Kaif E Junoon By Harram Shah NovelM80065 Kaif E Junoon (Episode 14)
Kaif E Junoon (Episode 14)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Kaif E Junoon By Harram Shah
چاہت سکینہ کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی اور سکینہ محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلا رہی تھیں۔
“دیکھو چاہت تمہارا اکیلے آنا مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا بہرام تو تمہیں اکیلے نہیں بھیج سکتا کہیں تم لڑ کے تو نہیں آئی۔۔۔؟”
سکینہ کے محبت سے پوچھنے پر چاہت نے انکار میں سر ہلایا۔
“آپ ایسا کیوں سوچ رہی ہیں کیا اب میں آپ کے پاس رہنے بھی نہیں آ سکتی؟”
چاہت نے منہ بسور کر پوچھا۔
“میں نے ایسا کب کہا چلو چھوڑو یہ سب تم بتاؤ کھانا لگاؤں تمہارے لیے تم نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔”
چاہت نے آنکھیں موند کر انکار میں سر ہلایا۔
“مجھے بس آپ کے پاس رہنا ہے اماں آپ کی گود میں ایسا لگتا ہے جیسے دنیا میں کوئی غم ہی نہیں۔۔۔”
سکینہ اسکی بات پر مسکرا دیں اور اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔تبھی باہر کا دروازہ کھٹکنے پر سکینہ چاہت کے پاس سے اٹھیں اور باہر دیکھنے چلی گئیں۔دروازہ کھولتے ہی ان کی نظر بہرام پر پڑی۔
“اسلام و علیکم اماں جی۔۔۔”
بہرام نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اپنا سر ان کے سامنے کیا۔
“و علیکم السلام۔۔۔بیٹا تم اس وقت یہاں سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔؟”
سکینہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے فکر مندی سے پوچھا۔
“جی سب ٹھیک ہے میں بس چاہت کو لینے آیا ہوں آپ اسے بلا دیں۔۔۔”
اسکی بات پر سکینہ مسکرا دیں۔
“تمہاری ہی ہے وہ بیٹا جب چاہے لے جانا۔۔۔فی الحال اندر تو آؤ میں چائے بناتی ہوں تمہارے لیے۔۔۔۔ “
بہرام نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں اماں جی ابھی بہت دیر ہو گئی ہے آپ آرام کریں میں چاہت کو لینے آیا ہوں آپ اسے بھیج دیں۔۔۔۔”
سکینہ نے اثبات میں سر ہلایا اور کمرے میں آ گئیں جہاں چاہت خاموشی سے بیٹھی تھی۔
“بہرام تمہیں لینے آئے چاہت باہر گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہا ہے۔”
بہرام کے ذکر پر ہی چاہت کا دل بہت زور سے دھڑکا۔
“مم۔۔۔مجھے نہیں جانا آپ کے پاس رہنا ہے ۔۔۔”
چاہت نے سر جھکا کر اپنی انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا۔
“نہیں بری بات ہے بیٹا شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اسے انکار نہیں کرتے۔ابھی گھر جاؤ پھر کبھی اس کی اجازت سے مجھ سے ملنے آ جانا ۔۔۔۔”
چاہت نے شکوہ کناں نگاہیں اٹھا کر انہیں دیکھا۔
“ہاں سب فرض بیوی کے ہی ہیں مجازی خدا تو جو دل میں آئے کرتا رہے۔۔۔”
چاہت نے روتے ہوئے کہا اور غصے سے اپنی چادر پکڑ کر باہر آ گئی۔سکینہ نے اسے گلے سے لگا کر الوداع کیا تو چاہت خاموشی سے بہرام کے ساتھ پیسنجر سیٹ پر بیٹھ گئی۔اس کے بیٹھتے ہی بہرام نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
پورا راستہ بہرام نے اس سے کچھ نہیں کہا لیکن وہ سٹیرنگ ویل پر اسکی انگلیوں کی سختی دیکھ کر اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ بہت زیادہ غصے میں ہیں۔اسکے غصے کا سوچ کر چاہت گھبرا گئی تھی۔
ہاں تو رہیں غصے میں اس کے علاوہ کرنا کیا آتا ہے انہیں۔۔۔
چاہت نے دل میں کہا اور خاموشی سے اسکے بغل میں بیٹھی رہی۔گھر پہنچ کر بہرام نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی اور گاڑی سے باہر نکل کر چاہت کی طرف آیا جو گاڑی سے نکل کر باہر کھڑی تھی۔
بہرام نے اسکا ہاتھ سختی سے پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھینچتا اپنے کمرے میں لے آیا۔کمرے میں لا کر بہرام نے اسکا ہاتھ چھوڑا اور دروازہ لاک کر کے اسکی جانب مڑا۔
“کس کی اجازت سے گئی تھی تم گھر سے باہر؟”
بہرام کی آواز میں اتنا غصہ تھا کہ چاہت کا سارا کانفیڈینس جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور وہ سہم کر اسے دیکھنے لگی۔
“آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ یہاں سے چلی جاؤں۔۔۔”
چاہت کی بات پر بہرام نے دانت کچکچائے اور اسکے قریب ہو کر اسکا چہرہ اپنی مٹھی میں دبوچ لیا۔
“تم سچ میں اتنی زیادہ بیوقوف ہو یا بننے کا دیکھاوا کرتی ہو۔۔۔؟”
“خخخ۔۔۔خان جی۔۔۔”
چاہت بہت زیادہ گھبرا گئی اور اپنا چہرہ اسکی پکڑ سے چھڑوانا چاہا۔
“میں نے تمہیں بتایا تھا چاہت کہ تم میری ہو۔۔۔کچھ بھی گوارا کر سکتا ہوں میں لیکن تمہاری دوری نہیں آج کے بعد تم میری اجازت کے بغیر کہیں گئی تو قسم کھاتا ہوں ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری۔۔۔۔”
بہرام نے جھٹکے سے اس کا چہرہ چھوڑا تو چاہت سہم کر اس سے دور ہوئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“چاہتے کیا ہیں آپ۔۔۔۔۔ نہ پاس آنے دیتے ہیں نہ ہی دور جانے دیتے ہیں۔۔۔۔۔کبھی کہتے ہیں میرے بغیر رہ نہیں سکتے اور کبھی کہتے ہیں کہ مجھ سے پیار نہیں کرتے ۔۔۔۔مسلہ کیا ہے آپ کے ساتھ خان جی۔۔۔”
بہرام جو پہلے ہی غصے میں تھا اسکی بات پر اسے کندھوں سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا کر گھورنے لگا۔
“پاس رہنا چاہتی ہو میرے تو ٹھیک ہے آج سے تم اسی کمرے میں رہو گی میرے پاس کیونکہ یہ تم نے ٹھیک کہا کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔”
چاہت نے اپنی کالی نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“تو کیا آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں؟”
چاہت کے سوال پر بہرام نے اپنی آنکھیں موند لیں اور گہرا سانس لیا۔
“آج کے بعد ایسا پھر کبھی نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر بہرام نے وہی شیشے کا بنا دروازہ کھولا اور اپنے آفس میں چلا گیا جبکہ اسکے پھر سے محبت کا اقرار نہ کرنے پر چاہت وہیں زمین پر بیٹھ کر رونے لگی۔
اس نے تو سوچا تھا کہ اپنی محبت سے وہ بہت زیادہ آسانی سے بہرام کا پیار حاصل کر لے گی لیکن اب اسے معلوم ہوا تھا کہ یہ کام اتنا آسان بھی نہیں تھا۔
وہ بہرام خانزادہ کا جنون اور اس کی ضرورت تو ہو سکتی تھی لیکن اسکی محبت نہیں اور یہی تو چاہت کی سب سے بڑی خواہش تھی۔
💞💞💞💞
فرزام مناہل کو لے کر واپس اسلام آباد آ چکا تھا۔وہاں واپس آ کر مناہل ایک نئی ہی لڑکی بنتی جا رہی تھی فرزام کی محبت اور توجہ اسے نئی زندگی بخش چکی تھی۔
ابھی بھی مناہل لان کی دھوپ میں بیٹھی فرزام کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔کیا تھا وہ جنونی سا شخص جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا مناہل کو اپنا سب کچھ کہتا تھا۔پر وقت اسکے لیے اپنی چاہت کا اظہار کر کے اسے بتاتا کہ وہ کتنی قیمتی ہے۔مناہل وہاں تنہا بیٹھی اسے یاد کر کے مسکرا دی تو اپنے پاس سے کسی کی ہنسی سنائی دی۔
“لگتا ہے آپ کو تو فرزام بھائی نے اپنا دیوانہ بنالیا ہے دیورانی جی جو یہاں اکیلے بیٹھ کر انہیں سوچتے ہوئے مسکرا رہی ہیں۔۔۔”
چاہت کے شرارت سے کہنے پر مناہل کے رخسار گلاب کی ماند ہو گئے اور اس نے اپنا سر جھکا لیا۔
“تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تم بہرام کی دیوانی نہ ہو۔۔۔بہرام بھائی۔۔۔”
چاہت کی بات یاد کر کے مناہل نے آخر میں شرارت سے کہا لیکن بہرام کے ذکر پر چاہت کا منہ بن گیا۔
“میں ناراض ہوں ان سے چار دن ہو گئے ہیں ان سے بات بھی نہیں کرتی۔کمرے میں آتے ہیں تو جان بوجھ کر سو جاتی ہوں اور تب اٹھتی ہوں جب وہ چلے جاتے ہیں۔۔۔۔”
مناہل نے حیرت سے چاہت کو دیکھا۔
“کیوں ناراض ہو؟”
“پتہ نہیں خود کو سمجھتے کیا ہیں وہ سڑیل کہیں کے پتہ ہے بس انہیں حکم چلانا آتا ہے۔۔۔چاہت یہاں آؤ،چاہت دور چلی جاؤ،چاہت یہ چاہت وہ۔۔۔”
چاہت نے آخر میں آواز بھاری کرکے کہا تو مناہل ہنس دی۔
“اتنے خطرناک ہیں ناں وہ شکر کرو مناہل جان بچا لی میں نے تمہاری۔۔۔”
مناہل نے اسکی بات پر اپنا سر جھکا لیا۔جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے۔بہرام جیسا سنجیدہ مزاج شخص شاید اس کے جذبات کو ویسے نہیں سمجھ پاتا جیسے فرزام نے سمجھا تھا۔
“لیکن کیا کروں میرا دل اتنا گیا گزرا ہے ناں پھر بھی انہیں پر مرتا ہے۔۔ “
چاہت نے بے بسی سے کہا۔مناہل نے اسے سمجھانا چاہا کہ محبت ایسا جذبہ ہے جس کے معاملے میں انسان بالکل بے بس ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے ہی ایک ملازمہ مناہل کے پاس آئی اور ہاتھ میں پکڑا فون مناہل کے سامنے کیا۔
“آپ کا فون ہے بی بی جی۔۔۔”
مناہل نے حیرت سے اسے دیکھا بھلا کون مناہل سے بات کرنا چاہتا تھا۔مناہل نے فون پکڑ کر کان سے لگا لیا۔چاہت نے یہ دیکھا تو اسے پرائیویسی دینے کے لیے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
“ہیلو؟”
مناہل نے گھبراتے ہوئے ہلکی سی آواز میں کہا۔
“میری زندگی اجاڑ کر عیاشی کر رہی ہو۔۔۔ شوہر کے ساتھ گھوم رہی ہو واہ مناہل بی بی بے شرمی کی انتہا ہے ویسے۔۔۔”
شیزہ کی آواز پر مناہل مزید گھبرا گئی۔
“پھ۔۔۔۔پھپھو یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟”
“وہی جو سچ ہے اپنے شوہر کو نہ جانے کیا پٹیاں پڑھائیں کہ اس نے مجھ سے میرا شوہر چھین لیا۔”
اتنا کہہ کر شیزہ رونے لگی اور مناہل کے ہاتھ گھبراہٹ سے کانپنے لگے۔
“تمہیں کیا لگتا ہے میری زندگی میں آگ لگا کر خوش رہو گی۔۔۔ہوں تمہاری قسمت میں بہت پہلے سے برباد ہونا لکھا ہے مناہل بی بی۔۔۔تم تو ایسی منہوس ہو کہ میرے بھائی کو بھی نگل گئی دیکھنا تمہاری یہ نحوست تمہیں برباد کر دے گی۔۔۔۔۔”
انکی بات پر مناہل کی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہنے لگے۔
“کتنی بیوقوف ہو ناں تم جو سمجھتی ہو کہ فرزام خانزادہ تمہاری محبت میں پڑ کے تمہیں ساتھ لے گیا ہے۔یہاں کوئی بھی کسی مطلب کے بغیر کچھ نہیں کرتا دیکھنا فرزام کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا اور جس دن وہ مطلب پورا ہو جائے گا اس دن وہ تمہیں پلٹ کر بھی نہیں دیکھےگا۔۔۔۔”
انکی بات نے مناہل کے دل میں ایک پھانس گاڑ دی۔کیا سچ میں فرزام کی چاہت کسی مطلب کے تحت تھی۔یہ سوچ کر ہی مناہل پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور اسے یوں روتا دیکھ چاہت گھبرا کر اسکے پاس آئی۔
“کیا ہوا مناہل۔۔۔؟”
چاہت نے پوچھا لیکن مناہل تو بس روتی جا رہی تھی چاہت نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسکے کان کے ساتھ لگے فون کو دیکھا اور وہ فون پکڑ کر اپنے کان کے ساتھ لگا لیا۔
“کون ؟”
چاہت نے کافی سختی سے پوچھا اور مناہل کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
“کیا کہا ہے تم نے مناہل کو؟”
چاہت نے اب غصے سے پوچھا جبکہ شیزہ نہیں جانتی تھی کہ یہ لڑکی کون ہے لیکن اسکا یوں مناہل کا سہارا بننا شیزہ کو اچھا نہیں لگا۔
“وہی کہا ہے جو سچ ہے بس تمہاری مناہل سے برداشت نہیں ہوا۔۔۔۔”
اسکے لہجے پر چاہت نے اپنا منہ بنا لیا اور فون کو کندھے اور کان کے درمیان پکڑ کر دونوں ہاتھ مناہل کے کانوں پر رکھ دیے۔
“سچ میں تجھے بتاتی ہوں چڑیل،بھوتنی،کنچنا،منچنا۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کہ کیا کہا ہے تم نے مناہل کو فسادن میسنی کہیں کی لیکن فرزام بھائی کو بتایا ناں تو تیری زبان کھینچ کر زرافے سے بھی زیادہ لمبی کر دیں گے۔۔۔اور فرزام بھائی تک کیوں جانا تجھ جیسی ڈائن کے لیے میں ہی کافی ہوں آج کے بعد فون کیا ناں تو ایسی گالیاں نکالوں گی کہ تیری سات نسلوں نے نہیں سنی ہوں گی تو جانتی نہیں تو چاہت بہرام خانزادہ کو۔۔۔”
اتنا کہہ کر چاہت نے فون بند کر دیا جبکہ اپنی اس قدر بے عزتی پر شیزہ کی تو آواز بھی نہیں نکلی تھی۔
“شش۔۔۔۔چپ کر جاؤ مناہل تم فکر مت کرو اس چڑیل نے جو بھی تمہیں کہا ہے ناں اس سے زیادہ ہی باتیں سنائی ہیں میں نے اسے۔۔۔”
چاہت نے اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوئے کہا لیکن مناہل کو کیسے دلاسہ ملتا۔ایک نیا خوف اس پر حاوی ہو چلا تھا کہ کہیں فرزام کسی مطلب کے تحت تو یہ سب نہیں کر رہا تھا۔
💞💞💞💞
بہرام اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا چاہت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔کتنے ہی دن گزر گئے تھے اس واقعے کو جب وہ اسے سکینہ کے پاس سے لے کر آیا تھا۔اس دن کے بعد سے چاہت نے بہرام سے بات تک نہیں کی تھی۔
وہ اب اسکے حکم کے مطابق اسکے کمرے میں ہی رہتی تھی۔اسکا ہر حکم بھی مانتی تھی لیکن اپنی جھلی سی چاہت کو تو وہ کھو ہی چکا تھا۔
روز کمرے میں چاہت کو بیڈ پر سویا دیکھ کر وہ سمجھ جاتا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے اور بس سونے کا دیکھاوا کر رہی ہے لیکن پھر بھی بہرام میں اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اسے اٹھا کر حکم دے کہ وہ پہلے جیسی ہو جائے۔ہر وقت اسے پریشان کر کے اسکا سکون برباد کرنے والی چاہت۔
بہرام اپنی سوچ میں اس قدر مگن تھا کہ اسے فرزام کی موجودگی کا احساس ہی نہیں ہوا۔
“کہاں کھوئے ہو بگ بی؟چاہت کی یاد آ رہی ہے کیا؟”
بہرام فرزام کی آواز پر سیدھا ہو کر بیٹھا اور سنجیدگی سے انکار میں سر ہلایا۔
“اگر اتنا ہی دل کر رہا ہے اسکے پاس جانے کا تو جاؤ اور بتاؤ اسے کہ کیسے اسکی محبت میں تم آفس میں رومیو بن کر بیٹھے ہوتے ہو اگر تم میں ہمت نہیں تو میں بتا دیتا ہوں۔۔۔”
بہرام نے بری طرح سے فرزام کو گھورا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے،تم یہ بات جانتے ہو۔۔۔”
بہرام کی بات کا مطلب سمجھ کر فرزام کے چہرے سے شرارتی مسکان غائب ہوئی اور اس نے سنجیدگی سے بہرام کو دیکھا۔
“اس سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں تھا بہرام تم یہ بات سمجھتے کیوں نہیں؟”
“میں سمجھتا ہوں لیکن وہ نہیں سمجھے گی۔۔۔”
بہرام نے لیپ ٹاپ کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“تم اسے سب سچ بتا دو تو شائید وہ سمجھ جائے۔۔۔۔”
“اور سچ بتا کر کیا کروں فرزام وہ اپنی ہی نظروں میں گر جائے گی کبھی سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہے گی وہ اور میں اسکے ساتھ ایسا نہیں ہونے دے سکتا۔۔۔۔”
فرزام نے گہرا سانس لیا وہ بھی جانتا تھا کہ بہرام سچ کہہ رہا ہے۔
“تو پھر سب بھول کر زندگی کی شروعات کرو میرے بھائی،بغیر کسی خوف کے آخر کون ہے جو چاہت کر وہ سچ بتائے گا۔۔۔”
بہرام نے سرد مہری سے فرزام کو دیکھا۔
“سچ کی خاصیت پتہ ہے؟وہ کبھی چھپا نہیں رہتا آج نہیں تو کل سامنے آ ہی جاتا ہے۔۔۔کتنے سال سچ چھپاؤں گا اس سے دو سال یا بیس سال کسی نہ کسی دن اسے پتہ لگ ہی جائے گا فرزام اور اس دن وہ مجھے چھوڑ دے گی اور شائید اسکے چھوڑنے سے میں تو مر جاؤں گا لیکن اسے اپنی محبت میں مزید ڈال کر اسکا یہ حال نہیں کروں گا کہ مجھ سے دور جانے پر وہ بھی مٹ جائے۔۔۔۔”
فرزام اسکی بات سن کر بے بس ہو گیا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بہرام کو کیا کہے۔
“تم کسی کام سے آئے تھے یہاں؟”
بہرام نے بات بدلتے ہوئے پوچھا تو فرزام نے بھی اپنے آنے کا مقصد یاد کیا۔
“الطاف کو برباد کرنے کا جو پلین فیض کو مارنے کی وجہ سے ناکام ہوا تھا اسے پھر سے سر انجام دینے کا ایک طریقہ ہے میرے پاس۔۔۔”
بہرام نے اپنے بھائی کو گہری نگاہوں سے دیکھا۔
“کیا مطلب کیسا طریقہ؟”
فرزام نے کچھ پیپرز نکال کر بہرام کے سامنے رکھے اور اسے اپنا پلین بتانے لگا جسے سن کر بہرام نے انکار میں سر ہلایا۔
“تمہیں نہیں لگتا یہ مناہل کے ساتھ زیادتی ہوگی؟”
فرزام کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
“تمہیں کیا لگتا ہے اس کے بعد میں نااہل کو چھوڑ دوں گا؟یہ بس میرے لئے ایک ذریعہ ہے بہرام ورنہ وہ مناہل کی امانت ہے اور اسی کی رہے گی۔”
بہرام ابھی بھی اسکی بات پر مطمئن نہیں ہوا۔
“اور اگر مناہل نے تم پر اتنا بھروسہ نہیں کیا ہر اس وجہ سے تمہارے رشتے میں مسلئے پیدا ہو گئے تو؟”
فرزام مسکرا دیا یہ خدشات اس کے دل میں بھی اٹھے تھے لیکن ان سے اپنی محبت اور مناہل پر پورا بھروسہ تھا۔
“ایسا نہیں ہوگا میں جانتا ہوں میری من مجھ پر بھروسہ کرے گی۔۔۔۔”
بہرام نے ہاں میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے کوشش کر کیوں کہ اگر ایسا ہوگیا تو الطاف ایک جھٹکے میں آدھا ختم ہو جائے گا اور آدھ مرے انسان کو پورا مارنا بہت آسان ہو گا ہمارے لیے۔۔۔۔”
بہرام کی بات پر فرزام کی آنکھوں میں چمک آئی۔ان کے سب سے بڑے دشمن کی بربادی ان دونوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھی ۔
💞💞💞💞
مناہل بیڈ پر اپنے ہاتھ گھٹنوں کے گرد لپیٹے بیٹھی تھی۔دوپہر کو جو باتیں شیزہ بیگم نے کہیں تھیں وہ ابھی تک اسکے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔وہ جانتی تھی کہ فرزام سچ میں بہت اچھا انسان ہے لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں اس کا دل اور وسوسوں کا شکار ہو چکا تھا۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر مناہل نے فورا اپنی نگاہیں اٹھا کر دروازے میں دیکھا جہاں سے فرزام کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر چکا تھا۔
مناہل کو دیکھ کر ہی فرزام کی آنکھوں میں محبت اتری اور اس نے مناہل کے پاس آ کر اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔
“کیسی ہو میری جان؟”
فرزام کی چاہت پر مناہل خود میں ہی سمٹ سی گئی۔
“ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
اسکے روکھے سے انداز پر فرزام نے نگاہیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔
“سب ٹھیک ہے ناں؟”
فرزام کے پوچھنے پر مناہل کا دل کیا کہ اسے ہر بات بتا دے لیکن پھر ایک ڈر اس کے دل میں بیٹھ گیا کہ کہیں فرزام اسے شکی مزاج ہی نہ سمجھنے لگ جائے۔
لیکن وہ تو مناہل کا شوہر تھا اپنی ہر پریشانی اسے بتانا میں مناہل کا حق بھی تھا اور فرض بھی۔
“فرزام وہ۔۔۔”
“مناہل مجھے۔۔۔”
دونوں نے ایک ساتھ کہا تو فرزام مسکرا دیا اور اپنا ہاتھ اسکے گال پر رکھا۔
“کہو تمہیں کیا کہنا ہے؟”
فرزام نے نرمی سے پوچھا لیکن مناہل نے انکار میں سر ہلا دیا۔
“پہلے آپ بتائیں کیا بات ہے پھر میں بتاتی ہوں”
فرزام نے اپنا ہاتھ اسکے گال سے ہٹایا اور اپنی گود میں پڑے پیپرز کو دیکھنے لگا۔پھر کافی سوچنے کے بعد بولا۔
“تم مجھ پر بھروسہ کرتی ہو من؟”
مناہل نے فوراً اپنا سر ہاں میں ہلایا۔
“کتنا بھروسہ کرتی ہو؟”
فرزام کے عجیب سے سوال پر مناہل حیران ہوئی پھر اس نے اپنے نازک ہاتھوں میں فرزام کا ہاتھ پکڑا اور اپنے گال پر رکھ دیا۔
“اتنا بھروسہ کرتی ہوں کو آپ کے چھونے پر مجھے خود سے نفرت نہیں ہوتی بلکہ اپنا آپ معتبر لگنے لگتا ہے اور یقین کریں فرزام دنیا میں کسی اور کا لمس یہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔”
اسکی بات پر فرزام نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔
“تو وعدہ کرو من تم مجھے غلط نہیں سمجھو گی اور اپنے بھروسے کو ایسے ہی قائم رکھو گی۔۔۔”
مناہل نے اپنا سر ہاں میں ہلایا اور پھر نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“کیا آپ نے یہی پوچھنا تھا؟”
فرزام نے گہرا سانس لے کر انکار میں سر ہلایا اور گود میں پکڑی فائل مناہل کے سامنے کی۔
“مجھے اس پر تمہارے سائین چاہیں من۔۔۔”
مناہل نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“یہ کیا ہے فرزام؟”
فرزام کچھ پل کے لیے تو خاموش رہا پھر طویل خاموشی کے بعد بولا۔
“تمہارے بابا شہاب اور تمہارے تایا الطاف دونوں بیگ گروپ آف انڈسٹریز کے ففٹی پرسینٹ کے مالک تھے اور تمہارے بابا کی موت کے بعد انکی اکلوتی وارث تم ہو اس لیے بیگ انڈسٹریز کے ففٹی پرسینٹ شئیرز تمہاری ملکیت ہیں۔۔۔۔”
مناہل کی آنکھیں فرزام کی بات پر حیرت سے پھیل گئیں۔اہنی زندگی کے انیس سالوں میں اسے یہ بات کبھی کسی نے نہیں بتائی تھی۔
“لل۔۔۔۔لیکن مجھے تو یہ کسی نے نہیں بتایا۔۔۔”
فرزام نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔
“اور وہ تمہیں یہ بات بھی بتانے بھی نہیں والے تھے۔۔۔۔”
مناہل نے افسوس سے اپنا سر جھکا لیا اور ہاتھ میں پکڑی فائل کو دیکھا۔
“تو کیا یہ اس پراپرٹی کے پیپرز ہیں؟”
فرزام نے ہاں میں سر ہلایا۔
“ان پر میرے سگنیچر کیوں چاہیں؟”
فرزام نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔
“ان پیپرز پر لکھا ہے کہ تم اپنی مرضی سے وہ سارے شئیرز میرے نام کر رہی ہو۔۔۔۔”
مناہل کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں اور آنسو پلکوں پر ٹھہر سے گئی۔کیا سچ میں فرزام نے اس جیسی لٹی ہوئی لڑکی کو مطلب کے لیے اپنایا تھا ؟کیا یہی وہ مطلب تھا؟
مناہل کی آنکھوں میں بے یقینی دیکھ کر فرزام نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“مجھ پر بھروسہ کرو من یہ ساری جائیداد میرے پاس تمہاری امانت ہو گی جیسے ہی میرا مقصد پورا ہو جائے گا میں اسے تمہیں لوٹا دوں گا اور اگر تم کہتی ہو تو بدلے میں میں اپنا سب کچھ تمہارے نام کر دیتا ہوں۔۔۔”
فرزام اسے سمجھا رہا تھا لیکن مناہل کی تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ماؤف ہو چکی تھی۔شیزہ کی کہی باتیں اسکے کانوں میں گونجنے لگیں۔
“کیا آپ نے اسی لیے مجھے شادی کی تھی فرزام کیا آپ کو یہ جائیداد چاہیے تھی؟”
مناہل کی آواز شکوے اور غم سے تر ہو چکی تھی جبکہ آنکھوں سے مسلسل اشک بہہ رہے تھے۔
“نہیں من میں تو یہ بات جانتا بھی نہیں تھا کہ شہاب صاحب کی جائیداد تمہارے نام ہے۔۔۔”
“تو آپ نے مجھ سے کسی مطلب کے لیے شادی نہیں کی تھی؟”
مناہل کے سوال پر فرزام خاموش ہو گیا۔وہ اسے کیا بتاتا کہ اس نے تو بدلہ لینے کے لیے مناہل سے شادی کی تھی لیکن پہلی ہی رات مناہل کے آنسوؤں نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔
مناہل نے فرزام کا ہاتھ پکڑا اور اپنے سر پر رکھ دیا۔
“میری قسم کھا کر کہیں فرزام کہ آپ نے مجھ سے شادی کسی مقصد کے تحت نہیں کی تھی۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں ابھی ان کاغزات پر سائین کر کے سب آپ کو سونپ دوں گی۔۔۔۔”
فرزام نے کرب سے اپنی آنکھیں موند لیں۔مناہل کے وہ آنسو اس کے دل پر تیزاب جیسے گر رہے تھے۔فرزام کا ہاتھ اپنے سر سے اٹھتا دیکھ مناہل کے اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا۔
یعنی شیزہ کی کہی ہر بات سچ تھی فرزام نے اسے اپنے مطلب کے لیے ہی اپنایا تھا۔
“سب جھوٹ تھا ناں آپ کی وہ باتیں وہ وعدے سب جھوٹ تھا میں نے جیسا خود کو سمجھا تھا میں اسی قابل ہوں۔۔۔ “
فرزام نے فوراً مناہل کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔
“نہیں من وہ سچ تھا میری جان سب سچ تھا میرا یقین کرو من میں مانتا ہوں کہ میں نے تم سے شادی مطلبی ہو کر کی تھی لیکن تم نے مجھے بدل دیا من تم نے اس خود غرض سے فرزام خانزادہ کو پل بھر میں بدل دیا۔۔۔۔”
فرزام نے بہت محبت سے کہا لیکن پھر بھی مناہل کی آنکھوں میں موجود بے یقینی نہیں مٹا سکا۔
“مجھے اکیلا چھوڑ دیں فرزام پلیز آپ کو اللہ کا واسطہ۔۔۔”
مناہل اس سے دور ہوئی اور اپنا چہرہ تکیے میں چھپا کر بے آواز رونے لگی۔
“من۔۔۔”
“چلے جائیں یہاں سے فرزام پلیز۔۔۔۔چلے جائیں۔۔۔”
مناہل نے اسے دیکھے بغیر کہا۔فرزام نے کرب سے اپنا ہاتھ ساتھ موجود شیشے کی میز پر مارا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔وہ جانتا تھا ابھی وہ کچھ بھی کہہ لیتا مناہل اس پر بھروسہ نہیں کرنے والی تھی۔
💞💞💞💞
(ماضی)
سلیمان خانزادہ کی موت کے بعد گورنمنٹ نے انکی جائیداد کو اپنی کسٹڈی میں لے لیا کیونکہ انکے بیٹوں کے سوا ان کا کوئی اور نہیں تھا اور ان کے بیٹے ابھی اتنا بڑا بزنس سنبھالنے کے لیے بہت چھوٹے تھے۔
اس لیے فرزام اور بہرام کو ایک یتیم خانے میں بھیج دیا گیا اور ان کی کمپنی گورنمنٹ نے اپنے پاس امانت کے تور پر رکھ لی۔
اپنے ماں باپ کے جانے کے بعد وہ دونوں سے بلکل ویسے نہیں رہی تھی جیسے ہوا کرتے تھے۔بہرام تو مکمل طور پر سنجیدہ ہو چکا تھا اور فرزام خود غرض جسے اپنے سوا کسی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔
پانچ سال تک تو دونوں بچے اس یتیم خانے میں رہے اور پھر انہیں ایف ایس سی کے بعد یونیورسٹی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔تاکہ ان کی تعلیم مکمل ہونے پر ان کی امانت انہیں لوٹائی جاسکتے۔
ان پانچ سالوں میں جو ان کے سب سے قریب رہا تھا وہ سکینہ اور چاہت تھیں۔سکینہ اکثر ہی چاہت کو اپنے ساتھ لے کر فرزام اور بہرام سے ملنے جایا کرتی تھیں حالانکہ سکینہ کا شوہر عباس اسے ایسا کرنے سے منع کرتا تھا اور اس کی وجہ سے نہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
سلیمان کے زندہ ہونے تک تو عباس ان کی بہت قدر کرتا تھا اب ایسا کیا ہو گیا تھا جو وہ اسے بہرام اور فرزام سے دور رہنے کا کہتا۔ان پانچ سالوں میں سکینہ اور عباس کے حالات بھی بہت بدل گئے تھے۔
اب وہ پہلے کی طرح کرایے کے مکان میں نہیں رہتے تھے بلکہ عباس نے نہ صرف ایک بارہ مرلے کا بہت اچھا مکان خریدہ تھا بلکہ اپنا کاروبار بھی شروع کر لیا تھا سکینہ نہیں جانتی تھی کہ یہ کرنے کے لیے عباس کے پاس پیسے کہاں سے آئے تھے۔
پھر یہ راز بھی ایک دن کھل گیا جب سکینہ بہرام اور فرزام سے مل کر گھر واپس آئی تو اسے گھر کی بیٹھک سے کسی کی آوازیں آئیں۔اسے لگا کہ شائید کوئی مہمان ہے اسی لیے پانی لے کر وہاں گئی۔
اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھٹکھٹاتی اسکے کانوں میں عباس کی آواز پڑی۔
“آپ فکر مت کریں الطاف بیگ صاحب کام ہو جائے گا اور کسی کو خبر بھی نہیں ہو گی۔”
سکینہ عباس کے لہجے پر حیران ہوئی۔
“سوچ لو کام ایسے کرنا ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو میرے بھائی شہاب اور اسکی بیوی کی موت ایکسیڈنٹ ثابت ہونی چاہیے۔۔۔”
اس آدمی کی بات پر سکینہ کا دل خوف سے حلق میں آیا مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ شخص کون تھا۔
“ایسا ہی ہو گا الطاف صاحب اب دیکھیں ناں پانچ سال ہو گئے ہیں اس بات کو لیکن آج بھی سب یہی سمجھتے ہیں کہ سلیمان خانزادہ کے گھر آگ حادثاتی طور پر لگی تھی یہ کوئی نہیں جان پایا کہ وہ آگ آپ کے کہنے پر میں نے لگائی تھی۔۔۔۔”
سکینہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اسکا شوہر ایسا تو نہیں تھا کیا دولت کی حرص انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔
“ہمم اب بھی اتنی ہی صفائی سے کام ہونا چاہیے۔ایک غلطی سلیمان خانزادہ نے کی تھی میرے خلاف کھڑے ہونے کی اور یہی غلطی میرے بھائی نے کی ہے اب اسکا انجام اسے بھگتنا ہو گا۔۔۔”
اس سے آگے سکینہ سے کچھ سنا نہیں گیا وہ صحن میں کھیلتی چاہت کو باہوں میں اٹھا کر اپنے کمرے میں چلیں گئی اور کتنی ہی دیر اسے سینے سے لگا کر روتی رہی۔اپنے شوہر کا یہ شیطانی روپ اسے مکمل طور پر توڑ گیا تھا۔