Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 23)
Kaif E Junoon (Episode 23)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
اپنے گھر میں واپس آ کر چاہت کو دنیا کی سب سے قیمتی خوشی ملی تھی۔اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اسے پورا جہان مل گیا ہو لیکن دل میں فرزام کا ڈر بھی تھا کیونکہ ابھی تک وہ فرزام کا غصہ نہیں بھولی تھی۔
اور سونے پر سہاگا یہ تھا کہ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کا سامنا فرزام سے ہوا تھا جو پینٹ کوٹ میں ملبوس شائید آفس جانے کی تیاری میں تھا۔بہرام کے ساتھ سکینہ اور چاہت کو دیکھ کر فرزام سکینہ کے پاس آیا اور عقیدت سے اپنا سر ان کے سامنے کیا جبکہ چاہت تو اسے دیکھ کر ہی بہرام کے پیچھے دبک چکی تھی۔
“وہ تمہیں بہن مانتا ہے چاہت اور کچھ بھی ہو جائے بھائی چھوٹی بہن کو معاف ضرور کر دیتے ہیں۔۔۔۔”
بہرام نے چاہت سے آہستہ سے کہا جو سہمی نگاہوں سے سکینہ سے بات کرتے فرزام کو دیکھ رہی تھی۔
“اور اگر نہ کیا تو۔۔۔؟”
چاہت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔وہ ایک بار پھر سے فرزام کی نفرت جھیلنے کے قابل نہیں تھی۔
“کر دے گا اپنے بھائی کی رگ رگ سے واقف ہوں میں۔۔۔۔”
بہرام کے ہمت بڑھانے پر چاہت ہمت کرتے ہوئے فرزام کے سامنے گئی۔
“ااا۔۔۔۔اسلام و علیکم فرزام بھائی۔۔۔”
چاہت کی آواز پر فرزام نے ایک نظر اسے دیکھا اور ہلکا سا و علیکم السلام کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔
“فرزام بھائی ۔۔۔”
چاہت نے بے چینی سے اسے پکارا اور پھر اسکے سامنے آ کر اپنے کانپتے ہاتھ اپنے کانوں پر رکھے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔فرزام نے ایک نظر بہرام کو دیکھا جس نے نظروں سے ہی اسے نرم رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
“معافی چاہتی ہو؟”
چاہت نے کان چھوڑے بغیر ہاں میں سر ہلایا۔
“پھر میرے ایک سوال کا جواب دو۔۔۔”
چاہت نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“اگر اب تمہیں کوئی ا کر کہے کہ بہرام قصوروار ہے تو کیا کرو گی۔۔۔؟”
چاہت نے اس سوال پر منہ بنا کر اسے دیکھا۔
“اس کا منہ توڑ دوں گی۔۔۔”
چاہت کے رو کر کہنے پر فرزام مسکرایا اور اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“میرے لیے میرا بھائی بہت قیمتی ہے چاہت سب برداشت کر سکتا ہوں لیکن اسکی تکلیف نہیں اور اس دنیا میں صرف تم ہی ہو جو اسے تکلیف دے سکتی ہو۔۔۔پھر ایسا مت کرنا۔۔۔”
چاہت نے ہاں میں سر ہلایا تو فرزام مسکرا دیا اور اسکے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا۔
“خوش رہو۔۔۔”
چاہت بھی اسکی بات پر اپنے آنسو پونچھ کر مسکرا دی۔اج انہیں لگ رہا تھا کہ ان کی خوشیاں لوٹا آئی ہوں۔فرزام سب کو خدا حافظ بول کر باہر گاڑی میں آیا اس نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا تو نظر پیسنجر سیٹ پر پڑی جہاں مناہل بیٹھی مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
فرزام نے حیرت سے پوچھا۔
“مجھے آپ کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے۔۔۔”
مناہل نے اپنا مدعا بیان کیا جبکہ اسکے اچانک شاپنگ کے پلین نے فرزام کو حیران کر دیا۔
“مناہل مجھے آفس جانا ہے۔۔۔۔”
“ہاں تو پہلے مجھے شاپنگ لر لے کر جائیں پھر مجھے گھر چھوڑ کر آفس چلے جانا۔۔۔”
فرزام اسکے اتنی بہادری اور حق سے یہ بات کہنے پر دل میں بے انتہا خوش ہوا تھا لیکن چہرے پر سنجیدگی جوں کی توں تھی۔
“ہم پھر کبھی چلے جائیں گے شاپنگ پر ابھی مجھے کام ہے۔۔۔۔”
مناہل نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
“یا تو آپ مجھے شاپنگ پر لے کر جائیں یا میں اکیلے چلی جاؤں گی لیکن مجھے ابھی جانا ہے شاپنگ پر۔۔۔۔”
فرزام نے مناہل کی ضد پر گہرا سانس لیتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی۔اب کچھ بھی ہو جاتا وہ مناہل کا اکیلے کہیں جانا برداشت نہیں کر سکتا تھا۔وہ تھوڑی دیر کی ڈرائیو کے بعد اسے سینٹارس مال لے آیا۔
“کیا چاہیے تمہیں؟”
فرزام نے مال میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
“سینڈل۔۔۔۔”
مناہل کی بات پر فرزام نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
“صرف ایک سینڈل کے لیے تم نے اتنی ضد کی۔۔۔”
مناہل کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔
“ہاں تو میرا حق بنتا ہے ضد کرنا اور اسے پورا کرنا آپ کا فرض۔۔۔۔”
فرزام نے ابرو اچکا کر اسکے چہرے پر اس نئے کانفیڈینس کو دیکھا۔
“اسی طرح تمہارا کچھ فرض بھی بنتا ہے مناہل خانزادہ جو میرا حق ہے لیکن اسکی پرواہ کبھی کی ہے تم نے؟”
مناہل کے گال اسکی بات پر گلابی ہو گئے لیکن وہ اسکے سوال کو نظر انداز کرتی جوتوں کے ایریا کی جانب چل دی۔بہت دیکھنے کے بعد اسے ایک نیلے رنگ کا جوتا پسند آیا جو ہائی ہیلز کے ساتھ موتیوں سے بھرا بہت زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔
“مجھے یہ دیکھنا ہے۔۔۔۔”
مناہل نے فرزام سے کہا تو وہ سیلز بوائے کو اشارہ کرتا فون سننے تھوڑا فاصلے پر چلا گیا۔
“میم آپ کا سائیز۔۔۔؟”
مناہل نے اسے اپنا سائیز بتایا تو سیلز بوائے نے اسے صوفے کی جانب اشارہ کیا۔
“آپ بیٹھیں میں لے کر آتا ہوں۔۔۔”
کچھ دیر میں ہی وہ سیلز بوائے وہ نیلا جوتا لے کر آیا اور ایک فٹ سٹینڈ مناہل کے سامنے رکھا۔
“اس پر اپنا پیر رکھیں میم۔۔۔۔”
مناہل نے اپنا پیر اس سٹیڈ پر رکھا تو سیلز بوائے جوتا لے کر زمین پر بیٹھا اور مناہل کا پیر تھامنا چاہا جو مناہل نے گھبرا کر فوراً واپس کھینچ لیا۔
“یی۔۔۔یہ آپ کیا۔۔۔”
“اٹس اوکے میم صرف آپ کو شوز ٹرائے کروا رہا ہوں۔۔۔”
اس نے ہاتھ بڑھا کر پھر سے مناہل کا سفید پاؤں تھامنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی ایک ہاتھ اس سیلز بوائے کی کلائی تھام کر اسے روک چکا تھا۔مناہل نے گھبرا کر فرزام کو دیکھا جو ایسا لگ رہا تھا کہ اس لڑکے کی جان ہی لے لے گا۔
“ایسا سوچنا بھی مت۔۔۔”
فرزام نے جھٹکے سے اس لڑکے کا ہاتھ چھوڑا اور اسکے ہاتھ سے جوتا لے کر خود مناہل کے سامنے بیٹھ گیا اور اسکا پیر پکڑ کر اپنے گھٹنے پر رکھتے ہوئے اسے جوتا پہنانے لگا۔
“واہ پرنس چارمنگ اپنی سنڈریلا کو سینڈل پہنا رہا ہے۔۔۔ہائے کاش میرے پاس بھی ایسا پرنس ہوتا۔”
ایک لڑکی نے ان دونوں کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔
“اس کے لیے خود کو سنڈریلا جیسا تو بنا لو۔۔۔۔”
ایک لڑکے کی بات پر اس لڑکی کی سہلیاں ہنس دیں جبکہ مناہل شرما کر فرزام کو دیکھ رہی تھی جو ناراضگی کے باوجود اسکے لیے اس حد تک پوزیسسو تھا۔
“یہی چاہیے یا کچھ اور بھی لینا ہے؟”
فرزام کے پوچھنے پر مناہل نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔
“جیولری بھی چاہیے۔۔۔۔”
فرزام نے گہرا سانس لے کر اسکے پیروں سے وک سینڈل اتارے اور انہیں پیک کروا کر اسے جیولری شاپ پر لے گیا۔
“اس شاپ پر مناہل کو تو ہر دوسری شے پسند آ رہی تھی لیکن فرزام کا سر ہر چیز پر انکار میں ہلتا دیکھ اس نے منہ بنا لیا۔
“آخر آپ کو پسند کیا آئے گا؟”
“وہ جو میری من کے قابل ہو۔۔۔۔”
فرزام نے سنجیدگی سے کہا اور پھر آخر کار اسے ایک ڈائمنڈ کا ہلکا اور انتہائی نفیس سا پینڈنٹ اور ٹاپس فرزام کو پسند آئے تو انہیں پیک کرواتا مناہل کو لے کر واپس خانزادہ مینشن جانے لگا۔
“ویسے تمہیں یہ سب اتنا ارجینٹ کیوں چاہیے تھا۔”
فرزام نے ڈرائیو کرتے ہوئے پوچھا۔
“بس یونہی دیکھنا چاہتی تھی کہ میرا شوہر کنجوس تو نہیں۔۔۔۔”
مناہل کی بات پر پل بھر کے لیے فرزام کا ڈمپل نمایاں ہوا اور پھر غائب ہو گیا۔فرزام نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی اور آگے ہو کر مناہل کی جانب کا دروازہ کھول دیا۔
“آپ آج جلدی واپس آ جائیں گے؟”
مناہل نے اتنی چاہت سے پوچھا کہ فرزام کا دل کیا کہ وہ جائے ہی نہ۔
“کیوں کوئی خاص کام ہے؟”
مناہل کے رخسار اس عام سی بات ہر ایسے گلابی ہوئے جیسے کہ فرزام نے کوئی رومینٹک بات کر دی ہو۔
“نہیں لیکن پلیز جلدی آ جانا۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر مناہل گاڑی سے نکل گئی اور اسکے نظروں سے اوجھل ہونے تک فرزام وہیں رکا اسے دیکھتا رہا تھا۔
“تم کیا جانو میرے جنون کہ تم سے ناراض رہنا کس قدر مشکل کام ہے۔۔۔”
فرزام کے گال پر ایک ڈمپل نمایاں ہوا اور پھر وہ گاڑی کو بھگاتا اپنے کام کی جانب چلا گیا۔
💞💞💞💞
“آپ کو کچھ چاہیے تو نہیں؟آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟کہیں درد تو نہیں ہو رہا؟”
صبح سے چاہت نہ جانے کتنی ہی بار بہرام سے یہ باتیں پوچھ چکی تھی۔حالانکہ بہرام اسے کتنی ہی بار یہ بتا چکا تھا کہ وہ ٹھیک ہے لیکن چاہت کو تو جیسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ابھی بھی سب کے اپنے کمروں میں جانے کے بعد چاہت اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھتے ہی یہ پوچھنے بیٹھ گئی۔
“اب اپنا میڈیکل کروا کر ریپورٹس دیکھاؤں تو یقین آئے گا کیا کہ میں ٹھیک ہوں؟”
بہرام نے اکتا کر پوچھا لیکن چاہت کو ہاں میں سر ہلاتا دیکھ قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“تمہاری فکر مجھے اچھی لگتی ہے میری جان لیکن مجھے میری بے فکری سی چاہت زیادہ پسند ہے۔۔۔”
اس کے بعد پر نہ جانے کیوں چاہت کے ہونٹوں کی مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی۔
“وہ چاہت اچھی نہیں تھی۔۔۔۔”
بہرام نے اچانک ہی اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تو وہ کٹی پتنگ کی طرح اسکے سینے سے آ لگی۔
“خبردار جو تم نے میری چاہت کے بارے میں کوئی بات کی وہ جان ہے میری۔۔۔۔”
چاہت نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“آپ اتنے اچھے کیسے ہیں خان جی۔۔۔؟”
بہرام اسکی بات پر مسکرایا۔
“وہ تو میں ہوں۔۔۔۔”
چاہت اسکی بات پر ہنس دی۔بہرام نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اسکے انسو پونچھ دیے۔
“اب مجھے میری پرانی چاہت واپس کرو جو ہر وقت الٹی سیدھی شرارتیں کر کے میرا سکون برباد کرے کیونکہ اس بار میں سکون سے تمہاری شرارتیں برداشت نہیں کروں گا بلکہ۔۔۔”
“بلکہ۔۔۔۔؟”
بہرام کے خاموش ہوجانے پر چاہت نے گھبرا کر پوچھا۔
“بلکہ وہ کروں گا جو تمہاری شرارتیں دیکھ کر اور تمہاری اوٹ پٹانگ باتیں سن کر میرا کرنے کا دل کرتا تھا۔”
“کیا دل کرتا تھا۔۔۔۔؟”
چاہت نے اسکی گال پر موجود ڈمپل کو چھوتے ہوئے پوچھا جو بہرام کے کہنے کے مطابق صرف اسکی موجودگی میں نمایاں ہوتا تھا۔
“یہ۔۔۔”
بہرام اتنا کہہ کر اسکے ہونٹوں پر جھکا اور اس اچانک حملے پر چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔اس نے اپنے آپ کو بہرام کی پکڑ سے چھڑوانا چاہا لیکن بہرام اپنی من مانی کرتا اسے مکمل طور پر بے بس کر گیا تھا۔
آخر کار اپنا دل بھر جانے پر بہرام اس سے دور ہوا تو چاہت اسکے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی جو گلاب کی ماند سرخ ہو رہا تھا۔
“اگر آپ ایسا کریں گے تو میں کبھی بولوں گی بھی نہیں اور شرارتیں بھی نہیں کروں گی۔ایویں اپنے شوہر کو بے شرم بنانے کا گناہ چڑھ جائے گا میرے سر۔۔۔۔”
بہرام اسکی بات پر قہقہ لگا کر ہنس دیا اور اسے سختی سے خود میں بھینچا۔زندگی پل بھر میں ہی کتنی حسین لگنے لگی تھی۔
“وہ تو تم کچھ بھی کر لو میری جان شوہر کو بے شرم کرنے کا گناہ تو تمہارے سر چڑھنا ہی ہے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر بہرام اسے مزید بولنے کا موقع دیے بغیر اپنی پناہوں میں چھپا گیا اور ایک بار پھر سے چاہت بخوشی اپنے آپ کو اسکی محبتوں کے سپرد کر گئی۔وہ ہی تو اسکے جسم و جان کا مالک تھا، چاہت کا رواں رواں اسکی امانت تھا تو اس سے کیسا کترانا۔
💞💞💞💞
فرزام چاہ کر بھی جلدی واپس نہیں آ سکا تھا کیونکہ جو کام سنبھالنا بہرام کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا فرزام اس میں زرا اناڑی تھا اسی لیے بہت کوشش کرنے کے باوجود اسے واپس آتے آتے رات کے گیارہ بج گئے تھے۔
اپنے کمرے کی جانب واپس آتے اسے مناہل کی جلدی آنے کی درخواست یاد آئی۔اب تک تو وہ شائید سو بھی چکی ہو گی۔
فرزام نے گہرا سانس لے کر سوچا اور کمرے میں داخل ہو گیا۔کمرے میں گھپ اندھیرا دیکھ اسے اندازہ ہوا کہ مناہل واقعی میں سو چکی ہے۔
وہ اندھیرے میں ہی بیڈ کے پاس جانے لگا تا کہ اسے ڈسٹرب کیے بغیر اسے محسوس کر کے اپنے دل کو سکون دے سکے لیکن تبھی کمرے کی لائٹ آن ہوئی۔
فرزام نے مڑ کر دروازے کے پاس کھڑی مناہل کو دیکھا تو اسے لگا تو سانس تک لینا بھول گیا۔
اس وقت مناہل نیلے رنگ کی میکسی پہنے وہاں کھڑی تھی اور وہ وہی میکسی تھی جو فرزام نے اسے مری میں دی تھی۔سلیو لیس بازوؤں کو چھپانے کے لیے مناہل نے اپنے گھنے بال کندھوں پر پھیلائے تھے لیکن اس نے اسکی خوبصورتی میں اضافہ ہی کیا تھا۔
فرزام خواب کی سی کیفیت میں اسکے قریب ہوا تو اسے وہ پینڈنٹ مناہل کی گردن میں نظر آیا جو اس نے صبح اسے دلایا تھا۔اسکو مسلسل خاموشی سے خود کو دیکھتا پا کر مناہل کنفیوز ہوتی اپنا سر جھکا گئی۔
“کک۔۔۔۔کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔۔؟”
مناہل کی گھبرائی سی آواز پر فرزام مسکراتے ہوئے اسکے پاس آیا اور ٹھوڈی سے پکڑ کر اسکا حسین چہرہ اوپر کیا۔
“میری من لگ رہی ہو۔۔۔”
فرزام کی بات پر مناہل کے چہرے کی خوشی دیکھنے والی تھی۔
“تو کیا آپ نے مجھے معاف کر دیا؟”
مناہل نے بہت امید سے پوچھا اور فرزام نے اسکا چہرہ ہاتھ میں تھام لیا۔
“تمہیں یاد ہے جب پہلے تم نے یہ ڈریس پہنا تھا تو میں نے کیا کہا تھا؟”
فرزام کے اپنا ہی سوال پوچھنے پر مناہل فوراً اپنا سر جھکا گئی۔اسے فرزام کی نظروں سے اب بہت زیادہ گھبراہٹ ہو رہی تھی۔
“میں نے کہا تھا کہ اس کا مطلب ہو گا کہ تم مجھے اپنی مرضی سے اپنے قریب بلا رہی ہو۔مجھے یہ حق دے رہی ہو کہ تمہیں مکمل طور پر اپنا بنا لوں۔۔۔۔”
فرزام کی گھمبیر آواز پر مناہل کی نازک جان کانپ سی گئی۔
“فف۔۔۔فرزام۔۔۔۔”
“تو بولو اسی لیے پہنا ہے کیا تم نے یہ ڈریس۔۔۔؟”
مناہل اب سر جھکا کر اپن انگلیاں چٹخانے لگی۔
“مم ۔۔۔مجھے لگا آپ کو یہ اچھا لگے گا تو آپ مجھے معاف کر دیں گے ۔۔۔۔۔”
فرزام کے ماتھے پر یہ بات سن کر بل آئے تھے۔
“یعنی تم نے یہ ڈریس اس لیے نہیں پہنا کہ تم مجھے اپنے قریب بلانا چاہ رہی تھی؟”
مناہل نے گھبرا کر اسے دیکھا۔وہ چاہ کر بھی یہ بات فرزام سے نہیں کہہ سکتی تھی۔ اس کی بولڈنیس تو مکمل طور پر اس ڈریس کے پہننے تک ہی محدود تھی لیکن اسکی خاموشی کو دیکھ کر فرزام کے ماتھے پر بل آئے اور وہ وہاں سے جانے لگا۔
اسے خود سے دور جاتا دیکھ مناہل بہت زیادہ ڈر گئی۔وہ بس اتنا جانتی تھی کہ اسے اپنے شوہر کو منانا تھا بغیر سوچے سمجھے وہ بھاگ کر فرزام کے پاس گئی اور پیچھے سے اسے اپنی باہوں میں لے کر اپنا چہرہ اسکی کمر پر رکھ دیا۔
“پلیز مجھے چھوڑ کر مت جائیں فرزام۔۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔۔”
اسکی بے چینی پر فرزام کے ہونٹ مسکرائے اور اس نے مناہل کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا۔
“سوچ لو من یہاں تک گیا تو تمہاری جان خوامخواہ عزاب میں آ جائے گی کیونکہ آج تم بہت کامیابی سے بہکا رہی ہو مجھے۔۔۔۔”
مناہل کا روم روم اسکی بات پر کانپ اٹھا پھر بھی اس نے ہمت کرتے ہوئے اپنا سر اسکے سینے پر رکھا اور اپنے ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹ دیے۔
“مت جائیں۔۔۔”
اب فرزام کی بس ہو چکی تھی اسی لیے اس نے مناہل کا چہرہ بالوں سے پکڑ کر اونچا کیا اور اپنے جنون کی مانتا اسکے نازک ہونٹوں کو اپنی گرفت میں کے لیا۔
اسکے لمس میں شدت کے ساتھ ساتھ بے تحاشا تڑپ بھی تھی جیسے کہ اسے ساری زندگی تڑپنے کے بعد جزا ملی ہو۔
مناہل کی نازک جان تو بس اتنی سی شدت پر ہی ہلکان ہو چکی تھی لیکن اس نے پھر بھی کوئی مزاحمت نہیں کی کیونکہ وہ فرزام کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔
فرزام نے یونہی اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لے گیا اس نے مناہل کو لیٹا کر اسکے کندھوں سے بال ہٹائے اور وہاں بھی اپنی محبت کے پھول کھلانے لگا۔
اور مناہل رکے سانس کے ساتھ بیڈ سیٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبوچتی اسکے جنون کو برداشت کر رہی تھی۔اسے کے دانت اپنی گردن میں گڑھتے محسوس ہوئے تو نہ چاہتے ہوئے بھی دو آنسو پلکوں پر ٹھہر سے گئے۔
فرزام نے اس سے دور ہو کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولنا شروع کیے لیکن مناہل کی پلکوں پر وہ آنسو دیکھ کر اسکے ہاتھ رک گئے۔
“من۔۔۔۔”
فرزام کے محبت سے پکارنے پر مناہل نے سہم کر اسے دیکھا۔اسکے یوں دیکھنے پر فرزام کو احساس ہوا کہ وہ تو اسے پانے کے جنون میں یہ بھی بھول چکا تھا کہ اس باہوں میں موجود پھول کی پتی پتی کو کسی نے بہت بے رحمی سے توڑا تھا اب فرزام کو اپنی محبت سے ان پتیوں کو پھر سے جوڑنا تھا نہ کہ اپنے جنون میں اسے خود سے ڈرانا تھا۔
فرزام نے نرمی سے اسے اپنی باہوں میں لے کر اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔
“میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا من کبھی نہیں۔۔۔۔اس سے پہلے فرزام خانزادہ اپنی کھال ادھیڑ دینا پسند کرے گا۔۔۔۔”
مناہل اسی بات پر نم آنکھوں سے مسکرائی اور اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپا لیا۔
“جانتی ہوں فرزام۔۔۔”
اسکے اس بھروسے پر فرزام نے مسکراتے ہوئے نرمی سے اسے اپنی آغوش میں بھرا اور بہت نرمی اور محبت سے اسے اپنے پیار سے آگاہ کرنے لگا۔وہ اسے ایسے چھو رہا تھا جسے کہ وہ کوئی کانچ کی گڑیا ہو جو زرا سا زور سے چھونے پر ٹوٹ جاتی۔
اور اسکی محبت میں خود کو قیمتی محسوس کرتی مناہل اپنا ہر زخم ہمیشہ کے لے سی گئی تھی۔یہ محبت ہی تو تھی جو ہر زخم کا مرہم تھی۔محبت کے بغیر تو دنیا کی ہر دوا بے اثر تھی۔
💞💞💞💞
فرزام مسکراتے ہوئے اپنی باہوں میں سوتی مناہل کو دیکھ رہا تھا جو اسکی محبت کے تحفظ میں ہر برے خواب اور خوف سے بے خبر پر سکون نیند سو رہی تھی اور فرزام مسکراتے ہوئے اسکے ایک ایک نقش کو اپنی نظروں سے چھو رہا تھا۔
کیا تھی وہ نازک سی گڑیا جو ایک خود پرست انسان کو پل بھر میں بدل کر کسی اور کے لیے جینا سیکھا گئی تھی۔وہ جو بھی تھی فرزام کے لیے سب سے زیادہ قیمتی تھی۔
فرزام نے اپنے ہونٹ اسکی آنکھوں پر رکھے تو مناہل کے چہرے کو شرمگیں مسکراہٹ نے چھوا اور وہ اپنا چہرہ فرزام کے سینے میں چھپا گئی۔
“تو تم سو نہیں رہی بس مجھ سے جان چھڑوانے کے لیے سونے کا دیکھاوا کر رہی تھی۔۔۔۔؟”
فرزام نے اسکا چہرہ سینے سے نکال کر پوچھا اور مسکراتے ہوئے مناہل کی پلکوں کی جنبش کو دیکھنے لگا۔
“نن۔۔۔۔نہیں میں سو رہی تھی۔۔۔۔”
فرزام کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
“اوہ اچھا تو ٹھیک ہے پھر ابھی بھی سوتی رہو تا کہ میں اپنا کام آسانی سے کر لوں۔۔۔”
فرزام نے اسکی ناک کو دانتوں میں دبا کر کہا تو مناہل کا سانس اسکے سینے میں ہر اٹک گیا۔
“فرزام تنگ نہیں کریں ناں۔۔۔”
“ابھی تو تنگ کیا ہی نہیں میرا جنون جب تنگ کرنے پر آیا تو مجھ سے نظریں تک نہیں ملا پاؤ گی۔جو رات تمہیں دیکھایا وہ تو بس میرا پیار تھا کیفِ جنون کو چکھنا تو ابھی باقی ہے۔۔۔۔”
فرزام نے اسکی گردن پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا تو مناہل خود میں سمٹتی چلی گئی۔
“آپ کے اس جنون کے لیے بہت کمزور ہوں میں فرزام۔۔۔۔”
فرزام نے اسکی گردن سے چہرہ نکالا اور مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔اڈے دیکھ کر مناہل ایک بار پھر اپنی قسمت پر رشک کرنے لگی تھی۔
“کوئی بات نہیں میں ہوں ناں تمہیں مظبوط بجا دوں گا۔۔۔”
فرزام ایک بار پھر سے اسے اپنی محبتوں بھری پناہوں میں چھپا گیا اور ان پناہوں میں مناہل کو اپنا آپ معتبر لگنے لگا تھا۔
آج وہ یہ بات سمجھ گئی تھی کہ عورت کے ساتھ کی گئی زیادتی اسے ناپاک یا حقیر نہیں بناتی۔یہ تو بس انسانی دماغ کا فتور تھا ورنہ انسان کو ناپاک تو بس اس کے گناہ ناپاک بناتے ہیں نا کہ دوسروں کا گناہ۔
مناہل پاکیزہ تھی اور محبتوں کے قابل تھی۔اس کی طرح ہر وہ لڑکی محبتوں کے قابل ہے جسے ایک درندہ نوچ کر یہ سوچتا ہے کہ اس نے اسے ناپاک کر دیا۔وہ پاک ہے، کیونکہ اسے نہ تو دین نا پاک سمجھتا ہے نہ ہی ہمارا خدا بس نہ جانے وہ وقت کب آئے گا جب لوگ بھی اسے پاک سمجھنا شروع دیں۔