📱 Download the mobile app free
Home > Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 > Kaif E Junoon (Episode 16)
[favorite_button post_id="16159"]
46411 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaif E Junoon (Episode 16)

Kaif E Junoon By Harram Shah

چاہت کی آنکھ کھلی تو بہرام ابھی بھی اسے اپنی آغوش میں لیے چہرہ اسکی گردن میں چھپا کر سو رہا تھا۔ایک ہلکی سی مسکراہٹ چاہت کے ہونٹوں پر آئی۔کل رات چاہے اس نے محبت کا اظہار نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی چاہت کو یہ احساس دلا چکا تھا کہ وہ دل ہی دل میں اسے کتنا چاہتا ہے۔

شائید اسکا شوہر ایسا تھا ہی نہیں جو زبان سے اقرار کرتا بلکہ وہ تو اپنے جزبات کو کسی سے بیان کرنے کا عادی نہیں تھا اور چاہت نے سوچ لیا تھا کہ جب تک وہ دل سے ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو جاتا وہ اسے مجبور نہیں کرے گی۔

چاہت کی سوچوں کا تسلسل بہرام کی انگڑائی سے ٹوٹا اور ساتھ ہی بہرام نے اس سے دور ہو کر آنکھیں کھول دیں تو چاہت شرمیلی سی مسکان کے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔

“اب کیسی طبیعت ہے آپ کی؟”

چاہت نے اسے بیٹھتے دیکھا تو جلدی سے اٹھ کر پوچھنے لگی۔

“ٹھیک ہوں۔۔۔”

بہرام سنجیدگی سے اتنا کہہ کر اٹھنے لگا تو چاہت نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“آپ کہاں جا رہے ہیں؟”

بہرام نے ایک نظر اپنا ہاتھ اسکے نازک سے ہاتھ میں دیکھا۔

“آفس۔۔۔”

بہرام کی بات پر چاہت کا منہ بن گیا۔

“بالکل نہیں جا رہے آپ آفس اتنی طبیعت خراب تھی آپ کی پوری رات بخار رہا ہے آپ کو۔۔۔”

بہرام نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔اب وہ دوبارہ سے سرد مہر سا بہرام بن چکا تھا۔

“تنگ نہیں کرو چاہت مجھے بہت کام ہے۔۔۔”

بہرام نے اٹھ کر الماری سے اپنے کپڑے پکڑے تو چاہت اسکے پاس آئی اور اسکے ہاتھ سے کپڑے چھین لیے۔

“جب میں نے کہا ہے کہ آپ نہیں جا رہے تو نہیں جا رہے سمجھے آپ اور اگر اب آپ نے ضد کی ناں تو۔۔۔۔”

“تو کیا کرو گی؟”

بہرام نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دلچسپی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔پہلے تو چاہت نے اپنے دانت کچکچائے پھر آگے بڑھ کر اپنا سر بہرام کے سینے پر رکھا اور اپنے ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹ دیے۔

“پلیز مت جائیں ناں خان جی میری خاطر آج مت جائیں۔۔۔۔”

بہرام نے حیرت سے اسکی اس پیش قدمی کو دیکھا اور پھر ٹھوڈی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کیا۔

“میں تو تم پر ظلم کرتا ہوں ناں بہت برا ہوں میں پھر کیوں ہے تمہیں میری پرواہ میں جیوں یا مروں کیا فرق۔۔۔”

بہرام کے سوال پر چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اس نے فوراً اپنا ہاتھ بہرام کے منہ پر رکھا۔

“ایسا مت کہیں خان جی اللہ آپ کو میری عمر بھی لگا دیں۔۔۔۔”

بہرام کتنی ہی دیر اسے اپنے قریب کھڑا دیکھتا رہا پھر اسکا ہاتھ تھام کر اسے خود سے دور کیا۔

“ٹھیک ہے نہیں جاتا آفس۔۔۔۔”

بہرام کی بات پر چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔آج زندگی میں پہلی بار وہ بہرام خانزادہ کو زیر کر کے اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

“جاؤ کھانا لگاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔”

چاہت نے ہاں میں سر ہلایا اور خوشی سے نیچے جانے لگی تا کہ خالہ کو کھانا لگانے کا کہہ سکے۔

“سنو چاہت۔۔۔۔”

بہرام کی آواز پر چاہت کے قدم جم گئے۔

“پھر کبھی مجھ سے بات کرنا بند مت کرنا۔اپنی ناراضگی میں کچھ بھی کرو مجھے پرواہ نہیں لیکن تمہاری جسمانی یا ذہنی دوری برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر بہرام واش روم میں چلا گیا اور چاہت مسکراتے ہوئے کچن میں آ کر کھانا لگوانے لگی۔کھانے کے وقت تک وہاں بہرام کے ساتھ ساتھ مناہل اور فرزام بھی آ چکے تھے۔

“میں کچھ عرصے کے لیے مناہل کو لے کر لاہور شفٹ ہو رہا ہوں بہرام۔”

کھانا کھانے کے دوران فرزام کے بتانے پر بہرام نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا لیکن وہ فرزام کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا کہ مناہل نے اس پر بھروسہ کر کے فرزام کے منصوبے کو کامیاب کر دیا تھا۔

“ٹھیک ہے لیکن تم اکیلے وہاں نہیں رہو گے میرے سب سے بھروسے مند ساتھی تمہارے ساتھ رہیں گے۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ تم کسی قسم کی مصیبت میں پڑو۔۔۔”

بہرام کی بات پر مناہل نے سہم کر فرزام کو دیکھا۔

“فکر مت کرو بگ بی کسی میں اتنا دم نہیں کہ وہ فرزام خانزادہ کو نقصان پہنچا سکے۔۔۔۔”

فرزام نے لاپرواہی سے کہا اور اسکی اسی لاپرواہی سے تو بہرام کو چڑ تھی۔

“لیکن آپ علیحدہ گھر کیوں لے رہے ہیں فرزام بھائی یہاں ہمارے ساتھ رہیں ناں آپ دونوں۔۔۔”

چاہت کے افسردگی سے کہنے پر فرزام مسکرایا۔

“کیونکہ تم میری معصوم سی بیوی پر ظلم کر رہی ہو خود جیٹھانی بن کر آرام کرتی ہو اور اس سے سارا کام کرواتی ہو۔۔۔”

فرزام کی بات پر چاہت کی آنکھیں حیرت سے بڑی ہو گئیں۔

“اللہ توبہ، خان جی جھوٹ بول رہے ہیں یہ۔۔۔”

چاہت نے بہرام سے کہا لیکن بہرام کا سارا دھیان فرزام پر تھا۔

“مناہل کو مت لے کر جاؤ فرزام وہ یہاں محفوظ رہے گی۔بہتر یہی ہو گا کہ تم وہاں اکیلے جاؤ۔۔۔۔”

فرزام سے دوری کے خیال سے ہی مناہل کا دل بہت زور سے دھڑکا۔

“تمہیں میری من کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے میرے بھائی اس کے لیے میں ہوں اور جو کر رہا ہوں سوچ سمجھ کر کر رہا ہوں تم اس کی فکر مت کرو۔۔۔”

بہرام فرزام کی آنکھوں میں جنون کی آگ دیکھ سکتا تھا شائید اسے بہرام کا مناہل کے بارے میں سوچنا تک گراں گزرا تھا۔

“ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی لیکن رشید اور میرے باقی گارڈز تمہارے ساتھ جائیں گے۔۔۔۔”

بہرام اتنا کہہ کر اٹھ گیا تو چاہت نے جلدی سے چائے ٹرے میں رکھی اور اس کے پیچھے چلی گئی۔فرزام نے مسکرا کر مناہل کو دیکھا جو سہمی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“مجھے وہاں جاتے ڈر لگ رہا ہے فرزام۔۔۔”

فرزام کے ہونٹ مسکرا دیے۔

“تو یہاں رہ لو۔۔۔”

مناہل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

“خود سے دور کرنا چاہتے ہیں مجھے؟”

فرزام مسکرا کر اسکی جانب پلٹا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کھینچا۔یوں ڈائننگ ہال میں اسکی اس جرات پر مناہل کا سانس اسکے سینے میں ہی اٹک گیا۔

“تم سے ایک انچ کی دوری گوارا نہیں میرا جنون اتنے فاصلے کو کیسے برداشت کروں گا۔تمہیں تو خواب میں بھی خود سے دور نہ جانے دوں۔۔۔۔”

فرزام نے اسکے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھے تو مناہل گھبرا کر اس سے دور ہو گئی۔

“تیار رہنا من ایک گھنٹے میں نکلنا ہے ہمیں وہاں فرنشڈ گھر کا ارینج پہلے سے کر چکا ہوں۔۔۔”

مناہل نے ہاں میں سر ہلا دیا اور خاموشی سے کھانا کھانے لگی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی کسی بات پر فرزام پھر سے یہیں ہال میں اسے اپنی قربت دیکھانے لگتا۔
💞💞💞💞
چاہت نے آج سارا دن بہرام کے ساتھ گزارا تھا۔پورا دن وہ نہ جانے اس سے یہاں وہاں کی کتنی ہی باتیں کرتی رہی تھی اور پھر بہرام بھی حیران تھا کہ وہ اتنی باتیں کہاں سے لاتی تھی۔

ابھی بھی بہرام بیڈ پر بیٹھے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا اور چاہت اسکے پاس بیٹھی سیب کاٹ کر اسے دے رہی تھی اور ساتھ ہی مسلسل باتیں کرتی جا رہی تھی۔

“ایک بتا بتاؤ چاہت سیب چھری سے کاٹ رہی ہو یا زبان سے ہی کام چلا رہی ہو؟”

آخر کار بہرام نے گہرا سانس لیتے ہوئے اس سے پوچھا تو پہلے تو چاہت نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا پھر اس کی بات کا مطلب سمجھ کر چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اس نے منہ بنا کر ہاتھ میں پکڑی چھری پلیٹ میں رکھ دی۔

“ٹھیک ہے نہیں کرتی اب باتیں بالکل چپ ہو جاتی ہوں۔۔۔”

بہرام نے ایک نظر اٹھا کر اسکے سوجے ہوئے منہ کو دیکھا۔

“مزاق کر رہا تھا میں۔۔۔”

بہرام سنجیدگی سے کہتے ہوئے پھر سے اپنا کام کرنے لگا۔

“مذاق ناں ہنس کر کیا جاتا ہے اب آپ جیسے منہ بنا کر بات کرتے ہیں اگلے کو تو لگے گا کہ بس طعنے مار رہے ہیں۔۔۔۔”

چاہت نے منہ پھلا کر کہا اور سیب کا ٹکڑا کاٹ کر بہرام کے سامنے کیا۔

“اب بس بھی کر دو کتنا کھلاؤ گی صبح سے بس کھلاتی جا رہی ہو مجھے۔۔۔”

بہرام نے اکتا کر کہا۔

“ہاں تو آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں طاقت کے لیے کھانا تو پڑے گا ناں۔۔۔۔۔ابھی تو گرم دودھ لے کر آتی ہوں وہ پی کر سوئیں گے آپ ۔۔۔”

چاہت اٹھنے لگی تو بہرام نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔

“کھانے اور ٹھونسنے میں فرق ہوتا ہے اور دودھ کا تو سوچنا بھی مت۔۔۔۔”

“لیکن خان جی۔۔۔۔”

“تمہیں سمجھ نہیں آیا چاہت کیا کہا میں نے۔۔۔۔”

چاہت منہ بسور کر اٹھی اور پلیٹ کچن میں چھوڑ کر آنے کے بعد آ کر خاموشی سے بہرام کے ساتھ لیٹ گئی لیکن زیادہ دیر اس سے خاموش نہیں رہا گیا تو سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر بہرام کو دیکھنے لگی۔

“فرزام بھائی اور مناہل پہنچ گئے ہیں لاہور؟”

“ہممم کافی دیر سے پہنچ چکے ہیں اور اپنے نئے گھر میں سیٹ بھی ہو گئے ہیں ۔۔۔۔”

چاہت نے ہاں میں سر ہلایا۔

“آپ کا کتنا کام رہتا ہے؟”

بہرام نے بھویں اچکا کر اسکے دیکھا۔

“تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”

“مجھے نیند آئی ہے ناں تو کام ختم کر کے سو جاتے ہیں۔۔۔۔”

چاہت نے مدعا بیان کیا۔

“تو تم سو جاؤ ۔۔۔۔”

چاہت منہ بسورتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔

“اچھی بیویاں شوہر کے کھانے کے بعد کھاتی ہیں اس کے سونے کے بعد سوتی ہیں اور اس کے جاگنے سے پہلے اٹھ جاتی ہیں۔۔۔۔”

بہرام نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“یہ سب ہمارے معاشرے کی باتیں ہیں چاہت ہمارا دین ایسا حکم بالکل نہیں دیتا۔دین کے مطابق میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں وہ دونوں ایک دوسرے کے برابر ہیں۔بیوی شوہر کی ملکہ ہے اسکی غلام نہیں جو یہ سب کرے۔۔۔ “

بہرام نے اتنا کہہ کر اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر لیٹ گیا۔

“تو پھر میری دوست کیوں کہتی ہے کہ اسکی اماں نے اسے بتایا تھا کہ بیوی شوہر کے سونے کے بعد سویا کرے نہیں تو فرشتے پوری رات اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔۔۔”

بہرام نے گہرا سانس لیا اور ہاتھ بڑھا کر لیمپ بند کر دیا۔

“ایسا کچھ نہیں ہے چاہت ویسے بھی وہ میاں بیوی اور ہوتے ہیں ہم ویسے نہیں۔۔۔ “

چاہت اسکی بات پر حیران ہوئی۔

“کیوں وہ ایسا کیا کرتے ہیں جو وہ ہم سے انوکھے ہیں۔۔۔”

چاہت کی اس بات پر بہرام کا دل کیا کہ اسکا گلا دبا دے آخر وہ کس حد تک بیوقوف ہو سکتی تھی۔

“سو جاؤ چاہت۔۔۔۔”

بہرام نے اسے وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔

“نہیں پہلے بتائیں ناں خان جی کہ باقی میاں بیوی ہم سے علیحدہ کیوں ہیں ہمیں بھی ان کے جیسا بننا چاہیے ناں اور ہر کام ویسا ہی کرنا چاہیے جیسا وہ کرتے ہیں میں نہیں چاہتی کہ فرشتے پوری رات مجھ پر لعنت بھیجیں۔۔۔”

“چاہت میں کہہ رہا ہوں سو جاؤ۔۔۔”

بہرام نے اسے پھر سے وارننگ دی۔

“میں ناں کل اماں کو فون کر کے ان سے یہ بات پوچھوں گی اب آپ تو بتاتے نہیں لیکن انہیں تو پتہ ہو گا ناں کہ باقی میاں بیوی ہم سے کیوں علیحد۔۔۔۔”

اچانک ہی بہرام اسے اپنی گرفت میں لے کر اس پر حاوی ہوا تو چاہت کا سانس اسکے سینے میں ہی اٹک گیا۔نائٹ بلب کی روشنی میں وہ بہرام کی آنکھوں میں جنون دیکھ کر کانپ سی گئی۔

“وہ میاں بیوی ہم سے الگ اس لیے ہیں چاہت کہ ہر شوہر اپنی بیوی سے وہ حق لیتا ہے جو میں تم سے نہیں لے رہا اب بھی بات کو سمجھی ہو یا پریکٹیکل کر کے بتاؤں۔۔۔۔”

بہرام کی ٹون پر چاہت کا روم روم کپکپا اٹھا۔

“نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔”

“میرے خیال سے تمہیں ایک ڈیمو دیکھانا چاہیے تا کہ پھر ایسے بے تکے سوال کرنا چھوڑ دو تم۔۔۔ “

اتنا کہہ کر بہرام نے اسکا چہرہ بالوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور بہت شدت سے اسکے ہونٹوں پر اپنی مہر لگانے لگا۔چاہت کا چھوٹا سا کپکپاتا وجود اسکے قامتی جسم کے نیچے چھپ سا گیا تھا۔

وہ بہرام کی اس شدت پر گھبرا کر خود میں ہی سمٹتی چلی جا رہی تھی اور بہرام اسکی قربت کے نشے میں مد ہوش ہوا کتنی کی دیر ان نازک لبوں پر اپنی شدتیں لٹاتا رہا۔

چاہت نے اسکی شرٹ اپنی مٹھی میں دوبوچ لی اور اپنی رکتی سانسوں کی پرواہ کیے بغیر خود کو اسکے سپرد کر دیا۔

جب بہرام کو احساس ہوا کہ اسکی نازک جان کا سانس تک اسکے سینے میں اٹک چکا ہے تو اس سے دور ہوا اور اسے خود سے لگا کر اسکا سر اپنے سینے پر رکھ دیا۔

“صرف اتنی سی گستاخی پر سانسیں رک جاتیں ہیں تمہاری چاہت محبتوں کے اس جنون کو کیسے سہو گی جسے تم ہر لمحہ بھڑکاتی ہو۔۔۔۔”

بہرام کے سوال پر چاہت کا روم روم کانپ اٹھا۔

“سو جاؤ چاہت اس سے پہلے کہ تمہیں پوری طرح سے بتا دوں کہ بیوی کو کیوں شوہر کے سونے کے بعد سونا چاہیے۔۔۔”

بہرام کی بات پر چاہت نے فوراً اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں۔اسکی معصومیت پر اسے خود میں بھرتا بہرام بھی سکون سے آنکھیں موند گیا۔اس نے چاہت سے دور رہنے کا جو فیصلہ کیا تھا اب اس فیصلے پر قائم رہنا اس کے بس سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔
💞💞💞💞
الطاف آفس میں داخل ہوا تو اسکی سیکرٹری اسے پریشانی سے دیکھنے لگی۔یہ دیکھ کر الطاف بھی حیران رہ گیا۔

“کیا بات ہے کنول ؟کوئی پریشانی ہے؟”

الطاف کے سوال پر کنول نے پریشانی سے الطاف کے آفس کی جانب دیکھا۔

“سر وہ آپ کے روم میں وہ۔۔۔۔؟”

الطاف کے ماتھے پر بل آئے اور وہ اپنے آفس کی جانب چل دیا۔دروازہ کھولتے ہی اسکی نظر کسی پر پڑی جو شان سے اسکی کرسی پر بیٹھا میز پر ٹانگیں رکھے ہاتھ میں پکڑی فائل کو دیکھ رہا تھا۔

“ہو دا ہیل آر یو؟اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں بیٹھنے کی۔۔۔۔”

الطاف کے غصے پر اس شخص نے اپنے چہرے کے سامنے سے فائل ہٹائی تو الطاف کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا کیوں کہ اس وقت وہاں بیٹھا وہ شخص اور کوئی نہیں فرزام خانزادہ تھا۔

“تم یہاں کیسے آئے اور میری کرسی پر کس کی اجازت سے بیٹھے ہو؟”

الطاف غصے سے چلایا تو فرزام نے برا سا منہ بنایا اور ہاتھ اپنے کان پر رکھا جیسے کہ الطاف کی آواز اسکے کان میں چبھی ہو۔

“آہستہ بہرا نہیں ہوں میں سنائی دیتا ہے مجھے۔۔۔”

الطاف اسکی ہمیشہ والی ہٹ دھرمی پر اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا۔

“اور رہی بات اس کرسی پر بیٹھنے کی تو وہ کیا ہے ناں اس پر جتنا حق تمہارا ہے اتنا ہی میرا بھی ہے تو ایز آ باس میں یہاں جب چاہے آ کر بیٹھ سکتا ہوں۔۔۔۔”

الطاف نے حیرت سے اس جوان لڑکے کو دیکھا۔

“کیا مطلب۔۔۔؟”

فرزام کے ہونٹوں پر پھر سے مسکراہٹ آئی اور اس نے ایک فائل الطاف کے سامنے کی۔

“مطلب یہ۔۔۔”

الطاف نے فوراً اس فائل کو پکڑا اور سب صفحے جلدی جلدی سے پلٹ کر حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اس فائل کو دیکھنے لگا۔

“تمہاری اس کمپنی کے ففٹی پرسینٹ شئیرز مناہل کے نام پر تھے جنہیں میری من اب میرے نام کر چکی ہے یعنی میں تمہارے اس بزنس کا ففٹی پرسینٹ پارٹنر بن چکا ہوں۔۔۔”

الطاف حیرت سے پھٹی آنکھوں سے ان کاغزات کو دیکھ رہا تھا جو فرزام کی بات کا ثبوت تھے۔

“ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔”

“بہت افسوس سے تمہارا یہ حسین خواب توڑ کر کہوں گا کہ ایسا ہو چکا ہے۔۔۔۔”

فرزام نے کرسی کو دائیں بائیں گھماتے ہوئے اپنی ناخن کو دیکھ کر کہا۔

“تو میں نے یہ سوچا ہے کہ جلد از جلد اپنے حصے کے شئیرز سے علیحدہ بزنس سٹارٹ کر لوں یا انہیں سٹوکس میں لگا دیتا ہوں زیادہ فائدہ ہو جائے گا۔۔۔”

الطاف کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے سامنے موجود لڑکے کی جان لے لے۔

“ایسا سوچنا بھی مت۔۔۔۔۔”

فرزام قہقہہ لگا کر ہنسا اور اٹھ کر الطاف کے سامنے آ کر سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھنے لگا۔

“تم سوچنے تک ہی رہنا میں تو بہت کچھ کر گزرا ہوں۔۔۔”

الطاف نے آگے ہو کر اسکا گریبان پکڑنا چاہا۔

“نہ نہ نہ۔۔۔۔ایسا غلطی سے بھی مت کرنا۔۔۔۔۔”

فرزام کی بات پر الطاف بس اپنی مٹھیاں بھینچتا رہ گیا۔

“تمہیں تمہاری یہ حرکت بہت مہنگی پڑے گی فرزام خانزادہ۔۔۔۔”

الطاف کی دھمکی پر فرزام کے ہونٹ مسکرائے اور اس نے ایک سگریٹ سلگا کر ہونٹوں کے درمیان دبا لیا۔

“پہلے بھی تمہیں بتایا تھا سستی چیز کا شوق نہیں ہے مجھے خیر یہیں لاہور میں رہ رہا ہوں۔جو کر سکتے ہو کرلو میں بھی تو دیکھوں صرف گرجنا ہی سیکھا ہے یا برسنے کی بھی ہمت رکھتے ہو۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر فرزام وہاں سے چلا گیا اور اس کے جاتے ہی الطاف نے غصے سے اپنی میز پر ہاتھ مارا۔

“میری آدھی دولت پر قبضہ کرکے تم بھی جانتے ہو کہ نقصان پہنچانا تو دور میں تمہیں چھو بھی نہیں سکتا۔۔۔۔”

الطاف نے انتہائی زیادہ غصہ کے عالم میں اپنے دانت پیس کر کہا۔

“لیکن دیکھنا فرزام خانزادہ تمہیں ایسی مار ماروں گا جو تم نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا۔”

الطاف نے میز پر پڑا فون اٹھایا اور کان سے لگا لیا۔

“جی سر۔۔۔؟”

سامنے والے شخص نے فون اٹھاتے ہی پوچھا۔

“ہم کل لاہور جا رہے ہیں تیار رہنا اب چاہت خانزادہ سے ملاقات کا وقت ہو چکا ہے۔۔۔”

ایسا کہتے ہوئے اس کے چہرے پر بہت زیادہ وحشت تھی۔

“اوکے سر۔۔۔”

اس آدمی کے ایسا کہتے ہی الطاف نے فون بند کر دیا اور ایک شاطرانہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی۔

اب تمہیں پتہ چلے گا فرزام خانزادہ کہ تم نے کس سے بھڑنے کی غلطی کی ہے ۔۔۔۔
💞💞💞💞
بہرام آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی ٹائی باندھ رہا تھا جبکہ نظریں مسلسل آئینے میں سے نظر آتی چاہت پر تھیں جو یونیفارم پہنے اپنے لمبے بالوں کی چوٹی بنا رہی تھی۔پھر وہ اپنا کام مکمل کر کے بہرام کے پاس آنے لگی تو بہرام اس سے دھیان ہٹا کر پرفیوم خود پر سپرے کرنے لگا۔

“خان جی وہ۔۔۔”

چاہت نے سر جھکا کر ہچکچاتے ہوئے کہا تو بہرام اسکی جانب پلٹا اور اپنے والٹ میں سے پیسے نکال کر اس کے سامنے کیے۔

“پیسے نہیں چاہیں مجھے پہلے ہی بہت ہیں میرے پاس۔۔۔”

چاہت نے پیسوں کو ہاتھ لگائے بغیر کہا۔

“تو کیا چاہیے؟”

چاہت نے اپنی کالی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔

“م۔۔۔۔میں نے اپنی دوستوں کو بتایا تھا کہ میری شادی آپ سے ہوئی ہے لیکن وہ مانتی ہی نہیں۔۔۔تو۔۔۔۔تو کیا آج آپ مجھے ڈرائیور کے ساتھ بھیجنے کی بجائے خود کالج چھوڑ آئیں گے تا کہ وہ دیکھ لیں کہ آپ سچی میں میرے شوہر ہیں۔۔۔۔”

چاہت کی آنکھوں میں امید کی ایک کرن تھی۔

“چاہت مجھے دیر ۔۔۔۔”

“پلیز بس مجھے کالج کے باہر چھوڑ کر چلے جانا لیکن آپ چھوڑ آئیں۔۔۔۔”

بہرام نے گہرا سانس لیا اور ہاں میں سر ہلا کر اسے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تو چاہت نے خوشی سے چہکتے ہوئے اپنا بیگ پکڑا اور اس کے پیچھے آ گئی۔

“کالج سے واپسی پر میں آپ کے پاس آ جاؤں گی پھر اماں سے ملنے چلیں گے اتنی زیادہ دیر ہو گئی ہے ان سے ملے بہت اداس ہوں میں ان کے بغیر۔۔۔۔”

چاہت نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا تو بہرام نے ہاں میں سر ہلایا اور اسکا یوں چاہت کی ہر بات ماننا چاہت کو کتنی خوشی دے رہا تھا اسکا اندازہ بہرام کو بھی نہیں تھا۔

“آپ بہت زیادہ اچھے ہیں خان جی اس دنیا کے سب سے اچھے شوہر ہیں۔۔۔”

بہرام اسے کوئی جواب دیئے بغیر ڈرائیور کرنے لگا اور چاہت سارا راستہ اس سے کوئی نہ کوئی بات کرتی رہی۔کالج پہنچ کر چاہت گاڑی سے نکلی تو بہرام بھی گاڑی سے نکل کر اس کے پاس آیا۔

“مجھے کالج چھوڑنے کا بہت شکریہ خان جی۔۔۔۔”

چاہت نے مسکرا کر کہا اور مڑ کر اپنی سہیلیوں کو دیکھا جو دروازے کے پاس کھڑی اسکا انتظار کر رہی تھیں۔یہ چاہت کی تمام سہیلیوں کی عادت تھی جب تک ان کی ہر دوست کالج نہیں آ جاتی تھی وہ دروازے سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر اس کا انتظار کرتی تھیں۔

بہرام نے جب چاہت کی نظروں کا زاویہ دیکھا تو اس نے اپنا ایک ہاتھ چاہت کے گال پر رکھا اور نرمی سے اپنے ہونٹ چاہت کے ماتھے پر رکھ کر اس سے دور ہو گیا۔ بہرام کی اس حرکت پر چاہت کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

“اب انھیں اس بات میں کوئی شک نہیں رہے گا کہ تم میری بیوی ہو۔۔۔۔”اور نہ ہی تمہارے ساتھ پڑھنے والے لڑکوں کو۔

آخری بات بہرام نے اپنے دل میں کہی جبکہ اس کی بات پر چاہت گلابی چہرہ لیے کالج میں داخل ہوگئی اور بہرام اس کے نظروں سے اوجھل ہونے تک وہیں رہا پھر وہ بھی اپنے کام کی جانب چل دیا۔

“کیا بات ہے چاہت ایک تو اتنا ڈیشنگ ہزبینڈ ہے تمہارا اور کیسے تمہیں کس کر کے بھیجا۔۔۔۔ہائے یار میرا تو دل لٹ گیا تھا وہ منظر دیکھ کر۔۔۔۔”

چاہت اور اسکی سہیلیاں کلاس میں بیٹھی تھیں جب اسکی ایک دوست نے کہا تو چاہت پھر سے گلابی ہو گئی۔

“اب ہماری چاہت ہے ہی اتنی پیاری بہرام بھائی خود پر قابو کریں بھی تو کیسے۔۔۔۔”

ایک سہیلی کی بات پر ساری سہیلیاں ہنس دیں تو چاہت شرم سے چور ہوتی اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔تبھی دروازہ ناک ہونے کی آواز پر وہ سب سیدھی ہو کر بیٹھ گئیں کہ شاید ان کی ٹیچر آئی ہے لیکن سامنے کالج کی آیا کو دیکھ کر سب پھر سے ریلیکس ہو گئیں۔

“چاہت بیٹا آپ کو پرنسپل میم بلا رہی ہیں۔۔۔۔”

آیا کی بات پر چاہت نے گھبرا کر اپنی دوستوں کو دیکھا۔

“جاؤ میرے خیال میں جو منظر تمہارے شوہر نے صبح پورے کالج کو دکھایا ہے ناں اسی کے بارے میں پوچھنا ہوگا۔”

اپنی دوست کی بات پر چاہت نے تھوک نگلا اور اٹھ کر آیا کے ساتھ پرنسپل آفس کی جانب چل دی۔چاہت اجازت لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو اسکی نظر ایک آدمی پر پڑی جو پرنسپل کے سامنے بیٹھا تھا۔

“دیکھیں مسٹر بیگ میں ایسا کرکے بہت بڑا رسک لے رہی ہوں اگر بہرام سر کو پتہ لگ گیا تو ایک جھٹکے میں میرا کالج بند کروا دیں گے۔۔۔۔”

“ڈونٹ وری مس ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔۔”

اس آدمی نے کہا تو پرنسپل نے چاہت کی جانب دیکھا اور مسکرا دیں۔

“چاہت بیٹا یہ آپ کے بابا کے دوست ہیں اور آپ سے ملنے آئے ہیں۔”

چاہت نے حیرت سے اس آدمی کو دیکھا جسے وہ زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھ رہی تھی۔

“لیکن میں انہیں نہیں جانتی میم۔۔ “

اس بات پر وہ آدمی اٹھ کر چاہت کے پاس آیا۔

“لیکن میں تمہیں جانتا ہوں چاہت بیٹا۔۔۔۔تمہیں بھی تمہارے شوہر بہرام کو بھی۔۔۔۔۔”

چاہت نے حیرت سے اس انجان آدمی کو دیکھا۔

“تو ٹھیک ہے آپ اپنا نام بتا دیں میں خان جی سے پوچھ کر آپ سے بات کروں گی۔۔۔۔”

الطاف نے اسکی بات پر اپنی مٹھیاں بھینچ لیں لیکن چہرے کی مسکراہٹ جوں کی توں رہی تھی۔

“اور اگر میں بہرام کے بارے میں تم سے بات کرنا چاہوں تو؟”

چاہت نے پریشانی سے پہلے پرنسپل اور پھر اس آدمی کو دیکھا۔

“خان۔۔۔خان جی کے بارے میں۔۔۔۔”

“ہاں بیٹا تمہارے خان جی اور تمہارے بابا کے بارے میں کچھ ایسا ہے جو مجھے لگتا ہے کہ تمہیں بتانا بہت ضروری ہے۔میرے ساتھ چلو میں تمہیں ہر بات بتاتا ہوں۔۔۔”

اتنا کہہ کر وہ آدمی وہاں سے چلا گیا تو چاہت بھی اضطراب سے اپنے ہاتھ ملتی اسکے پیچھے چلی گئی۔وہ جاننا چاہتی تھی ایسی کونسی بات تھی جو یہ شخص اسے اس کے بابا اور بہرام کے بارے میں بتانا چاہتا تھا۔

وہ آدمی کالج میں ہی کھڑی ایک بلیک گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا تو چاہت بھی اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

“میرا نام الطاف حیدر بیگ ہے اور میں تمہارے بابا عباس کا بہت پرانا دوست ہوں۔۔۔”

“آپ مجھے کیا بتانا چاہتے ہیں؟”

چاہت نے بے چینی سے پوچھا وہ بس جلد از جلد اس کی بات جان کر یہاں سے جانا چاہتی تھی۔

“کیا تم جانتی ہو کہ تمھارے بابا کی موت کیسے ہوئی تھی؟”

چاہت نے فورا ہاں میں سر ہلا دیا۔

“اماں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ مجھے لے کر باہر گئی تھیں جب واپس آئیں تو ہمارے گھر میں کچھ چور آئے تھے جنہوں نے میرے بابا کو مار دیا تھا۔۔۔”

الطاف اسکی بتائی کہانی پر مسکرا دیا۔۔

“تمہاری معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کتنی صفائی سے جھوٹ بولا گیا ہے تم سے۔۔۔”

چاہت نے حیرت سے اسے دیکھا نہ جانے کیوں اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔

“کک۔۔۔کیا مطلب۔۔۔؟”

“مطلب یہ کہ تمہارے بابا کو کسی چور نے نہیں بلکہ تمہارے ہی شوہر بہرام خانزادہ نے مارا تھا۔۔۔۔۔”

اس آدمی کی بات پر ساتوں آسمان ایک ساتھ ٹوٹ کر چاہت پر گرے پہلے تو چاہت کو لگا کہ اس کا دل بند ہو جائے گا لیکن پھر خود پر قابو کرتے چاہت نے اپنے دانت کچکچائے اور گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔

“آپ کی عمر کا لحاظ کر کے آپ کو کچھ نہیں کہہ رہی ورنہ ایسی گھٹیا بات کرنے والے کا منہ توڑ دیتی میں ۔۔۔۔۔”

الطاف نے اس پاگل لڑکی کو افسوس سے دیکھا۔

“تمہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟”

“مجھے ایسا لگتا نہیں بلکہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں آپ کو کیا لگتا ہے کوئی بھی انجان آدمی آ کر مجھے کوئی بات کہے گا اور میں مان لوں گی۔۔۔؟”

چاہت کے غصے پر الطاف نے گہرا سانس لیا۔

“ٹھیک ہے بیٹا میں تو جھوٹ بول رہا ہوں لیکن تمہاری ماں تو ہمیشہ سچ بولتی ہے ناں اگر مجھ پر نہیں یقین تو جا کر اس سے پوچھ لینا اور اگر پھر بھی وہ یہی کہانی سنائے تو اسے کہنا کہ یہی بات تمہارے سر پر ہاتھ رکھ کر کہے پھر ساری سچائی اپنے آپ تمہارے سامنے آجائے گی۔۔۔۔”

چاہت ابھی بھی بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی جب کہ آنکھیں اب آنسوؤں سے لبریز ہو چکی تھیں۔الطاف نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔

“دیکھو بیٹا میری تم سے کوئی دشمنی نہیں ،بس عباس میرا بہت اچھا دوست تھا اس لئے میں نہیں چاہتا کہ اس کی بیٹی خود سے بولے گئے جھوٹ کی وجہ سے اسی کے قاتل کے ساتھ اپنی ساری زندگی گزار دے۔۔۔۔۔”

چاہت نے انکار میں سر ہلانا چاہا۔

“جانتا ہوں تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ ماں باپ سے بڑھ کر کسی کا درجہ نہیں ہوتا اور اگر اولاد اپنے ماں باپ سے ہوئی زیادتی کا انتقام بھی نہ لے سکے تو ایسی اولاد سے روز قیامت ماں باپ بھی منہ موڑ لیں گے۔۔۔”

چاہت اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

“مجھے امید ہے کہ سچائی جاننے پر تم بیٹی ہونے کا حق ضرور ادا کرو گی۔۔۔۔”

چاہت نے آنسو پونچھ کر الطاف کو دیکھا۔

“ایسا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔میرے خان جی ایسا نہیں کر سکتے کبھی بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔وہ بھلا کیوں کریں گے ایسا”

الطاف کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔

“کیونکہ تمہارے بابا بہرام کے بابا کے ہاں ملازم تھے اور جب بہرام کے گھر آگ لگی تھی تو عباس اس کے ماں باپ کو بچانے میں ناکام رہا تھا۔ بس بڑے ہوتے ہی بہرام نے اس خطا کی سزا دی اسے کہ وہ اس کے باپ کا ایک وفادار ملازم تھا۔۔۔۔اب وہ بیچارہ ان کو بچانے میں اپنی زندگی تو داؤ پر نہیں لگا سکتا تھا ناں لیکن بہرام جیسا خود غرض انسان یہ بات کیسے سمجھتا۔۔۔۔”

الطاف نے چاہت کو دیکھا جس کی آنکھوں سے آنسو ابھی بھی روانی سے بہہ رہے تھے۔

“اور یہ بات تمہاری ماں نے تم سے چھپائی کیونکہ بہرام اور فرزام نے اپنی دولت سے تم دونوں کو سہارا دے کر اس کے ہونٹ سی دیے۔۔۔۔”

الطاف نے بے چارگی سے چاہت کو دیکھا۔

“لیکن مجھے پوری امید ہے اب جب تم اس سے جواب مانگوں گی تو وہ مزید جھوٹ نہیں بول پائے گی۔۔۔ “

چاہت نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دل پر رکھے جو ایسے لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت بند ہو جائے گا۔

“مم۔۔۔میں اماں سے پوچھوں گی اور اگر یہ بات جھوٹ ہوئی ناں تو تمہیں میرے خان جی کے غصے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔۔۔”

اتنا کہہ کر چاہت اس کی گاڑی سے باہر نکل آئی اور کلاس روم میں آ کر اپنا بیگ پکڑ کر واپس گیٹ کی جانب آ گئی۔

گیٹ کیپر نے اسے کالج سے نکلنے سے روکنا چاہا لیکن چاہت اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتی باہر نکل آئی۔کالج کے باہر سے ایک ٹیکسی لے کر چاہت سیدھا سکینہ کے گھر جانے لگی۔اسے اسی وقت اپنی ماں سے سچ جان کر یہ ثابت کرنا تھا کہ الطاف جھوٹ بول رہا تھا۔