📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 13)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 13)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

تمہیں کچھ ہوش ہے کہ نہیں…مریم اس وقت وفا کے سر پر کھڑی بول رہی تھی..

کیا ہوا مانو…وفا اس کے تیور دیکھ کر بولی…

دو دن بعد ٹیسٹ ہے ہے کچھ یا نہیں…مریم نے جھڑکا…

او…مجھے واقعی یاد نہیں…وفا سر ہاتھ مارتے بولی…

جب سے تمہاری منگنی ہوئی ہے موسیٰ کے علاوہ کچھ یاد ہوتا بھی ہے تمہیں…مریم بھڑک کر بولی…

مریم تمیز سے…وفا نے ناگواری سے مریم کی بات سنی…

خیر…یاد کرلو بہن ورنہ فیل ہوجاؤگی…مریم بول کر باہر نکل گئی…

ہائے اللہ دو دن میں سب یاد کرنا پڑھا گا…ابے یار یہ دل اتنا برا کیوں ہورہا ہے…وفا سوچے ہوئے بولی ایسی فیلنگس آرہی تھی کہ جیسے کچھ ہونے والا ہے…
🌟🌟🌟🌟🌟
سب لاونج میں بیٹھے تھے کیف کی شادی کی باتیں چل رہی تھی کہ مشعل شاہ ذر کے پاس آئی…

شاہ…برہان کب تک آئے گے…اتنا ٹائم ہوگیا…مشعل گھبرائی سی بولی…

بھابھی مجھے نہیں پتہ بھائی نے کہا تھا وہ جلدی آجائے گے…شاہ ذر بولا…

برہان اب تک نہین آیا…مصطفیٰ شاہ بولے…

نہیں…مشعل بولی تو وفا بھی گھبرائی ویسے ہی وہ بہت بےچین ہورہی تھی…

ایک منٹ بھائی کے کال ہے…شاہ ذر کے موبائل پر برہان کے نمبر سے کال آئی تو اسُ نے فوری کال رسیف کی…

جی…آپ کون…دوسری طرف سے انجانی آواز سن جر شاہ ذر بولا…

دیکھیں مری ہائے وے پر ایکسرنٹ ہوا تھا اور جو مریض ہے انُ کے موبائل پر لاسٹ کال آپ کی تھی اس لیئے آپ کو کال کی آپ اس….ہوسپٹل آجائے مریض کی حالت ٹھیک نہیں ہے…مقابل نے تفصیل بتاکر کال کاٹ دی اور شاہ ذر کا وجود سن ہوکر رہے گیا تھا اسُ پتہ ہی نہیں چلا کہ آنکھوں سے آنسو بار توڑ کر گال پر آئے تھے…

کیا ہوا شاہ…رو کیوں رہے ہو برہان کیا بول رہے تھے…مشعل اس کے رونے پر گھبرا کر بولی…

بھائی بتائے…عون نے شاہ ذر کو جھنجھوڑا تو وہ ہوش میں آیا…

بھائی کا مری ہائے وے پر ایکسرنٹ ہوا ہے…وہ ٹھیک نہیں ہے مجھے جانا ہوگا…شاہ ذر آنسو صاف کرتا کھڑا ہوا اکبر ولا میں تو ایسا لگ رہا تھا قیامت آگئی سب پورا ولا ہی روانا ہوا تھا ہوسپٹل جانے کے لیئے…
🌟🌟🌟🌟🌟
شاہ ذر عون کیسا ہے میرا بیٹا…تانیہ بیگم روتے ہوئے بولی مشعل کو ماریہ اور حجاب سمبھال رہی تھی وفا کے پاس مریم کھڑی تھی جو چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی تانیہ بیگم کو تفصیل بتانے عون انُ کے پاس بیٹھا…

اب کیوں سوگ منارہی ہو…خاموش ہوکر بیٹھ جاؤ ور نہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…شاہ ذر وفا کے رونے پر ناگواری سے دبے دبے لہجے میں بولا تو وفا نے شاہ ذر کو دیکھ جو سخت نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا…

بھائی…وہ میرے بھائی ہے…وفا نے تڑپ کر کہا…

اچھا…وہ ہی بھائی ہے جس کے ساتھ تم کل بتمیزی کررہی تھی یاد ہے کچھ…اور اب رو کر کیا بتانا چاہتی ہو کل تم نے ہم تینوں بھائیوں کو بتادیا تھا کہ تم ہم سے محبت نہیں کرتی…شاہ ذر کے غرا کر بولے پر وفا نے نظریں چرائی…

بھائی پلیز…اس وقت کچھ خیال کرلیں…عون شاہ ذر سے بولا…

اس سے بولو خاموش ہوجائے فضول کے ڈرامہ مت کرے آتے جاتے لوگ دیکھ رہے ہیں…شاہ ذر لوگوں کے رک رک کر وفا کو دیکھنے پر سرد لہجے میں بولا…

کیا ہوا…بتائیں نہ کچھ…مصطفیٰ شاہ ڈاکٹر کے ساتھ آئے تو تانیہ بیگم شاہ ذر جلدی سے انِ لوگوں کی طرف بڑھے مشعل کو بار بار غش آرہا تھا اس لیئے اسےُ ایک جگہ بیٹھا کر رکھا تھا…

دیکھیں پیشنٹ کی حالت خطرہ سے باہر ہے…ڈاکٹر کے بولنے پر سب نے پرسکون سانس لی اور خدا کا شکر ادا کیا…

پیشنٹ کو روم میں شفٹ کردیا ہے انُ کہ ہاتھ اور سر پر چوٹ لگی ہے لیکن وہ جلدی ٹھیک ہوجائے گی اور ہوش بھی صبح تک آجائے گا انشااللہ…یہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ وہ بچ گئے گاڑی دوسری طرف سے لگی اگر ڈرائونگ سائڈ سے لگتی تو وہ دوسری سانس نہین لے سکتے تھے…ڈاکٹر نے تفصیل بتائے اور شاہ ذر کا کندھا تھپتھاتے آگے بڑگئے…

اللہ تیرا شکر ہے…مشعل روتے ہوئے بولی…

میرے خیال سے رات بہت ہورہی ہے اب سب کو گھر جانا چاہیئے…شاہ ذر مچھلی بازار بنا دیکھ کر بولا تو سیما شاہ نے جلدی سے کہا…

ہاں بچا صیح کہہ رہا ہے…نہیں مطلب بھائی جوان لڑکیاں کیا ہوسپٹل میں بیٹھی رہے گی…سیما شاہ بھائی کے دیکھنے پر گڑبڑا کر بولی تو شاہ ذر نے سیما شاہ کی اداکاری کو داد دی…

ہممم…چلو پھر…مصطفیٰ شاہ بولے…

میں نہیں جاؤگی…وفا جلدی سے بولی…

تم گھر جاوگی…شاہ ذر جلدی سے بولا…

بابا میں ادہر ہی ہوں…ویسے بھی بھائی تو روم مین ہے نہ وہاں کیا مسلئہ ہوگا…شاہ ذر کے گھورنے پر وفا منمناتی ہوئے مصطفیٰ شاہ سے بولی…

میں بھی گھر نہیں جاؤگی…مشعل بھی جلدی سے بولی…

نہیں بھابھی آپ گھر جائے ویسے بھی آپ کی طبیت ٹھیک نہیں…شاہ ذر نرمی سے بولا…

نہیں شاہ ادھر ٹھیک رہوگی گھر جاکر خراب ہوجاآے گی طبیت…مشعل کے آہستہ سے کہنے پر شاہ ذر اور عون کیف نے مسکراہٹ چھپائی…

اچہا اچھا ٹھیک ہے وفا مشعل عون شاہ ذر ادہر ہی رکھ جاو باقی سب چلو…مصطفیٰ شاہ بولے…

مین بھی رک جاتا ہوں…کیف اور ارسل بولے…

نہین تم لوگ گھر جاو…لیڈیز اکیلی ہوگی کیا…شاہ فر نے سمجھایا تو سب چلے گئے…

میں کینٹین سے بریانی لاتا ہوں سب کے لیئے…بہت بھوک لگی ہے…عون پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولا…

میں نہین کھاوگی…وفا عون سے بول کر روم میں داخل ہوئے اور اپنے سب سے زیادہ لاڈ اٹھانے والے بھائی کو دیکھا جس کے سر اور ہاتھ پر پٹی بندی تھی ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی وفا جلدی سے برہان کے پاس آئی اور اسُ کا ہاتھ چوما….

سو…سور…سوری بھائی…پلیز معاف کردیں میں بہت ٹینس ہوگئی تھی پلیز بھائی…وفا برہان کا ہاتھ پکڑ کر ادھر ہی چیئر پر بیٹھ گئی تھی…مشعل دوسری سائڈ پر چیئر پر بیٹھی اس تھی شاہ ذر روم میں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا تھا اور روتے ہوئے وفا کو دیکھ رہا تھا اسےُ بھی تو وفا کے رونے سے تکلیف ہورہی تھی وہ لاکھ اسے جب سے باتیں سنارہا تھا لیکن اسُ سے وفا کا رونا نہین دیکھا جارہا تھا رونے سے وفا کی آنکھیں سوجی سوجی اور لال ہورہی تھی…

لو جی آو بریانی کھاؤ…عون ہاتھ میں چار بریانی سوف ڈرنگ لیتا روم مین داخل ہوا…

ہم ہوسپٹل ہے…شاہ ذر نے اس کے جوش پر چونٹ کی دھوڑی دیر پہلے برہان ٹھیک ہے سن کر ہی وہ کیف ارسل کے ساتھ کینٹین مین چائے پے رہا تھا اور اب بریانی لیکر آگیا…

ارے بورنگ بھائی…اممم شاہ بھائی سب غم بھول جائے اور بریانی کھائیں…عون نے ایک بریانی کا بوکس شاہ ذر کو دیا ایک مشعل کو اور پیٹیس وفا کے آگے کیئے…

مجھے پتہ تھا تم بریانی نہیں کھاوگی کل ہی کھائی تھی اس لیئے اس وقت کینٹین میں یہ ہی دو چیزیں تھی تو ابھی ان پیٹیس پر گزارا کرو…اور بھابھی امی بول کر گئی ہے کہ مشعل کو برہان کی قسم ہے وہ کھانا ضرور کھائے…عون نے پکی عورتوں کی طرح ہاتھ کمر پر رکھ کر مشعل سے کہا…

عون میرا دل نہیں یہ کھانے کا گھر پر فرائز کھائے تھے ابھی بھوک نہیں…وفا بھاری آواز میں بولی اور وفا برہان کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اسُ پر سر رکھے آنکھیں بند کی…
🌟🌟🌟🌟🌟
صبح کی ہلکی ہلکی روشنی مری کی پہاڑیوں پر بکھر کررہی تھی ہوپسٹل روم میں اس وقت بہت ہلکی ہلکی روشنی تھی برہان کی آنکھ کھولی سر میں ایک ٹھیس اٹھی زہن جب بےدار ہوا تو سب یاد آیا برہان نے گہری سانس لے کر اپنا ہاتھ اٹھانا چاہا لیکن جیسے کسی نے مضبوطی سر پکڑا ہوا تھا برہان کی نظر ہاتھ پر گئی پھر نظر وفا پر گئی جو اس کا ہاتہ مضبوطی سے پکڑی اسی پر سر رکھے گہری نیند میں تھی برہان دل و جان سے مسکرادیا پھر نظر اپنے دوسرے ہاتھ پر گئے جہاں اس کی شریک حیات بھی گہری نیند میں تھی پھر مسکرا کر مشعل سے نظریں اٹھا کر ایک طرف کے صوفے پر دیکھا جہاں شاہ ذر ایک طرف سر رکھے پاؤں عون پر رکھے سورہا تھا اور عون صاحب ایک دوسری طرف سر رکھے ایک پاؤں اپر دوسرا نیچے رکھے سوئے پڑھے تھے برہان مسکرادیا پھر وفا کا سوچ کر اس نے ساہ ذر کو آواز دی کہ وہ اسے دوسرے صوفے پر لٹا دے لیکن جناب تو گہری نیند میں تھے مشعل کی چیئر پر نہیں ون سیٹر صوفے پر لیٹی تھی برہان نے اپنے ہاتھ سے مشعل کا سر اٹھا کر صوفے پر ٹکایا اور پاؤں بیڈ پر رکھے پھر دبے دبے لہجے میں شاہ ذر کو آواز دی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھا…

بھائی…آپ ٹھیک ہے…درد تو نہیں ہورہا کہئی…شاہ ذر جلدی سے اٹھ کر برہان کے پاس آیا برہان اس کی فکرمندی پر مسکرایا…

نہیں میں ٹھیک ہوں…تم وفا کو اس صوفے پر لٹادو پوری رات سے ایسے بیٹھی ہوگی کمر اور سر مین درد ہوگیا ہوگا…برہان نے فکرمندی سے کہا تو شاہ ذر نے وفا کو گود مین اٹھا کر صوفے پر لٹایا اور اسُ کی چادر اڑادی..

تم بھی سوجاو سوری یار پریشان کردیا…برہان اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر بولا…

نہیں بھائی کوئی بات نہیں…شاہ ذر برہان کی پیشانی چمتا دوبارہ صوفے پر اپنی پوزیشن مین آتا سوگیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
مریض کو دیکھنے نرس اندر داخل ہوئی اور لائٹ کھولی تو برہان کی بھی آنکھ کھول گئی اور مشعل کی بھی نرس نے روم بھی چاروں کو دیکھ کر تیوری چڑائی…

یہ دیکھو مریض کے ساتھ صرف دو علاو ہے…اور انُ کو دیکھو کیسے سوئے پڑھے ہے…نرس کے بولنے پر مشعل جو برہان سے لگ کر رو رہی تھی سیدھی ہوکر بیٹھی…

اے اٹھو…نرس نے شاہ ذر اور عون کو ہلایا پھر وفا کی طرف بڑی…

سسٹر اسے چھوڑیں سونے دیں…برہان جلدی سے بولا تو نرس رک گئی اور عون اور شاہ ذر کو جھونجھوڑا تو عون اور شاہ ذر ہڑبڑا کر اٹھے…

یہ ہوسپٹل ہے فارم ہاوس نہیں جو یہاں پکنک منارہے ہو…نرس نے بری طرح جھڑکا…

وہ کیا ہے نہ سسٹر…فارم ہاوس جا جا کر بور ہوگئے اس لیئے سوچا ہوسپٹل میں پکنک مناکر دیکھتے ہے کیسا لگتا ہے…سب سیٹ تھا بس کینٹین والے سے بولنا چائے میں چینی زرہ زیادہ ڈالا کرے…پیٹیس صیح سے بیک کیئے کرے…اور ہاں بریانی میں مصالہ زیادہ ڈالا کرے…باقی سب سیٹ تھا…ایسا ہوسکتا تھا کہ عون خاموش رہے نرس تو حیرت سے منہ کھولے وجہی چہرہ والے لڑکے کو دیکھ رہی تھی جو سوتے سے اٹھ کر بھی اتنا بول رہا تھا اور وہ ہی فضول عون کے بولنے پر برہان اور مشعل نے نرس کو دیکھ کر قہقہ ضبط کیا شاہ ذر نے بند کھول آنکھوں سے بیزاری سے اپنے پٹاخے چھوٹے بھائی کو دیکھ رہا تھا جو نیند سے اٹھ کر بھی نون اسٹوپ بول رہا تھا اتنا تو شاید شاہ ذر ایک دن میں بولتا ہوگا ایکدم ہی شاہ ذر نے جھرجھری لی…وفا تو ویسے ہی سوئی پڑی تھی…

آپ کو ان کی ٹینشن ہوگی جبھی ٹرک دیکھ نہ سکے…نرس نے افسوس سے برہان سے عون کی طرف اشارہ کرتے کہا تو سب نے ناسمجھی سے نرس کو دیکھا…

میری کیا ٹینشن ہوگی بھائی کو…عون ناسمجھی سے نرس سے بولا…

یہ ہی کہ تم جیسے لڑکے کو اپنی لڑکی کون دے گا سر درد کرنے کے لیئے….ویسے اچھا ہے بیوی خود ہی ڈر کر کھانا بنائے گی کہ کہئی تو دماغ ہی نہ کھا جاؤ…نرس کے تپ کے بولنے پر برہان اور مشعل کا رکا ہوا قہقہ برآمد ہوا…
🌟🌟🌟🌟🌟
تبریز لوگوں کو جیسے ہی پتہ چلا تو تبریز کے ساتھ زبردستی چپک کر زین اور آیت بھی ہوسپٹل آئے اس وقت یہ لوگ ناشتہ کررہے تھے…
🌟🌟🌟🌟🌟
بھائی آپ مجھ سے ناراض نہیں ہے نہ…وفا برہان کو دیکھتی بولی…

میری جان میں تم سے ناراض ہوسکتا ہوں…ہان اگر تم نے ناشتہ نہین کیا تو پکا والا ناراض ہوجاوگا کل رات سے کچہ نہین کھایا شاہ ذر نے بتایا مجھے…برہان سینڈوچ کا وفا کے آگے کرتا بولا تو وفا نے خوشی سے لیا اور ناراضگی کے ڈر سے کھانا شروع کیا اتنے مین تبریز لوگ اندر داخل ہوئے جسے دیکھ کر وفا کا منہ تک کڑوا ہوگیا اور تبریز نے بڑی دلچسبی سے اس کے ایکسپریشن دیکھے تھے…

اسلام و علیکم کیسے ہیں آپ…تبریز برہان کے پاس آکر بولا اور مشعل شاہ ذر کو سلام کیا برہان نے اسُ ہی دن واپس آکر مشعل اور شاہ ذر کو بتادیا تھا فو شاہ ذر اس سے گرم جوشی سے ملا پھر زین سے پھر نظر آیت پر گئی آیت نے بھی آہستہ آواز میں کیا تو شاہ ذر نے مسکرا کر جواب دیا…

آہہ…یہ میری چاچو کی بیٹی ہے آیت…تبریز نے آیت کا تعارف کروایا…

اوہ…تو یہ اس کی کزن ہے…صیح اچھا ہوگیا ورنہ پیپیرز کے بعد میں اس کا ڈیٹا پتہ کرنے ہی والا تھا…شاہ ذر نے آیت کو نظروں میں لیئے سوچا عون واشروم سے نکلا تو انُ لوگوں کو دیکھ کر چونکا پھر زین کے پاس آیا…

اوے توُ یہاں کیا کررہے ہو…عون زین کو دیکھ کر بولا…

وہ..میں بھائی کے ساتھ آیا ہوں…زین کو سمجھ نہ آیا کیا کرے…

بیٹا یہ ہوسپٹل ہے کوئی لنگر نہیں بٹ رہا تھا یہاں جو…میں بھائی کے ساتھ آیا ہوں…عون زین کی نقل اتارتے ہوئے بولا جس پر شاہ ذر نے ایک چپت لگائی اور زبردست گھوری سے نوازہ…

عون…برہان نے اسے گھورا…

کوئی کسی سے ملے نہ ملے ین دونوں پکے کزنز لگتے ہیں…تبریز ہنس کر بولا تو سب ہنس دیئے وفا نے منہ بنایا…

ٹھنڈا جوک…وفا تپ کر بولی…

دوسرا سینڈوچ لے آؤں…تبریز نے آئبرو اچکا کر پوچھا…

کیوں…وفا ناسمجھی سے ہاتھ میں پکڑے سینڈوچ میں دیکھا…

یہ تو ٹھنڈ سے برف بن گیا ہوگا…تبریز نے سنجدگی سے کہا تو وفا کا دل چاہا اس کا حسین چہرہ بگاڑ دے…
🌟🌟🌟🌟🌟
کیا لگتا ہے ارشد تمہیں اس کیس ہے تو گھما کر رکھ دیا…تبریز اپنے آفس میں بیٹھا فائل بند کرتا حوالدار سے بولا…

مجھے خودو سمجھ نہین آرہا صاحب…وہ کوئی جوان تھوڑی ہے…وہ بہت ارصے سے یہ کام کررہا ہے اور مین خودُ گھوم کر رہے گیا ہوں کم سے کم وہ اسے یہ کام کرتے چالس سال تو ہوگئے ہوگے…ارشد بولا اور ساری آیف آئی آر تبریز کے سامنے رکھی…

جو بھی ہے اگر مین نے بھی اس کو جڑ سے نہ اخاڑ دیا رو میرا نام “تبریز طلال حیدر شاہ” نہیں…تبریز مضبط لہجے میں بولا اور آیف آئی آر دیکھنے لگا جس میں بھتہ خوری،اغواہ،قتل،منشیات کی فروخت کی آیف آئی آر موجود تھی تبریز نے سگریٹ سلگا اور دیھان سے فائل اور روپوٹس دیکھنے لگا
🌟🌟🌟🌟🌟
برہان کے ایکسٹرنٹ کو تین دن ہوگئے تھے اور برہان کل ہی گھر آگیا تھا گھر مین سب شادی کی شوپنگ وغیرہ مین لگے ہوئے تھے…وفا سیڑیوں پر کھڑی موبائل یوز کررہی تھی یہ موبائل کل ہی شاہ ذر نے برہان کے کہنے پر لاکر دیا تھا ابھی وہ موبائل میں اتنی گوم تھی کہ ماریہ نے اس دھکا دیا اور اپنے روم مین بھاگی ادھر وفا بری طرح گرتی کہ سیڑیوں سے اتنا عون نے جلدی سے اسے پکڑا وفا اور عون دونوں کا دل بری طرح ڈھرک رہا تھا اگر عون نہ پکڑتا وفا کو تو…یہ سوچ ہی دونوں کو ڈرا رہی تھی…

ک…کچھ نہیں ہوا میری جان کچھ نہیں…عون وفا کو اپنے ساتھ لگائے بولا اور ایک نفرت نظر ماریہ کے روم پر ڈالی وہ دیکھ چکا تھا وفا نے نہیں دیکھا تھا لیکن عون نے دیکھ لیا تھا…

تم…تم اپنے روم مین جاؤ تھوڑا آرام کرو جاؤ شاباش…عون وفا کو روم میں بھجتا دل مین کچھ فیصلہ کرتا ارتضیٰ شاہ اپنے چاچو کے روم کی طرف بڑھا…