📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 11)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 11)

Kaif E Junoon By Harram Shah

(ماضی)

“سلیمان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟”

وردہ نے حیرت سے اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔وہ کیوں انکی خوشحال زندگی میں مصیبت لانے کا سوچ بیٹھا تھا۔

“ٹھیک کہہ رہا ہوں وردہ میں الطاف حیدر پر کیس کرنے والا ہوں تا کہ پھر کبھی کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کرنے سے پہلے وہ ہزار دفعہ سوچے۔”

“لیکن آپ اس کو جانتے نہیں اگر اس نے ہمارے یا ہمارے بچوں کے ساتھ غلط کر دیا تو سلیمان پلیز آپ اس معاملے کو ختم کر دیں میں نہیں چاہتی کہ وہ شخص پھر سے میری خوشحال زندگی کو اجاڑ کر رکھ دے۔”

وردہ نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا تو سلیمان نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔

“مجھ پر بھروسہ کرو وردہ میں تم سب کی حفاظت کروں گا لیکن اس کو گناہ کرنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ اس نے صرف تمہاری نہیں اور لڑکیوں کی زندگی سے بھی کھیلا ہے مزید اسے ایسا کچھ نہیں کرنے دے سکتا۔۔۔”

وردہ نے فوراً اپنے ہاتھ سلیمان کے سامنے جوڑ دیے۔

“میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں سلیمان ایسا مت کریں۔۔۔”

سلیمان نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیے۔

“ہمت کرو وردہ اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھو ہار ہمیشہ برائی کی ہوتی ہے۔۔۔”

وردہ اب حد سے زیادہ بے بس ہو چکی تھی کیونکہ سلیمان اس کی ایک بھی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔

“میں نے ایک اور فیصلہ کیا ہے؟”

ورنہ نے سلیمان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“میں بہرام اور فرزام کو ہر بات سچ سچ بتا رہا ہوں کیونکہ وہ بڑے ہو چکے ہیں اور ان کا سچ جاننے کا حق بنتا ہے۔”

وردہ نے بے رخی سے اپنے آنسو پونچھے۔

“آپ کے دل میں جو آتا ہے کریں سلیمان لیکن اگر اس شخص کی وجہ سے میرے بچوں یا آپ پر ایک خراش بھی آئی ناں تو آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر وردہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور سلیمان نے اضطراب سے اپنا ماتھا سہلایا۔اچانک ہی کسی نے اپنا چھوٹا سا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔سلیمان نے چوک کر بہرام کو دیکھا جو اسکا سر دبا رہا تھا۔

“آپ ماما سے لڑ رہے تھے؟”

بہرام نے پریشانی سے پوچھا۔آج زندگی میں پہلی بار اس نے سلیمان اور وردہ کے درمیان ان بن دیکھی تو پریشان ہو گیا۔سلیمان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا۔

“فرزام کہاں ہے؟”

“آپ کے پیچھے۔۔۔”

فرزام کی خفا سی آواز پر سلیمان نے مسکرا کر اپنا دوسرا ہاتھ فرزام کے سامنے کیا۔جسے فرزام نے تھام لیا۔

“آپ اور ماما لڑتے ہوئے بالکل اچھے نہیں لگتے آپ بس پیار سے رہا کریں۔۔۔”

فرزام کے آگاہ کرنے پر سلیمان نے مسکراتے ہوئے ان دونوں کو اپنے پاس بیٹھایا۔

“بابا جی جان تم تینوں ہی تو میری کل کائنات ہو۔۔۔”

سلیمان نے دونوں کا ماتھا چوم کر کہا۔

“بہرام فرزام میری بات بہت دھیان سے سننا آج میں آپ کو کچھ بہت ضروری بات بتانا چاہتا ہوں۔میں نہیں چاہتا کہ کل کو اگر آپ کو یہ بات کہیں اور سے پتہ چلے تو آپ مجھ سے بدگمان ہو جائیں اس لیے آج ہر بات میں آپ کو بتا دوں گا اس لیے میری بات بہت دھیان سے سننا۔”

دونوں کے ہاں میں سر ہلانے پر سلیمان نے اتنا بڑا سچ بتانے کے لیے اپنے اندر ہمت پیدا کی اور باردہ سال پہلے کا ہر واقعہ انہیں بتا دیا کہ کیسے وردہ کا نکاح الطاف حیدر بیگ سے ہوا تھا اور کیسے اسکے دغا دینے کے بعد وہ سلیمان کو ملی تھی۔

“اس کا مطلب آپ ہمارے اصلی بابا نہیں ہیں؟”

پوری بات سن کر فرزام نے پوچھا تو سلیمان نے کرب سے اپنی آنکھیں موند لیں اور انکار میں سر ہلا دیا۔

“نہیں بیٹا آپ دونوں کے اصلی بابا الطاف حیدر بیگ ہیں۔۔۔”

“نہیں آپ ہمارے بابا ہیں اور کوئی نہیں۔۔۔نہیں مانتا میں انہیں اپنا بابا۔۔۔”

فرزام نے بہت غصے سے کہا تو سلیمان اسے حیرت سے دیکھنے لگا لیکن دوسرے ہی پل بہرام سلیمان کے سینے سے لگ گیا۔

“مجھے فرق نہیں پڑتا بابا کہ ماما کی شادی پہلے ان سے ہوئی تھی اور آپ سے بعد میں میرے بابا ہمیشہ سے آپ تھے اور ہمیشہ آپ ہی رہیں گے۔۔۔”

اپنے بچوں کی یہ بے لوث محبت دیکھ کر سلیمان کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔اس نے بے ساختہ ان دونوں کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔

“جانتا ہوں میرا بچہ تم میں چاہے اسکا خون ہو لیکن تم میری اولاد ہو اور ہمیشہ رہو گے۔۔۔”

سلیمان ان دونوں کو اپنے سینے سے لگائے سکون سے آنکھیں موند گیا۔کاش وہ جانتا کہ یہ سکون بس دو پل کا ہی رہ گیا تھا۔
💞💞💞💞
(حال)
مناہل کار کی کھڑکی سے لگی اپنی آنکھیں حیرت سے کھولے ان برفیلے پہاڑوں کو دیکھ رہی تھی۔اسے لگا کہ اس دو گھنٹے کے سفر میں فرزام اسے ایک نئی دنیا میں کے آیا تھا۔

“اگر ان نظاروں کو دیکھ کر تم مجھے اس طرح سے اگنور کرنے والی ہو تو ہم ابھی واپس جا رہے ہیں۔۔۔”

فرزام کی آواز پر مناہل نے گھبرا کر ڈرائیو کرتے فرزام کو دیکھا کہ کہیں اسے سچ میں ہی واپس نہ لے جائے۔

“ننن۔۔۔نہیں میں آپ کو اگنور نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ببب۔۔۔۔بس یہ جگہ بہت پیاری ہے۔۔۔”

مناہل کے یوں گھبرا جانے پر فرزام نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“کتنی آسانی سے ڈر جاتی ہو تم میرا جنون تمہیں تو ڈرا کر کوئی بھی بات منوائی جا سکتی ہے۔۔۔۔”

مناہل نے اپنا سر شرمندگی سے جھکا لیا۔

“سوری ۔۔۔”

فرزام نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا تو مناہل نے گھبرا کر اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا لیکن اس کے ایسا کرنے سے پہلے ہی فرزام اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام چکا تھا۔

“مجھے ایک بات بتاؤ من کیا تم اپنی پوری زندگی یوں ڈر کر گزرنا چاہتی ہو یا اس دنیا کی خوبصورتی میں کھو کر خوشی سے گزارنا چاہتی ہو؟”

فرزام کے سوال پر مناہل اضطراب سے یہاں وہاں دیکھنے لگی۔

“بتاؤ من اپنی خواہش کیسے زندگی گزارنا چاہتی ہو تم؟”

فرزام کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ جواب جانے بغیر وہ اس کی جان نہیں چھوڑنے والا۔

“خوشی خوشی۔۔۔”

“تو خوش رہنے کے لیے تمہیں یہ ڈر بھگانا ہو گا۔۔۔”

مناہل کی آنکھیں اپنی بے بسی کو محسوس کرتے نم ہو چکی تھیں۔

“یہ میرے بس میں نہیں۔۔۔۔”

فرزام نے اپنی گہری نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“لیکن کوشش تو کرسکتی ہو ناں۔۔۔”

مناہل نے لاچارگی سے اسے دیکھا۔

“کیسے کروں کوشش؟”

“اف تمہاری قسمت فرزام خانزادہ ایسی بیوی ملی ہے جسے شروع سے ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔۔۔۔”

فرزام نے ایک نظر برفیلی سڑک کو دیکھا۔

“پہلا سٹیپ مجھ پر بھروسہ کرو اور یقین رکھو کے میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا۔۔۔کر سکتی ہو یہ؟”

فرزام کے سوال پر مناہل سوچ میں پڑ گئی۔کیا وہ ہر سکتی تھی اس شخص پر بھروسہ؟ہاں کر سکتی تھی کیونکہ کسی نے اسے زندگی میں اتنی اہمیت نہیں دی تھی جتنی فرزام خانزادہ اسے چند دنوں میں دے گیا تھا۔

“جی ۔۔۔۔”

فرزام کے گال پر ڈمپل نمایاں ہوا اور وہ خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا۔

“دوسرا سٹیپ کیا ہے؟”

اس کو مسلسل خاموش دیکھ کر مناہل نے پوچھا۔

“دوسرا سٹیپ؟دوسرا سٹیپ ہے ہی نہیں تم صرف مجھ پر بھروسہ کر کے مجھ سے ڈرنا اور کترانا چھوڑ دو باقی سٹیپس کو میں خود پورا کر لوں گا۔۔۔”

فرزام کی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر مناہل اپنا سر جھکا گئی۔

“مم ۔۔۔۔میں کوشش کروں گی۔۔۔۔آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گی ۔۔۔”

مناہل نے ایک اچھی بیوی کی طرح کہا۔

“اوہ اچھا کیا سچ میں میری ہر بات مانو گی؟”

مناہل نے ہاں میں سر ہلایا تو فرزام نے اچانک ہی سڑک کے کنارے پر کار روک دی اور اسکی جانب مڑا۔مناہل نے اسکی حرکت پر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“دین کس می۔۔۔”

فرزام کی ڈیمانڈ پر مناہل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“ججج۔۔۔۔جی؟”

“سنا تو ہے تم نے میرا جنون مجھے کس کرو۔۔۔”

مناہل کا روم روم کانپنے لگا اور وہ گھبرا کر کھڑکی کے ساتھ جا لگی اور انکار میں سر ہلانے لگی۔اسکی حرکت پر فرزام کی آنکھوں میں جنون اترا اور اس نے مناہل کو کھینچ کر اپنے قریب کر لیا۔

مناہل نے سہم کر اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں۔

“وعدہ کرو میرا جنون جسے میں پورا کرنے کی تمہارے نازک وجود میں طاقت ہو۔۔۔”

فرزام نے اپنے ہونٹ اسکی ناک پر رکھے اور اس سے دور ہو کر کار پھر سے سٹارٹ کر دی۔جبکہ مناہل اپنی سیٹ پر کانپتے ہوئے سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی۔

کچھ ہی دیر میں وہ دونوں کشمیری کونٹینینٹل ہوٹل پہنچے جہاں فرزام نے ان کے لیے روم بک کروایا تھا۔کمرے میں آ کر فرزام سامان رکھنے لگا اور مناہل کے قدم خود بخود کھڑکی کی جانب چل دیے جہاں سے برفیلے پہاڑوں کا منظر نظر آ رہا تھا۔

جب کھڑکی سے بھی وہ منظر دیکھ کر دل نہ بھرا تو اس نے بالکنی کا دروازا کھولا اور باہر آ کر ہر طرف دیکھنے لگی۔اس نے آج تک کچھ بھی اتنا حسین نہیں دیکھا تھا۔

سردی کی شدت سے مناہل نے کانپتے ہوئے اپنے ہاتھ اپنے گرد لپیٹے لیکن تب ہی کسی نے ایک گرم شال اس کے گرد لپیٹ دی اور جھک کر اسکے کان کے قریب ہوا۔

“بہت سردی ہے ناں یہاں۔۔۔شکر ہے ہم دونوں ساتھ آئیں ہیں ایک دوسرے کی باہوں میں چھپ کر سردی سے بچ جائیں گے۔۔۔۔”

فرزام کی سرگوشی پر مناہل کا رواں رواں کانپ گیا اور اس میں سردی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔

“ننن۔۔۔۔نہیں سردی لگے تو اچھا لگتا ہے مجھے۔۔۔”

مناہل کی معصومیت پر فرزام قہقہ لگا کر ہنس دیا اور اپنے ہونٹ اسکے بالوں پر رکھے۔

“آج آرام کر لو کل گھومنے چلیں گے۔۔۔”

اتنا کہہ کر فرزام واپس کمرے میں چلا گیا اور مناہل نے ہلکا سا مسکرا کر اپنے سامنے اس منظر کو دیکھتے ہوئے خود سے وعدہ کیا کہ وہ اب اس ڈر کے زیر اثر نہیں رہے گی۔

اسکے خدا نے فرزام جیسے آدمی کو اسے نعمت کے طور پر دیا تھا وہ بھی اپنا ہر خوف مٹانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔
💞💞💞💞
چاہت کالج سے آئی تو اسے پتہ چلا کہ فرزام اور مناہل گھومنے کے لیے مری گئے ہیں۔یہ جان کر ہی چاہت کا موڈ سخت آف ہوا تھا۔وہ پہلے ہی بہرام کے ڈانٹنے کی وجہ سے اس سے خفا تھی لیکن اسے اپنی ناراضگی دیکھا بھی تو نہیں سکتی تھی کیونکہ اسے تو بہرام کی نظر میں اچھا بننا تھا اور ایسا وہ ناراضگیاں دیکھا کر تو نہیں کر سکتی تھی۔

“بندہ اپنے بھائی سے ہی کچھ سیکھ لیتا ہے کتنے اچھے ہیں فرزام بھائی اتنا پیار کرتے ہیں مناہل سے اور ایک طرف خان جی ہیں آفس کی جان ہی نہیں چھوڑتے مجھے تو لگتا ہے انکا بزنس میری سوتن ہے۔۔۔”

خالہ جنہوں نے چاہت کو فرزام اور مناہل کے جانے کی خبر دی تھی اسکی بات پر ہنس دیں ۔

“ویسے خالہ ایسا کیا کیا جائے جو خان جی جیسے آدمی کو خوش کر دے۔۔۔۔؟”

چاہت کے دلچسپی سے پوچھنے پر خالہ سوچ میں پڑ گئیں۔

“بہرام صاحب جیسا کام سے کام رکھنے والا آدمی تو اچھا کام دیکھ کر ہی خوش ہوتا ہے۔۔۔۔”

چاہت نے ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھ کر سوچتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔

“تو کیا کروں ان کا روم صاف کر دوں؟یا کپڑے دھو دوں؟”

اس بچی کی معصومیت پر خالہ مسکرا دیں اور اس کے سامنے دوپہر کا کھانا رکھا۔

“یہ سب کام کرنے کے لیے انہوں نے بہت سے ملازم رکھے ہیں اگر اپنی بیوی کو کرتے دیکھیں گے تو غصہ ہوں گے۔۔۔”

چاہت کو انکی بات میں حکمت نظر آئی۔

“تو کھانا بنا لیتی ہوں کھانا تو ہر بیوی بناتی ہے اپنے شوہر کے لیے۔۔۔”

“ہاں یہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔”

چاہت خوشی سے اچھل کر کرسی سے اتری۔

“تو چھوڑیں یہ کھانا وانا میری ہیلپ کریں آج خان جی کی پسند کا کھانا بنائیں گے۔۔۔۔”

“لیکن چاہت بیٹا آپ کا کھانا۔۔۔۔”

“چھوڑیں خالہ خان جی کو اپنے ہاتھ کا بنا کھانا کھلاؤں گی تو خود ہی پیٹ بھر جائے گا۔۔۔”

چاہت نے دلچسپی سے کہا اور خالہ کے ساتھ مل کر تین گھنٹے کی مشقت کے بعد وہ بہرام کی پسند کا کھانا بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

“اب میں بھی جلدی جلدی تیار ہو جاتی ہوں۔۔۔”

ہر چیز کو میز پر اچھی طرح سے سجانے کے بعد چاہت نے مسکرا کر کہا اور کمرے میں تیار ہونے چلی گئی۔

اس نے ایک کالے رنگ کا فراک نکالا جو اسکے پیروں تک آتا تھا۔اس فراک کا گھیر تو کافی کھلا تھا لیکن اوپر سے وہ کافی فٹنگ میں تھا جس کی وجہ سے وہ پہن کر چاہت کا حسن مزید بڑھ گیا۔

چاہت نے میچنگ کالا دوپٹہ اپنے گلے میں ڈالا اور لال رنگ کی گرم شال اپنے بازؤں پر ڈال لی۔بالوں میں ہلکا سا کیچر لگا کر انہیں کمر پر بکھیر دیا اور حسب معمول آنکھوں میں گہرا کاجل اور ہونٹوں کو گلابی گلوز سے سجا کر وہ مسکراتے ہوئے ڈائنگ ہال میں آ گئی جہاں خالہ کھانا گرم کر کے رکھ رہی تھیں۔

“اب آپ جا کر آرام کر لیں خالہ میں سب کر لوں گی۔۔۔”

خالہ نے ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئیں۔چاہت مسکراتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھ کر بہرام کا انتظار کرنے لگی۔تقریبا دس منٹ بعد بہرام ہال میں داخل ہوا تو نظر چاہت پر پڑی جو ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھے گھڑی کو دیکھ رہی تھی۔

اسکے سر سے دوپٹہ اترا دیکھ کر بہرام نے فورا اپنے پیچھے آتے ملازم کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔

“اسلام و علیکم۔۔۔”

بہرام کی آواز پر چاہت جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

“و علیکم السلام خان جی اتنی دیر کر دی آپ نے میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی۔”

چاہت مسکراتے ہوئے اسکے پاس آئی اور اسکے پیچھے جا کر کھڑی ہو گئی۔بہرام نے سر گھما کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“آپ کا کوٹ۔۔۔یہاں ہیٹر چل رہا ہے تو سوچا کوٹ اتارنے میں آپ کی ہیلپ کر دوں۔۔۔”

بہرام نے سوچا کہ اس سے کہے کہ وہ اپنا کام خود کر سکتا ہے لیکن اسکے چہرے پر امید دیکھ کر اس نے ہاں میں سر ہلایا۔چاہت انتہائی خوشی سے آگے ہوئی اور اسکا کوٹ اتار کر صوفے پر رکھ دیا۔

“چلیں کھانا کھاتے ہیں۔۔۔”

بہرام اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرتا ٹیبل تک آیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔چاہت نے فوراً اسکے سامنے پڑی پلیٹ میں بریانی ڈالی اور اسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔

“کیسی بنی ہے؟میں نے پہلی بار بنائی ہے۔۔۔”

بہرام کے پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی چاہت نے بہت امید سے پوچھا۔

“اچھی بنی ہے۔۔۔”

اتنی سی بات پر چاہت کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔

“تو باقی چیزیں بھی ٹرائے کریں سب میں نے بنایا ہے۔۔۔ویسے خالہ نے بھی ہیلپ کی لیکن بنایا میں نے ہے۔۔۔”

چاہت نے کباب کی پلیٹ سامنے کرتے ہوئے کہا تو بہرام کی نظر اسکی کلائی پر پڑی جہاں ایک سرخ نشان تھا۔بہرام نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اس سے پلیٹ لے کر سائیڈ پر رکھ دی۔

“یہ کیا ہوا؟”

“وہ کباب فرائی کر رہی تھی تو تھوڑا سا جل گیا۔۔۔”

وہ زخم دیکھ کر بہرام کی آنکھوں میں غصہ اترا۔

“آج کے بعد تم کچن میں نہیں جاؤ گی جب تک تم ٹھیک سے کام کرنا نہیں سیکھ لیتی۔۔۔”

“لیکن خان جی۔۔۔”

“میں نے کیا کہا ہے چاہت؟آگے سے آرگیو مت کیا کرو۔۔۔”

چاہت نے اپنا سر جھکا کر ہاں میں سر ہلایا تو بہرام نے اسکا ہاتھ چھوڑا اور اسے کھانا کھانے کا اشارہ کیا۔چاہت خاموشی سے کھانا کھانے لگی لیکن بہرام کی فکر مندی کا سوچ کر وہ دل ہی دل میں مسکرائی تھی اور اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ اس کی اسی فکر مندی کو آزمائے گی کیونکہ شائید اس فکرمندی کے پیچھے وہ محبت چھپی تھی جسے چاہت تلاش کرنا چاہ رہی تھی۔
💞💞💞💞
مناہل کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو کسی کی آغوش میں پایا۔پہلے تو مناہل کا سانس گھبراہٹ کے مارے رک گیا۔اسے یاد آیا کہ رات کو تھکاوٹ کی وجہ سے وہ کھانا کھاتے ہی سو گئی تھی لیکن سوتے ہوئے تو اس کے پاس کوئی نہیں تھا۔

مناہل نے اپنی پلکیں اٹھائیں تو نظر فرزام ہر پڑی جو اسے آغوش میں بھر کر پر سکون نیند سویا ہوا تھا۔اسکے ماتھے پر بکھرے بال اور چہرے پر وہ سکون اسے مزید دلکش بنانے کے لیے کافی تھا۔

مناہل کو تو ابھی تک اپنی قسمت پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ خوبرو سا شخص اس کا تھا جسے کبھی نا پاک ہونے کا کہا گیا تھا۔اسے اس وجہ سے غلیظ کہا گیا جس میں اسکا کوئی قصور ہی نہیں تھا۔

“ان آنکھوں کی گستاخیوں کو کنٹرول کر میرا جنون مجھے گستاخی پر مجبور کر رہی ہیں یہ۔۔۔”

فرزام کی نیند سے بوجھل آواز پر مناہل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور خوبصورت گال گلابی ہو گئے۔

“آ۔۔۔۔آپ جاگ رہے ہیں؟”

“ایسے نہار کر دیکھو گی تو کس کمبخت کو نیند آئے گی۔۔۔”

مناہل نے اپنا سر جھکا لیا اور اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔

“ممم۔۔۔۔مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔”

“اور اگر میں نہ جانے دوں تو؟”

فرزام نے اسے مزید اپنے قریب کرتے ہوئے چیلنج کیا۔

“پلیز فرزام۔۔۔۔۔”

مناہل نے آنکھیں میچ کر کہا تو فرزام نے فوراً اسے چھوڑ دیا۔

“اتنے پیار سے کہو گی تو کون نہیں مانے گا۔۔۔”

مناہل فوراً اٹھ کر واش روم میں بند ہو گئی۔

“جلدی تیار ہو جاؤ میرا جنون پھر تمہیں مری کی خوبصورتی دیکھاتا ہوں۔۔۔”

فرزام کی آواز پر مناہل نے اپنا ہاتھ تیزی سے دھڑکتے دل پر رکھا۔کیا تھا وہ شخص جو اسکے قریب ہو کر اسکی سانسوں کو بھی روک دیتا تھا پھر بھی صرف وہ ایک ہی تھا جس کا لمس مناہل برداشت کر پاتی تھی۔

مناہل فریش ہو کر باہر آئی تو فرزام واش روم میں چلا گیا۔مناہل نے شکر کا سانس لیا اور جلدی سے چینج کرکے فرزام کا انتظار کرنے لگی۔

فرزام باہر آیا تو مناہل سفید شلوار قمیض پر کالی گرم چادر اوڑھے اسکا انتظار کر رہی تھی۔

“تمہارے حسن کے سامنے ماند پڑ گیا ہر رنگ
بے رنگ کو بھی تم نے خود پر ناز کرنا سیکھا دیا۔۔۔۔”

فرزام کی آواز پر مناہل خود میں ہی سمٹ گئی تو فرزام مسکرایا اور اسے لے کر ہوٹل کے ڈائینگ ایریا میں آ گیا۔ناشتے کے بعد فرزام نے اسے کافی گرم جیکٹ،ٹوپی اور گلوز پہنائے اور اپنے ساتھ گاڑی میں لے آیا۔

نہ جانے وہ اسے کہاں لے جا رہا تھا لیکن پورا راستہ وہ مناہل سے باتیں کرتا رہا تھا۔مناہل کو لگا تھا جیسے وہ اسکے لیے سب سے زیادہ قیمتی ہو اور یہ احساس مناہل کو ایک نئی زندگی دے گیا تھا۔

سب سے پہلے فرزام اسے پتریاٹہ لے کر گیا جہاں اس نے مناہل کو کیبل کار سے خوبصورت پہاڑوں کے نظارے کروائے۔اس سفید موتیوں جیسی خوبصورتی کو دیکھ کر مناہل کھو سی گئی تھی۔ایسے لگتا تھا جیسے بادل زمین پر آ گئے ہوں۔

پھر وہ اسے کشمیر پوائنٹ لایا جہاں کی اونچائی سے پورا مری دیکھا جا سکتا تھا۔ابھی بھی مناہل فرزام کے ساتھ ریلنگ کے پاس کھڑی اس حسین نظارے کو دیکھ رہی تھی جب چند لڑکیاں ان دونوں کے پاس آئیں۔

“آپ فرزام خانزادہ ہیں ناں؟”

ایک لڑکی کی آواز پر مناہل اور فرزام نے ان چار لڑکیوں کو دیکھا جو پینٹ شرٹ پر جیکٹ پہنے کھلے بالوں کے ساتھ کافی سٹائلش لگ رہی تھیں ۔

“میں آپ کو انسٹا ہر فالو کرتی ہوں اور آپکی ہر پکچر کو لائک کرتی ہوں ہو آر جسٹ ٹو مچ گارجس ۔۔”

ایک لڑکی نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا اور اسکی وہ مسکراہٹ مناہل کو بالکل اچھی نہیں لگی تھی اسکا دل کیا کہ فرزام کو ان سے بہت دور لے جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ فرزام کو اس سے چھین لیں۔

“کین آئی ٹیک آ سیلفی ود یو؟”

ایک لڑکی نے پوچھا تو فرزام نے ہاں میں سر ہلایا اور ان کے ساتھ تصویریں لینے لگا۔مناہل پہلے تو انہیں چبھتی نگاہوں سے دیکھنے لگی پھر اپنے آنسوؤں پر ضبط کرتی وہاں سے چلی گئی۔

ان لڑکیوں کے جانے پر فرزام نے مڑ کر مناہل کی طرف دیکھا لیکن اسے وہاں نہ پا کر اسکا دل ایک دم گھبرایا۔

“من؟”

فرزام نے بھاگتے ہوئے یہاں وہاں دیکھا لیکن اسے مناہل کہیں نظر نہیں آئی تو اسکی بے چینی مزید بڑھ گئی۔اس سب پر مناہل کے پاس موبائل بھی نہیں تھا اور اب فرزام کو اسے موبائل نہ دلوانے پر حد سے زیادہ غصہ آ رہا تھا۔

فرزام پاگلوں کی طرح اسے یہاں وہاں ڈھونڈتا رہا۔دل تھا کہ اسکی پل بھر کی دوری میں بند ہونے کو چلا تھا۔فرزام نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی لڑکی اس کے لیے اس قدر اہم ہو جائے گی۔

تبھی اناونسمنٹ ہونے لگی کہ کچھ دیر میں ہیوی سنو فال شروع ہو رہا ہے تو سب اپنے ہوٹلز میں واپس چلے جائیں۔

یہ اناؤنسمینٹ فرزام کی پریشانی مزید بڑھا گئی۔اس سے پہلے کہ وہ مناہل کا نام پاگلوں کی طرح چلانا شروع کر دیتا اسے مناہل ایک برفیلے درخت کے نیچے کھڑی نظر آئی تو غصے سے اسکی جانب گیا اور اسکا رخ اپنی طرف کر کے سختی سے اسے بازوں سے پکڑا۔

“کیوں گئی تم مجھ سے دور من؟بولو ہمت کیسے ہوئی تمہاری مجھ سے دور جانے کی؟”

فرزام کے غصے اور اپنے بازؤں پر اسکی سختی محسوس کر کے مناہل بہت زیادہ ڈر گئی۔تب سے بہتے آنسو خوف کے مارے آنکھوں میں ہی جم گئے۔

“بولو۔۔۔۔”

فرزام کے چلانے پر مناہل خوف سے اچھل پڑی اور تھر تھر کانپتے ہوئے بولی۔

“آ ۔۔۔۔آپ ان لڑکیوں کے ساتھ تھے تو مجھے لگا کہ آپ کو میری ضرورت نہیں۔۔۔ممم۔۔۔۔۔میں ویسے بھی تو آپ کے قابل نہیں ناں آپ کے لیے تو ان جیسی کوئی لڑکی۔۔۔”

اچانک ہی فرزام نے مناہل کو سختی سے اپنے سینے میں بھینچ لیا تو مناہل کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اسکا سانس بھی حلق میں اٹک گیا۔

“وعدہ کرتا ہوں من بات کرنا تو دور آج کے بعد یہ نظریں بھی کسی اور کی جانب نہیں اٹھیں گی۔۔۔”

مناہل کی آنکھوں سے آنسو پھر سے بہنے لگے۔وہ بس ایک بت بنی فرزام کی باہوں میں کھڑی تھی۔

“اور ایسا کبھی مت سوچنا کہ تم میرے قابل نہیں اگر اس دنیا میں فرزام کے لیے کوئی اہمیت رکھتا ہے تو صرف اور صرف اسکی من۔۔۔”

فرزام نے انتہائی جنون سے کہا اور اسکا گھیرا مناہل کے گرد مزید تنگ ہو گیا۔

“ہائے یار کاش کوئی میرے ساتھ بھی ایسا ہوتا جو اس ٹھنڈ میں ایسے ہی آغوش میں لے کر سردی بھگا دیتا۔۔۔۔”

ایک لڑکی نے ان دونوں کر دیکھ کر کہا تو اس کے ساتھ موجود باقی لڑکیاں ہوٹنگ کرنے لگیں۔جبکہ انکی بات پر مناہل کو اپنی کیفیت کا اندازہ ہوا تو شرم سے گلابی ہوتا چہرہ فرزام کے سینے میں چھپا گئی۔

“فرزام واپس چلیں پلیز ۔۔۔۔؟”

فرزام نے اسکے ماتھے پر ہونٹ رکھے اور اسے اپنے ساتھ لگاتا ہوا وہاں سے جانے لگا تا کہ وہاں موجود پر لڑکی کو اندازہ ہو جائے کہ وہ صرف اپنی من کا تھا بالکل جیسے مناہل صرف اسکی تھی۔
💞💞💞💞
الطاف آج اپنے آفس واپس آیا تھا۔اتنے دنوں سے اپنی بہن کے آنسوؤں نے اسکے اندر پلتے غصے اور نفرت کو ہوا دی تھی اور وہ اب بس فرزام خانزادہ کو برباد کرنا چاہتا تھا۔

بالکل جیسے فرزام نے اس سے اسکی آدھی طاقت فیض کو چھینا تھا وہ فرزام سے اسکی آدھی طاقت،اسکے بھائی بہرام کو چھیننا چاہتا تھا ۔

لیکن یہ کام اتنا آسان بھی نہیں تھا۔بہرام پر ہاتھ ڈالنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں تھا دوسری طرف وہ کچھ ایسا بھی نہیں کر سکتا تھا جس سے فرزام کی جان کو خطرہ ہوتا کیونکہ ایسا کر کے اسکا ہر پلین فیل ہو جاتا۔

اچانک ہی فون بجنے کی آواز پر الطاف کا دھیان میز پڑے فون پر گیا۔اس نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔

“ہیلو الطاف صاحب میں گلفام بات کر رہا ہوں ۔۔۔”

الطاف کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔گلفام کو الطاف نے بہرام کی جاسوسی پر لگایا تھا جو کچھ دنوں سے بہرام کا ایک گارڈ بن کر اس پر نظر رکھ رہا تھا۔

“ہاں کہو کیا خبر ہے؟”

“خبر اچھی نہیں ہے صاحب مجھے پتہ لگا ہے کہ۔۔۔”

گلفام رک گیا تو الطاف کو بے چینی ہونے لگی۔

“بکو بھی۔۔۔”

“بہرام خانزادہ نے شادی کر لی ہے وہ بھی اسی دن جس دن اس کا نکاح آپ کی بھتیجی سے ہونا تھا۔۔۔۔”

یہ سن کر الطاف کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔یعنی اس دن اس لیے بہرام خانزادہ وہ نکاح چھوڑ کر گیا تھا۔

“کون ہے وہ لڑکی؟”

“سلیمان خانزادہ کے ایک باڈی گارڈ عباس کی بیٹی چاہت عباس۔”

چاہت کا نام سن کر ایک زہریلی مسکراہٹ الطاف کے ہونٹوں پر آئی۔اسے اپنی جیت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگی تھی۔

“اب بتائیں صاحب آگے کیا کرنا ہے؟”

الطاف کے دماغ میں کئی شیطانی منصوبے چلنے لگے۔

“کچھ زیادہ نہیں بس مجھے چاہت عباس بلکہ چاہت خانزادہ سے ملنا ہے ایسا کچھ ہے جو اسے بتانا بہت ضروری ہے۔۔۔”

الطاف نے اپنے سامنے موجود پیپر ویٹ کو گھماتے ہوئے کہا۔

“لیکن یہ نا ممکن ہے صاحب بہرام اسے ایک پل کے لیے اکیلا نہیں چھوڑتا یا تو وہ بہرام کے ساتھ ہوتی ہے یا اسکے وفادار رشید کے ساتھ اور ایسے میں اس پر ہاتھ ڈالنا موت کو گلے لگانا ہے۔۔۔۔۔”

الطاف کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی یعنی کے چاہت بہرام کے لیے بہت زیادہ خاص تھی تب تو چاہت کی نفرت بہرام کے لیے بہت تکلیف دہ ہونی تھی۔

“تو ٹھیک ہے فلحال صبر کرو بہرام خانزادہ کو دو پل زندگی کے جی لینے دو کیونکہ بعد میں جو اسکے ساتھ ہو گا اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا۔۔۔”

الطاف کے چہرے پر انتہائی زیادہ خطرناک مسکراہٹ تھی۔

“تب تک میں کیا کروں صاحب؟”

گلفام نے پوچھا۔

“چاہت پر نظر رکھو اور پتہ لگاؤ کہ کس طرح اس سے ملاقات ہو سکتی ہے کہ اس ملاقات کی خبر بہرام کو نہ ہو۔۔۔”

گلفام جی صاحب کہہ کر فون بند کر گیا۔

“دیکھنا فرزام خانزادہ ایسی مار ماروں گا تمہارے بھائی کو کہ تم میرے خلاف کچھ کرنا تو دور مجھ پر شک بھی نہیں کر پاؤ گے۔ پھر ایک مرتبہ تمہاری اور مناہل کی اولاد ہو گئی تو تمہارا پتہ بھی صاف کر دوں گا تب تک جی لو جتنا جینا ہے۔۔۔”

الطاف نے دانت پیس کر کہا اور اپنے شیطانی منصبوں پر مسکرانے لگا۔ایک مرتبہ پھر سے وہ کسی کی زندگی ایسے اجاڑنے والا تھا کہ اس پر کوئی الزام بھی نہیں آتا۔