📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 03)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 03)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

کیا مسلئہ ہے تم لوگوں کہ ساتھ آخر کب ختم ہوگی شوپنگ تم لوگوں کی…گاڑی نکالنے باہر نکلا تو برہان نے اسے انِ لوگوں کے ساتھ جاتے دیکھ کر آوڈر دیا کہ انِ لوگوں کے ساتھ ساتھ رہنا اور ساتھ ہی لے کر آنا اگر برہان نہ کہتا تو وہ کب کا چھوڑ کر چلا جانا لیکن بس..اور اب اتنی دیر سے ان لوگوں کہ ساتھ ساتھ پورا مال روڈ گھوم رہا تھا آخر کار برداشت نے جواب دے دیا تو جھنجھلا کر بولا…

اففف کیا ہوگیا عون تمہیں پتہ ہے نہ ہماری یونی شروع ہونے والی ہے اس ہی لیئے بس کچھ چیزیںے رہے ہیں…وفا آرام سے بولی…

یونی ہی جانا ہے تمہارا وہاں سسرال نہیں ہے…عون تڑخ کر بولا…

ہو بھی سکتا ہے…وفا آنکھ مار کر بولی لیکن عون کی بھائیوں والی گھوری پر ہڑبڑا کر ادھر ادھرُ دیکھنے لگی…

اچھا آؤ پہلے اچھا سا برگر کھاتے ہیں پھر چلتے ہیں اوکے…وفا سمبھال کر بولی…

ہاں وفا صیح کہہ رہی ہے…مریم بھی فوری بولی…

چلیں..عون بول کر ریسٹورنٹ کی طرف بڑھا…

سب چیزیں تو لے لی نہ مریم کچھ رہے تو نہیں گیا…وہ دونوں چیئر پر بیٹھی تھی کہ وفا مریم سے بولی عون آوڈر کرواتا انِ کی طرف مڑا…

ویسے ہم بھی یونی جاتے ہیں لیکن ہم نے اتنی شوپنگ وغیرہ نہیں کی…عون شوپرز دیکھ کر بولا…

ایک ایک ہفتے بعد نہانے والے عون مصطفی تم کیا جانوں…وفا اپنے کپڑوں کے شوپرز پر اس کی نظریں دیکھ کر بولی…

اوقات میں رہو…کل ہی نہایا تھا…عون فخر سے بولا…

کتنے مہینے بعد…مریم نے بھی اپنا حصہ ڈالا…

اچھا…ہماری بلی ہمیں ہی می آو…عون مریم کے بولنے پر آگے ہوکر بولا تو مریم نے ہنہ بول کر چہرہ دوسری طرف کرلیا…

میں تو ابھی سے پریشان ہو یہ سوچ کر تم یونی جانے پر اتنی شوپنگ کررہی ہو جب سسرال جاؤگی تو تو تم شوپنگ کرتے کرتے مجھے بڈھا کردوگی…عون پریشانی سے بولا…

اب ایسی بھی بات نہیں…وفا تڑخ کر بولی…

عون تم میری چیزوں پر نظر مت لگاؤ…وفا شوپرز کو دیکھ کر عون سے بولی…

میں تو اپنی چیز پر نظر لگارہا ہوں…عون مریم کو دیکھ کر وفا سے بولا…

یہ میری چیزیں ہیں…وفا ناسمجھی سے بولی…

ہاں بھی دماغ نہ کھاؤ برگر کھاؤ بکھڑ…عون نے آوڈر آتے دیکھ کر وفا سے کہا…

اور برگر کے بعد مال روڈ کی آئسکریم کیسے مس کرسکتے ہیں…وفا چہک کر بولی کھانے پینے کی وہ دیوانی تھی اور مال روڈ کی آئسکریم تو وہ لازمی کھاتی تھی اکسر وہ برہان کیف شاہ ذر یا عون سے منگواتی بھی تھی…

اور وہ بھی کونُ میں کپ میں نہیں…مریم نے بھی چہک کر حصہ ڈالا…

کھلادوگا بس مجھے نہ کھا جانا…عون منہ بنا کر بولا اور برگر سے انصاف کرنے لگا…
🌟🌟🌟🌟🌟
گھر میں بڑی خاموشی ہے عون اور وفا کہاں ہے…برہان کو بیڈ پر لیٹے موبائل یوز کرتا دیکھ کر مشعل بولی اور پھر کبڈ کی طرف بڑ کر اپنے کپڑے نکالنے لگی…

ہممم…مال روڈ گئے ہیں تینوں…برہان نے جواب دیا..

جبھی…کل سے وفا کی یونی ہے…مشعل کپڑے ایک سائڈ پر رکھ کر بولی…

ہاں..پتہ ہی نہیں چلا کب اتنی بڑی ہوگئی…برہان موبائل سائڈ پر رکھتا پیار بھرے لہجے میں بولا…

بیٹیاں تو ایسی ہی ہوتی ہیں…مشعل مسکرا کر بولی اتنے میں باہر سے تینوں کی آوازیں آنا شروع ہوئی مطلب وہ لوگ آچکے..

لو آگئے…برہان آوازیں سن کر مسکرا کر بولا…

وہ پنک والا پہنو یہ بلیک نہیں…برہان اس کے پکڑے دیکھ کر سنجدگی سے بولا تو مشعل مسکرا کر پنک سوٹ نکالنے لگی کہ اتنے میں چیخ پکار کی آوازیں آنے لگی تو دونوں گھبرا کر باہر بھاگے..
🌟🌟🌟🌟🌟
تیرا درد تھا تیری یاد تھی میں جہاں گیا جدھر گیا
میرا دن تو یونہی گزر گیا جو رات آئی میں بکھرگیا💔

میں نے پوچھا کس سے بات کررہی تھی..مصطفیٰ شاہ وفا پر چیخے..

بابا آرام سے وہ..ارمان ماموں سے بات کررہی تھی…یہ تینوں اندر داخل ہوئے تھے کہ وفا کے فون پر ارمان کی کال آئی وہ انُ سے بات کررہی تھی کہ مصطفیٰ شاہ ایکدم وفا پر غصے سے چلائے…

کیوں بات کررہی تھی…مصطفیٰ شاہ چیخے..

بابا کیا ہوا…برہان وفا کو خوف زدہ دیکھ کر اس کے پاس آیا..

بتاؤ…وہ پھر چلائے..

بابا ماموں ہیں وہ میرے صرف ایک ہی تو ماموں ہیں میرے انُ سے بھی بات نہ کرو…وفا ڈرتے ڈرتے بولی…

ہاں نہیں کرو…اسُ خاندان سے تم دور رہو نفرت ہے اس عورت کے خاندان سے…مصطفیٰ شاہ دھاڑے تانیہ بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انِ کی دھاڑ پر زہرہ بیگم اور ارتصیٰ شاہ کیف سے ہی ادھر موجود تھے وفا برہان سے چپکی جو لب بیھچ کر کھڑا تھا…

ہاں بھئی کہئی تم بھی اپنی ماں کے خاندان والوں کی طرح نہ بن جاؤ…زہرہ بیگم طنزیا انداز میں بولی کیف نے ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نہ بولنے کا َسارہ کیا تو وہ منہ بناتی خاموش ہوگئی..

اب اگر مجھے معلوم ہوا تو دوبارہ کسی سے بھی بات کرنے لائق نہیں رہی گی..مصطفیٰ شاہ وفا کو غصے سے بولتے باہر نکل گئے وفا برہان سے چپکی روئے جارہی تھی…

ارے میری جان…کچھ نہیں ہوا بابا کا پتہ تو ہے…بس خاموش ہوجاؤ…برہان وفا کو خاموش کرانے لگا لیکن دل میں یہ سوچ ہی لیا تھا کہ صیح وقت پر باپ سے ضرور سوال کرے گا کہ آخر مسلئہ کیا ہے انہیں..

وفا وفا بات سو…وفا ایکدم اپنے روم کی طرف بھاگی تو برہان اور شاہ ذر نے آوازیں دی عون اسُ کے پعچھے روم میں گیا…

چلیں امی…شاہ ذر تانیہ بیگم سے بولا جو شرمندہ کھڑی تھی سب جا چکے تھے…

پتہ نہیں اور کتنا بےعزت ہونا پڑھے گا..تانیہ بیگم کے رکے ہوئے آنسو بہنے لگے…

امی آپ کے بیٹے ابھی زندہ ہیں…فکر مت کریں…برہان شرمندگی سے بولا ایک باپ کے آگے وہ بےبس ہوجاتا تھا…

یہ لیں امی پانی پیئے…مشعل پانی کا گلاس انِ کے آگے کرکے بولی تو تانیہ بیگم نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی بیٹے اور بہو ہی اتنے پیار کرنے والے تھے کہ یہ باتیں وہ نظرانداز کردیتی تھی..
🌟🌟🌟🌟🌟
ہیلو کون..وہ انجان نمبر سے کال رسیو کرکے بولی…

ہمارے علاوہ کون ہوسکتا ہے..مقابل شرارتی انداز میں بولا..

آپ…میں بھول کیسے گئی آپ کے علاوہ کوئی دوسرا کیسے ہوسکتا ہے…جنت غصہ سے بولی…

یہ تو ہے جہاں “زین طلال حیدر شاہ” آجائے وہاں کسی دوسرے کو آنے کی اجازت نہیں ہوتی..زین سنجدگی سے بولا..

دیکھیں…مین ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں..جنت رو دینے کو ہوئی کالج سے واپسی پر یہ لڑکا اس کی دوست کا کزن اسےُ لینے آیا تھا اور بس جب سے اسے دیکھا پتہ نہیں کہا سے نمبر ڈیٹا سب معلوم کرکے اس کے پیچھے پڑھا تھا…

جنت سلمان…اگر تم ایسی ویسی ہوتی تو “زین طلال حیدر شاہ” تم سے بات کرنا تو دور دیکھا تک گوارہ نہ کرتا…زین سنجدگی سے بولا ایک دن وہ آیت کو لینے کالج گیا تھا کہ اسے آیت کے ساتھ جنت نظر آئی جنت کے چھرہ پر چاہئی معصومیت نے اسے سن کردیا تھا اور بس اسُ دن کے بعد ہی سب کچھ اس کے بارہ میں معلوم کروایا اور الگ الگ نمبر سے کال کرتا کیونکہ جنت میڈم تو ہر نمبر کو بلاک لسٹ میں ڈال دیتی تھی جس پر اسے بہت غصہ آتا…

دیکھیں..میرا پیچھا چھوڑ دیں ورنہ..میرے بھائی آپ کو جان سے مار دیں گے…جنت خوف زدہ انداز میں بولی موسیٰ کے غصے سے وہ واقف تھی…

ہاں اور جیسے میں نے چوڑیاں پہینی ہیں…ہوں..زین غیر سنجدگی سے بولا..

اففف پلیز معاف کردیں مجھے..جنت جھنجھلا کر بولی اور کال کاٹ دی ادھرُ زین ہیلو ہیلو کرتا رہے گیا…
افف اللہ کیا مصیبت ہے یہ…جنت بڑبڑائی..
🌟🌟🌟🌟🌟
اور کیسا رہا آج پہلا دن یونی میں..عون ڈرائیوف کرتا اپنے ساتھ بیٹھی وفا سے بولا مریم کو کیف پہلے لےگیا تھا مریم کی کلاسس ختم ہوگئی تھی اس لیئے اسے ابھی عون لینے آیا تھا…

اچھا رہا…لیکن پہلے تم کسی مال چلو…وفا جلدی سے بولی…

کیوں بھئی کل ہی تم لوگوں نے اتنی شوپنگ کی ہے یار…عون بےیقینی بولا مطلب کل ہی تو اتنا گھومایا تھا اور آج پھر…

نہیں وہ..کل بابا نے میرا موبائل دیوار پر دے مارا تھا تو دوسرا لینا ہے بہت کوشش کی لیکن نہیں چلا تو برہان بھائی نے بولا تھا کل عون کے ساتھ جاکر دوسرا لے آنا کریڈٹ کارڈ دیا ہے…وفا سنجدگی سے بولی کل کی وجہ سے سب خاموش خاموش تھے…

اچھا…عون نے بھی بنا فضول بات کیئے گاڑی مال کی طرف موڑ دی اور تھوڑی دیر میں ہی گاڑی مال کے سامنے پارک کی…

عون تم پیمینٹ کروا دو میں فورڈ کور میں ہوں…وفا عون کو کارڈ دیں کر فورڈ کور کی طرف بڑی ابھی وہ ادھر ادھرُ دیکھتی چل ہی رہی تھی کہ کسی سے تصادم ہوا…تبریز جو موبائل پر کسی سے بات کرتا آرہا تھا اور ابھی کال بند ہی کی تھی کہ کسی سے ٹکرایا..

اندھی ہو…نظر نہیں آتا…وہ غرا کر بولا…

امی جان کہتی ہیں…جو بولتا ہے وہ خودُ ہوتا ہے…وہ گردن اکڑا کر بولی…

ایڈیٹ…تبریز جلدی میں تھا اس لیئے بغیر فضول بہس کیئے آگے بڑ گیا لیکن ایک بار پلٹ کر ضرور دیکھا تھا اور سر جکھٹا آگے بڑگیا…

خودُ ہوگا…انہوں…وفا ایڈیٹ بولنے جل کر خودُ سے بولی اور قدم فورڈ کور کی طرف بڑادیئے..