📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 15)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 15)

Kaif E Junoon By Harram Shah

بہرام آفس سے واپس گھر آیا اور کھانا کھائے بغیر ہی اپنے کمرے میں آ گیا۔صبح سے ہی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیکن ہمیشہ کی طرح وہ اسے نظر انداز کرتا اپنا کام کرتا رہا جس کا نتیجہ اب یہ نکلا تھا کہ اس کا سر بری طرح سے چکرا رہا تھا۔

کمرے میں آتے ہی اس نے کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا اور آ کر بیڈ پر کمبل لے کر لیٹ گیا۔چاہت واش روم سے باہر آئی تو نظر بہرام پر پڑی جو اپنی آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا۔

خان جی آتے ہی سو کیوں گئے کھانا کھا کر آئے ہیں کیا؟

چاہت نے پریشانی سے سوچا۔ایک پل کے لیے تو دل میں خیال آیا کہ اس سے اٹھا کر پوچھے کہ اس نے کچھ کھایا بھی ہے یا نہیں لیکن اپنی ناراضگی کی وجہ سے اسے نظر انداز کرتی لائٹ بند کر کے اسکے پاس جا کر لیٹ گئی۔

ویسے تو وہ بہرام سے کافی فاصلے پر تھی لیکن اتنے فاصلے پر بھی اسے محسوس ہوا کہ بہرام کانپ رہا تھا۔چاہت پریشانی سے اٹھی اور لیمپ آن کر کے بہرام کو دیکھا۔

“خان جی۔۔۔ “

چاہت نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھا تو اس کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا کیونکہ اس وقت بہرام کا جسم بری طرح سے تپ رہا تھا۔

“خخ۔۔۔خان جی اٹھیں کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔؟”

چاہت نے پریشانی سے اسکے چہرے سے اسکا بازو ہٹا کر اسکا گال اپنے ہاتھ سے چھوا اور جلدی سے اٹھ کر دوپٹہ لیتے ہوئے باہر آئی۔وہ سیدھا فرزام کے کمرے کی جانب گئی لیکن اسے فرزام ہال کے صوفے پر بیٹھا اپنا سر مسلتا نظر آیا تو اس کے پاس آ گئی۔

“فرزام بھائی۔۔۔”

چاہت کے رو کر پکارنے پر فرزام نے پریشانی سے اسے دیکھا۔

“کیا ہو چاہت رو کیوں رہی ہو؟بہرام نے کچھ کہا ہے کیا؟”

چاہت نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔

“خان جی کو بہت تیز بخار ہے وہ اٹھ بھی نہیں رہے بس کانپتے جا رہے ہیں۔۔۔”

چاہت اتنا کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو فرزام نے اٹھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“ارے پریشان مت ہو اسے جب بھی بخار ہوتا ہے وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے۔۔۔”

چاہت نے اپنے آنسو پونچھے اور غصے سے فرزام کو دیکھا۔

“آپ ڈاکٹر کو بلا لیں گے تو کچھ چلا جائے گا آپ کا؟”

اسکی پریشانی پر فرزام مسکرایا اور جیب سے موبائل نکال کر ڈاکٹر کو فون کرنے لگا۔کچھ دیر بعد ہی ڈاکٹر آیا جس نے بہرام کا چیک اپ کر کے اسے انجیکشن لگایا اور بہرام کے پاس پریشانی سے بیٹھی چاہت کو مسکرا کر دیکھا۔

“فکر مت کریں بیٹا ٹھیک ہیں وہ بس آپ انہیں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ٹھنڈی پٹیاں کر دینا ان شاءاللہ صبح تک ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔”

چاہت نے اثبات میں سر ہلایا تو ڈاکٹر فرزام کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔چاہت فوراً اٹھی اور کچن سے پانی کا بول لا کر اس میں ایک کپڑا بھگویا اور اسے بہرام کے ماتھے پر رکھ دیا۔

بہرام کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی تو دو آنسو چاہت کی آنکھوں سے بہہ کر اسکے چہرے پر گرے جنہیں محسوس کر کے بہرام نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

“بہت ستاتے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔”

چاہت نے منہ بنا کر شکوہ کیا تو بہرام نے ہاتھ بڑھا کے اسکے معصوم چہرے کو چھوا۔

“وہ تو تم کرتی ہو۔۔۔”

بہرام نے آہستہ سے کہا تو چاہت کا منہ بن گیا۔

“بہت پیاری ہو تم چاہت،بہت معصوم۔۔۔۔میں تمہارے قابل نہیں میری جان ۔۔۔۔”

بہرام نے آہستہ سے کہا تو چاہت اسکے پاس لیٹ گئی اور اپنا سر اسکے سینے پر رکھا۔

“آپ بھی بہت اچھے ہیں بس تھوڑے سے سڑیل ہیں تو کیا ہوا جیسے بھی ہیں آپ میرے ہیں۔۔۔”

چاہت نے اسکے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا۔

“پتہ ہے خان جی میری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟”

بہرام نے نظریں جھکا کر اسے دیکھا۔

“میرے منہ سے یہ سننا کہ میں تمہیں کتنا زیادہ پیار کرتا ہوں،کیسے تم میری ہر سانس میں بستی ہو اس قدر قیمتی ہو تم میرے لیے کہ تمہارے بنا ایک پل بھی جی نہیں پاؤں گا چاہت۔۔۔۔”

چاہت نے حیرت سے بہرام کو دیکھا۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ بہرام اس سے پوچھ رہا ہے یا اسے بتا رہا ہے۔

“یہ میری دوسری سب سے بڑی خواہش ہے۔۔۔ایک خواہش اس سے بھی زیادہ بڑی ہے۔۔۔۔”

چاہت نے مسکراتے ہوئے کہا۔بہرام نے بند ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا جو انجکشن ڈاکٹر نے اسے لگایا تھا اس کی وجہ سے بہرام کو بہت زیادہ نیند آ رہی تھی لیکن پھر بھی وہ سونے کی بجائے اپنی چاہت کے ساتھ یہ پل گزارنا چاہتا تھا۔وہ پل جس میں وہ اپنا کڑوا ماضی بھول چکا تھا۔

“آپ کے گال پر ویسا ڈمپل دیکھنا جیسا فرزام بھائی کے گال پر پڑتا ہے۔۔۔۔”

چاہت نے اوپر ہو کر اسکے دائیں گال پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔

“اماں نے بتایا تھا کہ آپ کے گال پر بھی فرزام بھائی جیسا ڈمپل پڑتا ہے لیکن کبھی کسی نے اسے نہیں دیکھا کیونکہ آپ مسکراتے ہی نہیں۔۔۔۔”

چاہت نے سنجیدگی سے کہا پھر اسکی بند ہوتی پلکوں کو دیکھ کر مسکرا دی۔

“میں چاہتی ہوں کہ وہ ڈمپل جسے کبھی کسی نے نہیں دیکھا وہ صرف میرے لیے ہو اور کسی کے لیے نہیں۔۔۔۔اگر آپ مسکرائیں تو صرف میرے لیے ۔۔۔۔بس میرا ہو آپ کا وہ ڈمپل۔۔۔۔”

چاہت نے آنکھیں چھوٹی کر کے جنون سے کہا جیسے اسے جتانا چاہ رہی ہو کہ وہ صرف اس کا ہے۔

“بہرام خانزادہ سر سے لے کر پیر تک صرف اپنی چاہت کا ہے۔۔۔ “

بہرام کی بات پر چاہت مسکرا دی اور اپنے نرم ہونٹ اسکے گال پر رکھے۔تبھی بہرام نے اسے اپنی پکڑ میں لے کر اپنے نیچے کیا اور اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپا کر سکون سے آنکھیں موند گیا۔

“خخ۔۔۔۔خان جی۔۔۔”

چاہت نے اسے گھبرا کر پکارا۔۔۔

“نہ جانے کیا چاہتی ہو تم چاہت مجھ سے۔۔۔میرا پیار بھی مانگتی ہو اور میرے قریب آتے ہی گھبراہٹ سے تمہاری سانسیں رک جاتی ہیں۔۔۔کیسا امتحان ہو تم چاہت خانزادہ۔۔۔”

بہرام کے سوال پر چاہت مسکرا دی اور اپنے ہاتھ اسکی مظبوط کمر پر رکھ کر اسے اپنے قریب کر لیا۔آج بہرام کی باتوں سے اسے اپنا آپ بہت قیمتی لگنے لگا تھا۔

“سو جائیں خان جی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ “

چاہت ایک ہاتھ اسکے سر کے پیچھے رکھ کر اسکے بال سہلانے لگی تو بہرام بھی سکون سے آنکھیں بند کر کے سو گیا۔اس وقت وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ اسکا سکون،اسکی چاہت اسکے بہت پاس تھی اور اس سے زیادہ حسین احساس اسکے لیے اور کوئی نہیں تھا۔۔۔
💞💞💞💞
فرزام آدھی رات تک باہر ہال میں بیٹھ کر سگریٹ پیتا رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ مناہل ابھی بھی رو رہی ہو گی لیکن اس میں مناہل کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔آدھی رات کے بعد آخر کار وہ اٹھ کر کمرے میں آیا تو مناہل کو بیڈ پر الٹے لیٹے دیکھا۔

اس کے قریب آکر فرزام کو اندازہ ہوا کہ وہ سو رہی تھی لیکن سوجی ہوئی آنکھیں اور بھیگی پلکیں اس کے رونے کی گواہ تھیں۔

فرزام نے اسکے پاس لیٹ کر اسے اپنی باہوں میں لے لیا تو مناہل کی آنکھیں فوراً کھل گئیں اور اس نے شکوہ کناں نگاہوں سے فرزام کو دیکھا۔

“اپنی تاریک زندگی میں روشنی کی ایک جھلک سمجھا تھا میں نے آپ کو فرزام اگر اب آپ نے ہی اس میں اندھیرا بھر دیا تو مر جاؤں گی میں۔۔۔”

فرزام نے فوراً اپنا ہاتھ اسکے ہونٹوں پر رکھا۔

“نہیں میرا جنون میرا یقین کرو میں مانتا ہوں کہ یہ نکاح میں نے کسی مقصد کے تحت کیا تھا لیکن خدا نے تمہیں ہی میرا مقصد بنا دیا اور اس بات کو ماننا ہی میری سچائی کا ثبوت ہے۔۔۔”

فرزام ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا اگر وہ چاہتا تو وہ مناہل سے جھوٹ بھی بول سکتا تھا۔

“کیا مقصد تھا آپ کا فرزام؟”

مناہل کے سوال پر فرزام خاموش ہو گیا۔

“‏پلیز فرزام بتائیں مجھے کیوں کی آپ نے مجھ سے شادی؟”

فرزام نے گہرا سانس لیا اور اس کی پکڑ مناہل پر مضبوط ہوگئی جیسے کہ اس کا جواب سن کر مناہل اس چھوڑ جاتی۔

“میں تمہارے ذریعے الطاف بیگ کو برباد کرنا چاہتا تھا۔”

مناہل نے اسکا چہرہ دیکھنا چاہا لیکن فرزام کی پکڑ اس پر بہت مظبوط تھی۔

“سوچا تھا تمہیں اپنا کر صبح تمہیں طلاق دوں گا تو الطاف کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔۔۔”

فرزام کی بات پر مناہل نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ اسے اپنے اندر بہت کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا۔

“لیکن یقین کرو من اس رات تمہارے آنسوؤں اور تم پر بیتے ستم نے میرے جینے کا مقصد بدل دیا۔میں ایک ہی پل میں اپنا نہیں رہا من جینے کی وجہ بس تمہارے چہرے کی ایک مسکان بن گئی۔”

مناہل کے آنسو فرزام کے سینے میں جذب ہونے لگے۔

“اگر نہیں یقین تو چاہے جان لے لو میری من اف تک نہیں کروں گا لیکن پلیز مجھے غلط مت سمجھنا۔۔۔”

مناہل نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اپنی لال آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“کیسے یقین کروں فرزام؟ میرے لیے یقین کرنا پہلے ہی بہت مشکل تھا اور یہ جاننے کے بعد تو یہ کام ناممکن ہوچکا ہے۔۔۔۔کیسے یقین کر لوں آپ پر؟”

فرزام نے اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ٹکا دیا اور مناہل کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل کے مقام پر رکھا۔

“تمہارے سامنے اپنی رگوں میں دوڑتے اس خون کی قسم کھائی تھی میں نے من کہ ہمیشہ تمہاری حفاظت کروں گا پھر تم کیسے سوچ سکتی ہو کہ میں تمہیں استمعال کر کے چھوڑ دوں گا۔۔۔کوئی انسان ہے جو اپنا دل نکال کر زندہ رہ سکے؟”

مناہل نے اپنی آنکھیں موند لیں اور بہت سے آنسو اسکے گال پر بہنے لگے۔

“مجھے بتائیں فرزام کیا دشمنی ہے آپ کی میرے تایا سے ۔۔۔۔۔؟”

مناہل کے سوال پر فرزام کچھ پل کے لیے تو خاموش رہا پھر خود پر ضبط کرتے ہوئے اسے ہر ایک بات بتا دی جسے سن کر مناہل پتھر کی ہو چکی تھی۔وہ تو جانتی بھی نہیں تھی کہ اپنی ساری زندگی اس نے کن بھیڑیوں کے درمیان گزاری تھی۔

“میرے بابا ایسے نہیں تھے فرزام وہ بہت اچھے انسان تھے۔۔۔”

فرزام نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“جانتا ہوں من اور شائید اپنی اچھائی کی وجہ سے وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔۔۔”

اپنی محرومیاں یاد کر کے مناہل کی آنکھیں رانی سے بہنے لگیں اور اس نے اپنا چہرہ فرزام کے سینے میں چھپا لیا۔

“میں نے تمہیں اپنا وہ سچ بتایا ہے من جو آج تک میں نے اور بہرام نے کسی کو نہیں بتایا۔اس دنیا کے لئے ہم دونوں سلیمان خانزادہ کی اولاد ہیں۔۔۔”

فرزام نے ٹھوڈی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا۔

“کیا میرا ہر راز جان کر بھی تم مجھ پر یقین نہیں کرو گی؟”

مناہل کی پلکیں فرزام کی بات پر جھک گئیں۔

“مجھے دھوکا مت دینا فرزام چاہے تو میری جان لے لینا لیکن پلیز مجھے دھوکا مت دینا۔۔ “

فرزام نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اپنے ہونٹ اس کی بھیگی پلکوں پر رکھے۔

“اس سے پہلے فرزام خانزادہ مرنا پسند کرے گا۔۔۔”

اس کے جواب پر مناہل نے اپنا سر اس کی سینے پر رکھ دیا اور آنکھیں موند کر لیٹ گئی۔پوری رات نہ تو وہ سوئی تھی اور نہ ہی فرزام۔بس دونوں ایک دوسرے کے قریب ایک دوسرے کی پریشانی کو محسوس کرتے رہے۔

شاید فجر کے قریب فرزام کی آنکھ لگی تھی جب اس نے اٹھ کر دیکھا تو دن کے دس بج رہے تھے اور مناہل اس کے پاس نہیں تھی۔فرزام نے اٹھنا چاہا تو اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی جس پر وہی پراپرٹی کے پیپرز پڑے تھے۔

فرزام نے ان کے اوپر پڑے ایک کاغذ کو اٹھایا جس پر کچھ لکھا تھا۔

“میری چلتی ہر سانس آپ کی امانت ہے فرزام یہ دولت کیا چیز ہے۔۔۔؟ میں نے ان پر سائین کر کے اپنے یقین کا ثبوت دیا ہے اب آپ کے یقین کا امتحان ہے فرزام مجھے کبھی تنہا مت چھوڑیے گا۔۔۔

صرف آپ کی من۔۔ “

فرزام نے وہ خط پڑا تو دو آنسو اس کی پلکوں پر اٹک گئے۔اس نے بے یقینی سے ان پراپرٹی کے پیپرز کو دیکھا جن پر سائن کر کے مناہل اپنا سب کچھ اس کے نام کر چکی تھی۔

“میری من نے ان کاغزات پر نہیں تمہاری بربادی کے پروانے پر دستخط کیے ہیں الطاف حیدر بیگ اب تمہاری دولت کا غرور بہت جلد ہی ٹوٹنے والا ہے۔۔۔”

فرزام نے اپنے ذہن میں نفرت سے الطاف بیگ کو کہا جس کی بربادی اب شروع ہو چکی تھی۔
💞💞💞💞
(ماضی)
عباس گھر واپس آیا اور اپنی گھبراہٹ مٹانے کے لیے سیدھا کچن میں جا کر پانی پینے لگا۔وہ ابھی اس گاڑی والے کو مل کر آیا تھا جس نے شہاب بیگ اور اسکی بیوی کو اپنے ٹرک سے اڑا دیا تھا۔

الطاف بیگ نے جیسے اس سے کہا تھا ویسا ہی ہوا تھا۔وہ شہاب بیگ اور اسکی بیوی کو ایکسیڈینٹ میں مروا چکا تھا اب بس اسے الطاف سے انعام میں ملنے والی رقم کا انتظار تھا۔

کچن سے باہر آنے پر اسکی نظر کمرے میں پڑی جہاں سکینہ بیڈ پر بیٹھے چاہت کو اپنی گود میں بیٹھائے کھانا کھلا رہی تھی۔عباس مسکرا کر دونوں کے پاس آیا۔

“کیسی ہے بابا کی جان۔۔۔؟”

چاہت فوراً لاڈ سے عباس سے لپٹ گئی تو عباس نے محبت سے اپنے ہونٹ اسکے سر پر رکھے اور حیرت سے سکینہ کی آنکھوں میں پریشانی کو دیکھنے لگا۔

“کیا بات ہے سکینہ کچھ پریشان لگ رہی ہو؟”

عباس کی بات پر سکینہ نے افسوس سے اسے دیکھا۔

“ہر وہ بیوی پریشان ہی ہوگی ناں جس کا حلال کمانے والا شوہر اچانک ہی دولت کے انبار کھڑے کر دے۔وہ تو یہی سوچے گی کہ یہ دولت کہاں سے آئی۔”

عباس نے چاہت کو اپنی گود سے اتارا اور غصے سے کھڑا ہو گیا۔

“کتنی بار تم سے کہا ہے کہ پیسے کے بارے میں مت سوچا کرو۔ اتنے عرصے سے ہم غریب تھے اب خدا نے ہماری سن لی ہے تو تمہیں اس سے کیا مسئلہ ہے؟”

سکینہ بھی فوراً کھڑی ہو کر اسکے سامنے آئی۔

“مجھے کوئی مسئلہ نہیں بس ایک بار مجھے یہ بتا دیں کہ آپ نے یہ پیسہ کیسے حاصل کیا ہے؟”

“میں تمہیں یہ بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔۔۔”

عباس اتنا کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔

“اس کا مطلب آپ نے سلیمان صاحب کے گھر میں آگ لگانے کے لیے ان کے دشمن سے پیسے نہیں لیے تھے؟”

اب اس کے چلتے قدم خوف سے رک گئے اور اس نے مڑ کر حیرت سے سکینہ کو دیکھا۔

“بولیں اور کہیں جھوٹ ہے یہ۔۔۔”

سکینہ زارو قطار روتے ہوئے کہہ رہی تھی اور اپنی ماں کو روتے دیکھ کر چاہت خوف سے اس کی ٹانگوں سے چمٹ گئی۔

“کس نے کہی تم سے یہ بات؟”

“کسی نے کہیں ہوتی تو کبھی بھی اس کا یقین نہیں کرتی لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اپنے گناہگار کانوں سے آپ کو ہی یہ کہتے سنا ہے۔۔۔۔۔”

عباس نے اضطراب سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔

” تت۔۔۔تمہیں کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے ایسا کچھ نہیں۔۔۔۔”

سکینہ نے افسوس سے اپنے شوہر کو دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر چاہت کے سر پر رکھ دیا۔

“یہی بات اپنی بچی کے سر کی قسم کھا کر کہیں آپ۔۔۔۔”

عباس نے بے یقینی سے سکینہ کو دیکھا اور اپنا کانپتا ہاتھ چاہت کے سر سے ہٹا دیا۔

“تو کیا کرتا میں۔۔۔۔غربت کی زندگی سے تنگ آ چکا تھا۔۔۔۔میری اور تمہاری تو خیر تھی لیکن اپنی بچی کو ہر دوسری چیز کے لئے ترستے نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔اس دنیا میں انصاف نہیں ہے سکینہ حلال کمانے والا بس ایڑیاں رگڑتا رہتا ہے۔۔۔”

سکینہ نے فورا چاہت کو اس سے دور کر کے اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔

“اعتراف کرنے کا شکریہ۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر سکینہ نے دروازے کی جانب دیکھا۔

“تم دونوں کو یقین نہیں ہو رہا تھا ناں کہ تمہارے عباس چچا ایسا کر سکتے ہیں لو ثبوت تمہارے سامنے ہے۔۔۔۔”

عباس نے سہم کر دروازے کی جانب دیکھا تو اس کی نظر فرزام اور بہرام پر پڑی جو اسے بے انتہا نفرت سے دیکھ رہے تھے۔

“اس شخص سے نہ تو میرا کوئی تعلق ہے نہ ہی چاہت کا۔۔۔۔ یہ صرف تمہارا گنہگار ہے۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر سکینہ چاہت کو لے کر وہاں سے چلی گئی اور عباس خوف سے دونوں بھائیوں کو دیکھنے لگا۔

“بب۔۔۔۔بہرام صاحب مم۔۔۔میری بات۔۔۔۔”

عباس نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی فرزام آگے بڑھا اور ایک زوردار مکہ اس کے منہ پر مارا۔

“ک۔۔۔۔کیوں کیا تم نے ایسا بولو۔۔۔۔پیسے کے لیے؟۔۔۔۔صرف پیسے کے لیے ہمارا پورا جہان اجاڑ دیا۔۔۔۔”

فرزام نفرت سے کہتے ہوئے عباس کو بری طرح سے مار رہا تھا جبکہ بہرام بس خاموشی سے کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔

“مم۔۔۔مجھے معاف کر دیں فرزام صاحب۔۔۔میں۔۔۔لالچ میں آ گیا مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔”

عباس نے روتے ہوئے فرزام کے آگے ہاتھ جوڑے لیکن فرزام کو خود کو مارنے سے نہیں روک سکا۔فرزام ایک سترہ سال کا بچہ ضرور تھا لیکن وہ اتنا کمزور نہیں تھا کہ عباس سے زیر ہو جاتا۔

“فرزام بس۔۔۔۔”

بہرام کی آواز پر فرزام نے نفرت سے ایک ٹانگ عباس کے پیٹ میں ماری اور اس سے دور ہو گیا۔بہرام زمین پر پڑے عباس کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گیا۔

“کس کے کہنے پر کیا تم نے ایسا؟”

عباس نے سہم کر ان دونوں بھائیوں کو دیکھا۔

“اااا۔۔۔۔الطاف حیدر بیگ۔۔۔۔”

اس نام پر فرزام نے نفرت سے اپنا ہاتھ دیوار میں مارا۔یعنی ان کی دنیا اجاڑ نے والا اور کوئی نہیں ان کا سگا باپ تھا۔سکینہ نے انہیں یہ تو بتایا تھا کہ عباس نے کسی سے پیسے لے کر یہ کام کیا تھا لیکن اسے اس شخص کا نام یاد نہیں تھا۔عباس کی زبان پر الطاف کا نام ان کے دل میں اپنے باپ کے لئے بہت گہری نفرت چھوڑ گیا۔

“ا۔۔۔الطاف نے مجھے اپنے پاس بلایا ااا۔۔۔۔اور مجھے کافی سارے پیسے دے کر کہا کہ آپ کے گھر میں آگ لگانی ہے۔۔۔۔”

عباس نے روتے ہوئے بتانا شروع کیا۔

“پہلے میں نہیں مانا لیکن ۔۔۔۔۔لیکن اس نے میرے سامنے ایک بڑا سا بیگ پیسوں کا رکھا تو میرے دل میں لالچ آگیا۔۔۔”

اتنا کہہ کر عباس پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

“اس رات میں نے چھپکے سے آپ سب کے کھانے میں نیند کی دوائی ملا دی تاکہ کوئی جاگ کر آگ سے بچ نہ جائے۔۔۔۔”

فرزام اب غصے سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا اگر بہرام نے اسے روکا نہ ہوتا تو وہ عباس کی جان لے لیتا۔

“پھر میں نے سب ملازموں کو جھوٹ بولا کہ صاحب نے انہیں گھر جانے کا کہا ہے اور آدھی رات ہوتے ہی میں نے ہر جگہ پیٹرول ڈال کر آگ لگا دی اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔”

عباس نے اپنا چہرہ زخمی ہاتھوں میں چھپا لیا اور رونے لگا۔

“الطاف صاحب نے مجھے اس کام کے دس لاکھ روپے دیے۔۔۔”

عباس نے سر اٹھا کر بہرام کو دیکھا جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا اور اسکی یہ سرد مہری عباس کو مزید ڈرا رہی تھی۔

“مم۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں بہرام صاحب۔۔۔۔ممم ۔۔۔۔مجھ سے غلطی۔۔۔”

عباس نے ہاتھ جوڑ کر کہا لیکن بہرام نے ایک بندوق نکال کر عباس کے ماتھے پر رکھ دی تو عباس کے ساتھ ساتھ فرزام کی آنکھیں بھی حیرت سے پھیل گئیں۔

“ہم سے ہمارا جہان چھین کر معافی مانگ رہے ہو کیا لگتا ہے تمہیں معاف کر دوں گا میں۔۔۔۔”

بہرام کے سوال پر عباس خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔جبکہ بہرام اب بندوق اسکے سینے پر رکھ چکا تھا۔

“سلیمان خانزادہ کی تربیت ایسا کرنے سے روکتی ہے مجھے۔۔۔۔”

فرزام نے بہرام کو دیکھا جس کے بے تاثر چہرے پر زرا سی بھی شکن نہیں تھی۔

“لیکن کیا کروں رگوں میں الطاف بیگ کا گھٹیا خون دوڑ رہا ہے۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر بہرام نے عباس کو مزید بولنے کا موقع دیے بغیر گولی چلا دی اور ساتھ ہی عباس کا وجود زمین بوس ہو گیا۔بہرام نے اٹھ کر وہ بندوق واپس چھپا لی اور باہر جانے لگا۔

“بہرام یہ گن۔۔۔؟”

بہرام نے فرزام کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے باہر آ گیا۔باہر آتے ہی اسکی نظر سکینہ پر پڑی جو چھوٹی سی چاہت کو اپنے سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں جبکہ چاہت سہم کر بہرام کو دیکھ رہی تھی۔

اس چھوٹی سی جان کو دیکھ بہرام کو اندازہ ہوا کہ وہ اپنے غصے میں کیا کر گزرا تھا۔اس نے چاہت کے ساتھ وہی کیا تھا جو عباس نے ان دونوں کے ساتھ کیا تھا۔

بچپن میں ہی اس سے اس کا سب سے پیارا رشتہ چھین لیا تھا۔چاہت کو دیکھ کر پچھتاوا بہرام پر بری طرح سے حاوی ہونے لگا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا وہ کچھ بھی کر لیتا اس سچائی کو نہیں بدل سکتا تھا کہ وہ چاہت عباس کا گنہگار تھا۔