہے پیار آیا
پہلی پہلی بار آیا
او یارا۔۔۔ “

سیفی کے گنگنانے پر چاہت نے دانت پیسے اور خود ہی اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔کچھ ہی دیر میں چاہت کا سکیٹ شروع ہونے والا تھا اور چاہت وہ سب بہرام کو دیکھانے کے لیے بہت بے چین تھی جو اسے اس کی ٹیچر نے سیکھایا تھا۔

وہ تو شکر تھا کہ فیملی میمبرز کو فنکشن دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔جیسے ہی چاہت کا نام اناؤنس ہوا تو وہ سٹیج پر گئی اور جاتے ہی اس کی نظریں بے چینی سے بہرام کو تلاش کرنے لگیں۔

بہرام کو دوسری قطار میں بیٹھا دیکھ چاہت مسکرا دی اور گھٹنوں کے بل سٹیج پر بیٹھ گئی۔

“وہ جو کہتا تھا عشق میں کیا رکھا ہے
اک ہیر نے اسے رانجھا بنا رکھا ہے۔۔۔”

اس کے بعد کچھ لڑکیاں ایک جیسے کپڑے پہنے سٹیج پر آئیں تو چاہت بھی اٹھ کر ان لڑکیوں کے سامنے کھڑی ہو گئی۔تبھی ہال میں گانے کی آواز گونجنے لگی۔

“ہیر آکھدی جوگیا وے جھوٹ بولیں
کون وچھڑے یار مناودا اے
وے کوئی ایسا نہ ملیا وے میں ٹونڈھ تھکی
جیڑا گیاں نوں موڑ لیاوندا اے۔۔۔۔”

چاہت نے مسکرا کر ساتھ موجود لڑکیوں کی طرح ہلکے ہلکے سٹیپ لینے شروع کئیے اور نظریں اٹھا کر بہرام کو دیکھا لیکن اسے دیکھتے ہی چاہت کے پیر زمین پر جم گئے کیونکہ بہرام کی آنکھوں میں غصہ تھا،،،،بہت زیادہ غصہ۔۔۔ اور پھر وہ ہوا جو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔

بہرام اپنی سیٹ سے اٹھ کر اسٹیج پر آیا اور چاہت کو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹتا وہاں سے لے گیا۔یہ دیکھ کر سب لوگ حیران رہ گئے۔

“خخ۔۔۔۔خان جی کیا ہوا۔۔۔۔”

“تم نے کہا تھا کہ ایک سکیٹ میں حصہ لیا ہے تم نے یہ سکیٹ تھا؟کس کی اجازت سے تم ان لوگوں کے سامنے ناچنے گئی تھی؟”

بہرام کا غصہ دیکھ کر چاہت خوف سے کانپ اٹھی۔

“خخ۔۔۔۔خان جی میں تو بس وہ۔۔۔۔”

” تم نے سوچا بھی کیسے کہ میں یہ برداشت کروں گا کہ تم لوگوں کے سامنے یوں خود کی نمائش کرو۔۔۔۔”

چاہت نے سہم کر اسے دیکھا تبھی چاہت کی ٹیچر گھبراتے ہوئے وہاں آ گئیں۔

“کیا ہوا سر سب ٹھیک ہے ناں ؟”

بہرام نے ٹیچر کو بھی غصے سے دیکھا۔

“نہیں سب ٹھیک نہیں ہے کس کی اجازت سے آپ چاہت کو سٹیج پر ڈانس کروا رہی تھیں؟”

ٹیچر بہرام کی سختی اور غصہ دیکھ کر مزید گھبرا گئی جبکہ چاہت سے تو خوف کے مارے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔

“سر وہ تو بس کلچرل پرفارمینس۔۔۔۔”

“کلچر؟ہمارا کونسا کلچر ہے جو بچیوں کو لوگوں کے سامنے ناچنا سیکھاتا ہے؟سٹیج پر جا کر بات کرنا یا کسی چیز کو ریپریزینٹ کرنا اور بات ہے لیکن جو آپ کروا رہے ہیں وہ ہمارا کلچر بالکل نہیں بس کالج کی جانب اٹریکشن دلانے کا ذریعہ ہے جس کے لیے آپ عزت دار بچیوں کو استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔”

بہرام کے غصے سے کہنے پر ٹیچر نے اپنا سر جھکا لیا۔

“آج کے بعد چاہت ایسے کسی پروگرام میں حصہ نہیں لے گی اور اگر پھر کبھی ایسا ہوا تو یقین جانیں اس کالج کا نام و نشان مٹا دوں گا۔۔۔”

بہرام نے انتہائی غصے سے کہا اور پھر چاہت کو دیکھا جو سر جھکائے وہاں کھڑی کانپتی جا رہی تھی۔

“چلو چاہت تم اسی وقت گھر واپس جارہی ہو۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر بہرام وہاں سے چلا گیا تو چاہت بھی گھبراتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑی۔گاڑی میں بیٹھ کر اس نے گھبراتے ہوئے بہرام کو دیکھا جسکی رگیں ابھی بھی غصے سے تنی ہوئی تھیں۔

“سس۔۔۔۔سوری خان جی میں تو ۔۔۔۔”

“چب چاہت بالکل چپ۔۔۔”

بہرام کے انتہائی رعب سے کہنے پر چاہت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اس نے تو سوچا تھا کہ اسے اس روپ میں دیکھ کر بہرام کو اچھا لگے گا۔سیفی کی طرح بہرام کو بھی وہ خوبصورت لگے گی لیکن بہرام کا یہ غصہ اب اسے بہت زیادہ ڈرا رہا تھا۔

گھر پہنچنے تک نہ تو بہرام نے اسے کچھ کہا تھا اور نہ ہی اس کی کوئی بات سنی تھی بس اسے گھر کے دروازے پر چھوڑ کر خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔

اسے یوں غصے سے جاتا دیکھ چاہت کی پلکیں روانی سے بہنے لگیں۔اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو سکینہ نے کچھ ہی پل میں دروازہ کھول دیا۔

“چاہت تم اتنی جلدی آ گئی؟”

سکینہ نے حیرت سے پوچھا لیکن اگلے ہی لمحے چاہت ان سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔سکینہ نے گھبرا کر دروازہ بند کیا اور چاہت کو خود سے دور کر کے پریشانی سے اسے دیکھنے لگیں۔

“کیا ہوا ہے چاہت بتاؤ مجھے؟”

سکینہ کا دل اسکی حالت دیکھ کر بہت بری طرح سے دھڑک رہا تھا۔

“خان جی ناراض ہو گئے ہیں اماں۔۔۔بہت زیادہ ناراض ہو گئے ہیں۔۔۔۔”

سکینہ نے حیرت سے اسے دیکھا تو چاہت نے روتے ہوئے ہر بات انہیں بتا دی۔

“غلطی بھی تو تمہاری ہے ناں چاہت میں نے ایسی پرورش کی ہے کیا تمہاری؟”

سکینہ کے سوال پر چاہت اپنا سر شرمندگی سے جھکا گئی۔

“معاف کر دیں اماں غلطی ہو گئی۔۔۔۔”

سکینہ نے مسکرا کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔

“لیکن خان جی کو کیسے مناؤں گی اماں وہ تو بہت زیادہ ناراض ہیں مجھ سے۔۔۔۔”

بہرام کی ناراضگی کا سوچ کر ہی چاہت پھر سے رونے لگی۔

“معافی مانگنا اس سے بھی مان جائے گا۔۔۔۔”

“وعدہ؟”

چاہت نے بہت امید سے اپنی ماں کی طرف دیکھا تو انہوں نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا اور اپنی ماں کے وعدہ کرنے پر چاہت بھی آنسو پونچھ کر مسکرا دی۔
💞💞💞💞
بہرام غصے سے اپنے آفس میں آیا۔وہ خود حیران تھا کہ اسے اچانک اس قدر غصہ کیوں آگیا وہ تو ایک سرد مہر سا انسان تھا جو اپنے جذبات اور غصے کو قابو میں رکھتا تھا۔یوں بے قابو ہو کر کچھ بھی کر گزرنا تو فرزام کی عادت تھی۔

“سر۔۔۔۔؟”

اپنی سیکریٹری کی آواز بہرام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

“سر آپ سے مسٹر الطاف حیدر بیگ ملنے آئے ہیں کافی دیر سے ویٹ کر رہے ہیں لیکن آپ آفس میں نہیں تھے۔۔۔۔۔”

سیکریٹری کی بات پر بہرام حیران ہوا کہ آخر الطاف بیگ اس سے کیوں ملنے آیا تھا۔

“اندر بھیج دو انہیں۔۔۔۔”

سیکریٹری یس سر بول کر وہاں سے چلی گئی اور کچھ دیر بعد ہی الطاف حیدر بیگ بہرام کے آفس میں داخل ہوا۔اسے دیکھ کر بہرام خاموشی سے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔

“کیسے ہو برخوردار؟”

بہرام نے بس سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا اور الطاف کو اپنے سامنے موجود کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

“اب بتائیے مسٹر بیگ کیسے آنا ہوا یہاں آپ کا؟”

الطاف ہلکا سا مسکرایا۔

“سوچا اس شخص سے ملنا چاہیے جس کی کمپنی کا برانڈ میری کمپنی کے برانڈ کی اہمیت بہت کم کر چکا ہے۔”

بہرام نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔

“تو پھر آپ کو مجھ سے ملنے کی بجائے اپنی کمپنی کی برانڈ پر فوکس کرنا چاہیے تاکہ اسکی کوالٹی اتنی اچھی ہو کہ لوگوں کو پسند آ سکے۔۔۔۔۔”

بہرام کا غرور دیکھ کر الطاف نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں لیکن چہرے پر مسکراہٹ ابھی بھی قائم تھی۔

“میرے بہنوئی نے آپ سے کچھ بات کی تھی۔۔۔۔”

“جی کی تھی اور میں انہیں انکار کر چکا ہوں شاید آپ وہ انکار اپنے کانوں سے سننے یہاں آئے ہیں۔”

بہرام نے لیپ ٹاپ پر نظریں جماتے ہوئے کہا جبکہ الطاف اس کی ہٹ دھرمی پر اپنے دانت کچکچا کر رہ گیا۔

“نہیں بلکہ میں یہاں کچھ اور بات کرنے آیا ہوں۔۔۔۔”

الطاف نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔

“کیسی بات؟”

الطاف نے زرا سا آگے ہوا اور اپنے دونوں ہاتھ میز پر رکھ دیے۔

“شاید آپ کو یاد نہیں لیکن کبھی آپ کے والد اور میں پارٹنرز ہوا کرتے تھے پھر اچانک ہی آپ کے والد نے بزنس کو علیحدہ کرنے کا سوچ لیا لیکن اس کے بعد ہم دونوں کی کمپنی نے وہ عروج نہیں دیکھا جو ہمارے اکٹھے ہونے سے تھا۔۔۔۔۔”

بہرام نے طائرانہ نظروں سے الطاف کو دیکھا۔

“وہ عروج ہماری کمپنی پھر سے دیکھ سکتی ہے اگر ہم دونوں ایک مضبوط پارٹنرشپ کر لیں۔۔۔۔”

بہرام نے پھر سے اپنا دھیان لیپ ٹاپ کی جانب کر لیا۔

“میں آپ پر بھروسا کیوں کروں اگر میرے بابا نے آپ سے پارٹنرشپ توڑی تھی تو اس کی ضرور کوئی وجہ ہوگی۔۔۔”

“بالکل وجہ تھی اور وجہ یہ تھی کیا آپ کے بابا کو اپنا بزنس میرے بزنس بہتر لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔”

بہرام الطاف کے چہرے پر حقارت کے آثار بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

“خیر ماضی میں جو بھی ہوا اب ہمیں اس سے آگے بڑھ جانا چاہیے اور ایک ساتھ مل کر کامیابی کی منزل تک پہنچنا چاہیے۔۔۔۔۔”

بہرام کچھ دیر خاموشی سے اس شخص کو دیکھتا رہا۔

“پھر سے وہی سوال میں آپ پر بھروسہ کیوں کروں؟”

الطاف کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ گئی۔

“اور اگر ہم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ قائم ہوجائے تو بھروسہ کریں گے ؟”

الطاف بہرام کے چہرے پر نا سمجھی کے آثار دیکھ سکتا تھا۔

“کہنا کیا چاہتے ہیں آپ؟”

“یہی کہ ہم ایک مظبوط رشتے میں بندھ جاتے ہیں جس کے بعد ہمارے لئے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا آسان ہو جائے گا۔”

الطاف زرا سا مسکرایا۔

“میرے چھوٹے بھائی شہاب کی ایک بیٹی ہے مناہل جسے اس کے باپ کی موت کے بعد سے میں نے اپنی بیٹیوں کی طرح پالا ہے۔میں اس کی شادی آپ سے یا آپ کے بھائی سے کر دوں گا اور اس طرح ہم دونوں کے خاندانوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق قائم ہو جائے گا۔۔۔۔۔”

بہرام خاموشی سے اسکی بات سنتا رہا۔

“ویسے بھی ہمارے درمیان تعلق قائم ہونے سے بزنس کی دنیا میں ہم بہت مضبوط ہو جائیں گے۔۔۔۔۔”

الطاف کے چہرے پر ایک فاتح مسکراہٹ تھی جیسے وہ پہلے سے ہی جانتا ہوں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکا ہے۔

“میں سوچ کر جواب دوں گا۔۔۔۔”

الطاف کے چہرے کی مسکان گہری ہو گئی۔

“ضرور مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔۔۔۔”

الطاف نے اپنا ہاتھ آگے کیا جسے بہرام نے سنجیدگی سے تھام لیا۔الطاف تو کچھ دیر کے بعد وہاں سے جا چکا تھا لیکن بہرام ابھی بھی اس کی باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
💞💞💞💞
رات کے دس بج رہے تھے اور فرزام اس وقت اپنے گھر کی جم میں پش اپس کرنے میں مصروف تھا۔کالے ٹراؤزر پر کالی ہی بنیان پہنے وہ اور بھی زیادہ دلکش لگنے لگا تھا۔

اتنی سردی میں بھی اسکے ماتھے پر پش اپس کرنے کی وجہ سے پسینہ نمودار ہو رہا تھا۔اچانک ہی فرزام کو اپنے سامنے کسی کے جوتے نظر آئے تو مسکرا کر اٹھ گیا اور تولیا پکڑ کر اپنا پسینہ صاف کرنے لگا۔

“آج تم گھر ہی ہو کہیں گئے نہیں؟”

بہرام نے ٹریڈ مل کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔

“موڈ نہیں تھا۔۔۔۔”

فرزام نے کندھے اچکا کر کہا اور تولیا اپنے کندھوں پر رکھ لیا۔

“آج الطاف بیگ مجھ سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔”

الطاف بیگ کے ذکر پر ہی فرزام اپنی مظبوط مٹھیاں بھینچ گیا۔

“کیا چاہتا ہے وہ؟”

بہرام فرزام کی آواز میں چھپا غصہ محسوس کر سکتا تھا۔پوری دنیا میں اگر وہ دونوں بھائی کسی سے سب سے زیادہ نفرت کرتے تھے تو وہ صرف الطاف حیدر بیگ تھا۔

“ہم سے رشتہ جوڑنا چاہتا ہے۔۔۔اپنی بھتیجی کا نکاح ہم دونوں میں سے کسی سے کر کے۔۔۔۔”

“تو پھر اسکی بھتیجی سے نکاح میں کروں گا اور اگلے دن ہی اسے طلاق دے کر الطاف بیگ کو بتاؤں گا کہ زندگیوں سے کھیلنا کسے کہتے ہیں۔۔۔ “

فرزام کے غصے پر بہرام نے گہرا سانس لیا۔

“نہیں فرزام اس سے الطاف کو کوئی نقصان نہیں ہو گا بس ایک لڑکی کی زندگی تباہ ہو گی۔ہم اس سے رشتہ قائم کرنے کے بعد اسکے درمیان رہ کر اسے برباد کریں گے۔۔۔۔”

فرزام بہرام کی جانب مڑا۔

“ٹھیک ہے تم اسے ہاں بول دو میں کروں گا اسکی بھتیجی سے نکاح۔۔۔۔”

بہرام نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔

“تم اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے فرزام اور تمہارا یہ غصہ سب برباد کر دے گا اس لئے اس سے نکاح تم نہیں بلکہ میں کروں گا۔۔۔۔”

فرزام نے حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھا۔

” تم؟”

“ہاں میں کیونکہ میرے اندر ایسے کوئی جزبات نہیں جو الطاف کو برباد کرنے میں میری رکاوٹ بنیں۔۔۔۔”

فرزام اب کی بار ٹریڈ مل پر چڑھ گیا۔

“چاہتے کیا ہو تم؟”

“اس کی بھتیجی سے شادی کر کے اسکے خاندان کا حصہ بنوں گا اور پھر اس سے وہ سب چھین لوں گا جس کا اسے غرور ہے۔۔۔۔”

فرزام اسکی بات پر پہلے تو خاموش رہا پھر کچھ سوچ کر بولا۔

“لیکن پھر چاہت کا کیا؟”

بہرام نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“اس سب سے چاہت کا کیا تعلق ہے؟”

فرزام اسکی لا تعلقی پر مسکرا دیا۔

“شی ہیز آ کرش آن یو۔۔۔۔”

بہرام نے گہرا سانس لیا۔

“اس عمر میں لڑکیوں کو ایسے کرش ہوتے رہتے ہیں۔۔۔۔”

“لیکن مجھے لگتا ہے چاہت کے جذبات کرش سے بڑھ کر ہیں۔۔۔”

بہرام کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔

“چاہت جیسی لڑکی مجھ جیسے انسان کے لیے نہیں ہے فرزام ایک تو وہ مجھ سے بہت زیادہ چھوٹی ہے اور اس میں بہت بچپنا ہے۔۔۔۔دل میں محبت کرنے اور پانے کی خواہش چھپی ہوئی ہے اور میں اس زمین پر وہ آخری مرد ہوں جو اسے محبت دے سکے گا۔۔۔۔”

فرزام بھی اب سنجیدگی سے بہرام کو دیکھ رہا تھا۔

“جب وہ بڑی ہو جائے گی اسکے لیے میں ایسا شخص ڈھونڈوں گا جو محبت کرنے کے قابل ہو۔۔۔۔لیکن فی الحال میرا بس ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے الطاف حیدر بیگ کی بربادی۔۔۔۔”

کچھ سوچ کر فرزام نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔

“اور اس مقصد میں میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔”

بہرام نے فرزام کو دیکھا جسکے چہرے پر خطرناک مسکراہٹ اسکے گال پر موجود گھڑے کو نمایاں کر رہی تھی۔الطاف حیدر نے ان سے رشتہ داری کو نہیں بلکہ اپنی بربادی کو دعوت دی تھی۔
💞💞💞💞
“مناہل۔۔۔۔”

مناہل جو اپنے کمرے میں کتاب اپنے گھٹنوں پر رکھے بیٹھی تھی انجم کی آواز پر سہم کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔

“جی تائی امی۔۔۔۔”

اسکے یوں سہم جانے پر انجم بیگم نے اپنے دانت کچکچائے۔

“تمھارے تایا ابو تمہیں بلا رہے ہیں۔۔۔ “

مناہل کی حسین آنکھوں میں حیرت اتری کیونکہ آج تک کبھی اس کے تایا ابو نے اس سے کوئی بات کرنے کے لیے اپنے پاس نہیں بلایا تھا۔اگر کوئی بات ہوتی بھی تو وہ انجم بیگم کو پیغام دے دیا کرتے۔

“جی میں آتی ہوں۔۔۔۔”

مناہل نے آہستہ سے کہا اور ٹھیک سے دوپٹہ لے کر اپنے تایا کے کمرے کی طرف چل دی۔دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے ہلکا سا دروازہ کھٹکھٹایا اور اجازت ملنے پر کمرے میں داخل ہو گئی۔

“آپ نے بلایا تایا ابو؟”

“ہممم بیٹھو ۔۔۔”

الطاف نے سامنے موجود کرسی کی طرف اشارہ کیا تو مناہل خاموشی سے وہاں بیٹھ کر اپنے ہاتھ مسلنے لگی۔نہ جانے ایسی کونسی بات تھی جس کے لیے اس کے تایا ابو نے اسے یہاں بلایا تھا۔

“میں نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔۔۔”

مناہل نے فورا ہی حیرت بھری آنکھیں اٹھا کر اپنے تایا کو دیکھا۔

“مم ۔۔۔میرا رشتہ۔۔۔۔؟”

“ہاں۔۔۔۔اگلے ہفتے بہرام خانزادہ منگنی کے لیے یہاں آئے گا تو بہتر ہے کہ تم اس کے لیے تیار رہو اور کوئی بھی بے وقوفی مت کرنا۔۔۔۔۔”

پوری بات سن کر مناہل کا سانس سینے میں ہی اٹک چکا تھا۔

“لل۔۔۔۔لیکن میں شش۔۔۔۔شادی نہیں کرنا چاہتی تایا ابو مم۔۔۔۔میں۔۔۔۔”

“کیا بکواس کی ہے تم نے؟”

مناہل نے فوراً اپنا سر جھکا لیا۔گلے میں بندھی آنسوؤں کی گھٹری اب اسے تکلیف دے رہی تھی۔

“تمہارے ماں باپ کے جانے کے بعد تمہیں بیٹیوں کی طرح پالا اس کا یہ صلہ دے رہی ہو تم؟میرا ایک حکم بھی نہیں مان سکتی؟”

مناہل اس سے پوچھنا چاہتی تھی کب اس نے مناہل کو بیٹی سمجھا تھا۔حبہ اور اس کی طرز زندگی میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

“پلیز تایا ابو آپ میری شادی مت کریں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔”

“بس مناہل تم میرا حکم مانو گی تمہارے پاس کوئی اور چارہ نہیں خود کو بہرام کی بیوی بنانے کے لیے تیار رہو۔۔۔۔”

“لیکن تایا ابو۔۔۔۔”

“بس مناہل۔۔۔۔تم اب یہاں سے جا سکتی ہو۔۔۔ “

مناہل کی پلکیں آنسوؤں کی شدت سے نم ہو گئیں۔وہ خاموشی سے اٹھی اور وہاں سے چلی گئی۔اپنے کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کرنے کے بعد وہیں زمین پر بیٹھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

نظریں پھر سے بستر کی جانب اٹھیں تو سات سال پہلے کا ہر منظر اسکی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا۔

اسے یاد آیا کہ کیسے باہر بجلی کڑکنے کی آواز سے بارہ سالہ مناہل ڈرتے ہوئے بستر میں دبک رہی تھی۔اسے بادل اور بجلی سے ہمیشہ ڈر لگتا تھا لیکن اس ڈر میں اسکے ساتھ اسے دلاسہ دینے والا کوئی نہیں تھا۔

اچانک ہی اسکا دروازہ کھلا تو مناہل نے حیرت سے دروازے کو دیکھا جہاں اسکے پھوپھا فیض کھڑے تھے۔

“کیا ہوا فیض انکل کچھ چاہیے آپ کو؟”

فیض نے مسکرا کر مناہل کو دیکھا اور دروازہ لاک کر کے کمرے میں داخل ہو گیا۔

“ہاں مناہل بہت کچھ چاہیے۔۔۔۔”

فیض مناہل کی پھپھو کا شوہر تھا اس لیے وہ اسے اپنے تایا جیسا سمجھتی تھی لیکن نا جانے کیوں اس وقت مناہل کو اس سے بہت خوف آ رہا تھا۔

“آآآ۔۔۔۔۔آپ چلے جائیں یہاں سے انکل مم ۔۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے۔۔۔۔”

مناہل اب باقاعدہ خوف سے کانپ رہی تھی لیکن فیض اب اسکے بیڈ کے پیندوں تک پہنچ چکا تھا۔

“اور تم نے جو میری نیند اڑائی ہے اسکا کیا مناہل ۔۔۔۔۔”

اچانک ہی فیض نے مناہل کو پیر سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچ لیا۔مناہل نے چیخ مارنا چاہی لیکن وہ مناہل کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی چیخ کا گلہ گھونٹ گیا۔

“بہت خوبصورت ہو تم مناہل بہت۔۔۔۔اور آج میں تمہیں اتنا خوبصورت ہونے کی سزا دوں گا۔۔۔۔”

مناہل کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ شخص اس سے کیا چاہتا ہے۔وہ ایسا کیوں کر رہا تھا۔وہ تو بس اس سے دور ہونا چاہتی تھی اسکا مقابلہ کرنا چاہتی تھی لیکن وہ معصوم اسکی طاقت کے مقابلے میں بہت کمزور ثابت ہوئی تھی۔

اسکی عزت اس سے نوچنے کے بعد وہ درندہ اس سے دور ہو گیا اور اپنی ہاتھ اسکے منہ سے ہٹایا جو مناہل کی چیخیں روکنے کے لیے تب سے اسکے منہ پر ہی تھا۔

مناہل اسکے دور ہوتے ہی بھاگ کر کمرے کے کونے میں چلی گئی اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں کے گرد لپیٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

“جو بھی یہاں ہوا اسکے بارے میں کسی کو مت بتانا۔۔۔۔”

فیض جس پر اب گناہ کا خوف حاوی ہو رہا تھا مناہل کو دھمکانے لگا۔

“ویسے بھی تمہارے ماں باپ تو ہیں نہیں جو تم پر یقین کریں گے ہر کوئی تمہیں ہی برا سمجھے گا اس لیے اپنا منہ بند رکھنا ۔۔۔۔۔اگر تم نے کسی کو کچھ بھی بتایا تو بہت برا ہو گا۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر وہ تو وہاں سے چلا گیا لیکن مناہل پوری رات اسی کونے میں بیٹھ کر روتی رہی تھی لیکن اسکی سسکیاں سننے والا اس دن بھی کوئی نہیں تھا اور آج بھی کوئی نہیں تھا۔

اس کے بعد وہ پھر کبھی مناہل کے قریب نہیں آیا لیکن اس ایک رات کا کرب یاد کر کے مناہل پھر سے ہزار موت مری تھی۔اگر بہرام خانزادہ کو پتہ چلتا کہ اسکے ساتھ کیا ہوا ہے تو کیا وہ اسے قبول کرتا؟

“اس کے بارے میں کسی کو مت بتانا لڑکی کیونکہ ہر کوئی عورت کو ہی قصور وار سمجھتا ہے مرد تو ہمیشہ سے دودھ کا دھلا ہے تھوڑی سی سزا کے بعد آزاد ہو جائے گا لیکن تم برباد ہو جاؤ گی۔ہر کوئی تمہیں ہی برا کہے گا تمہاری کبھی شادی نہیں ہو گی اور اگر ہو بھی گئی تو تمہارا شوہر سچ جان کر تمہیں چھوڑ دے گا اس لیے اس رات کی کوئی بھی بات تمہاری زبان پر نہ آئے۔”

خود سے کہی بات یاد کر کے مناہل نے اپنے بال ہاتھوں میں پکڑ لیے اور چیخ چیخ کر رونے لگی۔

“ایک بات یاد رکھنا اب تم کسی مرد کے قابل نہیں رہی۔۔۔۔”

مناہل کے ذہن میں کسی کے کہے الفاظ گونجے تو اسکے رونے میں روانی آ گئی۔وہ تب بھی نہیں جانتی تھی کہ اسکا کیا قصور تھا اور یہ بات وہ آج تک نہیں جان پائی تھی۔