📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 23)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 23)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

کیف اور ماہم کی شادی خیر خیریت سے نپٹی اور اب وفا کی شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھی…
بابا کیا میں آپ سے بات کرسکتا ہوں…برہان مصطفیٰ شاہ کے کمرے میں داخل ہوکر بولا…
ہاں بولو برہان…
بابا وہ آپ نے آیت کو دیکھا ہے نہ…برہان نے بات شروع کی…
کون..مصطفیٰ شاہ دماغ پر زور دیتے بولے…
وہ جو تبریز کے چاچو کی بیٹی کیف کی شادی مین آئی تھی…آیت نام ہے اسُ کا…برہان نے یاد کروایا…
ہاں ہاں یاد آیا بڑی پیاری بچی ہے…مصطفیٰ شاہ نرمی سے بولے اتنا سب ہوجانے کے بعد مصطفیٰ شاہ کا سخت دل نرم ہوگیا تھا “جب دھوکا اپنوں سے ملے تو انسان کی آنکھیں ایسے کھولتی ہے جیسے وہ کسی خواب سے جاگا ہو”
جی وہ ہی بابا میں چارہا تھا کہ ہم انُ کے والد سے شاہ ذر اور آیت کے لیئے بات کریں…برہان بولا…
ہممم…اچھی بچی ہے تم تبریز کو بتادینا ہم کل چلتے ہیں…مصطفیٰ شاہ سوچتے ہوئے بولے…
اوکے بابا…برہان مسکرا کر بولتا اٹھا اسُ اپنے بھائیوں اور بہن کی خوشی بہت عزیز تھی…
🌟🌟🌟🌟🌟
زین…زین لاونج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ حرم بیگم بولی…
جی ماما آپ لوگ کہئی جارہے ہیں…حرم بیگم کو تیار دیکھ کر اور پیچھے طلال شاہ کو باہر نکلتے دیکھ کر زین بولا…
ہاں ہم زرا تبریز کی شادی کا کارڈ دینے جارہے ہیں رشتے داروں کے گھر تم تبریز کو ایک کپ چائآ بناکر دے دو…
اوکے ماما…زین فرما برداری سے بولا تو حرم بیگم مسکرا کر نکل گئی گھر میں صرف تبریز اور زین تھے تبریز اپنے روم میں بیٹھا کچھ کیس پر کام کررہا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
امی ایک کپ چائے بنادیں…عون لاونج میں صوفے پر لیٹا تانیہ بیگم سے بولا شاہ ذر بھی عون کے پاس ہی دوسرے صوفے پر بیٹھا موبائل یوز کررہا تھا…
اتنے کام پڑے ہیں اور تمہیں چائے کی لگی ہے…تانیہ بیگم نے ڈپٹا…
تو کیا کرو میں صابرہ بوا کو آپ نے دوسرے کام مین لگایا ہوا ہے…عون بولا…
ہاں تو شادی کا گھر ہے…تانیہ بیگم بولی…
مجھے نہیں پتہ مجھے اپنی بیوی چاہیئے…عون معصومیت سے منہ پھلائے بولا…
مشعل سے بول دو…تانیہ بیگم بولی…
میں کسی جی بیوی میں کیوں تنگ کرو مجھے اپنی بیوی چاہیئے…عون کی سوئی اپنی بیوی پر اٹکی تھی..
کیوں بھئی..تانیہ بیگم نے اسے گھورا…
تاکہ وہ مجھے دن رات چائے بناکر دیتی رہے…عون مسکرا کر بولا…
تو بیوی کی کیا ضرورت کسی نوکر کو رکھلو دن رات چائے بنادے گا…شاہ ذر نے مسکرا کر مشورہ دیا…
آپ تو خاموش بیٹھے تو اچھا ہے گھنے…عون تپ کر بولا جب سے اسےُ شاہ ذر اور آیت کے رشتہ لیجانے کا پتہ چلا تھا عون کا منہ بنا ہوا تھا…
ہوں…بڑا بھائی ہے تمہارا…تانیہ بیگم نے عون کو گھورا…
سب کو بس میں ہی نظر آتا…عون بڑبڑایا اور منہ پھلائے بیٹھا رہا…
🌟🌟🌟🌟🌟
بھائی چائے…زین تبریز کے روم مین داخل ہوا اور چائے اسُ کے آگے رکھی…
ارے شکریہ…تبریز مسکرا کر بولا اور چائے کا ایک گھونٹ لیا لیکن پھر وہ گھونٹ سارا ڈسبنٹ میں ڈال دیا…
یہ کیا ہے…تبریز چلایا…
بھائی اسے چائے کہتے ہیں…زین معصومیت سے بولا…
یہ کیسی چائے ہے…تبریز نے گھورا…
بھائی چینی کی جگہ نمک ڈالا ہے آپ کو عادت ہوجانی چاہیئے…زین کی معصومیت عروج پر تھی…
ہممم…اب یہ چائے پوری تم خودُ ختم کروگے…تبریز نے کپ زین کے آگے کیا…
میں کیوں پیو آپ کو عادت ڈالنے کی ضرورت ہے…زین گڑبڑا کر بولا…
اگر تم نے ابھی یہ پورا کپ ختم نہیں کیا تو یاد رکھنا جنت کی شادی میں تم سے کبھی نہین ہونے دوگا موسیٰ کو میں کال کرکے منع کردوگا…تبریز نے اس کی رگ پر ہاتھ رکھا تھا…
بھائی…زین چلایا…
پی رہے ہو یا نہیں ہوں…کرو کال موسیٰ کو…تبریز دوسرے ہاتھ سے موبائل اٹھاتے بولا…آخر کل رات سے زین نے اس کے دماغ میں درد کیا ہوا تھا نمک والی چائے بول بول کر…
پ…پی رہا ہوں نا…زین اس نمبر ملاتا دیکھ کر گہری سانس لے کر کپ ہاتھ میں لیا…
تمہیں تاریخ لکھنی ہے زین طلال شاہ محبت اور جنت مین سب جائر ہوتا ہے…زین نے بولا اور ایک ہی سانس میں پورا کپ ختم کیا اور کھاسنے لگا..
آیا مزا…یہ لو…تبریز نے پانی کا گلاس اس کے آگے کیا جس پر زین نے گھوتے جلدی سے پانی پیا تو کچھ بہت لگا…
ادھر آو…تبریز نے اسے بیڈ کے پاس بلایا…
جی…زین چبا کر بولا لیکن تبریز نے جلدی سے ہتکڑی اس کے ہاتھ میں ڈالی اور لاک لگا کر دوسرا حصہ بیڈ سے لاک کردیا زین کو چکر کر رہے گیا…
بھائی یہ کیا کررہے ہیں…زین اسے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس جاتے دیکھ کر چلایا اور ہاتھ سے سے ہتکڑی اترنے لگا تو کہ ناممکن تھا کیونکہ وہ تبریز لاک کرچکا تھا تبریز ڈراس سے ٹیپ نکال کر لایا اور کچھ بولنے سے پہلے ہی زین کے منہ پر لگادیا…
یہ تمہاری سزا ہے کل سے تم نے میرا جینا حرام کیا ہوا تھا اب بیٹھو ادھر ہی بنا بولے بنا موبائل بنا ٹی وی کے…تبریز جلانے والے مسکراہٹ کے ساتھ بولا اور ہتکڑی کی چابی اپنی جیب میں رکھی اور دوبارج فائل کی طرف متوجہ ہوگیا زین بیچارا بس کوشش ہی کرتا رہے گیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
مشعل تھوڑی دیر مین تیار ہوجانا اور وفا کو بھی بول دینا اسلام آباد چلنا جتنی چیزیں لینی ہے لے لے وقت کم بچا ہے…برہان آج آفس سے جلدی آگیا تھا گھڑی اتراتے بولا…
بھابھی…مشعل کچہ بولتی کہ ناک کے عون اندر داخل ہوا…
ہاں بولو عون..مشعل بولی…
میری پیاری بھابھی ایک کم چائے بنادیں…عون اتنی معصومیت سے بولا کہ مشعل مسکرادی…
کیوں کسی اور نے منہ نہیں لگایا…برہان نے طنز کیا…
آج تو مجھ سے بات ہی نہ کریں سب نظر آرہے بس ایک میرا ہی کام نہیں کررہے…کچھ تو سوچے آپ کی بیوی کی کتنی مدد ہوجائے گی بیچاری ہر وقت سب کے لیئے چائے ہی بنا رہی ہوتی…عون منہ بناتا برہان سے بولا…
کسی کی ضرور نہیں اور اتنی ہی اپنی بہابھی کی فکر ہے تو خودُ کام کرلیا کرو صرف باتوں میں عورت ہو…برہان نے ڈپٹا…
میں مال روڈ پر بیٹھ کر آپ کے خلاف دھرنا دوگا گھر میں کوئی عزت ہی نہیں کرتا چائے ملتی نہیں کوئی سنتا نہیں طعنے الگ ملتے…ہائے اللہ عون تمہاری قسمت…عون بین کرتا باہر نکلا پیچھے مشعل کا قہقہہ نکلا اور برہان نے عون کی پشت دیکھتے نفی مین سر ہلایا…
🌟🌟🌟🌟🌟
بیچارا زین ابھی بھی اسی حالت میں تھا تبریز کبھی فریج سے سوف ڈرنک نکلا کر پیتا کبھی چوکلیٹ اسے دیکھتا دیکھتا کھاتا ابھی وہ فائل بند کرکے بیٹھا ہی تھا کہ طلال شاہ کی گاڑی کے ہارن کی آواز آئی تبریز جلدی سے اٹھا اور جیب میں سے چابی نکالی اور ہٹکڑی کھولنے لگا پھر اس کے منہ سے ٹیپ کھول زین لمبی لمبی سانسیں لینے لگا تبریز ہے جلدی سے اس کے منہ پر پانی مارا اور ہتکڑی ڈراس میں رکھی اتنے مین اس کے کمرے کا دروازہ کھلا…
کیا کررہے ہو دونوں نیچے سے اتنی آوازیں دے رہے تھے…حرم شاہ بولی پیچھے طلال شاہ بھی اس کے روم مین داخل ہوا…
کچھ نہیں بابا…تبریز مسکرا بولا…
تمہیں کیا ہوا چہرہ کیون اترا ہوا ہے…حرم بیگم زین سے بولی…
ماما بابا بھائی نے مجھے ہتکڑی لگا کر بیڈ سے لاک کردیا تھا اور اور منہ پر بھی ٹیپ لگادیا تھا…زین حرم بیگم سے چپکتا بولا…
ماما یہ جھوٹ بول رہا ہے آپ نے دیکھا تھا نہ میں اپنے کیس پر کام کررہا تھا آپ لوگوں کے جانے کے بعد یہ میرے روم میں آیا اور بیڈ پر لیٹ کر سوگیا…تبریز جلدی سے بولا…
نہیں ماما یہ جھوٹبول رہے ہیں آپ لوگوں کے جانے کے بعد یہ میرے اپر ظلم کررہے تھے…زین چلایا…
نہیں بابا دیکھیں یہ ایسے ہی ڈرامہ کرتا ہے میں کوئی دس سال کا بچا ہوں جو یہ حرکیتیں کرو…تبریز نے صفائی دی…
زین غلط بات بیٹا آپ نے خواب دیکھا ہوگا ایسے تھوڑی بولتے بڑے بھائی کو وہ تو اپنا کام کررہا تھا…طلال شاہ بولے تو شیطانی مسکراہٹ سجائے تبریز نے زین کو دیکھا…
تم لوگ اتنے بڑے ہوگئے لیکن زین تم بڑے نہیں ہوگے ایسا تو دس دس سال کے بچو کی حرکیتیں ہوتی ہے کہ ماں باپ چھور کر جاتے ہیں اور جب واپس آئے تو دونون بھائی شکایتیں لگاتے…حرم بیگم زین کے کندھے پر چپت لگاتے بولی…
دیکھا ماما آپ اس کے نکاح کا بول رہی تھی حرکیتیں دیکھیں اسُ کی پہلے اسے بڑا ہونے دے پھر کریں گے اس کی شادی…تبریز نے آگ لگائی…
ویری بیڈ زین…طلال شاہ بولے اور اپنے روم کی طرف بڑگئے حرم شاہ بھی دونوں کو بولتی چل دی…
اب سوچ سمجھ کر مجھ سے پنگا لینا…تبریز دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…
آپ…آپ اس ہی لائق ہے آپ کو وفا بھابھی ہی سیدھا کرسکتی اب میں ہر کام مین انُ کا ساتھ دوگا تیار کرہے آپ…زین بولتا نکلا پیچھے تبریز کا قہقہہ برآمد ہوا…