Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 Shoq e Deedar (Episode 17)
Shoq e Deedar (Episode 17)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi
کیا ہوا تم آفس نہیں گئے…شاہ ذر ارسل اور حجاب کو باہر جاتے دیکھ کر بولا…
نہیں یار آج زرا کام تھا اور حجاب کو بھی کچھ چیزیں لینی ہے اس لیئے برہان سے بول دیا تھا ابھی اسلام آباد جارہا ہو حجاب کو لے کر…ارسل نے تفصیل بتائی اور شاہ ذر سے ملتا گاڑی کی طرف بڑگیا بات خراب بڑوں مین تھی بچے سارے ویسے ہی مل رہے تھے…
وفا کہاں ہے…شاہ ذر یونی جارہا تھا وفا کے روم مین گیا لیکن تھی نہیں تو مریم سے پوچھا…
وہ…وہ شاہ ذر بھائی میرے پیچھے پڑی تھی مال روڈ چلو…میں نے منع کردیا کیف بھائی نے منع کیا تھا…اس لیئے اکیلی چلی گئی…مریم گھبرا کر بولی…
واٹ…اکیلی گئی ہے…یہ لڑکی نہیں سدھر سکتی…شاہ ذر برہمی سے بولا اور اپنا بیگ اٹھ کر نکل گیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
وہ مال روڈ جارہی تھی لیکن بیچ میں ہی ایک گاڑی اس کے پاس آکر رکی اور کچھ کرنے سے پہلے اس کے منہ پر ٹیپ لگا کر گاڑی میں ڈال دیا اور آگے بڑگئی منہ پر ٹیپ ہاتھ رسی سے بندھے مطلوبہ جگہ پر پونچھ کر گاڑی رکی اور اسے ایک گھر کے روم میں ہاتھ منہ کھول وہ دو بندہ تھے جو اسے اغواہ کرکے یہاں لائے تھے…
میں تمہارا سر پھاڑ دوگی ہٹو یہاں سے…وفا چلائی…
میں تمہاری زبان کھچ لوگا…وہ نوجوان لڑکا بھاری آواز میں بولا…
مین تمہارے ہاتھ کاٹ دوگی…وفا چلائی…
زبان سے…دوسرا لڑکا بولا…
تجھے بیچ میں کودنے کو کس نے بولا اپون کو کرنے دے نہ…پہلے والا لڑکا دوسرے والے سے بولا دونوں نے کالے ماکس لگائے ہوئے تھے…
توُ اپون سے بتمیزی کرکے گا…ہاں بول یہئی ٹھوک ڈالو گا تجھے سیدھے جنت کے پاس…مطلب جنت میں جائے گا…دوسرے والا لڑکا بولا…
دونوں جہنم میں جانے کے لائق ہو…وفا غصے سے بولی…
تھکتی نہیں ہو بول بول کر…سکون سے بیٹھو ادھر زیادہ شور شرابہ کیا تو یہئی مار ڈالو گا…پہلے والا لڑکا بولا…
ڈر لگا رہا ہے مجھے…پہلے والا لڑکا وفا کی خاموشی پر بولا…
ڈر نہیں تمہارے منہ سے بدبو آرہی ہے…وفا پیچھے ہوتی بولی…
میں نے کہا تھا نہا لیا کر…دیکھ لے لڑکی سے بےعزتی ہوگئی…دوسرا والا لڑکا ہنس کر بولا..
توُ چل میرے ساتھ…پہلے والا لڑکا دوسرے والے لڑکے کو گھسیٹا لیکر گیا اور دروازہ باہر سے بند کردیا…
دروازہ کھولو کون ہے ادھر…کیوں لائے ہو مجھے یہاں…وفا اس حالات سے خوف زدہ ہوگئی تھی وہ آخر کار تھک ہار کر ادھر صوفے پر بیٹھ گئی تھوڑی ہی دیر میں دروازہ کھولا…
دیکھو مجھے جانے دو تم جانتے نہیں ہو مجھے میرے بھائی تمہاری جان لے لے گے…اور اور میرآ کزن ایس پی ہے ایسے ایسے کیس کرواں گی کہ عمر قید ہوگی…وفا کا بولنا تھا کہ مقابل کا چھت پھاڑ قہقہ برآمد ہوا…
سیریسلی وفا…مجھے میری ہی دھمکی دے رہی ہو…تبریز کے ہنس کر بولنے پر وفا نے سر اٹھ کر اسے سیکھ پھر سمجھ آنے پر پہلے حیرت پھر شدید غصہ آیا…
تمم….تم نے یہ سب کیا ہے…وفا کی آواز میں حیرت وازہ تھی…
ہاں میں نے کیا یہ…تبریز بولا ہاں میں پکڑی ٹری میز پر رکھی جس میں جوس اور کباب تھے…
ہاں اللہ مجھے وہ شو پیس چاہیئے تھا کل دو پیس بچے تھے اور میں نے دوکان دار سے آج لینے کا بولا تھا وہ کسی اور کو اب تک بیچ بھی چکا ہوگا…وفا صرمے سے بولی اور صوفے پر گرنے کے انداز مین بیٹھی…
تبریز تمہاری زندگی آسان نہیں ہے بیٹا اسی دنیا میں سب سزا ملے گی…وفا کی اس موقعہ پر اس بات پر تبریز نے خودُ سے افسوس کیا…
اور تم..تمہیں شرم نہیں آئی اپنے گھر کی عزت کو غیر مردوں سے اغواہ کروا رہے ہو…وفا نے اسے شرمندہ کرنا چاہا…
مجھے اپنے خاندان اور گھر کی عزت کرنی آتی ہے وہ دونوں کوئی غیر نہیں تمہارا اور میرا بھائی عون اور زین تھے…تبریز کی بات پر وفا تو غصے سے کھول اٹھی…
تم…تم کتنے زہر ہو…وفا کو غصے آنے لگا تھا تو پلیٹ میں سے ایک کباب اٹھایا…
کبھی ٹرائے کرلینا…خیر تم مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی وجہ بتاو…تبریز سنجیدگی سے بولا…
کیونکہ تم بہت ہی سیریس انسان ہو بیچارے لوگوں پر ظلم کرتے ہو پولیس اسٹیشن میں ہائے تم سے شادی کے بعد مجھے میں تمہارے گناہ کی سزا ملے گی اس لیئے میں تم سے شادی نہیں کروگی …وفا کی فضول بات پر تبریز نے ضبط کیا…
وہ چور ڈاکو قاتل تمہارے ب…کیا لگتے ہے جو میں انہیں سزا دینے لگا تو ظالم ہوگیا…تبریز بھائی بولنے جارہا تھا لیکن وفا کی گھوری پر گڑبڑا کر بولا…
کیا ہوگیا تبریز تم ایس پی ہو مجرم تم سے ڈرتے ہے اور تم ہونے والی بیوی کی ایک گھوری سے گڑبڑا گئے…تبریز نے خودُ کو ڈپٹا…
تو مطلب تم مجھ سے شادی نہیں کروگی..
نہیں…بلکل نہیں میں ایسے شخص سے کبھی شادی نہیں کروگی جو صرف ہمدردی میں مجھ سے شادی کرے…وہ شاید یہ بات سبق یاد کرکے آئی تھی..
شادی تو تمہارا باپ بھی کرے گا…وہ یکدم بھڑکا…
وہ کیوں کریں گے انُ کی شادی تیس سال پہلے ہی ہوچکی ہے اگر آپ کو یاد ہو تو…وہ طنزیا انداز میں بولی او دوبارہ سے پلیٹ میں رکھے کباب کھانے لگی..
اففف یہ ہی پیس مجھے ملنا تھا…وہ سر ہاتھوں میں گرا کر خودُ سے شکوہ کرنے لگا..
تمہیں تو ویسے بھی ایسی لڑکیاں نہیں پسند….وفا رک کر بولیں ایسی لڑکیاں کا طنز تو ایسے سیما شاہ سے اکسر ملتا رہتا تھا…
تم پہلے یہ ڈیسائڈ کرلو کہ مجھے آپ بولنا ہے کہ تم…تبریز اس کے کبھی تم کبھی آپ بولنے پر تپ کر بولا…
میری زبان میری مرضی…وفا نے بول کر جوس کا کلاس لبو سے لگایا…
کیا کرو ماما کی خوائش ہے اس لیئے خودُ اپنے مرضی سے یہ عزاب اپنی زندگی میں لے رہا ہوں…تبریز کے بولنے پر وفا کو برا لگا کچھ ٹوٹا تھا…
ٹھیک ہے اب اپنے دونوں ڈرامہ باز کو بلاو مجھے گھر جانا ہے کل کیف کی منگنی بھی ہے…
تو مطلب تم راضی ہو…تبریز نے سوال کیا…
بدقسمتی سے…لیکن یہ یاد رکھنا تمہاری زندگی واقعی میں عزاب بناوگی یہ وعدہ وفا مصطفیٰ شاہ کا ہے تم سے…
اوکے پھر میں ہو تم بھی تیار ہوجاو وفا تبریز شاہ بنے کے لیئے…تبریز مسکرا کر بولتا وفا کو زہر لگا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
موسیٰ ابھی فریش ہوکر آیا تھا ڈنر کرنے سب خاموشی سے ڈنر کررہے تھے کہ…
ماہم کی شادی ہورہی ہے موسیٰ کی بھی جلد ہونے والی ہے میں سوچ رہا ہو موسیٰ کی شادی کے ساتھ جنت کی بھی کردیں…عارف میرا بزنس پاٹنر ہے اسُ نے اپنے بیٹے کے لیئے جنت کی بات کی ہے…سلمان شاہ کی بات پر سب نے شاک سے سلمان شاہ کو دیکھا تھا جنت کی تو جان ہی ہلک مین آگئی تھی اگر یہ بات زین کو معلوم ہوجاتی تو وہ کچھ بھی کرسکتا تھا کچھ بھی یہ سوچ کر جنت کو ٹینشن شروع ہوگئی تھے…
بابا..آپ نے میرے معاملہ مین اپنی مرضی کرلی لیکن میرے مرنے سے پہلے میں اب جنت کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دوگا…پہلی بات وہ ابھی پڑھ رہی ہے دوسری آپ کے کو کسی بھی دوست کے گھر میں اپنی بہن کی شادی نہیں کروگا دوسری بات جنت کی شادی میری مرضی سے ہی ہوگی…موسیٰ اٹل لہجے میں بولتا چیئر دھخلتا اپنے روم کی طرف بڑگیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
آج کیف اور ماہم کی مہندی تھی سب کے دلوں میں جو بھی باتیں تھی سب نے اسےُ سائیڈ پر رکھ کر شادی کی تیاری کی تھی طلال شاہ کے خاندان اور انِ کے بھائی کو بھی بلایا تھا جو ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے صرف آیت اور ابراہیم ہی طلال شاہ کی فیملی کے ساتھ آئے تھے…
کیسی ہو وفا…موقعہ ملتے ہی موسیٰ نے وفا سے کہا لہجے میں شرمندگی وازہ تھی…
کیسی دیکھ رہی ہو…اچھی ہو تو اچھی ہی دیکھوں گی…وفا نے موسیٰ کی شرمندگی دور کرنے کے لیئے ہلکے پھلے انداز میں کہا اسےُ برہان سے پتہ چلا تھا موسیٰ نے باپ کے پریشر میں رشتے سے انکار کیا تھا موسیٰ نے برہان کو بتایا تھا جس پر برہان نے اسے کوئی بات نہیں کہہ کر ٹال دیا تھا…
موسیٰ میں کیسی لگ رہو ہوں…ماریہ موسیٰ کو وفا کے ساتھ دیکھ کر جلتی ان لوگوں کی طرف آئی اور بولی اس کے ساتھ ہی حجاب کھڑی تھی جو ماریہ کی کاروائی دیکھ کر مسکراہٹ دبا گئی ابراہیم بھی ادھر ہی آکر کھڑا ہوگیا اتنے دیر میں سب سے ہی گھول مل گیا تھا البتہ ابراہیم کی نظریں حجاب پر تھی…
جیسی ہو ویسی ہی…موسیٰ کا ماریہ کو دیکھ کر ہلک تک کڑوا ہوگیا تھا موسیٰ کی بات پر وفا اور حجاب نے بڑی مشکل سے مسکراہت دبائی ابراہیم نے حجاب کو دیکھا جو مسکراہٹ دبانے کے چکر میں سرخ ہورہی تھی یہ بات نوٹ موسیٰ نے بھی کی…
حجاب تمہیں ارسل ڈھونڈ رہا ہے…موسیٰ نے اسے یہان سے بھچنے کے لیئے بولا تو وہ موسیٰ کی آنکھوں کا اشارہ سمجھتی چل دی موسیٰ کی نظروں کی سرد مہری ابراہیم نے بھی دیکھی تھی جس پر وہ شرمندہ ہوا تھا…
میں نے سنا تھا جنت میں حور ملے گی…اور میں اتنا خوش نصیب ہوں مجھے جنت کے ساتھ حور بھی مل رہی نے…زین جنت کے پاس کھڑا بولا اس وقت جنت حور ہی لگا رہی تھی…
حور کہاں ہے…جنت نے معصومیت سے سوال کیا جس پر زین کا دل سر پیٹنے کا چاہا…