📱 Download the mobile app free
Home > Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi NovelM80067 > Shoq e Deedar (Episode 20)
[favorite_button post_id="16187"]
49714 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq e Deedar (Episode 20)

Shoq e Deedar by Sukaina Zaidi

وہ لوگوں کو باہر ہی روک کر پہلے خودُ اندار داخل ہوا سب اسے دیکھ کر حیرت زدہ رہے گئے…

تبریز…سب نے ایک ساتھ اس کا نام لیا جو پولیس یونیفورم میں کھڑا کافی ہینڈسم لگارہا تھا…

ماریہ…تبریز سب کو چھوڑ کر ماریہ کی طرف بڑھا…

کیسی ہو ماریہ…تبریز نے مسکرا کر پوچھا…

تبریز…یہ کیا حرکت ہے…اور یہ پولیس کیون آئی ہے باہر…ارتضیٰ شاہ ناگواری سے بولے مصطفیٰ شاہ البتہ خا،وش کھڑے تھے…

اہمم…انکل میں ماریہ کو گرفتار کرنے آیا ہوں…تبریز نے سرد لہجے میں ماریہ کو دیکھتے کہا جو صرف موسیٰ کو دیکھ رہی تھی تبریز کی بات پر سب نے حیرت سے تبریز اور ماریہ کو دیکھا پہلا ہی جھٹکا موسیٰ اور حجاب کے نکاح کا تھا دوسرا ماریہ کی گرفتاری…

یہ کیا ہورہا ہے عون…وفا گھبرا کر بولی…

خاموش ہوجاو یار بلکہ جاکر چپس کے پیکٹس وغیرہ لے آو آج لائف فلم چلے گی…عون مصروف سا بولا…

تم دونون خاموش کھڑے نہیں ہوسکتے…شاہ ذر نے عون کے بازو پر چونٹی کاٹی تو وہ گھورتا خاموش ہوا…

یہ کیا بکواس ہے…ارتضیٰ شاہ دھاڑے…

بکواس نہین انکل سچ ہے…

دفہ ہوجاو یہاں سے ورنہ زندہ گاڑ دوگا…اور کیف کیسے بےعیرت بھائی ہو وہ لڑکا تمہاری بہن کے بارے میں بکواس کررہا ہے…ارتضیٰ شاہ دونوں پر دھاڑے جس پر کیف خاموش ہی رہا…

کس جرم مین گرفتار کررہے ہو میری بیٹی کو…ارتضیٰ شاہ کی بیگم زہرہ شاہ بولی…

آپ کی بیٹی ماریہ…یونی کے اسٹوڈنٹس کو ڈرگس منشیات فروخت کرتی تھی…تبریز بولا تو وفا مریم نے ماریہ کو دیکھا…

جھوٹ ہے یہ…ماریہ یہ کیا بکواس کررہا ہے کچھ بولتی کیوں نہیں…زہرہ شاہ ماریہ کو جھنجھڑتی بولی…

یہ…یہ جھوٹ ہے موسیٰ بول.دو یہ جھوٹ ہے میں اس اس حجاب کی جان لے لوگی…ماریہ ہوش مین آتی حجاب کی طرف لپکی…

ہٹو ادھر سے پاگل عورت…موسیٰ حجاب کو پیچھے کرتا دہاڑا…

تم…تم نے کیسے اس حجاب سے نکاح کیا…میں تم سے پیار کرتی ہوں…تم میری ضد ہو موسیٰ….ماریہ موسیٰ کا گربان پکڑے زہانی انداز میں چلائی کہ وفا ڈر کر عون سے چپکی اور مریم کیف سے لگی رو جارہی تھی اسےُ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ہو کیا رہا ہے جنت ماہم کے ساتھ اپر سے دیکھ رہی تھی ماہم مایو بیٹھ چکی تھی اس لیئے جنت اسُ کے ساتھ ہی تھی مشعل نے برہان کو اشارہ کیا کہ کیا ہورہا ہے جس پر اسُ نے خاموش ہونے کا اشارہ کیا…

بہت ہوگیا ڈرامہ اب چلو…تبریز ماریہ کی طرف بڑا موسیٰ نے ماریہ سے گربان چڑوایا اور پیچھے ہوا…

میں نے کچھ نہیں کیا…ماریہ تبریز پر چلائی…

جھوٹ مت بولو ماریہ…تبریز ناگواری سے بولا…

تمہارے پاس کیا ثبوت ہے…ارتضیٰ شاہ بولے تو تبریز مسکرایا…

ماریہ کیا واقعی تم ڈرگس نہین بیچتی تھی…تبریز نے ماریہ سے کہا…

ہاں میں نے آج تک ڈرگس دیکھی نہیں فروخت کہاں سے کروگی…ماریہ بولی تو تبریز مسکرایا پھر موبائل نکال کر کسی کو کال کی اور اندر آنے کا کہا سب کی ہی نظریں گیٹ پر تھی کہ پتہ نہین کون ہوگا دو منٹ بعد ایک نوجوان اندر داخل ہوا اسے دیکھ کر سب ہی حیرت ہوئے تھے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا وجہی چہرہ کرستے بازو ورزشی جسم وہ ہینڈسم سا لڑکا آخر کون تھا سب ہی ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے وہ تبریز کے برابر میں آکر کھڑا ہوا ماریہ اس کے سامنے کھڑی تھی ماریہ نے جب اسے دیکھ تو خوف سے آنکھیں بند کرکے کھولی کہ آیا یہ خواب ہے کہ سچ لیکن یہ سچ ہی تھا وہ اس کی نظروں کے سامنے کھڑا تھا…

یہ تو یاد ہوگا نہ تمہیں ماریہ…تبریز دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…

نہ…نہیں…ماریہ خوف سے بولی لیکن غلط انسان کے سامنے جھوٹ بول گئی تھی…

چلو مین ہی یاد کروادیتا ہون اسے تبریز…وہ خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ تبریز سے بولا پھر ماریہ کی طرف مڑا…

ضیغم آھاد احمد…اتنی جلدی بھول گئی مجھے ماریہ…ضیغم جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…

میں نے کچھ نہیں کیا…میں اسے نہیں جانتی…ماریہ چلائی وفا کی تو نظریں ہی ضیغم سے نہیں ہٹ رہی تھی تبریز نے اسے دیکھا تو پاس پڑی آم کی گھٹلی آہستہ سے وفا کو ماری تو وفا نے چونک کر تبریز کو دیکھا جو اسے گھورا رہا تھا وفا نے گڑبڑا کر نظریں ادھر ادھرُ کرلی اس جنگ کے محول مین بھی موسیٰ اور عون نے بڑی مشکل سے مسکراہٹ دبائی تھی…

اوہ ماریہ…میں نے بولا تھا نہ میں بڑا خطرناک انسان ہوں…ضیغم نے آخری بات ماریہ کے قریب جاکر کہئی تھی پھر وہ پیچھے ہوگیا…

میں نہیں جانتی بابا…ماریہ نے ارتضی شاہ سے کہا…

کیا تم مجھے ڈرگس نہیں فروخت کرتی تھی…ضیغم نے اسے گھورتے ہوئے کہا…

ہاں…ہاں کرتی تھی تو اس کو بھی گرفتار کرو…ماریہ جوش سے غلط بول گئی…

اس کو کیوں…تبریز نے سوالیاں انداز مین کہا…

کیونکہ میں اسے ڈرگس آس ڈرگس فروخت کرتی تھی اسے بھی گرفتار کرو یہ آگے لوگون کو دیتا ہوگا…ماریہ بولی سب نے حورت سے اسے دیکھا کیف کی نظروں صرف مریم کو ماریہ کے لیئے نفرت نظر آئی تھی…

تمہیں پتہ ہے یہ کون ہے…تبریز نے ماریہ سے سوال کیا…

ہاں یہ گینگسٹر ہے ہم سے منشیات خرید کر لوگون کو آگے بیچتا ہے…ماریہ کے کہنے پر ضیغم کا چھت پھاڑ قہقہہ نکلا…

او گارڈ…ضیغم ہسنے کے درمیان بولا…

ماریہ ماریہ تم اب بھی نہین پہچانی…وہ انسان تمہارے سامنے کھڑا ہے تم سے سچ بولا لیا اور سکون سے پولیس والوں کے ساتھ یہاں موجود ہے تو وہ کیسے ایک مجرم ہوسکتا ہے…یہ ضیغم آھاد احمد ہیں میجر ضیغم آھاد احمد…تبریز نے اپنے لفظوں پر زور دیا…

مطلب یہ سب…ماریہ کو اب سمجھ آیا ضیغم کا سر بن کر یونی مین ملنا پھر دوستی کرنا پھر ڈرگس خریدنا…مطلب وہ خود اس کے جال میں پہسی تھی…

اففف شکر آپ خودُ نیچے آگئے ورنہ مجھے اپر آنا پڑتا اور میں بہت تھک گیا ہوں کل سے سویا بھی نہیں گھر بھی نہیں گیا…تبریز سلمان شاہ کو سیڑیوں سے اترتا دیکھ کر بولا…

ارے یار وفا بھابھی سے چائے بنوالو…ضیغم وفا کی طرف اشارہ کرتا تبریز سے بولا…

نہیں بیٹا اگر اس کے ہاتھ کی چائے پی لی تو چائے کے نام سے ہی در جاوگے…اب ہر کوئی در نجف بھابھی جیسی چائے تھوڑی بناتی…تبریز نے وفا کو آگ لگائی جس پر وفا نے خوانخوار نظروں سے اسے دیکھا…

کیا تم مجھے بتا سکتے ہوں یہ کون کون سی گالیاں دے رہی ہے مجھے…تبریز ضیغم کے کان میں وفا کی طرف اشارہ کرتا بولا جس پر وہ ہنس پڑا…

سلمان انکل…یہ دیکھیں کیا ہورہا ہے…ماریہ سلمان شاہ کی طرف بھاگی جس پر وہ ہڑبڑا گئے وہ گہری نیند سورہے تھے اب شور سن کر آئے تو پولیس کو دکھ کر کچھ گڑبڑی کا احساس ہوا…

ارے بابا اچھا ہوا آپ آگئے دیکھیں یہ کیا ہورہا ہے یہ تبریز آپ کے پارٹنر کو گرفتار کرنے آیا ہے…موسیٰ معصومیت سے بولا…

آہاں…موسیٰ صرف ماریہ کو نہیں سلمان انکل کو بھی…تبریز سنجیدگی سے بولا..