Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 08)
Kaif E Junoon (Episode 08)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
(ماضی)
وردہ نے مسکراتے ہوئے خود کو آئینے میں دیکھا۔لال ساڑی میں وہ بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔گزرتے سالوں میں سلیمان کی محبت نے اسکے حسن کو مزید نکھارا ہی تھا۔
آج وہ سلیمان کے ساتھ اُس کے ایک بزنس ایونٹ پر جارہی تھی اسی لیے وہ کافی دیر سے تیار ہو کر اسکا انتظار کر رہی تھی۔اپنے پیچھے سے سیٹی کی آواز سن کر وردہ نے پیچھے دیکھا تو نظر بارہ سالہ فرزام پر پڑی جو سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
“آج تو لگتا ہے میرے بابا جان سے جائیں گے۔۔۔۔”
وردہ نے اسے گھورا لیکن فرزام نے کہاں کبھی کسی بات کی فکر کی تھی۔
“شرم کرو زرا سی تم ماں سے کوئی ایسی بات کرتا ہے۔۔۔”
فرزام وردہ کے قریب آیا اور لاڈ سے اس سے لپٹ گیا۔
“اب آپ لگ ہی اتنی پیاری رہی ہیں تو میں سچ ہی کہوں گا ناں۔۔۔”
وردہ نے محبت سے اپنے شرارتی بیٹے کی ناک دبائی۔
“ماما بابا بلا رہے ہیں آپ کو کہہ رہے ہیں جلدی کریں دیر ہو رہی ہے۔۔۔”
بہرام کی آواز پر وردہ نے اپنی ساڑی کا پلو ٹھیک کیا اور باہر آ گئی۔فرزام بھی اسکے پیچھے آیا تھا۔سلیمان جو اس وقت گاڑی کے ساتھ کھڑا تھا اس نے وردہ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔
“بولا تھا ناں کہ بابا لٹ جائیں گے۔۔۔”
فرزام کے شرارت سے کہنے پر سلیمان ہلکا سا ہنس دیا اور گاڑی کا دروازہ کھولا تو وردہ فرزام کے سر پر چت لگاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔سلیمان گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اپنے بچوں کی جانب مڑا۔
“پتہ ہے گھر کا خیال رکھوں گا،اپنا خیال رکھوں گا اور بہرام کو کوئی شرارت نہیں کرنے دوں گا۔۔۔۔”
فرزام سلیمان سے پہلے ہی بولا تو سلیمان اس کی بات پر ہنستے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ابھی وہ دونوں گھر سے کچھ دور ہی گئے تھے جب اس کی مسلسل خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے وردہ بول اٹھی۔
“کیسی لگ رہی ہوں؟”
ایک مسکراہٹ سلیمان کے ہونٹوں پر آئی۔
“یہ بتانے بیٹھا ناں میرے جہان تو پارٹی کی بجائے واپس روم میں جانا پڑے گا۔۔۔۔”
سلیمان کی معنی خیز بات پر وردہ پاؤں کے ناخن تک سرخ ہوئی تھی۔
“بہت بے حیا ہوتے جا رہے ہو۔۔۔۔”
“کیونکہ تم مزید حسین ہوتی جا رہی ہو۔۔۔”
سلیمان نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا لیکن پھر وردہ کے گھورنے پر قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔یوں ہی اپنی خوشیوں میں کھوئے وہ دونوں اپنی منزل تک پہنچے۔
سلیمان وردہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے اس شاندار محفل میں داخل ہوا اور اسکا اپنے جاننے والوں سے تعارف کروانے لگا۔
“سلیمان میں فریش ہو کر آتی ہوں۔۔۔”
سلیمان نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تو وردہ واش روم کی جانب چل دی۔ابھی وہ کچھ دور ہی گئی تھی جب اچانک اسکی ٹکر سامنے سے آنے والے ایک آدمی سے ہوئی۔
“آئی ایم سو سوری۔۔۔”
وردہ نے نگاہیں اٹھا کر اس آدمی کو دیکھا تو الفاظ منہ میں ہی اٹک گئے۔اس وقت جو شخص اس کے سامنے تھا وہ کوئی اور نہیں اس کا سابقہ شوہر الطاف حیدر بیگ تھا۔اسکے بچوں کا اصلی باپ۔
“حیدر۔۔۔۔”
وردہ نے ہلکے سے کہا اور اسے وہاں دیکھ کر الطاف کی آنکھوں میں بھی حیرت اتری تھی۔اس نے بے ساختہ وردہ کو سر سے لے کر پیر تک دیکھا جو اتنے سالوں میں پہلے سے بھی زیادہ حسین ہو چکی تھی۔
“وردہ۔۔۔۔”
سلیمان کی آواز پر وردہ کا اٹکا سانس بحال ہوا اور وہ الطاف سے دھیان ہٹا کر سلیمان کو دیکھنے لگی جو اسکے قریب آ رہا تھا۔
“کیا ہوا ڈارلنگ از ایوری تھنگ آل رائٹ؟”
سلیمان نے وردہ کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا اور وردہ نے بمشکل ہاں میں سر ہلایا۔سلیمان کی نظر الطاف پر پڑی تو مسکرا کر اس نے اپنا ہاتھ الطاف کے سامنے کر دیا۔
“کیسے ہو دوست؟”
الطاف نے بھی اپنا ہاتھ سلیمان کے ہاتھ میں دیا لیکن نظریں مسلسل وردہ پر تھیں۔
“وردہ یہ میرے دوست اور بزنس پارٹنر ہیں الطاف حیدر بیگ اور الطاف یہ میری پیاری سی بیوی وردہ خانزادہ۔۔۔۔”
سلیمان کی آنکھوں میں اس محبت کو الطاف نے چبھتی نگاہوں سے دیکھا۔
“بہت خوبصورت ہیں۔۔۔۔”
سلیمان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
“شی از مور دین بیوٹیفل شی از مائی لائف۔۔۔۔”
الطاف اب اپنی مٹھیاں بھینچ چکا تھا اور وردہ بس اس شخص کی نظروں کے سامنے سے غائب ہونا چاہتی تھی۔
“تم فریش ہونے جا رہی تھی ناں،فریش ہو جاؤ میں بس دو منٹ میں آتا ہوں۔۔۔۔”
سلیمان نے مسکرا کر کہا اور وردہ کے ہاں میں سر ہلانے پر اپنے ایک دوست کے پاس چلا گیا۔وردہ نے ایک نظر الطاف کو دیکھا اور وہاں سے جانے لگی۔
“سچ کہتے ہیں عورت حسین ہو تو کیا نہیں کر سکتی اب دیکھو ناں میرے ٹھکرانے کے بعد تم نے ایک اور امیر و کبیر آدمی اپنے حسن کے جال میں پھنسا لیا۔”
الطاف کی بات پر وردہ نے نفرت سے اسے دیکھا۔
“جو جیسا ہوتا ہے ناں اسے سب ویسے ہی دیکھتے ہیں۔۔۔”
وردہ مڑنے لگی تو الطاف نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
“کیا وہ جانتا ہے تم پہلے میرے ساتھ۔۔۔۔”
الطاف نے وردہ کو سر سے لے کر پیر تک دیکھا۔
“یہ تمہارا مسلہ نہیں ہے اور اگر تمہیں سلیمان کو بتانے کا اتنا ہی دل کر رہا ہے ناں تو جا کر بتا دو پھر تمہیں جواب میں نہیں سلیمان خود دے گا۔”
اتنا کہہ کر وردہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور واپس سلیمان کے پاس آگئی۔ ابھی بھی وہ الطاف کی نظریں خود پر گڑھی ہوئی محسوس کر سکتی تھی۔
“سلیمان پلیز گھر چلیں؟آئی ایم ناٹ فیلینگ ویری ویل۔۔۔”
وردہ کی بات پر سلیمان نے پریشانی سے اس کی طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا کر اپنے ساتھیوں کو الوداع کہتا باہر کی طرف چل دیا۔
“کیا ہوا وردہ تمہاری طبیعت زیادہ خراب ہے تو ہاسپٹل چلیں؟”
سلیمان ڈرائیونگ کرتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا لیکن وردہ نے انکار میں سر ہلا دیا۔
“تم ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے بتاؤ کیا پریشانی ہے؟”
سلیمان سچ میں کافی زیادہ پریشان ہو رہا تھا۔وردہ نے ایک گہرا سانس لے کر اسے دیکھا۔
“سلیمان وہ تمہارا بزنس پارٹنر الطاف حیدر بیگ۔۔۔”
“ہاں کیا ہوا اسے؟”
سلیمان نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا جبکہ وردہ کافی اضطراب میں لگ رہی تھی۔
“وہ کوئی اور نہیں میرا پہلا شوہر حیدر ہے۔۔۔”
اچانک ہی سلیمان نے گاڑی کو بریک لگایا اور اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
“اس سے پارٹنرشپ مت کرو سلیمان وہ بالکل اچھا انسان نہیں ہے دھوکے سے پیٹھ میں وار کرنا اس کا پرانا شوق ہے۔۔۔”
وردہ نے کرب سے ہم نے آنکھیں موندتے ہوئے کہا دو آنسو اس کے گالوں پر بہے تھے۔سلیمان نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا۔
“تم فکر مت کرو میں تمہارے ساتھ ہوں وہ اب تمہاری زندگی میں کسی پریشانی کا باعث نہیں بنے گا یہ وعدہ ہے میرا۔۔۔۔”
وردہ نے آنسو پونچھ کر مسکراتے ہوئے اپنے شوہر کو دیکھا جو اس کے لئے خدا کا دیا تحفہ تھا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ بہت جلد یہ تحفہ اس سے چھن جانے والا تھا۔
💞💞💞💞
(حال)
چاہت سہمی سی اپنے کمرے کے دروازے میں کھڑی تھی۔اپنے غم و غصے میں وہ اتنا بڑا قدم تو اٹھا چکی تھی لیکن اب اپنی حرکت کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے خود پر غصہ آ رہا تھا۔
بہرام نے اسے اپنا تو لیا تھا لیکن کیا عزت رہ گئی تھی اس کی بہرام کی نظر میں۔چاہت نے نم پلکوں سے کمرے سے باہر جھانکا تو نظر بہرام اور سکینہ پر پڑی۔ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ سکینہ کے گھر آئے تھے۔
سکینہ جو بہرام کے پاس کھڑی تھیں اچانک ہی انہوں نے اپنے ہاتھ بہرام کے سامنے جوڑ دیے جنہیں بہرام نے فوراً اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“یہ آپ کیا کر رہی ہیں اماں جی؟”
بہرام کے سوال پر سکینہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
“اپنی چاہت کی طرف سے تم سے معافی مانگ رہی ہوں بیٹا۔جانتی ہوں جو اس نے کیا وہ بہت غلط تھا لیکن وہ بہت زیادہ نادان ہے خدارا اسے معاف کر دینا۔۔۔۔”
بہرام نے بے یقینی سے سکینہ کو دیکھا۔
“آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں اماں جی پلیز مجھے شرمندہ مت کریں۔۔۔”
بہرام نے ان کے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے کہا۔
“میں جانتی ہوں بہرام بیٹا کہ تم چاہت سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اس نے اپنی ضد سے تمہارے سامنے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا۔۔۔۔اسے اس کی بیوقوفی کی سزا مت دینا۔۔۔۔”
بہرام نے انکار میں سر ہلایا۔چاہت دروازے کے پیچھے چھپی خاموشی سے روتے ہوئے ان کی باتیں سن رہی تھی۔
“آپ ایسا مت کہیں اماں جی اور فکر مت کریں میں کبھی بھی چاہت کو کوئی تکلیف نہیں دوں گا اسے ہر سکھ،ہر آرام دوں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔”
بہرام نے ایک نظر اس دروازے کو دیکھا جس کے پیچھے چاہت چھپی تھی۔
“لیکن اسے کبھی وہ محبت نہیں مل سکے گی جو ایک بیوی کو شوہر سے ملتی ہے کیونکہ جسے اس نے چنا ہے وہ محبت کرنے کے قابل ہی نہیں۔۔۔۔”
بہرام کی بات پر چاہت کو لگا کہ اس کی دھڑکنیں رک جائیں گی۔
“میں باہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں آپ چاہت کو لے کر آ جائیں۔۔۔۔”
بہرام اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور چاہت اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے لگی۔پھر اسکی نظر سکینہ پر پڑی جو کمرے میں آئی تھیں لیکن چاہت کو نظر انداز کرتے ہوئے اسکا ضروری سامان ایک بیگ میں رکھنے لگیں۔
“اماں۔۔۔”
چاہت نے روتے ہوئے سکینہ کو پکارا لیکن سکینہ نے اسے مڑ کر بھی نہیں دیکھا اور اپنی ماں کی یہ بے رخی چاہت کو کہاں گوارا تھی اسی لیے روتے ہوئے سکینہ کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
“مجھ سے ناراض مت ہوں اماں چاہے تو میری جان لے لیں لیکن مجھ سے ناراض مت ہوں آپ کی ناراضگی نہیں دیکھ سکتی میں۔۔۔۔”
چاہت پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہہ رہی تھی اور سکینہ بھی نم آنکھوں سے اپنی جان سے پیاری اکلوتی بیٹی کو دیکھنے لگیں پھر انہوں نے جھک کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
“میں تم سے ناراض کیسے ہو سکتی ہوں چاہت میں تو ماں ہوں اور ماں کبھی بھی اپنی اولاد سے ناراض نہیں ہوتی۔۔۔۔”
سکینہ نے چاہت کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
“لیکن اپنی ضد کے نتیجے میں تم نے جس قدر بہرام کو مجبور کیا ہے ناں تمہیں اب اپنی زندگی سنوارنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔”
چاہت نے اپنا سر شرمندگی سے جھکا دیا۔
“رشتے مذاق نہیں ہوتے بیٹا اور اپنی ضد میں تم نے بہرام خود سے بدگمان کر دیا ہے اب تمہیں بہت صبر سے چلنا ہو گا۔۔۔”
چاہت نے اثبات میں سر ہلایا۔
“میں تمہارے لئے ہر وقت دعا کروں گی کہ جو کانٹے تم نے اپنی راہ میں بچھائے ہیں اللہ تمہیں ان پر چل کر اپنی منزل تک پہنچنے کی ہمت دے۔۔۔۔”
سکینہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا اور پھر سے اس کا سامان پیک کرنے لگیں۔سامان پیک کرنے کے بعد انہوں نے ایک چادر چاہت پر اوڑھا دی۔
“تمہاری رخصتی کے بہت خواب دیکھے تھے میں نے لیکن شاید قسمت کو میرے خوابوں کا پورا ہونا منظور نہیں تھا۔۔۔”
چاہت بہتی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی۔
“لیکن اب جس زندگی کو تم نے قسمت سے لڑ کر چنا ہے اس میں خوش رہ کر میرا دوسرا خواب زرور پورا کر دینا۔۔۔اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو….”
سکینہ کے ایسا کہنے پر چاہت ان کے گلے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔سکینہ نے بھی اپنے آنسوؤں پر ضبط کرتے ہوئے چاہت کو اپنے ساتھ لگایا اور اس کا سامان پکڑ کر اسے باہر لے آئیں جہاں بہرام ان کا انتظار کر رہا تھا۔
“یہ چاہت کا سامان ہے بیٹا۔مجھے معاف کر دینا جو کچھ میں نے سوچا تھا وہ اپنی بیٹی کو نہیں دے سکی۔۔۔”
بہرام نے فوراً انکار میں سر ہلایا اور وہ بیگ ان کے ہاتھ سے لے لیا۔
“آپ ایسا کہہ کر مجھے شرمندہ مت کریں اماں جی اور سامان صرف چاہت کا ہی کیوں ہے؟آپ بھی میرے ساتھ چل رہی ہیں۔۔۔”
سکینہ نے مسکرا کر انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں میرا بچہ میں اپنی بیٹی کے سسرال نہیں رہ سکتی تم میری فکر مت کرو۔۔۔”
“نہیں اماں جی میں آپ کو اکیلے نہیں چھوڑنے والا۔۔۔”
چاہت نے بھی اپنی ماں کو دیکھا۔
“چلیں ناں اماں۔۔۔”
سکینہ نے دونوں کو محبت سے دیکھا۔
“نہیں بیٹا کچھ بھی ہو جائے اپنی بیٹی کے سسرال میں نہیں رہوں گی۔تم اپنے گھر میں خوش رہو میرے لئے یہی کافی ہے۔۔۔”
“کیا آپ مجھے پرایا سمجھتی ہیں ؟”
بہرام کے سوال پر سکینہ نے افسوس سے اسے دیکھا۔
“نہیں بیٹا بس میرے کچھ اصول ہیں انہیں توڑ کر خوش نہیں رہوں گی بس مجھے مجبور مت کرو۔۔۔”
بہرام ان کے ایسا کہنے پر بے بس ہو گیا۔
“تو ٹھیک ہے کل ایک ملازمہ آپ کے پاس رہنے آئے گی جو آپ کے ساتھ ہی رہے گی اور آپ اعتراض نہیں کریں گی۔۔۔”
بہرام نے گویا حتمی فیصلہ سنایا سکینہ نے بھی مجبور ہوکر ہاں میں سر ہلا دیا۔بہرام نے اپنا سر آگے کر کے ان سے پیار لیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔چاہت ایک بار پھر سے اپنی ماں کے گلے لگ کر رونے لگی۔
“خدا تمہارے لیے آسانیاں پیدا کرے میرا بچہ۔۔۔اور اب بڑی ہو جاؤ بیوقوفیاں مت کرنا اب۔۔۔”
چاہت نے ان سے دور ہو کر ہاں میں سر ہلایا اور بہرام کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔اسکے بیٹھتے ہی بہرام نے گاڑی سٹارٹ کر دی اور خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا۔
چاہت سہمی سی بہرام کے ساتھ بیٹھی تھی۔ان کے درمیان بدلا رشتہ نا جانے کیوں اسے کترانے پر مجبور کر رہا تھا۔
خانزادہ مینشن پہنچ کر بہرام نے گاڑی روکی اور گاڑی سے نکل کر ملازم کو چاہت کا سامان لانے کا کہہ کر اندر چلا گیا۔چاہت گھبراتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔
“خالہ خالہ ۔۔۔۔۔”
بہرام نے ہال میں داخل ہوتے ہی ملازمہ کو آوازیں دیں جو بھاگتے ہوئے وہاں پر آئی۔
“جی بیٹا۔۔۔”
“اوپر جو روم خالی ہے اسے چاہت کے لیے سیٹ کر دیں اور اسے ڈنر کروا کر روم دیکھا دینا۔۔۔”
چاہت نے بے یقینی سے اپنے شوہر کو دیکھا۔کیا وہ اسے علیحدہ کمرے میں رکھنے والا تھا۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔”
بہرام خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گیا اور خالہ نے چاہت کو کھانے کی ٹیبل پر بیٹھا کر کھانا دیا جو چاہت نے بے دلی سے بس دو نوالے کھایا۔
“آپ کا کمرہ تیار ہے چاہت بیٹا آؤ میں آپ کو دیکھا دوں۔۔۔”
چاہت نے ہاں میں سر ہلایا اور ان کے ساتھ چل دی۔وہ یہاں کتنی ہی بارہ آ چکی تھی اس لئے سب ملازم بھی اسے جانتے تھے۔
“تم کیا یہاں رہنے آئی ہو سب ٹھیک تو ہے؟سکینہ باجی تو ٹھیک ہیں؟”
ملازمہ کے سوال پر چاہت گھبرا گئی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ انہیں کیا جواب دے۔
“سب ٹھیک ہے ۔۔۔میں تھک گئی ہوں۔۔۔”
خالہ نے ہاں میں سر ہلایا اور کمرے کی جانب اشارہ کیا۔
“کچھ چاہیے ہو تو مجھے بلا لینا۔۔۔”
اسے کمرہ دیکھانے کے بعد خالہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئیں۔ان کے جاتے ہی چاہت کمرے میں آئی جو کافی بڑا اور نفیس تھا۔اس محل کا وہ کمرہ بہت خوبصورت تھا لیکن چاہت کو بہت برا لگ رہا تھا کیونکہ وہاں اسکا شوہر جو نہیں تھا۔
“خان جی نے مجھے یہاں کیوں بھیجا شادی کے بعد تو بیوی اپنے شوہر کے کمرے میں رہتی ہے ناں ہر ناول میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔”
چاہت اپنے ہاتھ ملتے ہوئے خود میں ہی بڑبڑانے لگی۔
“ہاں تو وہ مجھ سے ناراض ہیں ناں اسی لیے شاید انہوں نے ایسا کیا۔۔۔”
چاہت نے پریشانی سے کہا تھا اور پھر بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی۔
“وہ تو پہلے کبھی مجھ سے ناراض نہیں ہوئے مجھے تو پتا ہی نہیں کہ انہیں کیسے مناؤں گی۔۔۔۔”
چاہت نے بے بسی سے کہا پھر کچھ سوچ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“تمہارے شوہر ہیں اب وہ چاہت پیار سے مناؤ گی تو مان جائیں گے اب یہاں بیٹھنے سے تو ماننے سے رہے۔۔۔”
چاہت نے جلدی سے آئینے کے سامنے جا کر خود کو دیکھا اور اپنی بگڑی حالت دیکھ کر جلدی سے منہ دھونے چلی گئی۔منہ دھو کر اس نے تولیے سے خشک کیا اور سر پر اچھی طرح سے دوپٹہ لے کر کمرے سے باہر آ گئی۔
رات کافی ہو چکی تھی اسی لیے خالی گھر میں کوئی ملازم بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔کتنی ہی دیر وہ بہرام کے کمرے کے باہر کھڑی رہی پھر ہمت کر کے اس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔
خالی کمرہ دیکھ کر چاہت پہلے حیران ہوئی لیکن پھر اچانک ہی واش روم کا دروازہ کھلا اور بہرام اپنے گیلے بال تولیے سے رگڑتا واش روم سے باہر آیا۔
ٹراؤزر اور شرٹ پہنے وہ بکھرے سے بالوں کے ساتھ بہت زیادہ خوبرو لگ رہا تھا۔بہرام نے تولیہ صوفے پر رکھا تو اس کی نظر چاہت پر پڑی جو دروازے کے پاس کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو چاہت؟”
بہرام کی آواز میں بہت زیادہ سرد مہری تھی۔
“آپ سے معافی مانگنے آئی تھی خان جی مجھے۔۔۔۔”
“اکیلا چھوڑ دو مجھے اس وقت۔۔۔”
بہرام نے بے رخی سے اسکی بات کاٹ کر کہا اور اس کی بے رخی پر دو معصوم آنکھیں پھر سے آنسوؤں سے تر ہو گئی گئیں۔چاہت بہرام کے قریب ہوئی اور اپنے ہاتھ کانوں پر رکھ لیے۔
“جانتی ہوں آپ بہت زیادہ غصہ ہیں پھر بھی معاف کر دیں ناں خان جی۔۔۔”
بہرام نے چاہت کو دیکھ کر گہرا سانس لیا جو کان پکڑے بڑی کالی آنکھوں سے معافی مانگتی حد سے زیادہ معصوم لگ رہی تھی۔
“چاہت پلیز چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔”
اب کی بار چاہت نے اپنا منہ بسور لیا۔
“کیوں جاؤں میں یہاں سے میرا کمرہ ہے یہ بیوی ہوں میں آپ کی اور شادی کے بعد بیوی شوہر کے کمرے میں ہی رہتی ہے۔۔۔”
چاہت نے حق سے کہا۔
“چاہت۔۔۔”
“میں نہیں جاؤں گی یہاں سے خاں جی میرا حق بنتا ہے یہاں رہنا اور آپ مجھے۔۔۔”
ابھی الفاظ چاہے کے منہ میں ہی تھے جب اچانک بہرام نے اسے کندھوں سے پکڑا اور کمرے کے دروازے سے لگا دیا۔وہ چاہت کے اتنا قریب تھا کہ چاہت اسکی سانسوں کی مہک اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی۔
“حق کے لین دین کے قابل ہو تم ابھی جو اسکی بات کر رہی ہو؟”
نہ جانے بہرام کے انداز میں ایسا کیا تھا کہ چاہت کا روم روم کانپ اٹھا۔بہرام کی یہ قربت اسکی سانسیں تک اسکے سینے میں روک چکی تھی۔
“اس کمرے میں رہنا تمہارا حق نہیں چاہت خانزادہ فرض ہے لیکن تم اپنا فرض نبھانے کے قابل نہیں۔۔۔”
بہرام اسکے مزید قریب ہوا۔اسکی باہوں میں ایک نازک سا وجود اور اس کی دلنشین خوشبو بہرام کو بے خود کر رہی تھی۔اسی بے خودی کے تحت بہرام نے اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپایا۔چاہت نے سہم کر اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں آج پہلی بار اسے اپنے خان جی سے ڈر لگ رہا تھا۔
“چلی جاؤ یہاں سے چاہت اس سے پہلے کہ کچھ ایسا کر گزروں جس کے بعد ہم دونوں کو پچھتاوا ہو۔۔۔جسٹ گو۔۔۔۔”
بہرام نے اسکے کان کے قریب سر گوشی کی اور اچانک ہی اس سے دور ہوا تو چاہت زور زور سے سانس لے کر اسے دیکھنے لگی۔گھبراہٹ سے نازک وجود کانپنے لگا تھا۔
“تو کیا آپ نے مجھے معاف کر دیا۔۔۔؟”
چاہت نے اسکی کمر کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“تمہیں سب دے سکتا ہوں چاہت معافی،تحفظ،سہولت۔۔۔۔نہیں دے سکتا تو محبت ہی نہیں دے سکتا اس لیے اس کے بغیر جینے کی عادت ڈال لو۔۔۔۔”
بہرام نے بغیر پلٹے کہا اور اسی لیے چاہت کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکا۔
“تمہاری سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی تھی میری بیوی بن کر۔۔۔اب جب تمہیں میری محبت نہیں ملے گی تب تمہیں اندازہ ہو گا کہ خود پر کیا ظلم کر بیٹھی ہو۔۔۔کیونکہ بہرام خان زادہ محبت کرنے کے قابل ہی نہیں۔۔۔”
اچانک ہی بہرام اس کی طرف مڑا اور اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
“لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا تم اب صرف میری ہو نہ تم پر کسی کی نگاہ برداشت کروں گا اور نہ تمہاری نگاہ کسی اور پر۔۔۔”
بہرام نے بہت زیادہ جنون سے کہا۔
“اب ساری زندگی ایک سمجھوتے کے تحت گزار دو۔۔۔بالکل جیسے میں گزارنے والا ہوں۔۔۔”
چاہت مسلسل روتے ہوئے اسکی بات سن رہی تھی وہ اس سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن بہرام نے اسے بولنے کا موقع ہی کہاں دیا تھا۔
“چلی جاؤں یہاں سے چاہت۔۔۔”
بہرام نے اسے حکم دیا تو نہ چاہتے ہوئے بھی چاہت کمرے سے باہر آ گئی۔اپنے کمرے میں واپس آکر وہ کتنی ہی دیر بیڈ کے پاس بیٹھ کر روتی رہی تھی لیکن اس نے خود سے ایک وعدہ کیا کہ وہ اپنے شوہر کو خود کو چاہنے پر مجبور کر دے گی پھر چاہے اس کے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔۔۔
💞💞💞💞
فرزام کی نظریں مسلسل مناہل پر تھیں جو اسکے ساتھ کار کی پچھلی سیٹ کے ایک کونے میں دبکی بیٹھی تھی۔چہرے پر خوف عیاں تھا۔وہ اس وقت ایک سہمی ہوئی بلی کی مانند لگ رہی تھی جو ہاتھ لگانے سے بھی چیخ اٹھتی۔فرزام کتنی دیر سے اس کا یہ خوف برداشت کر رہا تھا لیکن اب اس کی بس ہو چکی تھی۔
“من ۔۔۔۔”
فرزام کے پکارنے پر مناہل نے سہمی نگاہوں سے اسے دیکھا اور تھوڑا اور دروازے کی جانب ہو گئی۔
“یہاں آؤ میرے پاس۔۔۔”
مناہل نے انکار میں سر ہلایا فرزام نے ایک نظر رشید کو دیکھا جو اپنے دھیان ڈرائیو کر رہا تھا۔ایک مسکراہٹ کے ساتھ فرزام نے مناہل کا ہاتھ پکڑ کر اسے قریب کیا اور اسکا سر اپنے سینے پر رکھ دیا۔مناہل ہمیشہ کی طرح کسی کے یوں چھونے پر ڈرتے ہوئے مزاحمت کرنے لگی۔
“ششش۔۔۔۔میرا جنون اتنا ڈر کیوں رہی ہو کھا تو نہیں جاؤں گا تمہیں۔۔۔۔”
فرزام نے اسکے کان کے قریب سرگوشی کی اور اسکی سانسوں کی حرارت اتنے قریب سے محسوس کر کے مناہل کانپ کر رہ گئی۔
“مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔”
“کیوں؟”
فرزام نے عام سے انداز میں پوچھا۔
“آپ نے انہیں۔۔۔۔ ااا۔۔۔۔انہیں مار دیا۔۔۔۔”
فرزام کے ہونٹ مسکرا دیے۔اسکی معصوم سی جان اپنے گناہگار کی موت سے بھی خوفزدہ تھی۔
“اور اگر ایسا کر سکتا تو اسے روز زندہ کر کے روز مارتا۔۔۔”
مناہل نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیونکہ انہوں نے آپ کے حق پر ڈاکہ ڈالا۔۔۔۔”
مناہل کی آواز بہت زیادہ ہلکی تھی جیسے کہ وہ سوال کرنے سے ڈر رہی ہو۔۔۔۔
“نہیں میرا جنون کیونکہ اسنے تمہیں تکلیف دی،تمہاری زندگی کو تمہارے لیے ایک سزا بنا دیا اس لیے جو سزا میں نے اسے دی وہ بہت کم تھی بہت کم ۔۔۔۔”
دو آنسو مناہل کی آنکھوں سے ٹوٹ کر فرزام کی شرٹ میں جذب ہوئے۔اسے نہیں یاد تھا کہ آخری بار کب کسی نے اسکے بارے میں سوچا تھا۔
“مجھے پھر بھی آپ سے ڈر لگتا ہے۔۔۔”
مناہل نے ہلکی سی سرگوشی کی۔اسکے بالوں میں چلتی فرزام کی انگلیاں اور اسکی گرمائش آہستہ آہستہ مناہل کا خوف مٹا رہی تھی۔
“میں اس ڈر کو مٹا دوں گا میرا جنون خود کو اس طرح سے تم سے ملا دوں گا کہ تمہیں صرف میرے قریب رہ کر سکون ملے گا تم سے تمہیں چرا کر تم میں بس خود کو رچا دوں گا۔۔۔۔”
مناہل اسکے جنونی انداز پر خوف سے کانپ گئی اور نم پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“میں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہوں،بکھر چکی ہوں۔۔۔”
“میں سمیٹ لوں گا۔۔۔”
فرزام نے مسکراتے ہوئے کہا۔مناہل کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی لیکن فرزام نے اپنی انگلی اسکے ہونٹوں پر رکھ دی۔
“اب بس من ابھی تھوڑا آرام کر لو۔۔۔”
مناہل نہیں جانتی تھی کہ کیوں اس نے فوراً اسکا حکم مانتے ہوئے آنکھیں میچ لی تھیں۔کتنے ہی سوال مناہل کے ذہن میں گردش کر رہے تھے لیکن ان سب کو پس پشت ڈالتی وہ سکون سے فرزام کے سینے پر سر رکھے سو چکی تھی۔وہ نہیں جانتی تھی کہ کیوں اس سر پھرے شخص کے قریب زندگی میں پہلی بار اسے تحفظ کا احساس ہو رہا تھا۔وہ بس اتنا جانتی تھی کہ فرزام کے ہوتے ہوئے کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا تھا۔
مناہل کو نیند میں محسوس ہوا کہ وہ کسی کی باہوں میں ہے تو اس نے سہم کر اپنی آنکھیں کھول دیں اور فرزام کو دیکھا جو اسے اٹھائے اپنے کمرے تک پہنچ چکا تھا اور اب نرمی سے بیڈ پر لیٹا رہا تھا۔
“آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟میری ناپاکی کی وجہ سے مجھ سے نفرت کرنے کی بجائے اتنا پیار کیسے دے سکتے ہیں آپ؟”
فرزام اس کی آنکھوں میں ابھی بھی گہری نیند کا خمار دیکھ سکتا تھا۔
“کس نے کہا کہ تم نا پاک ہو من۔۔۔؟نا پاک تو وہ تھا جس نے گناہ کیا تم بہت پاکیزہ اور معصوم ہو میرا جنون۔۔۔”
فرزام کی بات مناہل کو مزید حیران کر چکی تھی۔
“آپ تو اپنی چیزوں پر کسی کا لمس برداشت نہیں کرتے ناں۔۔۔کوئی انہیں چھوئے تو آپ انہیں توڑ دیتے ہیں تو کیا مجھے بھی توڑ دیں گے؟”
مناہل کی آواز میں وہ کرب فرزام کے دل پر لگا تھا۔اس نے اپنا ہاتھ نرمی سے مناہل کے چہرے پر رکھا۔
“تم کوئی چیز نہیں ہو مناہل خانزادہ تم میرا جنون ہو وہ جنون جس نے اپنا غم سنا کر مجھے ہی میرا نہیں رہنے دیا۔۔۔”
مناہل نے مزید کچھ کہنے کے لیے اپنے ہونٹ کھولے۔۔
“ششش ابھی سو جاؤ من۔۔۔۔۔بعد میں تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گا۔۔۔”
فرزام نے مناہل کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا اور کچھ ہی دیر میں مناہل پھر سے نیند کی وادیوں میں کھو گئی اور فرزام اسکے معصوم چہرے میں۔
فرزام حیرت سے اس حسین چہرے کو دیکھ رہا تھا جو سیدھا فرزام کے دل میں اتر رہا تھا ۔وہ ابھی بھی اپنے عروسی جوڑے میں ہی ملبوس تھی لیکن اسکی جیولری فرزام راستے میں ہی اتار چکا تھا۔یوں سادا سی اس دلہن کے جوڑے میں،خود سے ہی بے نیاز وہ فرزام کے دل کو مزید اس سے چراتی جا رہی تھی۔
کیا تھی وہ لڑکی؟فرزام نے تو اسکو تباہ کرنے کا سوچا تھا لیکن مناہل کے ان آنسوؤں نے فرزام خانزادہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔
فرزام خود حیران تھا کہ وہ جسے کوئی لڑکی اچھی نہیں لگی تھی مناہل کتنی آسانی سے اسے جنونی بنا گئی تھی۔اب اس کیفِ جنون میں فرزام نے جانے کس حد تک گزر جانا تھا۔