Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 01)
Shoq e Deedar (Episode 01)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
اسلام و علیکم..کیسے ہیں آپ…موبائل کی گھنٹی تیسری بار بجی تو وہ بھاگتی ہوئی اپنے روم میں اندر داخل ہوئی موبائل پر کال کرنے والا کا نام دیکھا تو خوشگوار حیرت ہوئی اور بےتابی سے کال رسیو کی…
وعلیکم سلام…میں نے حال حیوال کے لیئے کال نہیں کی میں نے یہ بتانا تھا آپ کو کہ میں آپ سے شادی نہیں کرسکتا میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں اور اسُ ہی سے شادی کروگا میں نے اپنے والدین سے کہا لیکن وہ نہیں سن رہے میری اس لیئے میں آپ کو بتارہا ہوں اگر اموشنل بلیک میل کرکے میرے والدین برات لےکر آئے تو عین نکاح کے وقت ہی میں خودکشی کرلوگا لیکن آپ سے شادی نہیں…وہ سرد لہجے میں اپنے بات مکمل کرکے کال کاٹ دی لیکن ادھر اسے لگا جیسے زندگی کی ڈور گاٹ دی ہو کسی نے…
صدمے وہ حیرت کے زیر عصر موبائل تو اسےُ پوزیشن میں تک رہی تھی اور دوسرے ہی پل وہ بےجان ہوکر زمین پر گرگئی…
جانتے ہے کے وہ نہ آئیں گے
پھر بھی مصروفِ انتظار ہے دل💔
(احمد فراز)
🌟🌟🌟🌟🌟
جولائی کا مہینہ چل رہا تھا اور ساتھ ہی بارشوں کا بھی مری کا بھی یہ ہی حال تھا ہر طرف ہری بھری پہاڑیاں جہاں غضب کا منظر پیش کررہے تھے وہاں اسورج کی آنکھ مچولی بھی ساتھ ہی چل رہی تھی ایک سیکنڈ میں دیکھو تو دھوپ اور اگل سیکنڈ میں گرج چمک کے ساتھ بارش اس ہی طرح آج اس وقت بھی مری میں ابرے رحمت کھل کر برس رہا تھا اور یہائی حال مری کے کشمیر پوائنٹ سے تھوڑا آگے اکبر شاہ ولا میں بھی تھا اکبر شاہ ولا کو بنگلہ کم محل کہہ تو زیادہ بہتر ہوگا…
ارے وفا نیچے آجاؤ کیوں مجھے پریشان کرتی ہو دن بھر…تانیہ شاہ کی جھنجھلا بھری آواز وفا کے کانوں میں پڑی لیکن وہ ایک ہی بار میں سن لے تو نیا پاکستان نہ بن جائے…
تمہیں تائی کی آواز آرہی ہے کہ نہیں…آخر کار ماریہ نے اسے جھنجھوڑ کر پوچھا…
الحمد اللہ کان کام کرتے ہیں میرے…وہ بدمزہ ہوکر بولی اور پھر مریم کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ پکڑ کر چھت پر گھومنے لگی…
بارش اور دوست وہ کتنا مزہ آتا ہے..اور اگر گرم گرم پکوڑے ہوجائے تو کیا مزہ آئے…وہ مسخرے پن سے بولی اور پھر رک کر مریم کر ہاتھ پر ہاتھ مارا…
بارش اور امی کی چپل واہ کتنا مزہ آتا ہے نہ…ایکدم سے عون چھت پر برآمد ہوکر بولا…
ایک تو تم…جہاں لڑکیاں دیکھتی ہے وہاں پونچھ جاتے ہوئے شرم و حیا ہی لے آو…وفا اس کو دوسروں کی چھتوں پر تاک جاک پر چوٹ کرکے بولی…
شرم و حیا یہ کیا ہوتی ہے…کیسی ہوتی ہے…کہاں ملتی ہے…اگر ملے تو پہلے اپنے لیئے لینا پھر تھوڑی میں بھی ٹرائے کرلوگا…وہ دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…
ایک تو ہر بات کا جواب ضرور ہوتا ہے…وہ تپ کر بولی…اصل میں تو عون اس سے تین سال بڑا تھا لیکن گھر میں سب کے ساتھ وہ ہم عمر بن کر ہی رہتا تھا…
دیکھو یار میں بہت تمیز دار گھرانے کا بہت شریف لڑکا ہوں اس لیئے کسی کے سوال کا جواب لازمی دیتا ہوں نظرانداز نہیں کرسکتا کسی کو نرم دل کا مالک ہوں…عون کی اداکاری شروع ہوچکی تھی…
بیٹا جلدی جلدی نیچے چلو ورنہ ابھی یہاں دنگل کا سیٹ آپ لگ جائے گا برہان بھائی گھر آگئے ہیں…شاہ ذر نے آکر خبر دی لیکن یہ خبر نہیں صور پھوکا تھا اور کچھ سیکنڈ میں شاہ ذر حیران و پریشان چھت پر اکیلا کھڑا تھا…
کیا کررہے ہوں اتنی بارش میں ادھر… ہوں…
اپنے پیچھے سے برہان کی آواز سن کر وہ سن ہوگیا اور پھر ہڑبڑا کر بولا…
بھائی وہ وہ میں تو انِ لوگوں کو بلانے آیا تھا…گھبراٹ میں یاد ہی نہ رہا کہ سب برہان کے گھر آنے کی خبر پر ہی واک آوٹ کرگئے تھے…
کس کو کبوتر کو یا چیل کو…برہان آئبرو اچکا کر بولا…
کسی کو نہیں سوری بھائی…کچھ سمجھ نہ آیا تو بنا غلطی کے سوری بولے نیچے بھاگا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اکبر شاہ اور حریم شاہ کے تین بچے تھے دو بیٹے اور دو بیٹیاں اکبر شاہ کا کچھ برس پہلے انتقال ہوا تھا اور اب حریم شاہ کی اس گھر میں چلتی تھی…ان کے بچوں میں
پہلے نمبر مصطفیٰ شاہ جن کی شریک حیات تانیہ شاہ اور انِ کے تین بیٹے سب سے پہلا برہان جو کہ اپنے باپ کے ساتھ بزنس سمبھال رہا ہے اور شادی شدہ ہے انِ کی بیوی مشعل سلجھی و نرم دل کی مالک پھر دوسرے نمبر پر شاہ ذر جو کہ یونی کے آخری سال میں اور عمر پچس سال ہے خوصبورتی تو جیسے وراثت میں ملی ہے سب کو پھر تیسرے نمبر پر سب سے شوخ و شرارتی عون جو کہ یونی میں بزنس کے تیسرے سال میں ہے اور عمر تیئس سال اور پھر آتی ہیں پورے شاہ خاندان کی لاڈلی و لاپرواہ لڑکی وفا شاہ جو ابھی یونی جوائن کرے گی عون اور وفا نے گھر بھر کی ناک میں دم کرکے رکھا ہوا تھا وفا شوخ و چنچل ہی لاپرواہ لڑکی خوبصورتی تو جیسے اس پر تمام ہے گوری رنگت لمبے کالے بال اور سب کا دل جیتنے والی وفا گھر بھر کے ساتھ اپنے تینوں بھائی کے ساتھ اپنی بھابھی کی جان…
پھر آتیں ہیں ارتضیٰ شاہ جن کی شریک حیات زہرہ شاہ اور انِ کے ایک بیٹا کیف جو عون کا ہم عمر و بیسٹ فرینڈ پھر ماریہ جو کیف سے ایک سال چھوٹی جو یونی کے دوسرے سال میں ہے پھر مریم وفا کی ساتھی و ہمراز و ہم عمر…
پھر آتی ہیں حمنہ شاہ جن کی شادی سلمان شاہ انِ کے چاچا زاد سے ہوئی تھی انِ کا ایک بیٹا موسیٰ جو شاہ ذر کا ہم عمر تھا لیکن کہئی سے بھی شاہ ذر جیسا نہ تھا پھر ماہم جو اکیس سال کی تھی پھر سب سے سے معصوم جنت جو تھی تو مریم اور وفا کی ہم عمر لیکن معصوم بلا کی تھی اور یہ ہی چیز شاید کسی کو پسند تھی…
پھر آتی ہیں سیما جو کہ بیوہ ہونے کہ بعد شاہ ولا میں ہی رہتی تھی انِ کا ایک بیٹا ارسل شاہ چبھیس سال کا تھا اور برہان کے ساتھ ہی بزنس چلارہا تھا اور ایک بیٹی حجاب تھی جو ماہم کی ہم عمر تھی…
🌟🌟🌟🌟🌟
شبِ فراق کی پوچھو نہ وحشتیں مجھ سے
کوئی چراغ میرے ساتھ ساتھ جلتا ہے🔥
صبح کی سنہری ہلکی ہلکی دھوپ ہر سو چاہ رہی تھی روڈ پر ابھی سناٹا تھا اور کچھ لوگ جوگنگ کررہے تھے انِ میں سے ایک وہ بھی تھا جو جوگنگ کرکے اب بینچ پر بیٹھا پانی پی رہا تھا جو بھی لڑکی آس پاس سے گزرتی وہ اسے دیکھ کر ضرور رکتی لیکن اس کی شکل پر نو لفٹ کا بوڈ دیکھ کر دوکھی دل سے آگے بڑ جاتی اسُ کی شخصیت ہی ایسی سحر انگیز تھی کہ جو دیکھے مڑ کر ضرور دیکھتا تھا اونچا لمبا قد کرستی بازو ورزشی جسم گوری رنگت پر گریں آنکھیں اس کی شخصیت میں اور نکہار ڈالتی تھی ابھی وہ بیٹھا ارد گرد دیکھ ہی رہا تھا کہ موبائل پر ہونے والی ٹون سے موبائل کی طرف رزغب ہوا اور کال رسیو کی..
Bonjour
(ہیلو)…وہ فرینچ لینگوچ میں بولا…
Tu vas au pakistan
(تم پاکستان جارہے ہو)..دوسری طرف سے حیرانگی سے سوال کیا گیا…
Oui
(ہاں)..یہ لفظ جواب..
Quand vas-tu
(کب جا رہے ہو)…دوسری طرف سے سوال کیا
Ce soir
(آج رات)..وہئی لہجہ
Tu vas tellement me manquer
(میں تمہیں بہت یاد کرو گا)…دوسری طرف سے محبت بھرا لہجہ..
Moi aussi
(میں بھی)…وہ مسکرا کر بولا..
Venez et rappelez-vous aujourd’hui
(آجاؤ پھر آج کا دن یاد گار بناتے ہیں)…دوسری طرف سے یادیں جمع کرنے کی تیاری کی گئی..
Bon frère
(اوکے برو)..جواب دے کر وہ اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑگیا…گاڑی ہلکی اسپیڈ میں چلا رہا تھآ اور فرانس کے شہر کو اپنی آنکھوں میں سمع رہا تھا دس سال بعد وہ یہاں رہا ہے اور اب ہمیشہ کہ لیئے واپس اپنے ملک اپنے وطن اپنی مٹی اپنی فیملی کہ پاس واپس پاکستان جارہا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اے چھوری اپنا نام تو بتا…آنکھ مار کر ماریہ سے کہا جو پاس سے گزر رہی تھی…
دماغ ٹھیک ہے اسکرو وسکرو نہیں گہم گیا…ماریہ تپ کر بولی..
ارے ہاں یہ ہی تو…شٹ یہ ہی تو ڈوھنڈ رہا تھا پلیز یار اگر مل جائے تو مجھے دے دینا…عون موضوع پریشانی سے بولا اور پھر روموٹ اٹھا کر چینل چینج کرنے لگا…
دونوں بھائی بہن کا دماغ ہی خراب ہے میں ہی پاگل ہوں جو انِ سے باتیں کرنے لگتی ہوں…ماریہ بڑبڑائی…
آو چلو…عون سنجدگی سے کھڑا ہوکر ماریہ سے بولا…
کہاں…ماریہ حیران ہوکر بولی…
تم نے ہی ابھی بولا کہ تم پاگل ہو…تو چلو پاگل خانے چھوڑ آو…عون شرارت سے بولا…
عون کے بچے تم میرے ہاتھ سے بچ کے دیکھاو…سمجھ آنے پر ماریہ چیل لے کر عون کے پیچھے بھاگی…
🌟🌟🌟🌟🌟
وہ جہاز میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ گھر والے کتنا خوش ہوگے اسے دیکھ کر آخر دس سال بعد وہ سب کے پاس جارہا تھا دس سال اسُ نے اپنوں کو نہیں دیکھا ماں کگنا خوش ہوگی جب اچانک اسے سامنے دیکھی گی یہ سوچتے سوچتے وہ اپنے وطن میں لوٹ آیا اپنے فضہ مین اپنی ہوا میں کتنا بدل گیا تھا پاکستان وہ یہ ہی سوچ رہا تھا آئرپورٹ اسُ نے کیب کی لوگ اسےُ مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے اور وہ بےنیاز سا کھڑا تھا…پھر جب سامان گاڑی میں رکھ دیا گیا تو وہ بھی ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے گھر کی طرف گاڑی بڑوادی..
🌟🌟🌟🌟🌟
ماما…ماما کہاں ہے آپ یار…زین چیختا ہوا آیا…
ارے بھئی کیا ہوگیا آرام سے نہیں بلاسکتے…حرم بیگم نے بیٹے کو ڈپٹا…
میں چاہتا ہوں میں جہاں سے گزروں سب کو پتہ چلے کہ زین طلال حیدر شاہ یہاں سے گزرا ہے…زین شرارت سے بولا…
شریر کبھی نہیں صدرو گے…حرم بیگم ایک چپت لگا کر بولی…
ناممکن..اچھا ماما یار ناشتہ لگوائے جلدی پلیز…بابا بھی بول رہے ہیں…آج سنڈے تھا سب ہی گھر پر موجود تھے…
اچھا چلو…حرم بیگم بول کر ملازمہ سے ناشتہ لگوانے لگی..آج انِ کے چاچا کی فیملی اپنی نانی کی طرف گئی ہوئی تھی اس لیئے گھر میں صرف طلال صاحب زین اور حرم بیگم ہی تھے ابھی سب ناشتہ کررہے تھے کہ…
اسلام وعلیکم…کسی کی سحر انگیز خوبصورت شیری جیسی آواز گھر میں گونجی اور یہ آواز تو تینوں لاکھوں میں پیچھان سکتے تھے…
میرا بیٹا…حرم بیگم کی آنکھوں سے آنسوں گرے ارے یہ تو خوشی کے آنسوں تھے یہ دیکھ کر وہ بھاگ کر ماں سے لپٹا…
میری ماں…کیسی ہیں ماما…وہ گلے لگائے حرم بیگم سے بولا…
ارے ہم سے بھی ملنے دو ہمارا بھی بیٹا ہے…طلال صاحب ہنس کر بولے…
اور میرا بھائی..زین فوری بولا تو سب ہنس دیئے…
کیسے ہیں بابا…وہ طلال صاحب سے گلے لگ کر بولا پھر زین سے…
ارے بھائی ہمیں بتایا کیوں نہیں…بتاتے تو اس طرح استقبال کرتے کہ سارے اسلام آباد کو پتہ چلتا کہ پورے دس سال بعد “تبریز طلال حیدر شاہ” پاکستان تشریف لائے ہیں…زین شرارت سے بولا تو تبریز نے اسے خودُ میں بیھچ لیا…
تجھے بہت مس کیا میں نے یار…یہ ہی زین کی باتیں وہ بہت مس کرتا تھا بولنے میں تین سال چھوٹا تھا تبریز سے لیکن تبریز کا اور صرف اکلوتا زین ہی بھائی تھا تو وہ دوست بھائی راز دار سب تھا زین کے لیئے بھی اور تبریز کے لیئے بھی…
اچھا اچھا بھائی مجھے تو چھوڑے…لگتا ہے فرانس میں رہے کر عادتیں بہت خراب ہوگئی ہیں آپ کی…آخری بات زین نے شرارت سے تبریز کے کان میں بولی…
ہٹو پیچھے…تبریز بدک کر اس سے پیچھے ہوئے تو زین کا قہقہ نکلا…طلال صاحب اور حرم بیگم نے ایسے ہی خوش رہنے کی دعا کی…