📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 14)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 14)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

وہ ارتضیٰ شاہ کے روم کے دروازہ کھولتا رہا پھر پیشانی کو دو انگلیوں سے مسلہ…

مانا کہ میں بےوقوف ہوں پاگل ہوں معصوم ہوں مظلوم ہوں…لیکن اتنا بھی ابھی پاگل نہیں ہوا کہ غصے میں اسُ ماریہ چڑیل سے ہی شادی کرلو…عون خودُ سے بڑبڑایا پھر ایک نظر دروازہ کو دیکھا…

اب ادھر تک آگیا ہوں تو مریم کا رشتہ ہی مانگ لیتا ہوں ایسے خالی ہاتھ جانا اچھا نہیں لگتا…عون سوچتے ہوئے بڑبڑایا…

اور پھر برہان بھائی کو معلوم ہوا…تو جس خالی ہاتھ ہی بات کررہا ہوں وہ ہی سلامت نہیں رہے گے…عون برہان کا ریکشن سوچ کر اپنے کمرے کی طرف بھاگا…

اس ماریہ کا مین نے جینا حرام نہ کردیا نہ تو میرا نام بھی “عون مصطفیٰ شاہ” نہیں…
🌟🌟🌟🌟🌟
اب کیا رو رہی ہو…پہلے آرام سے بیٹھی تھی کوئی فکر نہیں تھی پیپر کی اور اب تم مری میں سیلاب لانا چاہتی ہو…مریم وفا کے رونے پر کوفت سے بولی جب سے دونوں یونی سے آئے تھے وفا نے رونا مچا رکھا تھا…

دفہ ہو تم بھی مریم…جاؤ یہاں سے…کوئی کسی کا نہین ہوتا…وفا کے چلانے پر مریم مسکراہٹ دبائے باہر نکل گئی ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ…

وہ روم کا گیٹ کھول کر اندر داخل ہوا لیکن…لیکن قدموں میں پڑھے چوکلیٹس کے ریپرز اور بوکس دیکھ کر الجھا پھر نظر روم میں گھومائی تو خودُ کا سر ہی گھوم گیا ٹیبل بیڈ کاوچ ہر جگہ چوکلیٹس اور کیک تو کہئی چپس کے پیکٹس رکھے تھے….اور جن محترمہ کا حال وہ پوچھنے آیا تھا وہ تو بیڈ سے نیچے بیٹھی اپنے چاروں طرف کیک اور چوکلیٹس رکھے ایک ہاتھ میں چوکلیٹ لیئے سرخ و سوجی آنکھیں لیئے بیٹھی تھی…

یہ کیا کررہی ہو وفا…عون کی حیرت کن آواز سن کر وفا نے اسے دیکھا اور افسوس سے سر ہلایا…

اپنا غم کم کررہی ہوں…اللہ میری کیا غلطی تھی انہیں نے خودُ غلط چیک کیا ہوگا عون میرے بھائی میرا یقین کرو بہت اچھا پیپر دیا تھا لیکن وہ پروفیسر نے غلط چیک کیا جبھی مجھے جلن میں فیل کردیا کہ وفا مصطفیٰ شاہ اتنی انٹیلجنٹ اگر ایسا چلتا رہا تو میری جگہ وفا لے لے گی…وہ اپنا غم عون کو سنا رہی تھی…

بہت اچھے…ایسے غم کرنے لگے لوگ تو آدھا پاکستان شگر سے ہی مرجائے گا…مجھے لگ رہا ہے میں کسی چاکلیٹ کی فیکٹری مین آگیا ہوں یا بیکری میں…عون طنزیا انداز میں بولا…

اللہ امی…سب آپ کی بیٹی کے دشمن ہے…برہان بھائی…شاہ ذر بھائی اس نمونے کو لے جائے ورنہ میں یہ ساری چوکلیٹس کھا کر خودکشی کرلوگی…وہ روتے ہوئے چلاکر بولی…

اتنا میٹھا کھاتی ہو لیکن جب بولتی ہو تو کریلے کی طرح…وہ ایک چوکلیٹ کا دبا اٹھا کر روم سے بھاگا..

وفا نے موبائل اٹھایا جس پر اس کی یونی فیلوز کے میسجز تھے انُ کو چھوڑ کر وفا نے موسیٰ کا میسج کھولا…

سوری وفا…موسیٰ کا یہ میسج وفا نے ناسمجھی سے پڑھا اور موبائل بند کرکے رکھ دیا ابھی اسےُ صرف صیل ہونے کا دوکھ تھا دوکھ سے زیادہ رونی صورت اس لیئے تھی کہ اس کے آنسو دیکھ کر برہان شاہ ذر کچھ نہیں بولے گے…
🌟🌟🌟🌟🌟
آج وفا کی تاریخ تھی گھر اس وقت بس انِ کے بھائی اور بہوں کی فیملی تھی اور حرم شاہ ارمان شاہ کی فیملی حرم شاہ تانیہ بیگم کو دیکھ کر خوشی سے گلے لگی اتنے سالوں کی دوری…

کیسی ہو حرم…تانیہ بیگم آنسو صاف کرتی بولی…

میں ٹھیک ہو آپی…

اسلام و علیکم…تبریز اور زین دونوں نے تانیہ بیگم کو سلام کیا…

وعلیکم سلام…جیتے رہو میرے بیٹوں…تانیہ بیگم خوشی سے انِ کی پیشانی چوم کر بولی تبریز کو دیکھ کر انہیں بہت اچھا لگا تھا اس دل سے دعا نکلی تھی کہ کاش ان کی بیٹی کی شادی تبریز سے ہوتی…لیکن خوائشوں کا کیا ہے کبھی پوری ہوتی ہے تو کبھی کچھ سکا جاتی ہے…تبریز کے موبائل پر کال آئی تو وہ اکیسوز کرتا باہر نکل کر کال پر بات کرنے لگا سب لاونج مین بیٹھے تھے تبریز نے دیکھا تھا ان کی فیملی کو دیکھ کر سب نے تیور چڑائی تھی اور حمنہ شاہ اس کے والد کو دیکھ کر نفرت سے منہ موڑ گئی تھی…

اوکے…یس سر نو پروبلم…خدا حافظ…تبریز نے مقابل سے بات کرکے موبائل جیب مین رکھا اور مڑا لیکن بدقسمتی کہ وفا سے ٹکرا گیا…

ہائے اللہ…انسان ہو کہ پھتر…وفا اپنا چکراتا سر سمبھالتی بولی…

الحمد اللہ انسان ہوں…ہاں آپ پر مجھے شک ہے…تبریز کہان پیچھے رہنے والوں میں سے تھا…

کہ کہئی میں پری ہو….وفا ادا سے اپنے بال پیچھے کرتی بولی…

کہ کہئی کوئی بہٹکی ہوئی روح تو نہیں…تبریز کی بات پر تو وفا کا خون ہی کھول گیا تھا…

دیکھو…اپنی لمیٹس میں رہو…ورنہ…ورنہ موسیٰ کو بتادوگی…وفا غلط انسان سے غلط بات کہہ گئی تھی وفا کی بات پر تبریز کا بےساختہ قہقہ نکلا تھا…

سیریسی جیسے میں موسیٰ کو جانتا ہی نہیں ہوں…تبریز ہسنے کے درمیان بولا…

وفا تم…تم مجھے موسیٰ کی دھمکی دے رہی ہو…چلو برہان شاہ ذر کی دھمکی دیتی تو کچھ سمجھ تو آتی…لیکن موسیٰ…تبریز پھر ہنس پڑا اسے مری ہائے وے والا سین یاد آگیا تھا…

اس سے اچھا تم مجھے اپنی باتوں سے مارسکتی ہو….تبریز بول کر پھر ہنس پڑا…

تم….بہت ہی خبیث انسان ہو…وفا خوانخوار نظروں اسے دیکھی اندھر بڑگئی..
🌟🌟🌟🌟🌟
سب بیٹھے تھے موسیٰ سنجدہ تاصر لیئے بیٹھا تھا وفا دوسرے صوفے پر بیٹھی تھی موسیٰ نے نظریں اٹھا کر وفا کو دیکھا تو وہ مسکرادی موسیٰ کی نظریں پر وفا کے گلابی چہرہ پر تھی اسے ایسے دیکھتے برہان نے مٹھیاں بیچنھی ارسل نے موسیٰ کے کندھے پر دباؤں ڈالا تو وہ ہوش میں میں آیا اور گہری سانس لے کر کھڑا ہوا سب اس کے ایکدم کھڑے ہونے پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگے…

میں وفا سے شادی نہیں کرسکتا…موسیٰ کے بولنے پر سب کھڑے ہوئے شاہ ذر تو اس کی بات سن کر بھڑک اٹھا اور کچھ سیکنڈ میں موسیٰ کا گربان شاہ ذر کے ہاتھوں میں تھا موسیٰ کے بولنے پر تانیہ بیگم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا حرم بیگم نے جلدی سے تانیہ بیگم کو سمبھالا اور مصطفیٰ شاہ ناسمجھی سے موسیٰ کو دیکھ رہے تھے…

کیا بولا دوبارہ بول…شاہ ذر دھاڑا…

میں وفا سے شادی نہیں کرسکتا…موسیٰ سنجدگی سے بولا موسیٰ کی بات پر صرف مارا دل سے خوش ہوئی تھی..

تیری تو…شاہ ذر نے ایک مکہ اس کے منہ پر مارا تو سب ہوش میں آکر شاہ ذر کو موسیٰ سے الگ کرنے لگے…

شاہ ذر پلیز…تبریز اور عون نے اسے الگ کیا لیکن برہان بس سرد نظروں سے موسیٰ کو دیکھ رہا تھا شاہ ذر کو کچھ نہ کہا جیسے چاہتا ہو کہ شاہ ذر موسیٰکو مار مار کر جان نکال دے…

وفا نے آنسو بھری نظروں سے موسیٰ کو دیکھا تو اس کے دیکھنے پر موسیٰ نے نظریں چرائی وفا کو اب وہ سوری کا میسج سمجھ آیا تھا اسےُ کوئی محبت غشق نہیں تھا موسیٰ سے لیکن وہ ایک لڑکی تھی اس کے ساتھ اپنی زندگی سوچ چکی تھی اور ایک دم سے موسیٰ کے انکار پر اس کی آنکھیں بھر آئی تھی مریم اور مشعل اس کے پاس ہی کھڑے تھے…

کیوں نہین کرسکتے…کیا کوئی بات بری لگی ہے موسیٰ…مصطفیٰ روعب دار آواز میں بولے…

اگر آپ یہ گھر اور پچاس لاکھ روپے وفا کے جہزہ میں دیں تو موسیٰ وفا سے شادی کرلے گا…سلمان شاہ موسیٰ کے پاس کھڑے ہوتے بولے تو سب نے بےیقینی سے انہیں دیکھا…

آپ میری بہن کی قیمت لگائے گے…برہان کی برداشت اتنی ہی تھی…

بھی دیکھو اکلوتی بہن ہے…تین تین بھائی ہیں…اتنا تو حق بنتا ہے…کیا نہیں کرسکتے اتنا تم لوگ…سلمان شاہ بولے موسیٰ سر جکھائے خاموش کھڑا تھا…

ہم اپنی بہن کے لیئے جان بھی دے سکتے ہیں لیکن…لیکن آپ جیسے لوگوں کو اب ہم خودُ اپنی بہن نہیں دے گے…شاہ ذر تبریز سے اپنا وجود چھڑواتا غصے سے بولا…

چلو یہاں سے موسیٰ….حمنہ بیگم آنسو روکی بولی انہین نے بھائی کی نظروں میں سرد مہری دیکھ لی تھی…

ہممم…میں وفا سے نہیں ماریہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں…موسیٰ کی بات پر سب کو سانپ سونگ گیا تھا عون طنزیا نظروں سے ماریہ کو دیکھ رہا تھا جس کا چہرہ موسیٰ کی بات پر کھل اٹھا تھا…

ہمیں منظور ہے…ارتضیٰ صاحب کی بات پر سے نے بےیقینی سے انہیں دیکھا….

ارتضیٰ…مصطفیٰ نے صاحب نے کچھ بولنا چاہا لیکن اپنے بہن بھائیوں کو اپنی بیٹی کے ٹھکرانے جانے پر خوش دیکھ کر وہ ٹوٹے غرور اور ٹوٹے دل کے ساتھ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑگئے…ابھی سب سکتے بھی تھی کہ کسی کے گرنے کی آواز پر پلٹ کر دیکھا تو وہ بےجان زمین پر پڑی تھی…

وفا…وفا میری جان اٹھو…اس سب واقعہ میں وفا کو سب فرواموش کرچکے تھے اور اب برہان شاہ ذر عون مشعل زین سب اسے ہوش میں لانے کی کوشش کررہے تھے تبریز اور حرم بیگم تانیہ بیگم کو سمبھال رہے تھے…موسیٰ سے برداشت نہ ہوا تو وہ باہر نکل گیا ماریہ کا رشتہ موسیٰ سے ہوگیا تھا ماریہ خوش تھی بہت خوش شاید اسے پتہ نہیں تھا اسُ کی زندگی موسیٰ کس طرح جہنم بنانے والا ہے وفا کو برہان اٹھا کر اس کے روم کی طرف بڑگیا تھا مریم بھی ساتھ آرہی تھی کہ عون نے اسے سرد نظروں سے گھورا اور دروازہ منہ پر بند کردیا مرین نے بےیقینی نظروں سے بند دروازہ کو دیکھا…