📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 27)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 27)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

کیا تم میری لیئے کچھ کرسکتے ہوں…وہ لوگ گاڑی میں بیٹھے آئسکریم کھارہے تھے کہ وفا بولی…
اپنی پوری زندگی داو پر لگارہا ہوں تم سے شادی کرکے پھر بھی پوچھ رہی ہو کچھ کرسکتا ہوں…تبریز شرارت سے بولا تو وفا نے اس کے کندھے پر مکہ مارا..
تبریز سیریس ہوجاؤ…میری بات سنو…وفا سیریس انداز میں بولی…
اللہ خیر..تم واقعی سیریس ہو…بولو…تبریز اسے سیریس دیکھ کر سیدھا ہوکر بیٹھا…
تبریز ک…کیا ایسا ہوسکتا…کہ…وفا بولتے بولتے رکی…
وفا پوری بات کرو…تبریز بھی سیریس انداز میں بولا اللہ جانے کیا بولنے والی تھی…
تم جانتے ہوں پرسوں مہندی والے دن ہمارے ساتھ سب کا بھی نکاح ہے…وفا بولی…
تو تم کیا چارہی ہو ابھی کرلیں نکاح…ویسے کوئی مسلئہ نہیں…تبریز پھر شوخ ہوا…
تبریز کیا مہندی والے دن جنت کے نکاح کے وقت بس تھوڑی دیر کے لیئے سلمان انکل نہیں آسکتے…وفا ہچچکاتی ہوئی بولی…
تم جانتی ہو وہ کوئی چھوٹے موٹے کرمل نہیں وہ بہت بڑے گینگسٹر ہیں جس کی وجہ سے کتنے لوگ مرگئے کتنے مرنے کے در پر ہیں اور تم یہ بات بول رہی ہو…تبریز سنجیدگی سے بولا..
تبریز پلیز پولیس کو لے کر آجانا بس جنت کے نکاح ہوتے ہی لے جانا لیکن جنت کا سوچو وہ معصوم کچھ بولتی نہیں لیکن ہر بیٹی کی خوائش ہوتی ہے وہ اپنی خوشی اپنے ماں باپ کے ساتھ دیکھے…وفا بولی…
وفا تم سمجھو یار…تبریز جھنجھلا کر بولا…
تبریز پلیز میرے لیئے پلیز…ضیغم سے بولو وہ ضرور سمجھے گے..وفا ضدی انداز میں بولی…
پہلے ضیغم بھائی بولو…تبریز نے بےتکی بات کی…
ضیغم بھائی سے بات کرو پلیز…وفا جلدی سے کہا تو تبریز نے کچھ سوچتے سر ہاں میں ہلادیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
تم مجھے ان لوگوں میں اکیلا چھوڑگئی تھی…جب سے وفا شوپنگ سے واپس آئی تھی عون اس کے کمرے میں اپنے دکھڑے رو رہا تھا…
اوہ میں بھول ہی گئی تھی تمہیں انسانوں میں رہنے کی عادت ہی نہیں ہے…وفا چبا کر بولی اتنے میں روم کا دروازہ کھولا اور برہان اندار داخل ہوا ساتھ ہی شاہ ذر بھی اور دونوں وفا کے برابر برابر بیٹھے گئے…
کتنا لوٹا سالے صاحب کو…
برہان وفا کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا…
بس زیادہ نہیں…وفا افسوس سے بولی…
تمہیں پتہ ہے وفا بچپن میں تم ہر وقت میرے پاس ہوتی تھی میں اسکول سے آکر جو تمہیں لیتا تھا تو رات سونے پر ہی تم امی کے پاس جاتی تھی…برہان نے مسکرا کر بتایا تو وفا مسکرائی…
تمہاری وجہ سے شاہ ذر عون کو بہت مار پڑی…تمہیں ہلکی سی کہروچ پر میں گھر سر پر اٹھا لیتا تھا…میں نے تمہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا…امی بابا کہ پاس تو تم بہت کم جاتی تھی…برہان ضبط سے آنسو روکے بول رہا تھا…
اور آج تم ماشااللہ انتا جلدی اتنی بڑی ہوگئی کہ ہم تمہاری شادی کی تیاری کررہے ہیں…برہان کی آواز ضبط سے بھاری ہورہی تھی…
یاد ہے وفا جب تمہیں رات تین بجے آئسکریم چاہیئے تھی اور بابا نے سب کو 10 بجے کے بعد گھر سے جانے کو منع کیا تھا لیکن میں چھپ کرگیا تھا اور واپس جب آیا تھا تو بابا سے کتنی مار کھائی تھی…شاہ ذر ہنس کر پورا بات یاد کرتا بولا…
فائنلی تم اب جارہی ہو…عون اداس سا بولا تو وفا ہنسی اور ہنستے ہنستے رونے لگی تو برہان نے اسے گلے لگایا اور بھی رونے لگا تینوں بھائی وفا سے لگ رو رہے تھے…
ارے ارے کیا ہوگیا سب کو…مشعل روم میں داخل ہوتی بولی سب کو ہی وفا سے ان تینوں بھائیوں کی محبت کا پتہ تھا جو اسے زرا نہ دیکھنے پر پریشان ہوجاتے تھے اب تو وہ گھر سے رخصت ہوکر جارہی تھی…
تم کیوں رو رہی ہو…رونا تو تبریز کو چاہیئے جس نے تم سے شادی کرنی ہے…عون وفا کے آنسو صاف کرتا بولا تو سب ریتے روتے ہنسے…
میری پیار سی بہن ایسے نہیں روتے…مشعل اسے اپنے ساتھ لگائے پیار سے بولی…
ہاں تم نے جو اتنے پیسے پالر میں فیشل ویشل پر خرچ کیا ہے ایسے رونے سے تم پھر پرانی والی ہوجاوگی اور تبریز بھائی ڈر ہی جائے گے تمہیں دیکھ کر…عون بولی تو برہان نے اسے چپت لگائی…
چلو ایک سیلفی ہوجائے…شاہ ذر موبائل نکالتا بولا تو پانچوں نے ساتھ سیلفی لی اور وفا کو پیار کیا…
ارے اسُ وقت مشعل انہیں چپ نہ کرتی تو ملکہ کوہسار مری میں سیلاب لازمی آجانا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
کیسے مہندی کا دن آیا کسی کو پتہ ہی نہ چلا آج دوپہر میں نکاح تھا اور رات وفا تبریز اور شاہ ذر آیت کی مہندی تھی صبح سے ہی اکبر ولا اور حیدر ولا میں تیاریاں چل رہی تھی اور اس وقت حیدر ولا کے لوگ اکبر ولا میں نکاح کے لیئے حاضر تھے ارمان تبریز کے ساتھ شامل ہوا تھا جس پر وفا نے بہت ہی طوفان اٹھایا تھا…
پہلے وفا اور تبریز کا نکاح ہوا تو برہان شاہ ذر عون وفا سے لگ کر بہت روئے جس پر مصطفیٰ شاہ سے بہت ڈانٹ بھی سنی پھر مریم اور عون کا نکاح ہوا…
میری بہن میں یہ ظلم بہت ہی مشکل سے تم پر کررہا ہوں..کیف نکاح کے بعد مریم سے عون کی طرف اشارہ کرتا بولا جس پر عون نے اسے گھورا…
آنکھیں نیچے سالا ہوں تیرا…کیف گردن اکڑا کر بولا تو عون نے آواز دے کر موسیٰ کو بلایا…
موسیٰ بھائی زرا میرے بدلہ اسے گھور کر دیکھے…عون نے موسیٰ سے کہا جو مسکرا رہا تھا…
اب ان کو کیا بولے گا یہ بھی تو تیرے سالے ہیں…ہوں بول بیٹا…عون کیف سے بولا…
میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں مریم…کیف نفی میں سر ہلاتا مریم سے بولا جس پر مریم اور موسیٰ ہنس پڑے…
آپ کے شوہر نہیں آئے…درنجف کو حجاب سے بات کرتا دیکھ کر عون بولا…
نہیں وہ تھوڑی دیر میں آئے گے…درنجف میثم کو لیئے بولی…
شاہ ذر اور آیت کے نکاح کے بعد زین اور جنت کا نکاح تھا زین کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا موسیٰ جنت کے پاس ہی کھڑا تھا نکاح کے بعد وفا مریم آیت ماہم مشعل حجاب ادھر ہی جنت کے پاس کھڑے تھے وفا نے شکوہ کن نظروں سے تبریز کو دیکھا اسُ نے ایک ہی خوائش کی تھی کہ جنت کے نکاح کے وقت سلمان انکل موجود ہوں…
جنت سے نکاح خاں پوچھ رہے تھے لیکن وہ کہئی اور ہی غائب تھی نظروں کے سامنے باپ کا چہرہ آرہا تھا دل نے شدد سے خوائش کی تھی کہ کاش صرف نکاح کے وقت وہ یہاں آجاتے اس کے خاموش رہنے پر موسیٰ نے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ہوش میں آئی اور اپنے بھائی کو دیکھا زین کی تو سانسیں رکی ہوئی تھی وہ کیوں جواب نہیں دے رہی تھی اتنے میں باہر گاڑیوں کی آوازیں آئی اور کچھ ہی سیکنڈ میں ضیغم اپنی تمام تر وجاہت لیئے اندر داخل ہوا اس کے پیچھے ہی دو پولیس والے سلمان شاہ کو ہتکڑیوں میں قید اندر داخل ہوئے جنت نے باپ کا چہرہ دیکھ کر رب کے حضور شکر کے سجدہ کرنے کا دل چاہا اور دل سے بےساختہ سبحان اللہ نکلا بیشک وہ دلوں کا حال بہت جانے والا ہے…
ضیغم نے جنت کے پاس جاکر اسُ کے سر پر ہاتھ رکھا اور سلمان شاہ کو آگے کیا انہیں نے آنسو بھتے جنت کو سینے سے لگا تو جنت کی ہچکیاں بند گئی جو زین کو پریشان کررہی تھی موسیٰ نے الگ کیا اور اپنے سینے سے لگا حمنہ شاہ اور ماہم نے باپ کو دیکھ کر آنسو صاف کیا کیف نے ماہم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بتایا کہ وہ اس کے ساتھ ہے ماہم مسکرادی وفا نے تاشکر نظروں سے دیکھا تو تبریز دل سے مسکرایا…
چلو بیٹا جواب دو نکاح خواں کو…سلمان شاہ نرمی سے بولے تو جنت نے پرسکون مسکراہٹ لیئے قبول ہے قبول ہے قبول ہے بولا جس پر زین کو لگا جیسے زندگی واپس آگئی ہو…
اس شیطان کو قبول کیا ہے تم نے جنت…ضیغم نے شرارت سے کہا تو زین نے اسے گھورا اس کے گھورنے پر ضیغم نے ڈبل گھورا تو وہ گڑبڑا کر ادھر ادھرُ دیکھنے لگا…
ہاں جی مل گئی تمہیں تمہاری بیوی…ضیغم عون سے بولا تو وہ دانتوں کی نمائش کرتا بولا…
ہاں لیکن وہ ریڈ چکس والی نہیں…عون منہ بناتا بولا…
آو تمہاری کردیتا ہوں ریڈ چکس…ضیغم کرتے کی استینے اپر کرتا بولا تو عون گڑبڑاتا بھاگا…
آجا بابا کا شیر بابا کے پاس…ضیغم نے درنجف کی گود سے میثم کو لیا جو اس کے پاس آنے کو مچل رہا تھا…
نکاح مبارک ہو مسز آیت شاہ ذر شاہ..آیت نے موبائل پر بلنک کرتے دیکھ کر میسج کھولا تو شاہ ذر کا میسج دیکھ کر مسکرائی جو وفا کے پاس کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
اسلام و علیکم خیریت ضیغم…مومن اس وقت گھر پر بیٹھا کوئی فائل دیکھ رہا تھا کہ ضیغم کی کال پر بولا…
وعلیکم سلام مومن ماموں ایک بات بتائیں..ضیغم سنجیدگی سے بولا…
ہممم بولو…مومن بولا…
یہ درنجف کے چکس اتنے ریڈ کیوں ہیں…ضیغم نے منہ بناتے سوال کیا اس کے سوال پر مومن نے موبائل کان سے ہٹاکر گھورا پھر دوبارہ کان پر لگایا…
یہ کیسا سوال ہے…مومن بولا اتنے میں دعا چائے لیتی اس کے پاس آئی…
بتائیں نہ…ضیغم ضدی انداز میں بولا…
دعا تمہارے بتیجھے کا دماغ الٹ گیا ہے اپنے بھائی سے بولو اس کا علاج کروائیں…چکس اتنے ریڈ کیوں ہیں…مومن دعا سے بولتا ضیغم کی نقل اتراتا بولا اور کال کاٹ دی مومون کی بات سن کر ضیغم نے موبائل کو گھورا…
🌟🌟🌟🌟🌟
مہندی ہے رچنے والی آنکھوں میں آیسی ڈالی..
کہ آنکھوں میں آئے انسو…
میری وفا کو خوشیاں ملنے والی ہیں..
اور تبریز کے لیئے سزا بنے والی ہے…
او ہریالی بنو…عون ڈھول لیئے اپنے طرف سے زور شور سے گارہا تھا اسٹیج پر بیٹھے تبریز عون کو گھورا رہا تھا اور وفا ہنس رہی تھی…
اوے میراسی ہوگیا تیرا ٹائم پورا..نکل اب…کیف اس سے ڈھول لیتے کہا…
تمہاری تو عزت ہی نہیں ہے…زین نے آگ لگائی…
اور تمہارے لیئے تو گھر میں گلاب کے پھول بچھائے جاتے ہیں…عون نے کیف کو گھورتا زین کو طنز مارا…
ابے جا بے…زین بولا..
چل چل نکل…عون بھی بولا…
اللہ میری کزن کی زندگی آسان کریں…زین آسمان کو دیکھتا بولا کیونکہ عون آیت کا دیور بن چکا تھا
اللہ میری بھی کزن کی زندگی آسان کرے…عون اسے جنت کا ہوالا دیکھا بولا…
ایک منٹ ہم تو دوست ہیں ہم کیوں لڑ رہے ہیں…زین اچانک بولا…
ہاں ہم تو دوست ہیں..زین یہ ان لوگوں کی سازش ہیں یہ چاہتے ہیں ہم لوگ آپس میں لڑیں اور یہ لوگ سکون کی زندگی گزارے…عون سجنیدگی سے بولا..
صیح بول رہا ہے توُ آجا لگ جا گلے…زین بولتا عون سے گلے لگا…
🌟🌟🌟🌟🌟
مبارک ہو آپ کو “نمک والی چائے” مرچوں والی گلاب جامن” “پانی والا سرکہ” اور خوانخوار گھوریاں…ضیغم تبریز کے برابر بیٹھا مسکرا کر بولا جس پر تبریز نے اسے گھورا جب کے وفا اور وفا کے برابر میں بیٹھی درنجف ہنسی…
خیر مبارک آنا شادی کے بعد میرے گھر چپل والے کباب کھانے…تبریز دانت پیس کر بولا جس پر ضیغم نے مسکرا کر ایک پوری گلاب جامن زبردستی اس کے منہ میں رکھ دی جس پر سب نے ہوٹنگ کی…