📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 01)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 01)

Kaif E Junoon By Harram Shah

(ماضی)
“یہ کیا کہہ رہے ہو تم حیدر میں بیوی ہوں تمہاری اور تم۔۔۔۔”
وردہ نم پلکوں سے اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے کہہ رہی تھی جبکہ اسکے شوہر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
کتنے دن ہو گئے تھے اسے اپنے گھر اپنے شوہر کا انتظار کرتے ہوئے۔ جب وہ گھر نہیں آیا تو خود ہی اس نے اس کے آفس آنے کا سوچ لیا تھا لیکن یہاں پہنچ کر جب حیدر نے یہ پوچھا کہ وہ کس حق سے یہاں آئی ہے تو وہ حیران رہ گئی۔
“ہوں بیوی؟تم جیسی لڑکی میری بیوی کیسے ہو سکتی ہے اس سب کو سیریس مت لو مس وردہ وہ تو بس ایک پل کی اٹریکشن تھی جو اب ختم ہو گئی۔”
حیدر کی بات پر وردہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور آگے بڑھ کر اس کا گریبان اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔
“تم کہنا چاہ رہے ہو کہ ہمارا نکاح مزاق تھا،میرا تمہارے لیے اپنا گھر چھوڑ کر آنا اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر آنا وہ سب مذاق تھا؟تمہاری وہ محبت بھی ایک مزاق تھی کیا؟”
وردہ روتے ہوئے چلا رہی تھی اور حیدر کے ماتھے پر بل پڑھ چکے تھے۔اس نے اپنے ہاتھ سختی سے وردہ کے ہاتھوں پر رکھے اور اپنا گریبان اس کی پکڑ سے چھڑوا لیا۔
“اپنی حد میں رہو خوب جانتا ہوں تم جیسی لڑکیوں کو یونیورسٹی میں آتی ہی ہم جیسے امیر لڑکوں کو پھنسانے کے لیے ہیں تاکہ ہماری دولت پر عیش کر سکیں۔غلطی ہوگئی تھی مجھ سے تم سے نکاح کر کے اب بھول جاؤ تم وہ غلطی اور نکلو یہاں سے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر حیدر نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ چھوڑے اور اسے باہر کے دروازے کی جانب جانے کا اشارہ کیا۔
“نہیں حیدر بلکہ تم جیسے لڑکے ہم جیسی بے وقوف لڑکیوں کو پھانستے ہیں تاکہ ہمیں استعمال کرنے کے بعد کسی ٹشو پیپر کی طرح پھینک سکیں اور ہم بےوقوف لڑکیاں تمہارے دھوکے کو تمہاری محبت سمجھ بیٹھتی ہیں۔۔۔۔”
وردہ نے غصے سے کہا اور اپنے آنسو پونچھ کر لال آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“لیکن دیکھنا میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی کیس کروں گی تم پر یہ ثابت کروں گی کہ تم نے دھوکے سے مجھ سے نکاح کیا۔۔۔۔”
وردہ جو حیدر کو دھمکی دے رہی تھی اس کے قہقہ لگا کر ہنسنے پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“نکاح۔۔۔۔کیسے ثابت کرو گی تم اس نکاح کو؟ نکاح نامہ ہے تمہارے پاس؟ یا رجسٹرار کے آفس سے جا کر نکاح نامہ نکلواو گی۔۔۔۔چچچ وردہ جانم وہ نکاح نامہ تمہیں وہاں سے بھی نہیں ملے گا کیونکہ میں نے اسے رجسٹر ہی نہیں کروایا تھا اور نکاح نامے کی ہر کاپی میرے پاس ہے تو کیسے ثابت کرو گے تم ہمارے اس نکاح کو تم تو نکاح پر آنے والے گواہوں کو بھی نہیں جانتی۔۔۔۔۔”
حیدر نے خباثت سے کہا اور اس کی یہ کمینگی دیکھ کر وردہ کو اپنی بیوقوفی پر افسوس ہونے لگا کیسے اس نے اس جیسے شخص سے اتنی محبت کی؟اس پر اعتبار کر کے جان چھڑکنے والے ماں باپ اور بھائی کو رسوا کر دیا۔
“اگر پھر بھی تمہیں میری بیوی ہونے کا بھرم ہے ناں تو فکر مت کرو میں ابھی وہ بھرم بھی توڑ دیتا ہوں وردہ شیخ میں اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔ “
ساتوں آسمان ایک ساتھ وردہ پر گرے اور وہ بت بنے بس اس شخص کو دیکھ رہی تھی جس نے اس کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کے وعدے کیے تھے۔جس کی خاطر اس نے سب کو چھوڑ دیا تھا آج وہی اس سے اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد اپنی زندگی سے نکال کر پھینک چکا تھا۔
“اب نکلو یہاں سے اور ہمیشہ یاد رکھنا کہ تمہاری حیثیت اتنی نہیں کہ حیدر بیگ کی بیوی بن سکو رہی اس نکاح کی بات تو وہ مجھے تمہیں پانے کے لیے کرنا پڑا تم ایسے میرے ہاتھ میں جو نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔”
حیدر نے اسکو سر سے لے کر پیر تک دیکھتے ہوئے کہا۔
“نکلو یہاں سے۔۔۔۔”
حیدر کے چلانے پر وردہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور آنسوؤں سے تر نگاہیں اٹھا کر حیدر کو دیکھا۔
“میری بد دعا ہے حیدر بیگ کہ ایک دن تم بھی اسی طرح برباد ہو جاؤ گے جس طرح تم نے مجھے برباد کیا۔اپنی اس دولت کی وجہ سے دوسروں کی زندگی کو کھلونا سمجھ رکھا ہے ناں تم نے ایک دن تم خود حالات کا کھلونا بن کر رہ جاؤ گے۔آج جس قدر میں بے بس ہوں ایک دن تم بھی اتنے ہی بے بس ہو گے۔۔۔۔۔”
وردہ اتنا کہہ کر وہاں سے چلی گئی اور اپنی دولت کے غرور میں ڈوبا حیدر مسکرا دیا کیونکہ اسے کسی کی بدعا کی کوئی پرواہ نہیں تھی وہ اپنا نصیب خود لکھنا جانتا تھا مگر شائید وہ بھول چکا تھا کہ کوئی ایسی طاقت ہے جس کے آگے وہ بہت ادنی ہے۔
💞💞💞💞
رات کا وقت ہو رہا تھا اور مارگلا سے دور ان پہاڑیوں پر بہت سے لوگ جمع تھے۔دو لڑکے اپنی مہنگی موٹر سائیکلوں کے ساتھ ان لوگوں کے وسط میں کھڑے تھے اور اردگرد جمع لوگ ان کے نام کے نعرے لگانے اور ہوٹنگ کرنے میں مصروف تھے لیکن سب لوگوں کی زبان پر بس ایک ہی نام تھا۔
فرزام خانزادہ۔۔۔۔۔
جینز پر سفید شرٹ اور کالی لیدر کی جیکٹ پہنے سفید رنگت اور تیکھے مغرور سے نقوش والا فرزام حد سے زیادہ خوبرو لگ رہا تھا۔سٹائلش سے بال جیل سے سیٹ کیے گئے تھے اور مغرور عنابی ہونٹوں کے درمیان ایک سگریٹ قید تھا۔
“فرزام۔۔۔۔!!!آئی لو یو مائے ہیرو۔۔۔۔”
ایک لڑکی اونچی آواز میں چلائی تو فرزام نے نگاہیں گھما کر اسکو دیکھا۔دائیں گال پر ایک ڈمپل نمودار ہوا اور ایک ادا سے فرزام نے اپنی بائیں آنکھ دبائی جسے دیکھ کر وہ لڑکی اپنا ہاتھ دل پر رکھ چکی تھی۔
“آپ جانتے ہیں کہ خرم نے اپنے فرزام کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اسے ریس میں ہرا سکتا ہے تو چلیں ریس شروع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ خرم ہمارے لیجنڈ کو ہرانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔۔۔۔۔”
ایک آدمی نے آگے ہو کر کہا اور بائیک کے پاس کھڑا خرم ہیلمٹ پہننے لگا۔فرزام نے بھی سگریٹ کا آخری کش لے کر اسے زمین پر پھینک کر مہنگے بوٹ تلے کچل دیا اور ہیلمٹ پہن کر اپنی ہیوی بائیک پر سوار ہو گیا۔
“تھری ٹو ون گو۔۔۔ “
آدمی کے چلاتے ہی دونوں بائیکس گولی کی رفتار سے آگے بڑھ گئیں۔یوں پہاڑوں پر بائیک چلانا بہت زیادہ خطرناک اور غیر قانونی کام تھا لیکن وہ منچلے پولیس سے چھپ چھپا کر یہ کام اسلام آباد کے پہاڑوں پر بنی سڑکوں پر کر ہی لیتے تھے۔
فرزام کی بائیک کافی زیادہ تیز تھی اس لیے کچھ پلوں میں ہی وہ خرم سے آگے نکل گیا لیکن کچھ دیر بعد ہی خرم اپنی نئی ماڈل کی بائیک رفتار سے بھگاتا فرزام سے آگے چلا گیا اور یہ بات فرزام خانزادہ کو کہاں گوارا تھی۔
خوبصورت پیشانی پر بل آئے تھے۔ایک جھٹکے سے فرزام نے اپنا ہیلمٹ اتار کر سائیڈ پر پھینکا اور بائیک کی ون ویلنگ کرواتا پوری رفتار سے آگے بڑھنے لگا۔
خرم کی بائیک ایک خطرناک موڑ پر آنے کی وجہ سے تھوڑا سلو ہو گئی کیونکہ موڑ کے ایک طرف پہاڑ تھا تو دوسری طرف گہری کھائی۔
لیکن تبھی فرزام کی بائیک بہت زیادہ رفتار سے اس کھائی کے کنارے سے گزرتی ہوئی خرم کی بائیک سے آگے گزر گئی۔فرزام کی اس جرات کو دیکھ کر خرم بھی حیران رہ گیا۔
اور اسی طرح سب سے پہلے اپنی بائیک کو فنشنگ لائن پر واپس لا کر فرزام وہ ریس جیت چکا تھا جس کے بعد لوگوں کا شور پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا۔
فرزام نے دو انگلیاں اپنے ہونٹوں کے ساتھ لگا کر وہاں کھڑی لڑکیوں کی طرف کر دیں تو لڑکیاں مزید اونچی اسکا نام چلانے لگیں۔یہ دیکھ کر فرزام مزید مسکرا دیا۔
“تم نے چیٹنگ کی فرزام ون ویلنگ کرنا الاؤڈ نہیں تھا اور تم اسی سے اپنی رفتار بڑھا کر مجھ سے آگے گزرے ورنہ میری بائیک تمہاری اس کھٹارہ سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔۔۔ “
خرم نے آگے بڑھ کر فرزام کی بائیک کو ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔فرزام نے اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا اور پھر پوری طاقت سے اپنی بائیک کو ٹانگ مار دی۔بائیک کھائی کے کنارے پر کھڑے ہونے کی وجہ سے کھائی میں جا گری۔
سب فرزام کی اس حرکت پر حیرت سے خاموش ہو گئے کیونکہ ہر کوئی جانتا تھا کہ وہ فرزام کی فیورٹ بائیک تھی۔
“تمہارے چھونے کے بعد یہ میرے قابل نہیں رہی ۔۔۔”
فرزام نے نفرت سے کہا اور آگے بڑھ کر خرم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔
“اور میری بائیک کو میرے ہی قابل نہ چھوڑنے کی سزا بھگتو اب۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام نے اسکی انگلیوں کو بری طرح سے مروڑ کر توڑ دیا۔ان پہاڑوں میں خرم کی چیخیں گونج اٹھیں لیکن فرزام اسے زمین پر پھینک کر اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگا چکا تھا۔
تبھی اسکی نظر ایک گاڑی پر پڑی جس کے ساتھ سرمئی پینٹ کوٹ میں ملبوس آدمی ٹیک لگا کر سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔فرزام نے گہرا سانس لیا اور سگریٹ کا گہرا کش لیتے اس آدمی کی جانب بڑھ گیا جو کافی غصے میں نظر آ رہا تھا۔
“سوری بگ بی پرامس کیا تھا ریس نہیں کروں گا لیکن کیا کروں اوہ بگ بی میں ہوں عادت سے مجبور۔۔۔۔۔”
فرزام نے شرارت سے کہا لیکن مقابل کے چہرے کی سختی ابھی بھی ویسی ہی تھی۔
“اچھا سوری برو پرامس کرتا ہوں نیکسٹ ٹائم نہیں کروں گا ایسا۔۔۔۔”
“اور یہ پرامس تم کتنی مرتبہ کر چکے ہو فرزام۔۔۔۔؟شائید چھبیس۔۔۔”
اس آدمی نے سختی سے کہا تو فرزام مسکرا دیا۔
“نو بگ بی بتیس۔۔۔۔”
اپنے بھائی کو اب باقاعدہ اپنے دانت کچکچاتا دیکھ کر فرزام قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“مجھے جانتے تو ہو تم بہرام ایسا ہی ہوں اپنی زندگی فارغ رہ کر تو نہیں گزار سکتا ناں میں۔۔۔۔”
فرزام نے اسکی طرح کار سے ٹیک لگا کر کہا۔دونوں کو دیکھ کر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ دونوں جڑواں تھے۔قد و قامت کے لحاظ سے وہ ایک جیسے تھے لیکن جڑواں کی طرح چہرہ ایک جیسا نہیں تھا۔
“تو آفس میں اپنا کام سنبھالو۔یہ کمپنی جتنی میری ہے اتنی تمہاری بھی ہے۔اپنی زندگی کو ان فالتو کاموں میں برباد کرنے کی بجائے اس کمپنی کو وہاں لے جانے میں میری مدد کرو جہاں بابا اسے دیکھنا چاہتے تھے۔”
اپنے بھائی کی بات پر فرزام شان سے مسکرایا اور سگریٹ کا گہرا کش لیا۔ماں باپ تو انکے تھے نہیں بس دونوں بھائی ہی ایک دوسرے کا سب کچھ تھے۔
“یہ آفس آفس تم ہی کھیلو بھائی مجھے یہ بہت بورنگ لگتا ہے میں تو وہ کرنا چاہتا ہوں جس میں مجھے مزہ آئے۔”
بہرام نے گہرا سانس لیا۔
“زندگی کو لے کر سیریس ہو جاؤ فرزام۔یہ کوئی کھلونا نہیں ہے۔۔۔۔”
“سیریس ہونے کے لیے تمہیں جو رکھا ہے میں نے میرے بھائی۔یہ میرے گال پر ڈمپل ہے ناں جس پر لڑکیاں مرتی ہیں ایسا تمہاری گال پر بھی ہے لیکن مجال ہے جو آج تک کسی نے اسے دیکھا ہو۔۔۔۔”
فرزام نے شرارت سے کہا اور بہرام نے بے زاری سے اسے دیکھا۔
“اپنی زندگی یوں فالتو میں برباد مت کرو فرزام اگر تمہیں آفس ورک پسند نہیں تو کچھ اور کر لو لیکن یہ بائیک ریسنگ اور پارٹیز سے آگے بڑھو اب بچے نہیں رہے تم۔۔۔۔۔”
فرزام بہرام کی بات پر مسکراتے ہوئے کار سے دور ہوا۔
“تمہارے ہوتے ہوئے بچہ ہی رہوں گا بھائی یاد نہیں پورے پانچ منٹ بڑے ہو تم مجھ سے اور اس لحاظ سے چھوٹے بھائی کے لاڈ اٹھانا فرض ہے تمہارا بگ بی تو پورا کرو اسے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر فرزام بہرام کی گاڑی کی جانب بڑھ گیا اور ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔
“اب صبح ہی ملاقات ہو گی بگ بی ابھی زرا پارٹی میں جا کر لڑکیوں کے دلوں پر بجلیاں گرا لوں ۔۔۔۔۔”
فرزام نے اپنے سٹائلش بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ادا سے کہا اور بہرام کی گاڑی بھگاتا وہاں سے چلا گیا۔بہرام کو اسکی یہ آزادی اور بے فکری اچھی لگتی اگر یہ سب اصلی ہوتا لیکن یہ سب فرزام خانزادہ کا نقاب تھا جو اس نے اپنے اندر پلتے غصے اور کرب کو چھپانے کے لیے اوڑھا تھا بالکل جیسے بہرام نے اپنے غصے اور کرب کو چھپانے کے لیے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔
💞💞💞💞
سکینہ ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھیں اور اپنی بیٹی کے لیے کھانا بنانے لگیں جو کسی بھی وقت کالج سے آنے والی تھی۔ویسے بھی اس دنیا میں ان کی بیٹی کے سوا ان کا کوئی نہیں تھا۔
انکی بیٹی صرف پانچ سال کی تھی جب انکا شوہر اس دنیا سے چلا گیا۔آج بھی وہ سب یاد کر کے وہ دکھی ہو جاتی تھیں۔
دروازہ کھٹکنے کی آواز پر وہ مسکرا کر دروازے کی جانب چل دیں لیکن دروازہ کھولنے پر انکی نظر چاہت کے سوجے ہوئے منہ پر پڑی تو پریشانی سے اسکی جانب بڑھیں۔
“چاہت کیا ہوا میرا بچہ منہ کیوں بنا رکھا ہے تم نے؟”
انہوں نے اسے کمرے میں لا کر اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے پوچھا۔چاہت نے غصے سے اپنی چادر اتار کر دور اچھالی۔
“اماں ایک لڑکا ہے کالج میں روز مجھے تنگ کرتا ہے میں اس سے بات نہیں کرنا چاہتی پھر بھی فالتو میں فری ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔۔۔”
چاہت کی بات پر سکینہ نے پریشان ہو کر اسے دیکھا۔
“ارے کیوں سمجھتا کیا ہے خود کو تم پریشان مت ہو میں بہرام بیٹے کو کہوں گی وہ پوچھ لے گا اسے۔۔۔۔”
بہرام کے ذکر پر کی چاہت کا دل بہت زور سے دھڑکا،رخسار گلابی ہو گئے اور اس نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں آپ خان جی کو کچھ مت بتائے گا ایسا نہ ہو کہ غصے میں اگر میرا کالج ہی چینج کروا دیں اتنی اچھی سہیلیاں ہیں میری کالج میں ان سے دور نہیں جا سکتی۔۔۔۔۔”
چاہت نے بہانہ بنایا حالانکہ سچ تو یہ تھا کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ بہرام کو اس کے بارے میں کچھ بھی برا پتہ چلے۔
سکینہ نے مسکرا کر اپنی اکلوتی بیٹی کو دیکھا بچپن سے ہی چاہت بہرام کو خان جی بلاتی تھی۔
“تو پھر میں فرزام بیٹے کو بتا دیتی ہوں وہ۔۔۔۔”
“فرزام بھائی تو خود وہاں لڑنے پہنچ جائیں گے اور کوئی پتہ نہیں اس لڑکے کو مار ہی نہ دیں۔۔۔”
چاہت نے سکینہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
“تو پھر میں کیا کر سکتی ہوں میری جان ان دونوں کے علاوہ کون ہے ہمیں پوچھنے والا۔۔۔۔”
سکینہ نے پریشانی سے کہا پھر کچھ سوچ کر ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آگئی۔
“ماشاءاللہ اتنے اچھے بچے ہیں دونوں بھلا کون ہوتا ہے جو اپنے باپ کے ہاں کام کرنے والے ملازم کے گھر والوں کا اتنا خیال رکھے۔تمہارے باپ کے جانے کے بعد بھی انہوں نے کبھی ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔یہ گھر دیا،ہمارے گھر کا اور تمہاری پڑھائی کا سب خرچہ اٹھا رہے ہیں بہرام صاحب پھر ہماری زندگی میں کچھ ہو تو ان کا جاننے کا حق بنتا ہے ناں۔۔۔۔”
سکینہ نے پیار سے چاہت کا خوبصورت چہرہ تھام کر کہا۔
“لیکن آپ خان جی کو کچھ نہیں بتائیں گی اماں وعدہ کریں۔۔۔”
“”کیا نہیں بتانا مجھے۔۔۔۔”
بہرام کی آواز پر دونوں نے گھبرا کر دروازے میں دیکھا جہاں بہرام ملازم کے ساتھ کھڑا تھا جبکہ ملازم نے بہت سے شاپر ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے۔بہرام نے ملازم کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ سارے شاپر وہاں رکھ کر چلا گیا۔
“بتائیں کیا بات ہے؟اور باہر کا دروازہ کیوں کھلا تھا میری طرح کوئی بھی اندر آ سکتا تھا۔”
بہرام نے سنجیدگی سے کہا۔
“ارے بہرام بیٹا آپ بیٹھو تو سہی ۔۔۔۔”
بہرام خاموشی سے بیٹھ گیا اور ایک نظر چاہت کو دیکھا جو سر جھکا کر بے چینی سے اپنے ہاتھ مسل رہی تھی۔
“تو بتائیں کیا بتانے سے منع کر رہی تھی چاہت؟”
بہرام نے چاہت کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا جس کی گھبراہٹ مزید بڑھ چکی تھی۔
“وہ کہہ رہی تھی کہ اسکے کالج میں۔۔۔۔”
“ہمارا فنکشن ہے جس میں میں نے پارٹیسیپیٹ کیا ہے۔۔۔ “
چاہت جلدی سے سکینہ کی بات کاٹ کر بولی اور پھر مسکرا کر بہرام کو دیکھا۔
“ایک سکیٹ ہے خان جی جس میں مجھے ہیر بنا ہے تو بس اسکی شاپنگ کرنی ہے ۔۔۔۔”
چاہت نے کامیابی سے جھوٹ بولنے پر خود کو مبارکباد دی۔
“تو اس میں کیا بڑا مسلہ ہے میرے ساتھ چلو اور جو چاہیے لے لینا۔۔۔”
بہرام کی بات پر سکینہ بیگم نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں بیٹا اسکی کوئی ضرورت نہیں تم پہلے ہی اتنا کرتے ہو ہمارے لیے میں خود ہی اسے بازار لے جاؤں گی۔۔۔۔”
سکینہ نے مزاحمت کرنا چاہی وہ نہیں چاہتی تھیں کہ بہرام مزید ان کے لیے کچھ کرے کیونکہ وہ اور فرزام پہلے ہی ان کا بہت بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔
“آپ کہاں اسے لے کر جاتی رہیں گی اماں جی آپ فکر مت کریں میں اسے سب لے دوں گا۔۔۔۔”
بہرام نے سنجیدگی سے سکینہ کو کہا اور چاہت کی جانب مڑا۔
“میں باہر گاڑی میں تمہارا ویٹ کر رہا ہوں چادر لے کر آ جاؤ اور آئندہ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتانے میں ہچکچانا مت۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر بہرام اٹھ کھڑا ہوا تو سکینہ بھی اس کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔
“رکو بیٹا تم نے تو کچھ لیا بھی نہیں میں تمہارے لیے چائے بنا لیتی ہوں۔۔۔۔”
بہرام نے انکار میں سر ہلایا۔
“تکلف کی کوئی ضرورت نہیں اماں جی دیر ہو رہی ہے اب چاہت کو بھیج دیجئے گا۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر بہرام دروازے سے باہر چلا گیا اور بھاگنے کے انداز میں شیشے کے پاس گئی اور جلدی سے اپنی کمر تک آتی چوٹی کو کھول کر لمبے بالوں کو کیچر میں مقید کر لیا اور ہلکی سی لپسٹک ہونٹوں پر سجانے کے بعد آنکھوں میں گہرا کاجل ڈال لیا۔
اس کے لیے تو یہی کافی تھا کہ وہ بہرام کے ساتھ باہر جا رہی تھی۔
“چاہت بیٹا اچھی بیٹیاں بازار سج دھج کر نہیں جاتیں۔۔۔”
سکینہ نے چاہت کو جلدی سے تیار ہوتا دیکھ کر ٹوکا اور اسکی کالی چادر اسکی جانب بڑھائی۔
“جب ان کے ساتھ حفاظت کے لیے خان جی جیسا انسان ہو تو کس بات کا ڈر اماں۔۔۔”
چاہت نے پر جوش ہو کر کہا۔بہرام کے ساتھ جانے کی خوشی اسکے معصوم چہرے سے چھلک رہی تھی جو سکینہ کی جہان دیدہ آنکھوں سے چھپی نہیں رہی تھی۔
“اپنا دل مت لگانا چاہت وہ ہم سے بہت زیادہ بڑھے ہیں۔۔۔”
اپنی کلائی میں سفید چوڑیاں چڑھاتے چاہت کے نازک ہاتھ وہیں رک گئے۔
دل تو کب کا لگ چکا ہے اماں جی اب تو بات روح تک جا پہنچی ہے۔
“آپ بھی ناں پتا نہیں کیا کیا سوچتی رہتی ہیں۔۔۔زیادہ مت سوچا کریں بال سفید ہو جائیں گے۔۔۔۔”
چاہت نے شرارت سے کہا اور انکا گال چوم کر چادر اوڑھتے ہوئے باہر چلی گئی جہاں بہرام گاڑی میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔
“میری معصوم بچی کے دل کی حفاظت کرنا میرے مولا۔بہت معصوم ہے وہ اسے ہر طرح کی تکلیف سے محفوظ رکھنا۔۔۔”
سکینہ نے دعا کی لیکن وہ نہیں جانتی تھیں کہ اب یہ دعا کرنے کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی۔محبت کا روگ تو معصوم دل پر بہت پہلے سے بجلیاں گرا چکا تھا۔
💞💞💞💞
“ہمم یہ کافی اچھا ہے بھابی اس ڈریس کو آرڈر کرتے ہیں۔۔۔۔”
شیزہ بیگم نے اپنی بھاوج انجم سے کہا جو ان کے ساتھ آئی پیڈ پر آن لائن ڈریسسز دیکھنے میں مصروف تھیں۔
“تم کیا کہتی ہو مناہل اچھا ہے ناں یہ۔۔۔۔”
انجم بیگم نے مناہل کو پکارا جو انکے قریب تب سے بت بنی بیٹھی تھی۔
“مناہل ۔۔۔۔”
انجم بیگم نے مناہل کی ٹانگ پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ خوف سے اچھل کر ان سے دور ہوئی۔اسکی اس حرکت پر انجم بیگم کے چہرے پر ناگواری آئی۔مناہل کبھی کسی کو خود کو چھونے نہیں دیتی تھی۔
“بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی کیا۔۔؟”
انجم بیگم کے چہرے پر سختی دیکھ کر مناہل نے گھبراتے ہوئے انکار میں سر ہلایا۔
“نن۔۔۔۔نہیں تائی امی آپ بتائیں کوئی کام تھا کیا؟”
اسکے پوچھنے پر انجم بیگم کے ساتھ ساتھ شیزہ بیگم نے بھی گہرا سانس لیا۔
“کوئی پہاڑ نہیں توڑوانے تم سے بس کچھ پوچھنا تھا لیکن چھوڑو لگتا ہے تمہارے ہوش قائم نہیں۔۔۔۔”
انجم بیگم نے نفرت سے کہا تو مناہل اپنا سر جھکا گئی۔
“چھوڑیں بھابی اسکے ہوش کبھی قائم بھی رہے ہیں کیا؟یہ تو ہے ہی ایسی اپنی ہی دنیا میں مگن اور ایک بات بتاؤ مناہل کیا ہمارے چھونے سے تمہارا گورا بدن گندا ہو جائے گا جو ایسے ری ایکٹ کرتی ہو تم ہمارے ہاتھ لگانے پر۔۔۔۔”
شیزہ بیگم کی بات پر مناہل نے نم آنکھیں اٹھا کر انہیں دیکھا۔
“نہیں ایسی بات نہیں ہے پھپھو میں تو بس۔۔۔۔”
“کیا ہو رہا ہے بھئی یہاں میرے بنا ہی محفل سجا لی؟”
حبہ کی آواز پر انجم بیگم نے مسکرا کر اپنی بیٹی کو دیکھا جو جینز ٹاپ میں ملبوس گھر داخل ہوئی تھی۔
“لو آ گئی میری پیاری بیٹی یہی ہیلپ کرے گی ہماری مناہل سے تو کوئی امید نہیں ہمیں۔۔۔۔”
انجم بیگم نے ناگواری سے مناہل کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“کیسی ہیلپ چاہیے آپ کو؟”
حبہ نے انکے قریب آتے ہوئے پوچھا تو وہ دونوں اسے بھی ٹیب پر ڈریسز دیکھانے لگیں جبکہ مناہل کو اپنا آپ ہمیشہ کی طرح فالتو ہی لگ رہا تھا۔
“اچھا مما یہ بیسٹ ہے آپ یہ لے لیں اور پھپھو آپ پر یہ سوٹ کرے گا میں زرا ریسٹ کر لوں لنچ میرے روم میں ہی بھجوا دینا۔۔”
حبہ اتنا کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔شیزہ بیگم نے مسکرا کر مناہل کو دیکھا جو ابھی بھی خاموشی سے انکے پاس بیٹھی تھی۔
“ویسے اپنی حبہ کو دیکھیں کتنی اچھی اور لائق بچی ہے۔اتنا کانفیڈینس ہے کہ یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے ورنہ کچھ لوگ تو بس منہ بنا کر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور نالائقوں کی طرح پرائیویٹ تعلیم لے کر گزارہ کرتے ہیں۔۔۔۔”
شیزہ کی بات پر مناہل بے چینی سے اپنے ہاتھ مسلنے لگی۔
“جی کہتی ہے کہ لوگوں میں جانے سے ڈر لگتا ہے جیسے لوگ تو کھا جائیں گے ناں اسے۔۔۔۔مت پوچھو شیزہ کتنی بے عزتی ہوتی ہے ہماری لوگوں کو لگتا ہے کہ اسکے ماں باپ نہیں ہیں تو ہم اس پر کنجوسی کر رہے ہیں اب انہیں کیا پتہ میڈم میں گٹس ہی نہیں یونیورسٹی جانے کے۔۔۔۔”
انجم بیگم نے نفرت سے کہا اور اپنی تزلیل کو برداشت کرتی مناہل خاموشی سے اپنے آنسو پینے لگی۔ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا اب تک تو اسے یوں آنسو پینے کی عادت ہو چکی تھی۔
چھے سال کی تھی وہ جب اس کے ماں باپ ایک ایکسیڈنٹ میں مارے گئے۔جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا بس اپنے تایا الطاف بیگ،تائی انجم بیگ اور انکی اکلوتی بیٹی حبہ کو ہی اپنے ارد گرد دیکھا تھا۔اسکے دو ماموں بھی تھے جو کینیڈا رہتے تھے اور مناہل کے ہونے یا نہ ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
مناہل کے بابا شہاب کے بس ایک بڑھے بھائی الطاف بیگ اور ایک بہن شیزہ تھیں جن کی اپنی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔
شیزہ بیگم کی بیٹیاں بھی انکے جیسی تھیں مناہل کو تو کچھ سمجھتی ہی نہیں تھیں جبکہ ان کے بیٹے کی نظروں سے ہی مناہل کو الجھن ہوتی تھی جبکہ اسکے تایا الطاف کی اکلوتی بیٹی حبہ پھر بھی اس سے نرمی سے پیش آ جایا کرتی تھی لیکن زیادہ وقت وہ اپنی دوستوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتی تھی۔
مناہل نے حسرت سے آپس میں باتیں کرتی شیزہ اور انجم بیگم کو دیکھا۔رشتوں کے قریب ہوتے ہوئے بھی ان کی محبت سے محروم تھی کیونکہ اسے وہ محبت دلانے والے اس کے ماں باپ اس دنیا میں موجود نہیں تھے۔
اپنے خالی پن کو محسوس کرتے بہت سے آنسو مناہل کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔تبھی موبائل بجنے کی آواز پر مناہل نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھ دیے۔
“ارے فیض کا فون ہے۔۔۔۔”
شیزہ بیگم نے چہکتے ہوئے کہا جبکہ اپنے پھوپھا کے ذکر پر ہی مناہل کا سانس اسکے سینے میں اٹک چکا تھا۔نازک وجود خوف کی شدت سے تھر تھر کانپنے لگا۔
“کیسے ہیں آپ فیض۔۔۔؟”
شیزہ بیگم فون اٹھا کر چہکتے ہوئے پوچھ رہی تھیں اور مناہل وہاں بیٹھی سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی جو ہمیشہ اسکے خوف میں مبتلا ہونے پر رک جایا کرتا تھا۔
“میں تو بس مناہل اور بھابھی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی۔”
اس شخص کے سامنے اپنا ذکر کیے جانے پر مناہل جلدی سے اٹھی اور وہاں سے بھاگ گئی جیسے وہ فون میں سے نکل کر اسے پکڑ لے گا۔
وہ جلدی سے اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ لاک کرنے کے بعد اسکے ساتھ ٹیک لگا کر زور زور سے سانس لیتے ہوئے اپنا سانس بحال کرنے لگی۔
نم سہمی پلکوں نے کمرے میں موجود بیڈ کو دیکھا تو سات سال پہلے کا ہر منظر اسکی نظروں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا۔مناہل نے فوراً اپنا چہرہ گھٹنوں میں چھپایا اور بازو اپنے گرد لپیٹتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی لیکن اس کے اس کرب میں اس کا سہارا بننے والا کوئی نہیں تھا کوئی بھی نہیں۔۔۔۔