📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Last Episode)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Last Episode)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

ارسل بھائی نظروں کو زرا قابو میں رکھے..ارسل کے ایک کندھے پر زین اور ایک کندھے پر ہاتھ رکھے عون بولا…
ک..کیا مطلب…ارسل گڑبڑا کر بولا…
ہممم…سب دیکھ رہا ہو بچا نہیں میں الحمد اللہ نکاح شدہ ہوں…عون گردن اکڑا کر بولا…
کیا بول رہے ہو صاف بات کرو…ارسل جھنجھلا کر بولا…
یہ جو آپ اتنی دیر سے پڑوس والی نمرہ کو تاڑ رہے ہیں نہ سب دیکھ رہا ہوں…عون نے راز داری سے کہا…
پاگل واگل تو نہیں…ارسل گڑبڑا کر بولا…
ہم پاگل نہیں ہے بھیا ہمارا دماغ خراب ہے…زین نے لائن پوری کی…
زرا…
زرا تصویر سے توُ نکل کر سامنے آآ میری محبوبہ…زین نے عون کی بات اچک کر گنگنایا…
ابے مسلئہ کیا ہے تیرا…ہوں…عون چڑ کر بولا اور زین کا گربان پکڑآ…
زین طلال حیدر شاہ گربان پر آنے والا ہاتھ کاٹ دیتا ہے…زین سرد لہجے میں اداکاری کرتے بولا…
میں دوبارہ سے سی لوگا نکل اب…عون کہاں کم تھا ارسل تو دونوں کو لڑتا دیکھ کر شکر کرتا وہاں سے بھاگا تھا…
تم پھر لڑ رہے ہو یاد ہے ہم دوست ہیں…زین نے یاد دلایا…
رائٹ برو ہم دوست ہیں..عون نے دماغ پر دستک دیتے کہا جیسے یہ بات یاد کررہا ہو اب لڑنا نہیں ہے…
🌟🌟🌟🌟🌟
آپ کچھ بولے گے نہیں…ابراہیم شاہ ذر کو مٹھائی کھالاتا شاہ ذر سے بولا…
نہیں بیٹا یہ خاموش سے سارے کام کرتے پہلے لڑکی سے ٹکرائے پھر لڑکی کے کزن سے ملے پھر اسُ ہی کزن کو اپنا کزن بنایا پھر بڑے بھائی سے بات کی رشتہ لے جانی کی اور دیکھو تو بول رہے کہ ڈائرک شادی کریں میں انتظار نہیں کرسکتا…واہ رے واہ…عون سجنیدگی سے بولے پر شاہ ذر کے چھکے چھوٹ گئے تھے ٹکرانے والی بات تو کل اسُ نے کیف سے کہئی سے لیکن بدقسمتی سے عون صاحب بھی وہاں موجود تھے…
جب سے کرلیا تو اب کیا شرما رہے ہیں بس بھابھی کا ڈوبٹہ منہ میں چبا باقی ہے ورنہ پوری لڑکیوں کی طرح شرما رہے…عون اس کے خجل ہونے پر بولا جس پر سب کے قہقہہ نکلے…
🌟🌟🌟🌟🌟
برات کا دن آچکا تھا سب ہی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے مریم وفا کے ساتھ پالر گئی ہوئی تھی حجاب مشعل ماہم تانیہ بیگم کی مدد کررہے تھے سب ہی تیاریوں میں بزی تھے…
وفا اور مریم کو عون تیار ہوکر پالر لینے گیا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
شہزادہ لگا رہا میرا بیٹا…حرم بیگم تبریز کی پیشانی چمتی بولی طلال شاہ نے اس کی پشت تھپتھائی..
اچلیں یار چلی کریں…زین بولا…
مجھ سے زیادہ اسُ کو جلدی ہے..تبریز نے اس کی جلدی پر طنز کیا…
دلہا بن کر بھی طنز کرنے سے باز نہیں آئے تھے بس بیٹا بس ایش کرلیا اب آرہی ہے میری بھابھی سارے بدلہ لوگا انشااللہ…زین نے تبریز کو دھمکی دی جس پر سب نے قہقہہ لگایا…
🌟🌟🌟🌟🌟
چونکہ نکاح ہوچکا تھا اس لیئے اس وقت وفا تبریز کے ساتھ اور شاہ ذر آیت ایک ساتھ بیٹھے تھے الگ الگ صوفے پر وفا نے مکمل ریڈ کلر کی میکسی پہنی تھی اور بہت حسین لگا رہی تھی تبریز بھی وائٹ شیروانی میں غصب ڈھا رہا تھا آیت نے گولڈن کلر کا شرارا پہنا تھا اور شاہ ذر نے گولڈن کلر کی شیروانی دونوں ہی کپل اپنی جگہ حسین لگا رہے تھے ہر کوئی رشک بھری نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا….
توبہ ہے بھئی یہ دلہنیں کیسے خاموش بیٹھ سکتی ہیں…وفا دلہن بنی بیٹھی آہستہ سے تبریز سے بولی جو مسکراہٹ لیئے بیٹھا تھا…
جیسے آیت بیٹھی ہے…تبریز چبا کر بولا…
وہ آیت ہے اور میں وفا تبریز شاہ..خاموش ہونا میرے خوان میں نہیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانا لازم ہے…وفا کا روڈیو کھول چکا تھا..
مجھے ابھی سے اپنی زندگی گھومتی لگ رہی ہے…میرا بی پی لو ہورہا ہے…تبریز پیشانی پر آئے پسینے صاف کرتا بامشکل مسکرا کر بولا…
کوئی نہیں گھر جاکر نمک والی چائے بنادوگی ایکدم بی پی ہائی…وفا شرارت سے بولی تو تبریز نے ایکدم برہان کو دیکھا جیسے بول رہا ہو بھائی کیا چیز ہے تمہاری بہن…
🌟🌟🌟🌟🌟
چلی جلدی سے دلہا بھائی نیک نکالے…دودھ کا گلاس لیئے مریم اور ماہم تبریز سے بولی…
اوئے عون تم اس کو خرچا نہیں دے رہے میں اس الزام میں تم پر کیس کرسکتا ہوں…تبریز رعب سے عون سے مریم کی طرف اشارہ کرتا بولا…
اور نیک نہ دینے پر میں تم پر بہت سے الزام میں جیل میں بند کرواسکتا..ضیغم بھی مسکرا کر بولا جس پر تبریز نے دانت پیسے…
بھائی اتنی زور سے دانت نہ پیسے اگر ٹوٹ گئے تو مرچوں والی گلاب جامن کیسے کھائے گے…زین کے معصومیت سے بولے پر سب نے قہقہہ لگایا…
چلیں جلدی سے یہ دودھ پیئے اور نیک دیں..سب کے شور پر تبریز نے دودھ کا گلاس لبو سے لگایا اور ایک سپ لیا لیکن پھر جلدی سے ہٹایا اور دودھ کا کڑوا گھونٹ حلق میں اترا…
یہ کیا تھا…تبریز حیرت سے بولا…
نمک والا دودھ…مریم معصومیت سے بولی جس پر سب کا قہقہہ نکلا اور اس میں وفا کا قہقہہ بھی شامل تھا…
اس وقت یہ مجھے بلکل تمہاری بیوی لگا رہی ہے…تبریز مریم کی طرف اشارہ کرتا عون سے بولا…
لگ کیا رہی ہے ہے وہ مریم عون مصطفیٰ شاہ…عون فخر سے بولا…شاہ ذر سے نیک لیا جس پر اسُ نے تھوڑی ہی چو چا کے بعد دے دیا تھا اس ہی میں رخصتی کا وقت آگیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
رخصتی کے وقت عون ہاتھ میں قرآن لیئے پیچھے چل رہا تھا وفا کی میکسی ایک طرف سے برہان نے پکڑی تھی اور دوسری طرف سے شاہ ذر نے آیت کے ساتھ زین اور ابراہیم اس کا شرارا پکڑے چل رہے تھے گیٹ کے پاس رک کر وفا سب سے ملی سیما شاہ کے پاس آئی انہیں نے محبت سے گلے لگایا تو وفا کا دل صاف ہوا اور اتنے سال بعد سیما شاہ سے محبت ملنے سے وفا نے زور سے خودُ میں بیھنچلا..
اللہ تمہارے نصیب اچھے کریں…سیما شاہ آنسو صاف کرتی مسکرا کر بولی پھر وفا حمنہ شاہ سے ملی انہیں نے بھی دل صاف کرکے محبت سے گلے لگایا اور دعائیں دی وفا حجاب سے ملی پھر موسیٰ نے وفا کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں ارسل اور کیف نے بھی سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دی ماہم سے ملی چاچی چاچو سے ملی پھر مریم سے ملی اور دونوں رونے لگی بچپن سے ہر جگہ ساتھ ساتھ تھی مشعل نے الگ کروا وفا مشعل سے لگ کر روئی مشعل اسُ کے لیئے بہن بنی تھی کبھی بھابھئیوں والا سلوک نہیں کیا تھا مشعل نے ہمیشہ چھوٹی بہن سمجھا تھا تانیہ بیگم نے دونوں کو الگ کروایا اور خودُ گلے لگا اور دعائیں دی مصطفیٰ شاہ سے مل کر وفا انُ کے سینے سے لگ سکون سے گہرا سانس لیا انہیں نے وفا کی پیشانی کو چما اور خوشیوں کو دعائیں دی وفا برہان کے سینے سے لگی روئی تو برہان بھی بےآواز رودیا اسُ لاڈلی اور شرارتی بہن جس کی قہقہہ اور شرارتوں سے گھر میں رونق تھی لیکن یہ وقت تو ہر بھائی بہن پر آتا ہے بیٹیاں تو ہوتی ہی پرائی ہیں وفا اور برہان کو بڑی مشعل سے الگ کروایا شاہ ذر نے وفا کو سینے سے لگایا اور پیار کی آنسو اسُ کے بھی جاری ہوگئے تھے…
اب میری باری…عون بولا تو شاہ ذر وفا کو پیار کرتا پیچھے ہوا تو عون نے اسے سینے سے لگایا اور پیار کیا ہزار یادیں آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہی تھی ان دونوں کا مل کر شرارتیں کرنا اکبر ولا میں سکون کو غارت کرنا اسُ کو پیار کرتے ضبط سے عیچھے ہوا برہان نے اس کا ہاتھ تبریز کو پکڑایا جس کو تبریز نے مضبوطی سے پکڑلیا…
میری بہن کا خیال رکھیئے گا…عون تبریز سے بولا…
غلط عون تمہیں یہ بولنا چاہیئے کہ تبریز بھائی آپ اپنا خیال رکھیئے گا…تبریز شرارت سے بولا تو سب نے مسکراہٹ دبائی…
ہاں ورنہ ایک بار ہمیں یاد کرلینا…برہان تینوں بھائیوں کی طرف اشارہ کرتا تبریز کی بات نظرانداز کرتا بولا…
میرے باپ کی توبہ جو کبھی ایسے سالوں سے پنگالو…تبریز گڑبڑا کر بولا تو سب کے چہرہوں پر مسکراہٹ آگئی…
زین میری بہن کی زمہ داری میں تمہیں دیتا ہوں خیال رکھنا اس کا…عون زین سے بولا…
فکر ہی مت کر یہ میری بہن ہے آج سے…زین مسکرا کر بولا…
زیادہ اوقات سے مت نکل بہن یہ عون کی ہی ہے…عون نے زین کو آسمان سے زمین پر پٹخا جس پر وہ عون کو گھور کر ہی رہے گیا آیت سے سب ملے اور پھر گاڑیوں میں سب سوار ہوکر اپنے اپنے راستوں پر روانہ ہوئے…
🌟🌟🌟🌟🌟
تمہیں پتہ ہے میں نے تمہیں پہلی بار جب یونی میں دیکھا تھا…جب ہمارا ٹکراو ہوا تھا تب ہی میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ تم ہی آیت شاہ ذر مصطفیٰ شاہ بنوگی…شاہ ذر نے بولتے اس کے ہاتھ میں ڈائمنڈ کی رنگ پہنائی تو آیت مسکرائی…
میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو بچا کر رکھا کیونکہ میں اس بات پر یقین کرتا ہوں کہ
“اچھے مرد اچھی عورتوں کے لیئے اور برے مرد بری عورتوں کے لیئے”
جیسے آپ ہوگے ویسا ہی آپ کو آپ کا محرم آپ کا ہمسفر ملے گا…شاہ ذر نے مسکرا کر بتایا تو آیت اس کی سوچ پر خوش ہوئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
سو فائنلی وفا تبریز طلال شاہ کیسی ہے آپ…تبریز وفا کے پاس بیٹھتا بولا…
کیسی دیکھ رہی ہوں…وفا نے سوالیاں آئبرو اچکائی…
چڑیل…تبریز بولا اور سوچا کبھی جو عام لڑکیوں کی طرح یہ لڑکی شرمائے…
تمہیں پتہ ہے وفا جب میں پندرہ سال کا تھا تک ماما نے مجھے بتایا تھا کہ میں کسی سے منسوب ہوں کسی کی امانت ہوں اور تب سے تمہیں ہی سوچا تمہیں ہی پکچرز میں دیکھا جو تانیہ خالہ سینڈ کرتی تھی جب میں فرانس جارہا تھا تو ماما نے آئرپورٹ پر مجھے یاد دلایا تھا کہ میں کسی کی امانت ہوں اور ہمیں نے آج تک تمہارے علاوہ کسی کو نہیں سوچا اسُ دن جب مال میں ٹکراو ہوا تھا میں جلدی میں تھا ورنہ ملتا قسمت نے پھر ملایا اور تم پولیس اسٹیشن چلی آئی تمہیں وہاں دیکھ کر میرا بہت خون خولا تھا خیر تم اس بات کا یقین کرو وفا میں نے صرف ماما کی مرضی سے یہ شادی نہیں بلکہ اپنی خوشی سے کی نے مجھے شوق تھا پورے حق سے تمہارا دیدار کرنے کا مجھے شوق تھا اپنے سامنے تمہارے پورے حق سے بیٹھے دیکھنے کا..
Je t’aime, tu es ma vie
(میں تم سے پیار کرتا ہوں تم میری زندگی ہو)…تبریز کے اس خوبصورت انکشاف پر وفا حیران رہے گئی تھی اور ہاتھ میں پہنے گنگن دیکھے جو تبریز نے ابھی پہنائے تھے…
ایسے کیا دیکھ رہی ہو…کوئی ایسے ہی تھوڑی نمک والی چائے پی لیتا ہے مرچوں والی گلاب جامن کھالیتا ہے پانی کے نام پر سرکہ پی لیتا ہے…تبریز نے جتایا تو وفا ہنسی…
رشتے نام ہے خوبصورت کا احساس کا..
🌟🌟🌟🌟🌟
ساتھ سال بعد
تبریز کے بچے کہاں ہو…وہ پولیس اسٹیشن ابھی فائل بند کرکے رکھی ہی تھی کہ وفا کی کال دیکھ کر رسیو کی جس پر وفا کی آگ بگولا آواز سنائی دی…
میرے بچے تمہارے پاس ہی ہیں…تبریز بولا…
زیادہ بکواس کی ضرور نہیں اتنی دیر ہوگی یہ تمہاری اولاد نے سر درد کیا ہوا ہے میرا…وفا بولی…
او ہیلو جو مجھ پر گیا ہے وہ بہت ہی شریف بچا ہے اور دوسرا والا تم پر گیا ہے تم تمہاری طرح سر درد کرتا ہے…تبریز بولا اس کا چھ سالہ بیٹا حمزہ جو بلکل اس پر گیا تھا معصومیت شریف لیکن غصہ بہت جلدی آجاتا تھا اور بہت طرناک اور دوسرا چار سالہ سمیر بہت ہی شرارتی تھا وجہ وہ زین کے ساتھ زیادہ رہتا تھا اور جب وفا اکبر ولا جاتی تو عون کے ساتھ ہی ہوتا تھا سمیر میں وفا عون زین کی عادتیں آئی تھی گھر کو سر پر اٹھا رکھتا تھا..
جلدی گھر آو…وفا نے غصے سے بولے فون رکھ دیا سامنے اس کے ارشد کھڑا تھا کچھ رعب رکھنا تھا…
آجاو گا جب دل چاہئے گا غلام نہیں تمہارا گھر بیٹھو سمجھی…دوسری طرف سے کال کٹ چکی تھی لیکن تبریز صاحب بھرم رکھنے کے لیئے تیز آواز میں بول رہے تھے..
🌟🌟🌟🌟🌟
جو مرجائیں انُہیں یاد کیا جاتا ہے جو مار جائیں انُہیں نہیں…ماہم نے سوال کیا تھا کہ کیا ماریہ کی یاد نہیں آتی اسُ پر کیف نے یہ لفظ بولے تھے اسُ دن کے بعد سے سلمان شا اور ماریہ ان سب لوگوں کے لیئے مرگئے تھے…
🌟🌟🌟🌟🌟
رات کا وقت تھا طلال شاہ حرم بیگم باہر ملک گئے ہوئے تھے بزنس کے سلسلے میں گھر میں صرف زین جنت وفا تبریز اور اس کے بچے تھے زین اور جنت کی شادی دو سال پہلے ہی عون اور مریم کے ساتھ ہوئی تھی ارسل کے کہنے پر سیما شاہ اور مصطفیٰ نمرہ کے گھر اسُ کا رشتہ لے گئے تھے اور چار سال پہلے ارسل اور نمرہ حجاب اور موسیٰ کی شادی ہوئی تھی موسیٰ کو اللہ نے ایک بیٹی دی تھی جو دو سال کی تھیِ کیف کی ایک بیٹی تھی چار سال کی جو شرارتی طبیت کی مالک تھی برہان کو اللہ نے ایک بیٹا دیا تھا جو ساتھ سال کا تھا اور بلکل اسُ کی طرح سنجیدہ طبیت کا مالک تھا اور ایک بیٹی دی تھی جو چار سال کی تھی شاہ ذر کا ایک بیٹا تھا چھ سال کا رامش بلکل سنجیدہ طبیت کا مالک تھا ایک اور بیٹا تھا وامش جو بلکل عون پر گیا تھا اور دونوں چاچا بتھجے گھر میں رونق لگائے رکھتے تھے عون نے مریم سے چائے بنوا بنوا کر سر درد کیا ہوا تھا اور جب وہ بولتی کہ سر درد ہوگیا بنا بنا کر چائے تو بولتا کوئی نہیں چائے بناکر پیو ٹھیک ہوجائے گا جس پر مریم جھنجھلا کر رہے جاتی…
ابھی شاہ ذر فریش ہوکر ڈریسنگ کے سامنے کھڑا آئینے میں دیکھا بال سیٹ کرنے کے لیئے برش اٹھایا اور کرنے لگا لیکن یہ کیا اس کے بال سفید ہوگئے حیران و پریشان شاہ ذر نے برش کو دیکھا اور پھر برش پر لگے خوشبو والے پاوڈر کو اور ایک چیخ اکبر ولا میں وامش نام کی تھی اور وامش صاحب عون چاچو کے ساتھ بیٹھے باپ کی آواز پر قہقہہ لگارہے تھے اور فخر سے اپنے کارنامہ عون کو سنا رہا تھا جس پر عون نے داد دی…
🌟🌟🌟🌟🌟
چاچو کی جان…زین حمزہ کو پیار کرتا سمیر کے پاس برابر والی چیئر پر بیٹھنے آیا ابھی وہ بیٹھ ہی رہا تھا کہ سمیر نے چیئر پیچھے کی اور زین صاحب نیچے تھے اور سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا…
ابے یار بیوی کے سامنے تو عزت رکھ لیتے…زین جنت کی طرف اشارہ کرتا سمیر سے بولا…
بہت بری بات ہے سمیر چاچو ہیں یہ..حمزہ اس کی حرکت پر ناگواری سے بولا…
دیکھا اچھا ہوا تمہارے ساتھ تم ہی سیکھاتے ہو نہ یہ حرکتیں…تبریز خوش ہوکر بولا…
انہوں…سمیر یہ سب صرف بابا کے ساتھ کرتے چاچو تو اچھے ہیں نہ یہ سب کام صرف بابا ساتھ کرتے اوکے…وفا نے کیا سمجھایا تھا کہ زین نے فخر کیا اور تبریز دیکھتا رہے گیا…
واہ تبریز واہ…تبریز بڑبڑایا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اسلام آباد کا موسم آج سرد تھا اور اس وقت رات کی خاموشی میں بادلوں کی گنگراج گونج رہی تھی تبریز بالکنی میں کھڑا ہوتی بارش دیکھ رہا تھا جو ابھی شروع ہوئی تھی اتنے میں وفا چائے لیتی اس کے برابر میں کھڑی ہوئی اور ایک کپ اس کو دیکھا جس کا پہلا سپ لیتا وہ مسکرایا اور بولا…
فقط اتنی سی تو تمنا ہے میری ہائے
برستی بارش، تمہارا ساتھ اور ایک کپ نمک والی چاۓ…🙈💓🔥
تبریز کے پیار سے بولنے پر وفا پرسکون مسکرائی اور برستی بارش کو دیکھا اور آسمان کو دیکھتے خدا کا شکر ادا کیا وہ ہی رشتے اور جوڑ بنانے والا ہے انسان کی مرضی سے کچھ نہیں ہوتا جب تک وہ نہ چاہئے
ختم شد!