Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 18)
Shoq e Deedar (Episode 18)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
اہمم…شاہ ذر نے آیت کے پاس جاکر اسے اپنی طرف متوجہ کیا…
ارے آپ…آیت چونک کر بولی…
مجھے یقین نہیں آرہا آپ تبریز کی کزن ہے…شاہ ذر مسکرا کر بولا..
جی مجھے بھی حیرت ہوئی آپ تبریز بھائی کے کزن ہے..آیت نے بھی سیم جوان دیا تو شاہ ذر مسکرادیا…
اچھا ہوا ورنہ مجھے بہت خواری ہوتی…شاہ ذر بولا تو آیت نے ناسمجھی سے اسے دیکھا…
خیر چھوڑیں…مین آتا ہوں…شاہ ذر اور بات کرنا چاہتا تھا لیکن کیف کے بلانے پر اسُ کے پاس چل دیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
سب لڑکیوں نے غرارے پہینے تھے اور لڑکوں نے سفید شلوار قمیض کیف اور ماہم سب کی ہی نظروں ان دونوں پر تھی دونوں سب ان لوگوں کو رشک سی نظروں سے دیکھ رہے تھے…
کیا ہوا…آیت کے گھورنے پر ابراہیم آئبرو اچکا کر بولا…
اگر آپ بھول گئے ہین تو مین یاد کروادو آپ کی منگنی ہوچکی ہے…آیت ابراہیم کی نظریں حجاب پر دیکھ چکی تھی اس لیئے یاد کروایا ابراہیم کی منگنی اسُ کی ماموں کی بیٹی سے ہوئی تھی وہ لوگ لندن مین رہتے ہیں اور ابراہیم کی پڑھائی مکمل ہوتے شادی کے لیئے آئے گے…
اب یار نظروں کا کیا کریں پوچھ کر تھوڑی جاتی ہے…ابراہیم نے شرارتی انداز میں کہا تو آیت ہنس پڑی…
🌟🌟🌟🌟🌟
ارسل اکیلے کھڑا تھا کہ اس کے ایک طرف عون اور ایک طرف زین آکر کھڑے ہوئے…
دل تو دھکتا ہوگا…عون نے اسٹیج پر دیکھتے کہا..
رونا تو آتا ہوگا…زین نے بھی سیریس انداز میں کہا…
کیا ہوگیا بھائی…ارسل گھبرا کر بولا..
کوئی بات نہیں ارسل بھائی ہوتا ہے یار…مجھ سے شیئر کرلیں…عون نے ہوسلہ دینے والے انداز میں ارسل کے کندھے پر ہاتھ رکھا…
ہمیں پتہ ہے آپ یہ دیکھ رہے ہیں یہ سب کی شادی ہورہی ہے اور آپ آپ کی نہیں…برہان بھائی کی شادی بھی ہوچکی اور اب کیف…کیف تو آپ سے چھوٹا ہے…ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں…زین نے سنجیدگی سے تفصیل بتائی اور ارسل نے دونوں ڈرامہ بازوں کو دیکھا…
تم لوگوں کو زیادہ دکھ نہیں برہان ان لوگوں کی باتیں سن کر ان کے پاس آکر بولا…
یار برہان لالے…کہاں سمجھوگے کنوارے کا درد…عون افسوس سے بولا تو برہان نے گھورا…
صیح بول رہا ہے عون ہمارا درد صرف ارسل بھائی ہی سمجھ سکتے ہیں…ہماری بھی شادی کرواں ورنہ ہم مال روڈ پر دھرنا دے بیٹھے گے شاہ ولا کے خلاف…زین نے دھمکی دی اور ایک نظر جنت پر ڈالی جو مریم کے ساتھ کھڑی کسی بات پر ہنس رہی تھی…
اہمم…پہلے کچھ بن تو جاو پھر آنا شادی کی بات پر…اور اپنی نظریں زرا قابو میں رکھو…برہان زین کی نظریں جنت پر نوٹ کر چکا تھا…
ارے…آپ تو ہمارے دوست ہی ہیں…زین گڑبڑا کر بولا…
ہمم صیح کہا…برہان بولا…
یار برہان یہ بتاو شادی سے پہلے کتنی لڑکیوں کو ہماری بھابھی بنے کا خواب دکھایا تھا…عون نے برہان کی دوستی کی ہامی پر دوستوں کی طرح سوال کیا جس پر ارسل کا قہقہہ نکلا…
ابھی بتاو مین تمہیں…برہان نے گھورا…
ہاں ابھی…عون طنز کو ناسمجھا…
بتایں نہ اس سے پہلے ہماری معصوم بھابھی آجائے…زین بھی بولا…
بیٹا تمہاری بھابھی معصوم ہے لیکن انُ کا شوہر نہیں…برہان بولا…
بتانے کی ضرور نہیں ہمیں معلوم ہے…عون ناک سے مکھی اٹراتا بولا…
بیٹا زیادہ زبان چل رہی ہے تمہاری…برہان نے بھائیوں والی گھوری دیکھائی تو عون دانتوں کی نمائش کرتا زین کو لیئے آگے بڑگیا…
دونوں کسی فلم سے کم نہیں…برہان ان دونوں کی پشت دیکھتا بولا…
چلو مجھے ہی بتادو کس کس کو خواب دیکھائے تھے…ارسل شرارت سے بولا تو برہان نے ایک ہاتھ جڑا..
🌟🌟🌟🌟🌟
ٹوٹ پیسٹ کا ایڈ کرنے آئے ہو…جب سے دیکھ رہی ہوں بس مسکرائے جارہے ہو…وفا تپ کر بولی…
اتنے سیریس کیوں ہو…وفا جھنجھلا کر بولی کب سے خاموش کھڑا بس دانتوں کی نمائش کررہا تھا…
تو کیا کرو بتاو مال روڈ پر جاکر مجرا کرو…سیریس کیوں ہو…تبریز تپ کر بولا…
نہیں مری کی معصوم عوام گھروں سے نکلنا چھوڑ دے گی کہ کون ہی بلا مری میں گئی…رات جب بچے نہیں سوئے گے تو ماں باپ بولیں بے سو جاو بچوں ورنہ تبریز آجائے گا…وفا سجنیدگی سے بولا اور تبریز نے بھی بڑے غور سے سنا جب سمجھ آیا کہ اسُ کی ہی بےعزتی ہوئی تو زبردست گھوری سے نوازہ…
میں نے تو پہلے ہی کہا تھا وفا اچھی لڑکی نہیں دیکھا نہیں اسُ دن کیسے بہوش ہوگئی تھی اور آج جلد ہی رشتہ بھی پکا ہوگیا اور تبریز سے مسکرا کر باتیں بھی ہورہی ہے…ماریہ موسیٰ کے پاس آکر بولی تو موسیٰ نے افسوس سے اسے دیکھا…
کبھی خودُ کو دیکھا ہے…موسیٰ کی بات کچھ نہ تھی لیکن موسیٰ کے لہجے نے ماریہ کو بہت کچھ سمجھایا تھا ایک الگ نفرت تھی موسیٰ کی نظر میں اس کے لیئے ماریہ چپ چاپ وہاں سے چل دی موسیٰ کی نفرت بھری نظر اس اپنی پشت پر محسوس ہوئی تھی…
🌟🌟🌟🌟🌟
ہیلو…تبریز…تبریز اپنی کال سن کر مڑا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر تبریز کے چہرہ پر مسکراہٹ آگئی…
میں ماریہ وفا کی کزن…ماریہ ایک ادا سے بال سائیڈ پر کرتی بولی…
جی دیکھا تھا اسُ دن…تبریز وفا کی تاریخ کا ہوالہ دیتا بولا…
اسُ دن…ماریہ طنزیا مسکراہٹ کے ساتھ اسُ دن پر زور دیتی بولی…
ہممم…
ویسے کیسا اتفاق ہے نہ کیسے آپ سے اسُ کا رشتہ ہوگیا…بیچاری بہت روئی تھی…ایک بات بولو تبریز…ماریہ نے معصومیت سے اجازت لینی چاہئی تی تبریز نے مسکرا کر سر خم کیا…
زبردستی کے رشتہ زیادہ نہیں چلتے…ماریہ معصومیت سے بولی…
مطلب…تبریز کی گرفت موبائل پر مضبوط ہوئی تھی…
مطلب وفا موسیٰ سے پیار کرتی ہے…خیر پیار تو وہ کس سے کرتی ہے پتہ نہیں…ماریہ ہنس کر بولی…
کیا مطلب ہے آپ کا…تبریز ہاتھ میں پکڑے موبائل پر گرفت سخت کیئے جبڑے بیچھے بولا…
مطلب کیا…چھوڑیں ویسے مجھے بہت افسوس ہے آپ کی قسمت پر…ماریہ تبریز کی تنی رگیں دیکھ کر جلدی سے بات پلٹ کر بولی…
ماریہ تمہیں کیف بلارہا ہے…موسیٰ نے ان دونوں کے قریب آکر کہا تو ماریہ افسوس بھری نظریں تبریز پر ڈالتی چل دی…
تبریز کیسے ہو…موسیٰ اس کی تنی رگیں دیکھ کر بات پلٹنے کی کوشش میں بولا…
ہمم…ٹھیک اچھا میں آتا ہوں…تبریز ضبط کرتا بولا اور آگے بڑگیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
سب لڑکے لڑکیاں اسٹیج پر کیف اور ماہم کے ساتھ کھڑے تھے حجاب اور جنت وفا اور مریم کو کیف سے نیک لیتی دیکھ رہی تھی جو کیف کے بیچے پڑی تھی…
دیکھو کیسی لگ رہی ہے جیسے پرانا بزنس ہو…ارسل وفا اور مریم کو دیکھتے ساتھ کھڑی جنت سے ہنس کر بولا تو جنت بھی ہنسی یہ منظر سیما شاہ اور حمنہ شاہ نے دیکھا تو دونون نے نظروں ہی نظروں میں مسکرا کر کچھ اشارہ کیا…