Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 19)
Kaif E Junoon (Episode 19)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
بہرام کو پورے تین دن کے بعد ہوش آیا تھا اور آنکھیں کھولتے ہیں اس کی پہلی نظر فرزام پر پڑی جو اس کے پاس بیٹھا اسے غصے سے گھور رہا تھا۔
“ایک مرتبہ ٹھیک ہو جاؤ بس پھر دیکھنا ہاتھ پیر توڑ کر واپس یہیں ڈال دوں گا۔۔۔۔”
فرزام کی آواز پر بہرام نے مردہ آنکھوں سے اسے دیکھا پھر نظریں گھما کر پورے کمرے کو۔
“کسے ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔۔؟”
فرزام اٹھ کر اسکے پاس آیا اور اسکا ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا۔بہرام کو لگ رہا تھا جیسے کہ اسکے حلق میں کانٹے اگ آئے ہوں اسے سانس لینے سے بھی تکلیف ہو رہی تھی۔
“چاہت۔۔۔۔وہ کہاں ہے۔۔۔؟”
بہرام کی زبان پر چاہت کا نام سن کر ہی فرزام کا پارہ ہائی ہو چکا تھا۔
“اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی تمہیں اس کی فکر ہے شاید تم جانتے نہیں بہرام لیکن تمہیں زہر دینے والا کوئی اور نہیں چاہت ہی تھی۔۔۔۔”
بہرام نے اپنی آنکھیں موند کر گہرا سانس لیا اور جسم میں اٹھتی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔
“جانتا ہوں۔۔۔”
فرزام نے حیرت سے بہرام کو دیکھا۔
“وہ کہاں ہے فرزام ۔۔۔۔تم نے اسے کچھ کہا تو نہیں۔۔۔ ؟”
بہرام کے سوال پر فرزام غصے سے اٹھا اور ٹانگ پاس پڑے سٹول کو ماری۔
“وہ با حفاظت اماں جی کے پاس ہے۔۔۔۔صرف تمہاری وجہ سے میں نے اسے کچھ نہیں کہا بہرام ورنہ میرا بس چلتا تو اس پاگل لڑکی کی جان لے لیتا۔۔۔۔۔”
بہرام نے گہرا سانس لیا۔
“خیر سزا تو اسکی بنتی ہے۔۔۔اب جب تم ہوش میں آ گئے ہو تو یہ کام کر دو میں نہیں چاہتا کہ اس میں زیادہ دیر ہو۔۔۔۔”
بہرام نے سوالیہ نظروں سے فرزام کو دیکھا تو فرزام نے ایک میز پر پڑے پیپرز اٹھا کر بہرام کے سامنے کیے۔
“ان پر سائن کرو اور قصہ یہیں ختم کرو۔۔۔۔۔”
بہرام نے ایک آنکھیں سکیڑ کر فرزام کو دیکھا اور وہ پیپرز کانپتے ہاتھ میں تھام کر دیکھا۔چاہت کے نام وہ طلاق کے کاغذات دیکھ کر بہرام کی پکڑ ان پیپرز کے گرد حد سے زیادہ مظبوط ہو گئی۔
“یہ فیصلہ کرنے والے تم کون ہوتے ہو فرزام خانزادہ۔۔۔تم نے سوچا بھی کیسے کہ میں چاہت کو چھوڑ دونگا ۔۔۔۔”
بہرام نے وحشت سے بھری تکلیف دہ آواز میں کہا اور ان پیپرز کو پھاڑ کر فرش پر پھینک دیا۔
“بہرام وہ اسی قابل۔۔۔”
“اگر اسکی جگہ مناہل اور میری جگہ تم ہوتے تو کیا چھوڑ پاتے اسے۔۔۔۔۔”
بہرام نے فرزام کی بات کاٹ کر کہا۔اتنی سی بات کرنے سے ہی بہرام کا سانس بری طرح سے پھول چکا تھا۔
“میری من اتنی بیوقوف نہیں ہے تو اس بات کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔۔۔۔”
فرزام نے سنجیدگی سے کہا اور بہرام کے پاس آ کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
“میں بس اتنا جانتا ہوں میرے بھائی جو اس نے تمہارے ساتھ کیا میں اسے اس کے لئے کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔”
بہرام نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
“وہ تمہاری مرضی ہے۔۔۔۔لیکن تم اسے سزا دینے کا حق نہیں رکھتے۔۔۔اسے جو بھی سزا دینی ہے میں خود دے لوں گا۔۔۔”
اتنا کہہ کر بہرام پھر سے اپنی آنکھیں موند گیا اور ڈاکٹر کو کمرے میں آتا دیکھ فرزام بھی خاموش ہو گیا۔بہرام صحیح کہہ رہا تھا چاہت اس کی مجرم تھی اور اس کو سزا دینے کا حق صرف بہرام کو حاصل تھا۔
💞💞💞💞
سکینہ ٹرے میں کھانا لے کر کمرے میں آئی تو چاہت ہمیشہ کی طرح بیڈ پر گم سم سی گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی۔ایک ہفتہ ہو چکا تھا چاہت کو یہاں آئے اور اس ہفتے میں وہ نہ تو کچھ بولتی تھی اور نہ ہی اسے دنیا جہان کی کوئی پروا تھی۔
بس ایک جگہ پر یوں ہی گم سم بیٹھی رہتی۔اگر سکینہ اسے کھانا کھلا دیتیں تو وہ کھا لیتی ورنہ خود تو اسے اس کی بھی کوئی پروا نہیں تھی۔پہلے پہل تو سکینہ اس سے کوئی بات بھی نہیں کرتی تھیں لیکن کب تک اپنی اولاد کی یہ حالت دیکھ کر اس ماں کا دل پھٹنے کو ہوتا تھا۔سکینہ چاہت کے پاس آئیں اور کھانا اس کے سامنے رکھا۔
“چاہت چلو کھانا کھاؤ۔۔۔۔”
سکینہ ایک نوالا توڑ کر اسکے منہ کے پاس لے گئیں لیکن اب تو چاہت نے کھانا کھانے کے لیے منہ بھی نہیں کھولا تھا۔
“چاہت تنگ نہیں کرو کھانا کھا لو۔۔۔”
سکینہ نے مصنوعی سختی سے کہا لیکن پھر اسکی اس حالت پر اسے اپنے گلے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔
“بس کرو چاہت بس کر دو مزید ستم نہ ڈھاؤ خود پر۔۔۔۔”
سکینہ نے روتے ہوئے کہا لیکن چاہت ابھی بھی مردہ حالت میں انکے گلے لگی تھی۔سکینہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں پھر کچھ سوچ کر انہوں نے چاہت کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اسکی مردہ آنکھوں میں جھانکا۔
“وہ ٹھیک ہے چاہت۔۔۔۔بالکل ٹھیک ہے ابھی فرزام سے بات ہوئی میری کچھ دنوں میں وہ ڈسچارج ہو جائے گا۔۔۔۔”
سکینہ کی بات پر چاہت نے بے یقینی سے انہیں دیکھا جیسے کہ انکی بات پر یقین نہ ہو۔
“قسم کھا کر کہتی ہوں چاہت وہ بالکل ٹھیک ہے۔۔۔”
اب کی بار دو آنسو چاہت کی آنکھوں سے بہے اور اس نے اپنا سر سکینہ کی گود میں رکھا اور سسک سسک کر رونے لگی۔اسے اتنی زیادہ تکلیف سے روتا دیکھ سکینہ کا دل دہل گیا۔
“چاہت بس کر دو۔۔۔۔”
سکینہ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا لیکن چاہت تو شائید اپنے دل کا ہر غبار رو کر نکال دینا چاہتی تھی۔
“کاش میں مر جاؤں اماں۔۔۔۔کاش میں مر جاؤں۔۔۔ “
چاہت کی بات پر سکینہ نے روتے ہوئے انکار میں سر ہلایا۔
“یہ زندگی بہت دردناک لگ رہی ہے اماں۔۔۔میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی۔۔۔۔آپ دعا کریں میں مر جاؤں۔۔۔کاش میں مر جاؤں۔۔۔”
سکینہ نے اسکا سر اپنی گود سے ہٹایا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
“بس کر دو چاہت۔۔۔یوں مرنے کی دعائیں کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔۔”
سکینہ نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“تو کیا کروں میں اماں۔۔۔۔یہ بوجھ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔”
چاہت انکے سینے میں چہرہ چھپا کر سسک اٹھی۔
“تو اپنے سکون کے لیے دعا کرو۔۔۔۔اپنا اطمینان مانگو رب سے وہ بخشنے والا مہربان ہے۔۔۔۔”
چاہت نے سکینہ کے سینے سے سر نکالا اور آنسوؤں سے تر آنکھوں سے سکینہ کو دیکھنے لگی۔
“آپ کو کیا لگتا ہے جو میں نے کیا اس کے بعد اللہ تعالٰی مجھے معاف کر دیں گے۔۔۔۔؟”
سکینہ نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھ میں تھاما۔
“میں تمہیں معاف کر سکتی ہوں ناں کیونکہ میں ماں ہوں مجھ سے زیادہ تمہیں کوئی محبت نہیں کر سکتا مگر وہ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے پھر کیوں معاف نہیں کرے گا تمہیں۔۔۔۔”
چاہت نے اپنی نظریں جھکائیں بہت سے آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے۔
“لیکن میرا مجازی خدا ہی مجھ سے ناراض ہے اماں جو ان کے ساتھ میں نے کیا اس کے بعد تو خدا بھی مجھے معاف نہیں کرے گا اماں کبھی نہیں کرے گا۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر چاہت نے اپنا چہرہ اپنے گھٹنوں میں چھپا لیا اور سسک سسک کر رونے لگی۔سکینہ اس کے پاس بیٹھی اسے بے بسی سے دیکھ رہی تھیں وہ چاہ کر بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تھیں یہ آگ چاہت کی خود کی لگائی تھی اور اب اسے ساری عمر اس میں جلنا تھا۔
💞💞💞💞
مزید دو دنوں کے بعد بہرام کو ڈسچارج کر دیا گیا اور فرزام اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا۔یہ سارا وقت ہاسپٹل میں رہ کر بہرام مزید خاموش ہو چکا تھا۔ضرورت سے زیادہ وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا اور فرزام اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ جو چاہت نے اس کے ساتھ کیا وہ بہرام کو مکمل طور پر گھائل کر چکا تھا۔
اسکے جسم کے زخم تو شائید بھر جاتے لیکن تکلیف دہ تو دل پر لگے زخم تھے جو چاہت کی بے وفائی سے لگے تھے۔
“تم بتاؤ کچھ چاہیے؟”
فرزام نے ایک تکیہ بہرام کے پیچھے رکھتے ہوئے پوچھا تو بہرام نے انکار میں سر ہلایا۔
“بس مجھے کوئی ڈسٹرب مت کرے اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
فرزام نے گہرا سانس لے کر اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔بہرام نے اپنی آنکھیں موند لیں اور کرب سے وہ پل یاد کرنے لگا جب چاہت اسکے لیے وہ چائے لے کر آئی تھی۔
اسے یہ بھولنے میں شائید ساری زندگی لگ جاتی کہ اسکی چاہت نے اسکی جان لینا چاہی تھی۔اسے لگا تھا کہ سچ جان کر چاہت اس سے نفرت کرے گی لیکن اس نے نہیں سوچا تھا کہ وہ نفرت اس قدر زیادہ ہو گی۔
دو آنسو بہرام کی پلکوں پر ٹھہر سے گئے۔پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور الماری کے پاس آیا۔اسکی الماری میں ابھی بھی چاہت کے کپڑے ویسے ہی پڑے تھے۔
انہیں چھوتے ہوئے بہرام کو شدت سے چاہت کی یاد آئی۔دل کہہ رہا تھا کہ ابھی سکینہ کے پاس جائے اور اسے یہاں کے آئے لیکن وہ تو بہرام سے نفرت کرتی تھی۔
بے تحاشا نفرت۔
بہرام نے اس الماری کو بند کیا اور خاموشی سے آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔اس کمرے سے جڑی چاہت کی ہر یاد بہرام کے دل کو کرب میں مبتلا کر رہی تھی۔
بہت سوچنے کے بعد اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا اپنا فون اٹھایا اور سکینہ کا نمبر ڈائل کیا۔
“اسلام و علیکم بہرام بیٹا۔۔۔”
سکینہ نے بہت زیادہ محبت سے کہا۔
“و علیکم السلام۔۔۔۔”
بہرام نے سنجیدگی سے جواب دیا جبکہ دل بہت زیادہ بے چین ہو رہا تھا۔
“کیسے ہو بیٹا؟”
سکینہ بیگم کی آواز میں شرمندگی صاف چھلک رہی تھی۔
“میں ٹھیک اماں جو وہ۔۔۔۔”
بہرام جو بے چینی سے چاہت کے بارے میں پوچھنا چاہ رہا تھا پوری بات کہے بغیر اٹک گیا۔
“کیا بات ہے بیٹا سب ٹھیک ہے ناں؟”
بہرام نے آنکھیں موند کر کے خود پر قابو کیا۔
“جی سب ٹھیک ہے بس پوچھنا چاہ رہا تھا آپ ٹھیک تو ہیں ناں۔۔۔”
بہرام جانتا تھا کہ اب تک وہ اسکی بات کا مقصد سمجھ چکی ہوں گی۔
“بیٹا فکر مت کرو سب ٹھیک ہے۔۔۔۔”
بہرام نے ٹھیک ہے کہہ کر فون بند کر دیا اور اپنا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا۔زہر اس کے جسم سے زیادہ اسکی زندگی میں گھل چکا تھا۔چاہت کی بے تحاشا نفرت بہرام کو اس زہر سے زیادہ تیزی سے ختم کر رہی تھی۔
💞💞💞💞
فرزام ہال میں آیا تو اس کا دھیان کچن میں ہونے والی کھٹ پٹ نے اپنی جانب کھینچا۔کچن میں داخل ہونے پر اسکا دھیان مناہل پر گیا جو شائید کچھ بنا رہی تھی۔
“کیا کر رہی ہو من۔۔۔۔؟”
فرزام کے پوچھنے پر مناہل اسکی جانب مڑی اور ہلکا سا مسکرائی۔
“بہرام بھائی کے لیے سوپ بنا رہی ہوں بن جائے تو آپ انہیں دے آنا۔۔۔”
فرزام اسکی بات پر مسکرایا۔اسے احساس ہوا کہ یہ سارا عرصہ اپنی پریشانی میں فرزام نے مناہل کی طرف تو دھیان ہی نہیں دیا تھا۔فرزام نے اپنے ہاتھ اسکی کمر پر رکھتے ہوئے ٹھوڈی اسکے کندھے سے ٹکا دی تو مناہل پل بھر میں گھبرا گئی۔
“فرزام۔۔۔۔”
“ایک بات بتاؤ کبھی میں بیمار ہوا تو میرا بھی اتنا ہی خیال رکھو گی کیا۔۔۔۔؟”
فرزام کی بات پر مناہل فوراً اسکی جانب پلٹتے ہوئے خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“اللہ نہ کرے آپ کبھی بیمار ہوں۔۔۔”
فرزام نے اسکی فکر مندی پر مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھ دیے۔
“بس تمہاری یہی ادائیں ہیں میرا جنون جو بہکاتی ہیں اور پھر میری حرکتوں پر تم کترا جاتی ہو یہ کہاں کا انصاف ہوا۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں حرارت دیکھ کر مناہل خود میں سمٹ سی گئی۔
“فرزام کام کرنے دیں ناں تنگ نہیں کریں۔۔۔”
مناہل نے فوراً اپنا رخ پلٹا اور سوپ میں چمچ ہلانے لگی۔
“ابھی تنگ کیا ہی کہاں ہے رات کو روم میں آنا پھر بتاؤں گا تنگ کرنا کسے کہتے ہیں۔۔۔”
فرزام نے اسکے ملائم گال پر اپنی داڑھی رب کی اور وہاں سے چلا گیا اور مناہل سرخ ہوتی اپنا کام کرنے لگی۔جب خالہ اسکے پاس آئیں۔
“بیٹا تمہارے لیے فون ہے۔۔۔”
مناہل نے پہلے حیرت سے انہیں دیکھا پھر گھبرا کر انکے ہاتھ میں موجود فون کو دیکھنے لگی۔
“کون ہے؟”
مناہل نے گھبراتے ہوئے پوچھا وہ پھر سے شیزہ سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“پتہ نہیں بس آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔۔۔”
مناہل نے ان کے ہاتھ سے فون لے کر ہاں میں سر ہلایا تو خالہ وہاں سے چلی گئیں۔
“ہیلو۔۔۔”
مناہل نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا۔
“ہیلو مناہل کیسی ہو۔۔۔؟”
اپنی تایا زاد حبہ کی آواز پر مناہل نے سکھ کا سانس لیا۔
“میں ٹھیک ہوں حبہ آپی آپ کیسی ہیں۔۔۔؟”
“میں ٹھیک ہوں مناہل مجھے تم سے کچھ بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”
حبہ کی آواز میں پریشانی محسوس کر کے مناہل گھبرا گئی۔
“کیا ہوا حبہ آپی سب ٹھیک تو ہے ناں؟”
حبہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی۔
“فون پر نہیں بتا سکتی مناہل مجھے تم سے ملنا ہے۔۔۔۔”
مناہل اسکی بات پر گھبرا گئی۔
“کل میں اسلام آباد آؤں گی تم مجھے ہینگ آؤٹ کیفے ملنا اور پلیز اکیلے آنا اپنے شوہر کو اس کے بارے میں مت بتانا۔”
مناہل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“لیکن میں اکیلی کیسے۔۔۔اور میں فرزام سے کچھ نہیں چھپاتی۔۔۔”
مناہل نے اسے بتایا وہ سچ میں فرزام سے کچھ بھی نہیں چھپانا چاہتی تھی ۔
“دیکھو مناہل مجھے فرزام کے بارے میں ہی تم سے بات کرنی ہے اور میں نہیں چاہتی کہ تم سے بات کیے بغیر کسی اور کو اس کی خبر ہو۔۔۔۔اس لیے کل میں اس کیفے میں صبح کے دس بجے تمہارا انتظار کروں گی امید ہے تم ضرور آؤ گی۔۔۔”
اتنا کہہ کر حبہ نے فون بند کر دیا لیکن مناہل اب کشمکش میں مبتلا ہو چکی تھی۔وہ بھلا کیسے فرزام سے کچھ چھپاتی لیکن حبہ نے فرزام کے بارے میں کچھ کہنا تھا۔
مناہل اب بہت زیادہ پریشان ہو چکی تھی اسکی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ایک طرف اسے یہ تجسس تھا کہ حبہ اس سے کیا کہنا چاہتی تھی اور دوسری طرف فرزام کا بھروسہ تھا۔
ایک پل کے لیے تو اس نے سوچا کہ فرزام کو سب بتا دے لیکن پھر حبہ کی بات یاد آئی کہ وہ اس کے بارے میں کسی کو نہ بتائے۔مناہل بے چینی سے وہاں کھڑی اپنے ہاتھ مسلتی پل بھر میں بہت زیادہ اضطراب میں آ چکی تھی۔