Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 10)
Kaif E Junoon (Episode 10)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
چاہت چھٹی کے بعد کالج سے باہر آئی تو سامنے ہی بہرام کا سب سے بھروسہ مند آدمی رشید بڑی سی پراڈو کے پاس کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا۔
چاہت کا دن اس کی توقع سے زیادہ اچھا گزرا تھا پہلے تو وہ کالج آنے سے پہلے بہرام کے ساتھ سکینہ سے ملنے گئی تھی پھر کالج آنے کے بعد اسے پتہ چلا کہ سیفی کو کالج سے نکال دیا گیا تھا۔چاہت جانتی تھی کہ اس سب کے پیچھے بہرام کا ہی ہاتھ تھا۔
ابھی بھی وہ خوشی سے مسکراتے رشید کے پاس گئی اور اسے سلام کیا۔
“و علیکم السلام۔۔۔”
رشید نے عقیدت سے کہا اور گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔بہرام اپنے ہر ملازم کو چاہت کے مقام سے آگاہ کر چکا تھا اس لیے رشید چاہت کی اتنی ہی عزت کرنا چاہتا تھا جتنی وہ بہرام کی کرتا تھا۔
“رشید بھائی ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔؟”
چاہت نے آگے ہو کر ڈرائیو کرتے رشید سے پوچھا۔
“گھر چاہت بی بی۔۔۔۔”
“کیا خان جی بھی گھر ہی ہیں؟”
چاہت کے دلچسپی سے پوچھنے پر رشید نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں وہ اپنے آفس میں ہیں۔”
چاہت کچھ دیر کے لئے سوچ میں پڑ گئی پھر مسکراتے ہوئے بولی۔
“آپ مجھے ان کے پاس آفس لے جائیں۔۔۔”
رشید نے حیرت سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا۔
“لیکن بہرام صاحب نے آپ کو گھر لے جانے کا کہا تھا۔۔۔”
“تو اب میں کہہ رہی ہوں ناں کہ آپ مجھے ان کے پاس آفس لے جائیں۔ویسے بھی میں کہیں اور نہیں بلکہ خان جی کے پاس ہی جانے کا کہہ رہی ہوں اور اگر آپ نے میری بات نہیں مانی ناں تو میں خان جی کو شکایت لگا دوں گی۔”
رشید اس کی دھمکی پر گھبرا گیا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔آخرکار اس نے مجبو ر ہوکر گاڑی بہرام کے آفس کی طرف موڑ دی۔
“اگر بہرام صاحب نے مجھے آپ کی وجہ سے ڈانٹا تو؟”
آفس کے باہر گاڑی روک کر رشید نے پریشانی سے چاہت کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“فکر مت کریں خود ڈانٹ کھا لوں گی لیکن آپ کو نہیں پڑنے دیتی۔”
اتنا کہہ کر چاہت گاڑی سے نکلی اور آفس میں داخل ہو گئی۔وہ جانتی تھی کہ بہرام کا آفس دسویں منزل پر تھا اسی لیے لوگوں کو نظر انداز کرتی سیدھا وہاں چلی گئی۔
دروازے کے باہر کھڑے ہو کر چاہت نے اپنی چادر اور کپڑے ٹھیک کیے اور بھر پور کانفیڈینس سے دروازہ کھول کر آفس میں داخل ہو گئی۔
آفس کے ماربل کے فرش پر قدم رکھتے ہی چاہت کا پاؤں بری طرح سے پھسلا اور وہ زمین پر جا گری۔اس نے بوکھلا کر جلدی سے بہرام کو دیکھا لیکن بہرام کے ساتھ ساتھ دو آدمیوں کو خود کو دیکھتا پا کر چاہت شرم سے اپنی ہی جگہ پر جم گئی۔
“ہم یہ سب بعد میں کریں گے ابھی آپ لوگ جا سکتے ہیں۔۔۔۔”
بہرام کے ایسا کہتے ہی وہ دونوں اٹھ کر آفس سے باہر نکل گئے۔بہرام اپنی جگہ سے اٹھا اور چاہت کے پاس آ کر اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
بہرام نے چاہت سے پوچھا لیکن چاہت تو بس اسے دیکھنے میں مصروف تھی جو براؤن پینٹ کوٹ میں حد سے زیادہ ڈیشنگ لگ رہا تھا۔
“وہ آپ میرے سے ملنے آئی تھی۔۔۔”
بہرام کے ماتھے پر بل آتا دیکھ چاہت کو اندازہ ہوا کہ وہ کچھ اور ہی بول چکی ہے۔
“میں آپ سے ملنے آئی تھی۔۔۔۔میں گھر اکیلی بور ہو جاتی، اس لیے سوچا آپ کے پاس آ جاؤں۔۔۔۔”
چاہت نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن اسکی مسکراہٹ بہرام کو مسکرانے پر مجبور نہیں کر پائی تھی۔
“میں یہاں کام کر رہا ہوں چاہت۔۔۔۔”
“تو کریں ناں۔۔۔میں آپ کو تنگ نہیں کروں گی بس خاموشی سے وہاں بیٹھی رہوں گی پکا والا وعدہ۔۔۔۔”
بہرام نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا اور اپنی جگہ پر واپس چلا گیا جبکہ اسکی رضامندی پر چاہت کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔
وہ ایک کونے میں پڑے صوفے پر بیٹھ گئی اور خاموشی سے اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرتے بہرام کو دیکھنے لگی۔کتنی ہی دیر بہرام اسکی نظریں خود پر محسوس کرتا رہا پھر اکتا کر چاہت کو دیکھا جو ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھے اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہ کوئی ٹی وی ہو۔۔۔۔
“اگر مجھے بس گھورنا ہی ہے تو گھر جا کر یہ کام میری تصویر پکڑ کر کر لو لیکن مجھے ڈسٹرب نہیں کرو۔۔۔”
بہرام کے سختی سے کہنے پر چاہت کا منہ بن گیا۔وہ بس اسے خاموشی سے دیکھ ہی تو رہی تھی۔
“ٹھیک ہے اب آپ کو نہیں گھوروں گی۔”
چاہت نے منہ بنا کر کہا اود اپنے بیگ سے ایک میگزین نکال کر اسے دیکھنے لگی۔بہرام جانتا تھا کہ وہ میگزین بس چاہت کے سامنے تھا کیونکہ وہ ابھی بھی نظریں چرا کر میگزین کے پیچھے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
بہرام نے گہرا سانس لیا اور اسے نظر انداز کرتا اپنا کام کرنے لگا۔ابھی کچھ پل ہی گزرے تھے جب اسکا دروازہ ناک ہوا۔
“کم ان۔۔۔”
بہرام کے کہنے پر اسکا پی اے کمرے میں داخل ہوا اور ایک فائل اسکے سامنے کی۔
“سر یہ لسٹ فائنلائز ہو گئی ہے۔۔۔”
بہرام نے ہاں میں سر ہلا کر فائنل کو ہاتھ میں پکڑا اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔جب اسے کوئی غلطی نظر آئی تو اپنے پی اے کی جانب دیکھا جو کھڑا تو بہرام کے سامنے تھا لیکن نظریں مسلسل صوفے پر بیٹھی چاہت پر تھیں۔
یوں اپنی ملکیت پر کسی اور کی نظریں دیکھ کر بہرام کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچا تھا۔
“شیراز ۔۔”
بہرام کے پکارنے پر پی اے نے اسے دیکھا۔
“اگر زندگی میں کچھ اور دیکھنا چاہتے ہو تو اپنی نظروں کو قابو میں رکھو۔۔۔۔”
بہرام کے آہستہ سے غرانے پر شیراز نے گھبرا کر ہاں میں سر ہلایا اور سوری سر کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔بہرام نے چاہت کو دیکھا جو ہر چیز سے بے نیاز صوفے پر بیٹھی میگزین دیکھ رہی تھی جبکہ چادر کب کی ڈھلک کر ایک کندھے پر آ چکی تھی۔
بہرام غصے سے اٹھا اور اسکے قریب آ کر اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔چاہت جو اس حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی بوکھلا کر بہرام کو دیکھنے لگی۔
“کیا ہوا خان جی؟”
“میں نے تمہیں بتایا تھا کہ تم صرف میری ہو چاہت خانزادہ نہ تمہاری نظریں کسی پر برداشت کروں گا نہ تم پر کسی کی نظریں ۔۔۔۔”
بہرام کا غصہ دیکھ کر چاہت بہت زیادہ گھبرا چکی تھی لیکن اسے اس غصے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔بہرام نے صوفے سے اسکی چادر پکڑی اور اسکے سر پر ڈال دی۔
“گھر سے باہر پھر کبھی یہ تمہارے سر سے اتری تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔”
چاہت نے فوراً ہاں میں سر ہلایا وہ بس بہرام کا غصہ ختم کرنا چاہتی تھی۔
“رشید کے ساتھ گھر واپس جاؤ۔۔۔”
“لیکن مجھے آپ کے ساتھ گھر واپس جانا ہے۔۔۔”
چاہت نے منہ بسور لیا اور بہرام نے اپنی آنکھیں موند کر غصے پر قابو کیا۔
“جو کہا ہے وہ کرو چاہت۔۔۔”
چاہت نے ہاں میں سر ہلایا اور اچھی طرح سے چادر لیتی باہر آ گئی جہاں رشید اسکا انتظار کر رہا تھا۔پورا راستہ چاہت بہرام کے غصے کی وجہ سے سمجھنے کی کوشش کرتی رہی تھی لیکن بہت سوچنے کے باوجود اسے وہ وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
💞💞💞💞
مناہل گھر کے لان میں بیٹھی خوبصورت پھولوں کو دیکھ رہی تھی۔کچھ دیر پہلے ہی وہ فرزام کے ساتھ شاپنگ کر کے واپس آئی تھی۔مال میں فرزام نے ایک پل کے لیے بھی اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا جیسے کہ وہ کوئی چھوٹی بچی ہو جو بہت آسانی سے کھو جائے گی۔
مناہل نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کسی کے لیے اس قدر اہم ہو گی۔فرزام تو گھر واپس آتے ہی اپنے دوست سے ملنے چلا گیا تھا اور مناہل فرزام کے دلائے کپڑے پہن کر لان میں بیٹھی اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
جب ایک بڑی سی گاڑی پورچ میں داخل ہوئی اور سفید یونیفارم اور کالی چادر میں ملبوس لڑکی اس گاڑی سے باہر نکلی۔مناہل کو یاد آیا کہ فرزام نے اسے بہرام کے شادی سے جانے کی وجہ ایک لڑکی بتائی تھی تو کیا یہ وہی لڑکی تھی لیکن وہ تو دیکھنے میں مناہل سے بھی چھوٹی لگ رہی تھی۔
“یہ کون ہے رشید بھائی؟”
چاہت نے مناہل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا جو لان میں موجود کرسی پر بیٹھی تھی۔
“یہ مناہل بی بی ہیں فرزام صاحب کی بیوی۔”
چاہت نے آنکھیں بڑی کر کے رشید کو دیکھا۔
“فرزام بھائی کی شادی ہو گئی؟”
رشید نے اثبات میں سر ہلایا۔
“یہ وہی ہیں جن سے بہرام صاحب کی شادی ہونی تھی لیکن ان کے وہاں نہ ہونے کی وجہ سے فرزام صاحب کو ان سے شادی کرنی پڑی۔۔۔”
یہ بات جان کر چاہت کو وہ پیاری سی لڑکی فوراً بری لگنے لگی تھی۔
“ٹھیک ہے آپ جائیں۔۔۔۔”
رشید فوراً وہاں سے چلا گیا اور چاہت کمرے میں جانے کی بجائے مناہل کے پاس آئی جو اسے اپنے قریب آتا دیکھ کر گھبرانے لگی۔
“ہ۔۔۔۔ہائے۔۔۔”
مناہل نے گھبراتے ہوئے کہا تو چاہت اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھنے لگی۔
“تو تم ہو وہ جو میرے خان جی کو مجھ سے چھیننا چاہتی تھی۔۔۔”
چاہت کے سوال پر مناہل گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔اسکا دل کر رہا تھا کہ فرزام کہیں سے بھی اس کے پاس آ جائے۔
“نن۔۔۔۔نہیں میں انہیں کیوں۔۔۔میرا نکاح تو فرزام سے ہوا ہے۔۔۔۔”
چاہت نے مناہل کو سر سے لے کر پیر تک دیکھا۔
“فرزام بھائی کی بیوی ہو اس لیے کچھ نہیں کہہ رہی کہیں تمہیں ہاتھ لگانے پر ہاتھ ہی نہ توڑ دیں میرا۔۔۔”
چاہت نے شرارت سے کہا اور مناہل کے پاس بیٹھ گئی۔
“ویسے اب خیر ہے اب تو تم خان جی کی بھابھی بن گئی ہو ناں تو تم انہیں مجھ سے نہیں چھینو گی۔۔۔”
چاہت نے یہ بات کہی تھی لیکن اسکا انداز ایسا تھا جیسے سوال پوچھ رہی ہو۔مناہل کو اس لڑکی پر رحم آیا جو بس اپنی محبت کو سب سے بچانا چاہ رہی تھی۔
“ہماری منگنی میرے گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی میں نے بہرام کے لیے تب بھی ایسا کچھ نہیں سوچا اور اب تو بالکل ہی ایسا نہیں سوچتی۔۔۔”
چاہت کے چہرے پر یہ بات جان کر اطمینان آیا تھا۔
“تو پھر تم بھی انہیں بہرام بھائی بلایا کرو ناں جیسے میں فرزام بھائی کو بھائی بلاتی ہوں۔۔۔”
چاہت کی معصوم بات پر مناہل ہنس دی۔
“کیا؟ لطیفہ تو نہیں سنایا میں نے بھئی بس ایک بار بھائی بلا لو مجھے سکون ہو جائے گا۔۔۔”
مناہل نے حسرت سے اس لڑکی کے چہرے پر اطمینان دیکھا۔اس کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اسے بہت لاڈوں سے پالا گیا ہے اور اگر مناہل کے ماں باپ زندہ ہوتے تو شائید مناہل بھی اسکے جیسی ہوتی۔
“ٹھیک ہے میں انہیں بہرام بھائی بلا لیا کروں گی ۔۔۔ “
چاہت اب کھل کر مسکرائی۔
“شکریہ۔۔۔۔؟؟”
“مناہل۔۔۔”
چاہت کے اٹکنے پر مناہل نے اپنا نام بتایا۔
“اوہ،میرا نام چاہت ہے۔اگر تم خان جی کو بھائی بلاتی رہو گی تو ہم دوست بن جائیں گی آخر کار تمہاری جیٹھانی ہوں میں تو کیا ہوا میرے خان جی فرزام بھائی سے بس پانچ منٹ بڑے ہیں لیکن بڑے تو ہیں ناں۔۔۔”
چاہت نے اپنا ہاتھ مناہل کے سامنے کرتے ہوئے فرضی رعب سے کہا تو مناہل ہنس دی۔وہ باتونی سی لڑکی اسے بہت پسند آئی تھی۔
“بہت پیارا نام ہے تمہارا۔۔۔۔”
“ہے ناں،،،، میرے بابا نے رکھا تھا تمہارا نام بھی پیارا ہے لیکن کیا میں تمہیں من کہہ کر بلا لیا کروں بڑا پیارا لگے گا مناہل سے من۔۔۔”
مناہل نے اسے بتانا چاہا کہ فرزام پہلے سے ہی اسے من بلاتا ہے لیکن تبھی اسکے کانوں میں ایک گھمبیر آواز پڑی۔
“نہیں،تم اسے مناہل ہی بلا سکتی ہو من وہ صرف میرے لیے ہے۔۔۔”
فرزام کی آواز پر چاہت نے اسے دیکھا۔
“لو آگئے بھئی اٹھ جاتی ہوں میں شرافت سے ورنہ کہیں گے کہ میری بیوی کے پاس ہی کیوں بیٹھی ہو۔۔۔۔۔”
چاہت نے منہ بسور کر کہا اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
“نہیں کہوں گا اگر تمہاری وجہ سے میری من کے چہرے پر ایسے ہی مسکراہٹ رہے گی تو۔۔۔”
فرزام کی بات پر مناہل کو اندازہ ہوا کہ وہ کب سے چاہت کی باتوں پر مسکرا رہی تھی تو اپنا سر جھکا گئی۔
“اچھا پھر چینج کر کے آتی ہوں تینوں بیٹھ کر زیادہ سی باتیں کریں گے۔۔۔”
چاہت اتنا کہہ کر بھاگنے والے انداز میں وہاں سے چلی گئی تو فرزام مسکراتے ہوئے مناہل کے قریب بیٹھ گیا۔
“چاہت بہت پیاری ہے ۔۔۔”
فرزام اسکے انکشاف پر مسکرایا۔
“ابھی لگ رہی ہے زرا صبر کرو کانوں میں روئی ٹھونسنے پر مجبور کر دے گی۔۔۔”
مناہل اسکی بات پر پھر سے ہنس دی۔وہ یوں کھل کر مسکراتی فرزام کو بہت اچھی لگ رہی تھی۔کچھ دیر کے بعد چاہت ایک نیلا سوٹ پہن کر وہاں آئی۔
“لیں آ گئی میں۔۔۔”
چاہت نے مناہل کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔کتنی ہی دیر مناہل فرزام اور چاہت کی باتیں سنتی رہی تھی۔وہ دونوں بالکل ٹوم اور جیری کی طرح لڑتے تھے۔فرزام چاہت کو چڑاتا اور چاہت بہت آسانی سے چڑ جاتی۔
تبھی فرزام کا موبائل بجنے لگا تو وہ بہرام کا نمبر دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر تھوڑا دور آ گیا۔
“تو تمہیں اسلام آباد کیسا لگا؟”
چاہت نے مناہل سے پوچھا۔
“بہت اچھا ہے سر سبز سا۔۔۔اور پہاڑ تو مجھے ہمیشہ سے دیکھنے کا شوق تھا لیکن کبھی گھر سے نہیں نکلی۔۔۔”
آخری بات مناہل نے تھوڑا افسردگی سے کہی اور فرزام کا پورا دھیان بہرام کی باتوں کی بجائے مناہل پر تھا۔
“ہاں تو فرزام بھائی سے کہو ناں کہ تمہیں مونال لے کر جائیں یا پھر دامن کوہ بہت پیارے پہاڑ ہیں وہاں۔۔۔۔”
“کیا وہاں برف باری بھی ہوتی ہے؟”
مناہل کے سوال پر چاہت قہقہہ لگا کر ہنس دی اور فرزام نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی کو دبایا۔
“نہیں اس کے لیے مری جانا پڑے گا کیا تمہیں برف باری پسند ہے؟”
مناہل اس سوال پر سوچ میں پڑ گئی۔
“کبھی دیکھی تو نہیں لیکن شوق بہت ہے۔۔۔”
فرزام اسکی بات پر مسکرا دیا۔وہ جان گیا تھا کہ اسے آگے کیا کرنا ہے۔
“ہیلو فرزام تم میری بات سن بھی رہے ہو کیا؟”
بہرام کے پوچھنے پر فرزام کا دھیان مناہل سے ہٹا۔
“ہاں سن رہا ہوں۔۔۔”
فرزام نے جھوٹ بولا۔
“رہنے دو جانتا ہوں ایک لفظ نہیں سنا تم نے میں خود سب دیکھ لوں گا۔۔۔”
بہرام نے کہا اور فون بند کر گیا۔فرزام ابھی بھی وہیں کھڑا مناہل کو دیکھ رہا تھا جو چاہت سے باتیں کرتے کوئی اور ہی لڑکی لگ رہی تھی۔
وہ لڑکی جو ہر پل ڈرنے کی بجائے مسکرا کر جینا پسند کرتی تھی۔فرزام سمجھ گیا کہ مناہل کے اندر ابھی بھی خوش رہنے کی چاہ باقی تھی فرزام کو بس اس چاہ کو بند خول سے باہر نکالنا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اسے یہ کیسے کرنا ہے ۔
💞💞💞💞
چاہت رات کے کھانے کے بعد کتنی ہی دیر تک بہرام کا انتظار کرتی رہی تھی لیکن وہ نہ جانے کہاں مصروف تھا جو ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔اخر کار جب اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو فون پکڑ کر اسے کال کرنے لگی۔
“ہیلو۔۔۔”
دوسری بیل پر ہی بہرام نے فون اٹھا کر کہا۔اسکی آواز پر چاہت کا معصوم دل بہت زور سے دھڑکا۔
“آپ گھر کب آئیں گے خان جی؟”
بہرام کچھ دیر خاموش رہا پھر آہستہ سے بولا۔
“آج نہیں آ سکوں گا کام کے سلسلے میں ایک کلائنٹ سے ملنا ہے۔۔۔۔”
یہ جان کر چاہت کا منہ بن گیا۔
“لیکن میں نے آپ کے انتظار میں کھانا بھی نہیں کھایا سوچا تھا آپ آئیں گے تو ساتھ۔۔۔”
“بس چاہت،،،اپنا یہ بچپنا ختم کرو اب بہت برداشت کر لیا میں نے۔۔۔تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری غلطی بھولا کر اتنی آسانی سے تمہیں معاف کر دوں گا تو غلط سوچ رہی ہو۔تم نے مجھے وہ کرنے پر مجبور کیا جو میں چاہ کر بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔اب اسکی سزا اتنی آسانی سے ختم نہیں ہونے والی۔۔۔”
بہرام کے بری طرح سے ڈپٹنے پر چاہت کی آنکھوں میں آنسو آ چکے تھے۔
“آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ یہ کوئی اتنی بڑی بات بھی نہیں خان جی کہ آپ مجھے اتنا ڈانٹیں۔۔۔میں آپ سے پیار کرتی ہوں کیا میں اس قابل نہیں کہ آپ بھی مجھ سے پیار کریں۔۔۔؟”
چاہت نے روتے ہوئے پوچھا اور اس کے رونے کی آواز پر بہرام نے اپنا موبائل اتنی زور سے پکڑا کہ وہ موبائل بمشکل ہی چکنا چور ہونے سے بچا۔
“نہیں چاہت خانزادہ میں ہی اس قابل نہیں کہ مجھے پیار کیا جائے۔۔۔۔”
اس کی بات پر بہت سے آنسو چاہت کی آنکھوں سے نکلے۔
“تمہیں پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی یہی کہوں گا تم نے ایک غلط شخص کو اپنے لیے چنا ہے اب اپنے اس غلط فیصلے کو برداشت کرنا سیکھ لو۔۔۔ “
اتنا کہہ کر بہرام نے فون بند کر دیا اور چاہت لاونج کے صوفے پر سمٹتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔وہ تو بس بہرام کی محبت چاہتی تھی۔اسے لگا تھا کہ اپنے پیار سے اسے بھی پیار کرنے پر مجبور کر دے گی لیکن اب اسکی ہمت آہستہ آہستہ سے ختم ہو رہی تھی۔
تقریباً بارہ بجے وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دی لیکن راستے میں بہرام کا کمرہ دیکھ کر وہ وہاں رکی۔وہ بہرام کا احساس اپنے قریب چاہتی تھی اسکا پیار چاہتی تھی۔
چاہت نے اسکے کمرے کا دروازہ کھولا اور کمرے میں آ کر اسکے بیڈ پر لیٹ گئی۔بہرام نے تو کل صبح واپس آنا تھا چاہت نے سوچا کہ وہ اس کے آنے سے پہلے یہاں سے چلی جائے گی۔
اسے تکیے اور کمبل سے بہرام کی خوشبو آ رہی تھی اور اس خوشبو کو خود میں سماتی وہ آنسو بہانے لگی۔یوں ہی بہرام کی خوشبو کو محسوس کرتی وہ کب آنسو بہاتی سو گئی اسکا اندازہ تو اسے بھی نہیں ہوا تھا۔
تقریباً فجر کے وقت بہرام گھر واپس آیا۔کمرے میں آتے ہی اسکی نظر چاہت پر پڑی جو اسکے بستر میں سمٹی سوئی ہوئی تھی۔
خود بخود بہرام کے قدم چاہت کی جانب اٹھے۔چاہت کے چہرے پر موجود نشانوں اور سوجی ہوئی آنکھوں سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ بہت دیر تک روتی رہی تھی۔
بہرام اسکے پاس بیٹھ گیا اور انتہائی نرمی سے اسکے گال کو چھوا۔چاہت ہلکا سا کسمسائی لیکن اٹھی نہیں۔
“میں تم سے محبت نہیں کر سکتا چاہت،،،تو کیا ہوا تمہیں چاہنا میری سب سے بڑی خواہش ہے۔۔۔۔”
بہرام نے اب کے بار اسکی آنکھوں کو چھوا۔
“سوچتا ہوں جب تمہیں سچ پتہ چلے گا تو تمہاری آنکھوں میں میرے لیے جو نفرت ہو گی اسے کیسے سہوں گا۔۔۔؟”
بہرام نے کرب سے اپنی آنکھیں موند لیں۔اس وقت وہ سرد مہر سا بہرام نہیں لگ رہا تھا۔اس وقت تو وہ ایک انتہائی بکھرا ہوا شخص لگ رہا تھا۔
“اور اگر تمہیں ٹوٹ کر چاہنے لگا تو تمہاری وہ نفرت تو مجھے مار ڈالے گی چاہت۔۔۔”
ایک آنسو بہرام کی انکھ سے بہہ کر چاہت کے گال پر گرا۔
“مجھے محبت کے لیے مجبور مت کرو چاہت۔۔۔۔”
بہرام چاہت کے ساتھ نیم دراز ہوا اور اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپا لیا۔اپنی گردن پر بہرام کی داڑھی کی چبھن محسوس کرتی چاہت ہلکا سا کسمسائی لیکن اپنی گہری نیند کی وجہ سے سوئی رہی۔
“اپنے ماں باپ کو جان سے زیادہ چاہا تھا میں نے۔۔۔”
بہرام کے آنسو چاہت کی گردن میں جذب ہو رہے تھے۔
“انہیں کھو کر تو زندہ ہوں چاہت لیکن تمہیں چاہنے کے بعد کھو نہیں پاؤں گا۔۔۔”
بہرام نے اسکے نازک وجود کو اپنی مظبوط آغوش میں بھر لیا جیسے کہ اسے خود میں چھپانا چاہ رہا ہو۔
“تمہاری محبت وہ کر جائے گی چاہت جو کوئی نہیں کر پایا۔۔۔۔بہرام خانزادہ کو فنا کر دے گی۔۔۔”
بہرام نے کرب سے کہا اور اپنی چاہت کو خود کے قریب محسوس کرتا سکون سے اپنی آنکھیں موند گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ سکون بس پل بھر کا تھا۔صبح ہوتے ہی اسے چاہت کے لیے پھر سے وہی سرد مہر سا بہرام بن جانا تھا۔
💞💞💞💞
مناہل گھبراتے ہوئے بیڈ پر بیٹھی تھی۔فرزام نہ جانے کہاں گیا تھا جو ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔آدھی رات ہو چکی تھی اور مناہل کو ایک پل کے لیے بھی نیند نہیں آئی تھی۔
وہ خود کو سمجھ نہیں پا رہی تھی فرزام قریب ہوتا تھا تو اس کی معنی خیز باتوں اور اسکی بولتی آنکھوں سے ڈر لگتا تھا۔اب جب وہ دور تھا تو ایک انجانا خوف اس پر حاوی ہو رہا تھا۔کیا تھا یہ فرزام خانزادہ جو پل بھر میں اسکے لیے نئی پریشانی بن گیا تھا۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر مناہل گھبرا کر اٹھ بیٹھی لیکن فرزام کو وہاں دیکھ اس نے سکھ کا سانس لیا۔
“کہاں تھے آپ اتنی دیر تک؟”
مناہل کے سوال پر فرزام مسکرا دیا اور اسکے قریب آیا۔
“کیا ہوا مجھے مس کررہی تھی؟”
فرزام اسکے پاس بیٹھا تو مناہل گھبرا کر خود میں سمٹی اور کمبل کو مٹھی میں جکڑ لیا۔
“مم۔۔۔ مجھے اکیلے ڈر لگ رہا تھا بس۔۔۔ “
مناہل نے گھبراتے ہوئے کہا۔فرزام کو مزید خود کے قریب ہوتا دیکھ مناہل کی پکڑ کمبل پر مزید سخت ہو گئی۔
“کیا چاہتی ہو تم من؟میں پاس ہوتا ہوں تو مجھ سے ڈرتی ہو دور ہوتا ہوں تو تنہائی سے۔۔۔کیا حل ہے تمہارے اس ڈر کا۔۔۔؟”
مناہل نے گھبرا کر فرزام کو دیکھا جو شریر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“کیا آپ دور رہتے ہوئے پاس نہیں رہ سکتے؟”
مناہل کے سوال پر فرزام ہنس دیا اور اچانک اپنے دونوں ہاتھ مناہل کے گرد بیڈ پر رکھ کر مناہل کے اس قدر قریب ہو گیا کہ مناہل اسکی سانسوں کی گرمائش اپنے چہرے پر محسوس کرنے لگی۔
“یعنی تم چاہتی ہو کہ صدیوں کا پیاسا بس کوئیں کو دیکھتا رہے اور پیاس سے تڑپ تڑپ کر مر جائے۔۔۔”
مناہل نے گھبرا کر اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں اور اسکا سانس پھر سے سینے میں ہی اٹک گیا۔
“فف۔۔۔فرزام پلیز۔۔۔ممم۔۔۔۔مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔”
فرزام نے ایک نظر اسکے کپکپاتے گلابی ہونٹوں کو دیکھا۔دل تو کہہ رہا تھا کہ بس اپنا حق استعمال کرتے ہوئے دل کھول کر ان نازک لبوں سے محبت کا جام پیے لیکن اپنی من کے ڈر اور رکی سانسوں کا خیال کرتا اس سے دور ہو گیا۔
اسکے دور ہوتے ہی مناہل زور زور سے گہرے سانس بھرنے لگی۔
“میں بہرام کے ساتھ تھا اسکی ایک میٹنگ میں ہیلپ کر رہا تھا تا کہ وہ بعد میں مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔۔”
فرزام کی بات پر مناہل نے آنکھیں کھول کر حیرت سے اسے دیکھا۔
“آپ کہیں جا رہے ہیں کیا؟”
فرزام کے گال پر ڈمپل نمایاں ہوا۔
“جا تو رہا ہوں لیکن میں ہی نہیں تم بھی۔۔۔”
مناہل نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
“ہم دونوں کل ایک ہفتے کے لیے مری جا رہے ہیں۔۔۔”
مناہل کا سانس ایک بار پھر سے سینے میں ہی اٹک گیا۔
“کک۔۔۔۔کیوں؟”
“کیوں نہیں میرا جنون شادی کے بعد سب کپلز ہنی مون پر جاتے ہیں۔میرا پلین تو سوئٹزرلینڈ کا تھا لیکن بہرام صاحب کا حکم ہے کہ زیادہ دور مت جاؤں۔۔۔۔”
مناہل کی گھبراہٹ میں اضافہ ہو گیا اب وہ بے چینی سے اپنے ہاتھ مسلنے لگی تھی۔
“ممم۔۔۔۔میں نہیں جانا چاہتی۔۔۔”
“کیوں؟”
فرزام نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“مم۔۔ مجھے آپ کے ساتھ اکیلے کہیں نہیں جانا۔۔۔”
سٹائلش مونچھوں تلے عنابی ہونٹ پھر سے مسکرا دیے۔فرزام نے ایک سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں لیا اور مناہل کے قریب آ کر اسے ایک جھٹکے سے ہاتھ سے کھینچ کر اپنی باہوں میں لے لیا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے میرا جنون اگر میں تمہارے قریب آنا چاہوں تو یہاں تم مجھے روک لو گی؟”
فرزام کی سانسوں کی حرارت کے ساتھ سگریٹ کی مہک اپنے بہت قریب محسوس کر کے مناہل سوکھے پتے کی مانند کانپ گئی۔
“بولو اگر ابھی اپنا حق لینا چاہوں تو روک لو گی مجھے۔۔۔”
فرزام نے گہرا کش لے کر دھواں اسکی نازک گردن پر چھوڑا تو مناہل کا رواں رواں کانپ اٹھا۔
“نننن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔میں آپ کے مقابلے بہت کمزور ہوں۔۔۔۔”
مناہل نے اٹکے سانس سے کہا اور یہ بات کہتے اسکی پلکیں نم ہو گئی تھیں۔فرزام نے اسکا ایک آنسو اپنے ہونٹوں پر چنا۔
“ایک بات یاد رکھنا من میں کبھی تم سے زبردستی نہیں کروں گا۔۔۔تمہارے قریب تب ہی آؤں گا جب تم مجھے بلاؤ گی لیکن اسکا مطلب نہیں کہ میری گستاخیوں سے بچی رہو گی تم۔۔۔”
فرزام اسکے ہونٹوں کے اتنا قریب ہو گیا کہ مناہل کو اسکی مونچھیں اپنے ہونٹوں پر محسوس ہونے لگیں۔
“اس لیے اب خود کو مظبوط کرنا شروع کر لو میرا جنون۔۔۔اور اس ڈر سے لڑنا سیکھو کیونکہ تمہارا شوہر بہت بے صبر ہے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام نے اسے چھوڑا تو مناہل جلدی سے اس سے دور ہوئی اور اپنے آپ کو کمبل کے پیچھے چھپا لیا۔اسکی اس معصوم حرکت پر فرزام نے مسکراتے ہوئے سگریٹ کا گہرا کش لیا۔
“یہ کمبل اتنا مظبوط نہیں من کہ تمہیں بچا لے۔۔۔۔تیار رہنا کل ہم مری جا رہے ہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام اپنے کپڑے پکڑ کر واش روم میں بند ہو گیا اور مناہل اپنا جب سے اٹکا سانس بحال کرنے لگی۔فرزام کی حرکتیں اسے ڈراتی تھی لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں وہ اسکی قربت میں ہی محفوظ محسوس کرتی تھی۔مناہل کو لگنے لگا تھا کا یہ شخص اسے پاگل کر کے رکھ دے گا۔