Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065

Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Last updated: 9 December 2025

[favorite_button post_id="16159"]
46,411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon By Harram Shah

Novel code: NovelM80065

"حق کے لین دین کے قابل ہو تم ابھی جو اسکی بات کر رہی ہو؟"
نہ جانے بہرام کے انداز میں ایسا کیا تھا کہ چاہت کا روم روم کانپ اٹھا۔بہرام کی یہ قربت اسکی سانسیں تک اسکے سینے میں روک چکی تھی۔
"اس کمرے میں رہنا تمہارا حق نہیں چاہت خانزادہ فرض ہے لیکن تم اپنا فرض نبھانے کے قابل نہیں۔۔۔"
بہرام اسکے مزید قریب ہوا۔اسکی باہوں میں ایک نازک سا وجود اور اس کی دلنشین خوشبو بہرام کو بے خود کر رہی تھی۔اسی بے خودی کے تحت بہرام نے اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپایا۔چاہت نے سہم کر اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں آج پہلی بار اسے اپنے خان جی سے ڈر لگ رہا تھا۔
"چلی جاؤ یہاں سے چاہت اس سے پہلے کہ کچھ ایسا کر گزروں جس کے بعد ہم دونوں کو پچھتاوا ہو۔۔۔جسٹ گو۔۔۔۔"
بہرام نے اسکے کان کے قریب سر گوشی کی اور اچانک ہی اس سے دور ہوا تو چاہت زور زور سے سانس لے کر اسے دیکھنے لگی۔گھبراہٹ سے نازک وجود کانپنے لگا تھا۔
"تو کیا آپ نے مجھے معاف کر دیا۔۔۔؟"
چاہت نے اسکی کمر کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
"تمہیں سب دے سکتا ہوں چاہت معافی،تحفظ،سہولت۔۔۔۔نہیں دے سکتا تو محبت ہی نہیں دے سکتا اس لیے اس کے بغیر جینے کی عادت ڈال لو۔۔۔۔"
بہرام نے بغیر پلٹے کہا اور اسی لیے چاہت کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکا۔
"تمہاری سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی تھی میری بیوی بن کر۔۔۔اب جب تمہیں میری محبت نہیں ملے گی تب تمہیں اندازہ ہو گا کہ خود پر کیا ظلم کر بیٹھی ہو۔۔۔کیونکہ بہرام خان زادہ محبت کرنے کے قابل ہی نہیں۔۔۔"
اچانک ہی بہرام اس کی طرف مڑا اور اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
"لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا تم اب صرف میری ہو نہ تم پر کسی کی نگاہ برداشت کروں گا اور نہ تمہاری نگاہ کسی اور پر۔۔۔"
بہرام نے بہت زیادہ جنون سے کہا۔
"اب ساری زندگی ایک سمجھوتے کے تحت گزار دو۔۔۔بالکل جیسے میں گزارنے والا ہوں۔۔۔"
چاہت مسلسل روتے ہوئے اسکی بات سن رہی تھی وہ اس سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن بہرام نے اسے بولنے کا موقع ہی کہاں دیا تھا۔
"چلی جاؤں یہاں سے چاہت۔۔۔"
بہرام نے اسے حکم دیا تو نہ چاہتے ہوئے بھی چاہت کمرے سے باہر آ گئی۔اپنے کمرے میں واپس آکر وہ کتنی ہی دیر بیڈ کے پاس بیٹھ کر روتی رہی تھی لیکن اس نے خود سے ایک وعدہ کیا کہ وہ اپنے شوہر کو خود کو چاہنے پر مجبور کر دے گی پھر چاہے اس کے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔۔۔

Complete Novel Download link AVAILABLE